Loading...

Loading...
کتب
۱۱۱ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا مومن کے لیے قید خانہ ( جیل ) ہے اور کافر کے لیے جنت ( باغ و بہار ) ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الدنيا سجن المومن وجنة الكافر " . وفي الباب عن عبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوکبشہ انماری رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”میں تین باتوں پر قسم کھاتا ہوں اور میں تم لوگوں سے ایک بات بیان کر رہا ہوں جسے یاد رکھو“، ”کسی بندے کے مال میں صدقہ دینے سے کوئی کمی نہیں آتی ( یہ پہلی بات ہے ) ، اور کسی بندے پر کسی قسم کا ظلم ہو اور اس پر وہ صبر کرے تو اللہ اس کی عزت کو بڑھا دیتا ہے ( دوسری بات ہے ) ، اور اگر کوئی شخص پہنے کے لیے سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ اس کے لیے فقر و محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے“۔ ( یا اسی کے ہم معنی آپ نے کوئی اور کلمہ کہا ) ( یہ تیسری بات ہے ) اور تم لوگوں سے ایک اور بات بیان کر رہا ہوں اسے بھی اچھی طرح یاد رکھو: ”یہ دنیا چار قسم کے لوگوں کے لیے ہے: ایک بندہ وہ ہے جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے مال اور علم کی دولت دی، وہ اپنے رب سے اس مال کے کمانے اور خرچ کرنے میں ڈرتا ہے اور اس مال کے ذریعے صلہ رحمی کرتا ہے ۱؎ اور اس میں سے اللہ کے حقوق کی ادائیگی کا بھی خیال رکھتا ہے ۲؎ ایسے بندے کا درجہ سب درجوں سے بہتر ہے۔ اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے علم دیا، لیکن مال و دولت سے اسے محروم رکھا پھر بھی اس کی نیت سچی ہے اور وہ کہتا ہے کہ کاش میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں اس شخص کی طرح عمل کرتا لہٰذا اسے اس کی سچی نیت کی وجہ سے پہلے شخص کی طرح اجر برابر ملے گا، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال و دولت سے نوازا لیکن اسی علم سے محروم رکھا وہ اپنے مال میں غلط روش اختیار کرتا ہے، اس مال کے کمانے اور خرچ کرنے میں اپنے رب سے نہیں ڈرتا ہے، نہ ہی صلہ رحمی کرتا ہے اور نہ ہی اس مال میں اللہ کے حق کا خیال رکھتا ہے تو ایسے شخص کا درجہ سب درجوں سے بدتر ہے، اور ایک وہ بندہ ہے جسے اللہ نے مال و دولت اور علم دونوں سے محروم رکھا، وہ کہتا ہے کاش میرے پاس مال ہوتا تو فلاں کی طرح میں بھی عمل کرتا ( یعنی: برے کاموں میں مال خرچ کرتا ) تو اس کی نیت کا وبال اسے ملے گا اور دونوں کا عذاب اور بار گناہ برابر ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبادة بن مسلم، حدثنا يونس بن خباب، عن سعيد الطايي ابي البختري، انه قال حدثني ابو كبشة الانماري، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ثلاثة اقسم عليهن واحدثكم حديثا فاحفظوه " . قال " ما نقص مال عبد من صدقة ولا ظلم عبد مظلمة فصبر عليها الا زاده الله عزا ولا فتح عبد باب مسالة الا فتح الله عليه باب فقر او كلمة نحوها واحدثكم حديثا فاحفظوه قال " انما الدنيا لاربعة نفر عبد رزقه الله مالا وعلما فهو يتقي فيه ربه ويصل فيه رحمه ويعلم لله فيه حقا فهذا بافضل المنازل وعبد رزقه الله علما ولم يرزقه مالا فهو صادق النية يقول لو ان لي مالا لعملت بعمل فلان فهو بنيته فاجرهما سواء وعبد رزقه الله مالا ولم يرزقه علما فهو يخبط في ماله بغير علم لا يتقي فيه ربه ولا يصل فيه رحمه ولا يعلم لله فيه حقا فهذا باخبث المنازل وعبد لم يرزقه الله مالا ولا علما فهو يقول لو ان لي مالا لعملت فيه بعمل فلان فهو بنيته فوزرهما سواء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص فاقہ کا شکار ہو اور اس پر صبر نہ کر کے لوگوں سے بیان کرتا پھرے ۱؎ تو اس کا فاقہ ختم نہیں ہو گا، اور جو فاقہ کا شکار ہو اور اسے اللہ کے حوالے کر کے اس پر صبر سے کام لے تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دیر یا سویر روزی دے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن بشير ابي اسماعيل، عن سيار، عن طارق بن شهاب، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نزلت به فاقة فانزلها بالناس لم تسد فاقته ومن نزلت به فاقة فانزلها بالله فيوشك الله له برزق عاجل او اجل " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی الله عنہ ابوہاشم بن عتبہ بن ربیعہ القرشی کی بیماری کے وقت ان کی عیادت کے لیے آئے اور کہا: اے ماموں جان! کیا چیز آپ کو رلا رہی ہے؟ کسی درد سے آپ بے چین ہیں یا دنیا کی حرص ستا رہی ہے، ابوہاشم نے کہا: ایسی کوئی بات نہیں ہے، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک وصیت کی تھی جس پر میں عمل نہ کر سکا۔ آپ نے فرمایا تھا: ”تمہارے لیے پورے سرمایہ میں سے ایک خادم اور ایک سواری جو اللہ کی راہ میں کام آئے کافی ہے، جب کہ اس وقت میں نے اپنے پاس بہت کچھ جمع کر لیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زائدہ اور عبیدہ بن حمید نے «عن منصور عن أبي وائل عن سمرة بن سهم» کی سند سے روایت کی ہے جس میں یہ نقل کیا ہے کہ معاویہ رضی الله عنہ ابوہاشم کے پاس داخل ہوئے پھر اسی کے مانند حدیث ذکر کی ۲- اس باب میں بریدہ اسلمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا سفيان، عن منصور، والاعمش، عن ابي وايل، قال جاء معاوية الى ابي هاشم بن عتبة وهو مريض يعوده فقال يا خال ما يبكيك اوجع يشيزك ام حرص على الدنيا قال كل لا ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد الى عهدا لم اخذ به قال " انما يكفيك من جمع المال خادم ومركب في سبيل الله " . واجدني اليوم قد جمعت . قال ابو عيسى وقد روى زايدة وعبيدة بن حميد عن منصور عن ابي وايل عن سمرة بن سهم قال دخل معاوية على ابي هاشم فذكر نحوه . وفي الباب عن بريدة الاسلمي عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جائیداد ۱؎ کو مت بناؤ کہ اس کی وجہ سے تمہیں دنیا کی رغبت ہو جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن شمر بن عطية، عن المغيرة بن سعد بن الاخرم، عن ابيه، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تتخذوا الضيعة فترغبوا في الدنيا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عبداللہ بن بسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا زيد بن حباب، عن معاوية بن صالح، عن عمرو بن قيس، عن عبد الله بن بسر، ان اعرابيا، قال يا رسول الله من خير الناس قال " من طال عمره وحسن عمله " . وفي الباب عن ابي هريرة وجابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو“، اس آدمی نے پھر پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بدتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برا ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو حفص، عمرو بن علي حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن علي بن زيد، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، ان رجلا، قال يا رسول الله اى الناس خير قال " من طال عمره وحسن عمله " . قال فاى الناس شر قال " من طال عمره وساء عمله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے اکثر لوگوں کی عمر ساٹھ سے ستر سال تک کے درمیان ہو گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوصالح کی یہ حدیث جسے وہ ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس کے علاوہ کئی اور سندوں سے بھی مروی ہے۔
حدثنا ابراهيم بن سعيد الجوهري، حدثنا محمد بن ربيعة، عن كامل ابي العلاء، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عمر امتي من ستين سنة الى سبعين سنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث ابي صالح عن ابي هريرة وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت نہیں قائم ہو گی یہاں تک کہ زمانہ قریب ہو جائے گا ۱؎ سال ایک مہینہ کے برابر ہو جائے گا جب کہ ایک مہینہ ایک ہفتہ کے برابر اور ایک ہفتہ ایک دن کے برابر اور ایک دن ایک ساعت ( گھڑی ) کے برابر ہو جائے گا اور ایک ساعت ( گھڑی ) آگ سے پیدا ہونے والی چنگاری کے برابر ہو جائے گی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس سند سے یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا عباس بن محمد الدوري، حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا عبد الله بن عمر العمري، عن سعد بن سعيد الانصاري، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى يتقارب الزمان فتكون السنة كالشهر والشهر كالجمعة وتكون الجمعة كاليوم ويكون اليوم كالساعة وتكون الساعة كالضرمة بالنار " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من هذا الوجه . وسعد بن سعيد هو اخو يحيى بن سعيد الانصاري
