احادیث
#2312
سنن ترمذی - Asceticism
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سن رہا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ بیشک آسمان چرچرا رہا ہے اور اسے چرچرانے کا حق بھی ہے، اس لیے کہ اس میں چار انگل کی بھی جگہ نہیں خالی ہے مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی اللہ کے حضور رکھے ہوئے ہے، اللہ کی قسم! جو میں جانتا ہوں اگر وہ تم لوگ بھی جان لو تو ہنسو گے کم اور رؤ گے زیادہ اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہو گے، اور یقیناً تم لوگ اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے ہوئے میدانوں میں نکل جاتے“، ( اور ابوذر رضی الله عنہ ) فرمایا کرتے تھے کہ ”کاش میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس کے علاوہ ایک دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ ابوذر رضی الله عنہ فرمایا کرتے تھے: ”کاش میں ایک درخت ہوتا کہ جسے لوگ کاٹ ڈالتے“، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، ابن عباس اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا اسراييل، عن ابراهيم بن المهاجر، عن مجاهد، عن مورق، عن ابي ذر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني ارى ما لا ترون واسمع ما لا تسمعون اطت السماء وحق لها ان تيط ما فيها موضع اربع اصابع الا وملك واضع جبهته ساجدا لله لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا وما تلذذتم بالنساء على الفرش ولخرجتم الى الصعدات تجارون الى الله " . لوددت اني كنت شجرة تعضد . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة وعايشة وابن عباس وانس . قال هذا حديث حسن غريب . ويروى من غير هذا الوجه ان ابا ذر قال لوددت اني كنت شجرة تعضد
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Asceticism
- Hadith Index
- #2312
- Book Index
- 9
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan
- Al-AlbaniHasan
- Bashar Awad MaaroufHasan
- Zubair Ali ZaiHasan
