Loading...

Loading...
کتب
۱۱۱ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں“ ۔ ایک تندرستی اور دوسری فراغت
حدثنا صالح بن عبد الله، وسويد بن نصر، قال صالح حدثنا وقال، سويد اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن عبد الله بن سعيد بن ابي هند، عن ابيه، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس الصحة والفراغ " . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا عبد الله بن سعيد بن ابي هند، عن ابيه، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال وفي الباب عن انس بن مالك . وقال هذا حديث حسن صحيح . ورواه غير واحد عن عبد الله بن سعيد بن ابي هند فرفعوه واوقفه بعضهم عن عبد الله بن سعيد بن ابي هند
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے ان کلمات کو سن کر ان پر عمل کرے یا ایسے شخص کو سکھلائے جو ان پر عمل کرے“، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں ایسا کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پانچ باتوں کو گن کر بتلایا: ”تم حرام چیزوں سے بچو، سب لوگوں سے زیادہ عابد ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم شدہ رزق پر راضی رہو، سب لوگوں سے زیادہ بے نیاز رہو گے، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرو پکے سچے مومن رہو گے۔ اور دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو سچے مسلمان ہو جاؤ گے اور زیادہ نہ ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- حسن بصری کا سماع ابوہریرہ سے ثابت نہیں، ۳- اسی طرح ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید سے مروی ہے ان سب کا کہنا ہے کہ حسن بصری نے ابوہریرہ سے نہیں سنا ہے، ۴- ابوعبیدہ ناجی نے اسے حسن بصری سے روایت کرتے ہوئے اس کو حسن بصری کا قول کہا ہے اور یہ نہیں ذکر کیا کہ یہ حدیث حسن بصری ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں، اور ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف البصري، حدثنا جعفر بن سليمان، عن ابي طارق، عن الحسن، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ياخذ عني هولاء الكلمات فيعمل بهن او يعلم من يعمل بهن " . فقال ابو هريرة فقلت انا يا رسول الله فاخذ بيدي فعد خمسا وقال " اتق المحارم تكن اعبد الناس وارض بما قسم الله لك تكن اغنى الناس واحسن الى جارك تكن مومنا واحب للناس ما تحب لنفسك تكن مسلما ولا تكثر الضحك فان كثرة الضحك تميت القلب " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث جعفر بن سليمان . والحسن لم يسمع من ابي هريرة شييا هكذا روي عن ايوب ويونس بن عبيد وعلي بن زيد قالوا لم يسمع الحسن من ابي هريرة . وروى ابو عبيدة الناجي عن الحسن هذا الحديث قوله ولم يذكر فيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات چیزوں سے پہلے نیک اعمال کرنے میں جلدی کرو، تمہیں ایسے فقر کا انتظار ہے جو سب کچھ بھلا ڈالنے والا ہے؟ یا ایسی مالداری کا جو طغیانی پیدا کرنے والی ہے؟ یا ایسی بیماری کا جو مفسد ہے ( یعنی اطاعت الٰہی میں خلل ڈالنے والی ) ہے؟ یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل کو کھو دینے والا ہے؟ یا ایسی موت کا جو جلدی ہی آنے والی ہے؟ یا اس دجال کا انتظار ہے جس کا انتظار سب سے برے غائب کا انتظار ہے؟ یا اس قیامت کا جو قیامت نہایت سخت اور کڑوی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اعرج ابوہریرہ سے مروی حدیث ہم صرف محرز بن ہارون کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- بشر بن عمر اور ان کے علاوہ لوگوں نے بھی اسے محرز بن ہارون سے روایت کیا ہے، ۴- معمر نے ایک ایسے شخص سے سنا ہے جس نے بسند «سعيدا المقبري عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے اس میں «هل تنتظرون» کی بجائے «تنتظرون» ہے۔
حدثنا ابو مصعب المدني، عن محرر بن هارون، عن عبد الرحمن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بادروا بالاعمال سبعا هل تنظرون الا فقرا منسيا او غنى مطغيا او مرضا مفسدا او هرما مفندا او موتا مجهزا او الدجال فشر غايب ينتظر او الساعة فالساعة ادهى وامر " . قال هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث الاعرج عن ابي هريرة الا من حديث محرر بن هارون وقد روى بشر بن عمر وغيره عن محرر بن هارون هذا . وقد روى معمر هذا الحديث عمن سمع سعيدا المقبري عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . وقال تنتظرون
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لذتوں کو توڑنے والی ( یعنی موت ) کو کثرت سے یاد کیا کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا الفضل بن موسى، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اكثروا ذكر هاذم اللذات " . يعني الموت . قال وفي الباب عن ابي سعيد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
ہانی مولی عثمان کہتے ہیں کہ عثمان رضی الله عنہ جب کسی قبرستان پر ٹھہرتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہو جاتی، ان سے کسی نے کہا کہ جب آپ کے سامنے جنت و جہنم کا ذکر کیا جاتا ہے تو نہیں روتے ہیں اور قبر کو دیکھ کر اس قدر رو رہے ہیں؟ تو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آخرت کے منازل میں سے قبر پہلی منزل ہے، سو اگر کسی نے قبر کے عذاب سے نجات پائی تو اس کے بعد کے مراحل آسان ہوں گے اور اگر جسے عذاب قبر سے نجات نہ مل سکی تو اس کے بعد کے منازل سخت تر ہوں گے“، عثمان رضی الله عنہ نے مزید کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھبراہٹ اور سختی کے اعتبار سے قبر کی طرح کسی اور منظر کو نہیں دیکھا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف ہشام بن یوسف کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا يحيى بن معين، حدثنا هشام بن يوسف، حدثني عبد الله بن بحير، انه سمع هانيا، مولى عثمان قال كان عثمان اذا وقف على قبر بكى حتى يبل لحيته فقيل له تذكر الجنة والنار فلا تبكي وتبكي من هذا فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان القبر اول منازل الاخرة فان نجا منه فما بعده ايسر منه وان لم ينج منه فما بعده اشد منه " . قال وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما رايت منظرا قط الا والقبر افظع منه " . قال هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث هشام بن يوسف
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا چاہے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا ناپسند کرے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ کی حدیث صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، ام المؤمنین عائشہ، انس اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت انسا، يحدث عن عبادة بن الصامت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من احب لقاء الله احب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعايشة وانس وابي موسى . قال حديث عبادة حديث حسن صحيح
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ: «وأنذر عشيرتك الأقربين» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبدالمطلب کی بیٹی صفیہ!، اے محمد کی بیٹی فاطمہ! اے عبدالمطلب کی اولاد! اللہ کی طرف سے تم لوگوں کے نفع و نقصان کا مجھے کچھ بھی اختیار نہیں ہے، تم میرے مال میں سے تم سب کو جو کچھ مانگنا ہو وہ مجھ سے مانگ لو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- ان میں سے بعض نے اسی طرح ہشام بن عروہ سے روایت کی ہے، اور بعض نے «عن هشام عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کی ہے اور «عن عائشة» کا ذکر نہیں کیا، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو الاشعث، احمد بن المقدام العجلي حدثنا محمد بن عبد الرحمن الطفاوي، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت لما نزلت هذه الاية : ( وانذر عشيرتك الاقربين ) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا صفية بنت عبد المطلب يا فاطمة بنت محمد يا بني عبد المطلب اني لا املك لكم من الله شييا سلوني من مالي ما شيتم " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وابي موسى وابن عباس . قال حديث عايشة حديث حسن غريب . هكذا روى بعضهم عن هشام بن عروة نحو هذا وروى بعضهم عن هشام عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا لم يذكر فيه عن عايشة
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے خوف اور ڈر سے رونے والا شخص جہنم میں نہیں جا سکتا جب تک کہ دودھ تھن میں واپس نہ پہنچ جائے اور اللہ کی راہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں دونوں اکٹھا نہیں ہو سکتے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوریحانہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- محمد بن عبدالرحمٰن آل طلحہ کے آزاد کردہ غلام ہیں مدنی ہیں، ثقہ ہیں، ان سے شعبہ اور سفیان ثوری نے روایت کی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، عن محمد بن عبد الرحمن، عن عيسى بن طلحة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يلج النار رجل بكى من خشية الله حتى يعود اللبن في الضرع ولا يجتمع غبار في سبيل الله ودخان جهنم " . قال وفي الباب عن ابي ريحانة وابن عباس . قال هذا حديث حسن صحيح . ومحمد بن عبد الرحمن هو مولى ال طلحة وهو مدني ثقة روى عنه شعبة وسفيان الثوري
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سن رہا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ بیشک آسمان چرچرا رہا ہے اور اسے چرچرانے کا حق بھی ہے، اس لیے کہ اس میں چار انگل کی بھی جگہ نہیں خالی ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور رکھے ہوئے ہے، اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر وہ تم لوگ بھی جان لو تو ہنسو گے کم اور رؤ گے زیادہ اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو گے، اور یقیناً تم لوگ اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے میدانوں میں نکل جاتے“، ( اور ابوذر رضی الله عنہ ) فرمایا کرتے تھے کہ ”کاش میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس کے علاوہ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ ابوذر رضی الله عنہ فرمایا کرتے تھے: ”کاش میں ایک درخت ہوتا کہ جسے لوگ کاٹ ڈالتے“، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، ابن عباس اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا اسراييل، عن ابراهيم بن المهاجر، عن مجاهد، عن مورق، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني ارى ما لا ترون واسمع ما لا تسمعون اطت السماء وحق لها ان تيط ما فيها موضع اربع اصابع الا وملك واضع جبهته ساجدا لله لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا وما تلذذتم بالنساء على الفرش ولخرجتم الى الصعدات تجارون الى الله " . لوددت اني كنت شجرة تعضد . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة وعايشة وابن عباس وانس . قال هذا حديث حسن غريب . ويروى من غير هذا الوجه ان ابا ذر قال لوددت اني كنت شجرة تعضد
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میں جانتا ہوں اگر تم لوگ جان لیتے تو ہنستے کم اور روتے زیادہ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي الفلاس حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا " . هذا حديث صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کبھی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس میں وہ خود کوئی حرج نہیں سمجھتا حالانکہ اس کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن محمد بن اسحاق، حدثني محمد بن ابراهيم، عن عيسى بن طلحة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الرجل ليتكلم بالكلمة لا يرى بها باسا يهوي بها سبعين خريفا في النار " . قال هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”تباہی و بربادی ہے اس شخص کے لیے جو ایسی بات کہتا ہے کہ لوگ سن کر ہنسیں حالانکہ وہ بات جھوٹی ہوتی ہے تو ایسے شخص کے لیے تباہی ہی تباہی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا بهز بن حكيم، حدثني ابي، عن جدي، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ويل للذي يحدث بالحديث ليضحك به القوم فيكذب ويل له ويل له " . قال وفي الباب عن ابي هريرة . قال هذا حديث حسن
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی کی وفات ہو گئی، ایک آدمی نے کہا: تجھے جنت کی بشارت ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید تمہیں نہیں معلوم کہ اس نے کوئی ایسی بات کہی ہو جو بےفائدہ ہو، یا ایسی چیز کے ساتھ بخل سے کام لیا ہو جس کے خرچ کرنے سے اس کا کچھ نقصان نہ ہوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا سليمان بن عبد الجبار البغدادي، حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، عن الاعمش، عن انس بن مالك، قال توفي رجل من اصحابه فقال يعني رجل ابشر بالجنة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اولا تدري فلعله تكلم فيما لا يعنيه او بخل بما لا ينقصه " . قال هذا حديث غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی شخص کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو چھوڑ دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اس حدیث کو ابوسلمہ کی روایت سے جسے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اور ابوہریرہ رضی الله عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن نصر النيسابوري، وغير، واحد، قالوا حدثنا ابو مسهر، عن اسماعيل بن عبد الله بن سماعة، عن الاوزاعي، عن قرة، عن الزهري، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حسن اسلام المرء تركه ما لا يعنيه " . قال هذا حديث غريب لا نعرفه من حديث ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم الا من هذا الوجه
علی بن حسین (زین العابدین) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو چھوڑ دے جو اس سے غیر متعلق ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زہری کے شاگردوں میں سے کئی لوگوں نے اسی طرح «عن الزهري عن علي بن حسين عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مالک کی حدیث کی طرح مرسلا روایت کی ہے، ۲- ہمارے نزدیک یہ حدیث ابوسلمہ کی ابوہریرہ سے مروی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۱؎، ۳- علی بن حسین ( زین العابدین ) کی ملاقات علی رضی الله عنہ سے ثابت نہیں ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا مالك بن انس، عن الزهري، عن علي بن حسين، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من حسن اسلام المرء تركه ما لا يعنيه " . قال ابو عيسى وهكذا روى غير واحد من اصحاب الزهري عن الزهري عن علي بن حسين عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث مالك مرسلا وهذا عندنا اصح من حديث ابي سلمة عن ابي هريرة . وعلي بن حسين لم يدرك علي بن ابي طالب
صحابی رسول بلال بن حارث مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”تم میں سے کوئی اللہ کی رضا مندی کی ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں وہ نہیں جانتا کہ اس کی وجہ سے اس کا مرتبہ کہاں تک پہنچے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کی اس بات کی وجہ سے اس کے حق میں اس دن تک کے لیے اپنی خوشنودی اور رضا مندی لکھ دیتا ہے جس دن وہ اس سے ملے گا، اور تم میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ اس کی وجہ سے اس کا وبال کہاں تک پہنچے گا جب کہ اللہ اس کی اس بات کی وجہ سے اس کے حق میں اس دن تک کے لیے ہے جس دن وہ اس سے ملے گا اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسے اسی طرح سے کئی لوگوں نے محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کیا ہے یعنی «عن محمد بن عمرو عن أبيه عن جده عن بلال بن الحارث» کی سند سے، ۳- اس حدیث کو مالک نے «عن محمد بن عمرو عن أبيه عن بلال بن الحارث» کی سند سے روایت کیا ہے لیکن اس میں «عن أبيه» کا ذکر نہیں ہے، ۴- اس باب میں ام حبیبہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن محمد بن عمرو، حدثني ابي، عن جدي، قال سمعت بلال بن الحارث المزني، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان احدكم ليتكلم بالكلمة من رضوان الله ما يظن ان تبلغ ما بلغت فيكتب الله له بها رضوانه الى يوم يلقاه وان احدكم ليتكلم بالكلمة من سخط الله ما يظن ان تبلغ ما بلغت فيكتب الله عليه بها سخطه الى يوم يلقاه " . قال وفي الباب عن ام حبيبة . قال هذا حديث حسن صحيح . وهكذا رواه غير واحد عن محمد بن عمرو نحو هذا قالوا عن محمد بن عمرو عن ابيه عن جده عن بلال بن الحارث . وروى هذا الحديث مالك عن محمد بن عمرو عن ابيه عن بلال بن الحارث ولم يذكر فيه عن جده
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی وقعت اگر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الحميد بن سليمان، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو كانت الدنيا تعدل عند الله جناح بعوضة ما سقى كافرا منها شربة ماء " . وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب من هذا الوجه
مستورد بن شداد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں بھی ان سواروں کے ساتھ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بکری کے مرے ہوئے بچے کے پاس کھڑے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم لوگ اسے دیکھ رہے ہو کہ جب یہ اس کے مالکوں کے نزدیک حقیر اور بے قیمت ہو گیا“ تو انہوں نے اسے پھینک دیا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی بے قیمت ہونے کی بنیاد ہی پر لوگوں نے اسے پھینک دیا ہے، آپ نے فرمایا: ”دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ حقیر اور بے وقعت ہے جتنا یہ اپنے لوگوں کے نزدیک حقیر اور بے وقعت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مستورد رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن مجالد، عن قيس بن ابي حازم، عن المستورد بن شداد، قال كنت مع الركب الذين وقفوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على السخلة الميتة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اترون هذه هانت على اهلها حين القوها " . قالوا من هوانها القوها يا رسول الله . قال " فالدنيا اهون على الله من هذه على اهلها " . وفي الباب عن جابر وابن عمر . قال ابو عيسى حديث المستورد حديث حسن
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بیشک دنیا ملعون ہے اور جو کچھ دنیا میں ہے وہ بھی ملعون ہے، سوائے اللہ کی یاد اور اس چیز کے جس کو اللہ پسند کرتا ہے، یا عالم ( علم والے ) اور متعلم ( علم سیکھنے والے ) کے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا محمد بن حاتم المكتب، حدثنا علي بن ثابت، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان، قال سمعت عطاء بن قرة، قال سمعت عبد الله بن ضمرة، قال سمعت ابا هريرة، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الا ان الدنيا ملعونة ملعون ما فيها الا ذكر الله وما والاه وعالما او متعلما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کی مثال آخرت کے سامنے ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کی انگلی سمندر کا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسماعیل بن ابی خالد کی کنیت ابوعبداللہ ہے، ۳- قیس کے والد ابوحازم کا نام عبد بن عوف ہے اور یہ صحابی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا اسماعيل بن ابي خالد، حدثنا قيس بن ابي حازم، قال سمعت مستوردا، اخا بني فهر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما الدنيا في الاخرة الا مثل ما يجعل احدكم اصبعه في اليم فلينظر بماذا يرجع " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . واسماعيل بن ابي خالد يكنى ابا عبد الله ووالد قيس ابو حازم اسمه عبد بن عوف وهو من الصحابة