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بدن کے بعض حصے کو پکڑ کر فرمایا: ”تم دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک مسافر یا راہ گیر ہو، اور اپنا شمار قبر والوں میں کرو“۔ مجاہد کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما نے مجھ سے کہا: جب تم صبح کرو تو شام کا یقین مت رکھو اور جب شام کرو تو صبح کا یقین نہ رکھو، اور بیماری سے قبل صحت و تندرستی کی حالت میں اور موت سے قبل زندگی کی حالت میں کچھ کر لو اس لیے کہ اللہ کے بندے! تمہیں نہیں معلوم کہ کل تمہارا نام کیا ہو گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اعمش نے مجاہد سے، مجاہد نے ابن عمر رضی الله عنہما سے اس حدیث کی اسی طرح سے روایت کی ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو احمد، حدثنا سفيان، عن ليث، عن مجاهد، عن ابن عمر، قال اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنكبي فقال " كن في الدنيا كانك غريب او عابر سبيل وعد نفسك في اهل القبور " . فقال لي ابن عمر اذا اصبحت فلا تحدث نفسك بالمساء واذا امسيت فلا تحدث نفسك بالصباح وخذ من صحتك قبل سقمك ومن حياتك قبل موتك فانك لا تدري يا عبد الله ما اسمك غدا " . قال ابو عيسى وقد روى هذا الحديث الاعمش عن مجاهد عن ابن عمر نحوه . حدثنا احمد بن عبدة الضبي البصري، حدثنا حماد بن زيد، عن ليث، عن مجاهد، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ابن آدم ہے اور یہ اس کی موت ہے“، اور آپ نے اپنا ہاتھ اپنی گدی پر رکھا پھر اسے دراز کیا اور فرمایا: ”یہ اس کی امید ہے، یہ اس کی امید ہے، یہ اس کی امید ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن حماد بن سلمة، عن عبيد الله بن ابي بكر بن انس، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا ابن ادم وهذا اجله " . ووضع يده عند قفاه ثم بسطها فقال " وثم امله وثم امله وثم امله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابي سعيد
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، ہم اپنا چھپر کا مکان درست کر رہے تھے، آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ گھر بوسیدہ ہو چکا ہے، لہٰذا ہم اس کو ٹھیک کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”میں تو معاملے ( موت ) کو اس سے بھی زیادہ قریب دیکھ رہا ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي السفر، عن عبد الله بن عمرو، قال مر علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نعالج خصا لنا فقال " ما هذا " . فقلنا قد وهى فنحن نصلحه . قال " ما ارى الامر الا اعجل من ذلك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو السفر اسمه سعيد بن يحمد ويقال ابن احمد الثوري
کعب بن عیاض رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ہر امت کی آزمائش کسی نہ کسی چیز میں ہے اور میری امت کی آزمائش مال میں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم معاویہ بن صالح کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا الحسن بن سوار، حدثنا ليث بن سعد، عن معاوية بن صالح، ان عبد الرحمن بن جبير بن نفير، حدثه عن ابيه، عن كعب بن عياض، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان لكل امة فتنة وفتنة امتي المال " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح غريب انما نعرفه من حديث معاوية بن صالح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آدمی کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو اسے ایک تیسری وادی کی خواہش ہو گی اور اس کا پیٹ کسی چیز سے نہیں بھرے گا سوائے مٹی سے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس سے توبہ کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب، ابو سعید خدری، عائشہ، ابن زبیر، ابوواقد، جابر، ابن عباس اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن ابي زياد، حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، حدثنا ابي، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو كان لابن ادم واديا من ذهب لاحب ان يكون له ثانيا ولا يملا فاه الا التراب ويتوب الله على من تاب " . وفي الباب عن ابى بن كعب وابي سعيد وعايشة وابن الزبير وابي واقد وجابر وابن عباس وابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل جوان رہتا ہے: لمبی زندگی کی محبت، دوسرے مال کی محبت“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " قلب الشيخ شاب على حب اثنتين طول الحياة وكثرة المال " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی بوڑھا ہو جاتا ہے البتہ اس کے اندر دو چیزیں جوان رہتی ہیں ایک ( لمبی ) زندگی کی خواہش، دوسرے مال کی حرص“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يهرم ابن ادم ويشب منه اثنتان الحرص على العمر والحرص على المال " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
ابوذر غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر لے اور مال کو برباد کر دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تمہیں مصیبت کے ثواب کی اس قدر رغبت ہو کہ جب تم مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ تو خواہش کرو کہ یہ مصیبت باقی رہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- راوی حدیث عمرو بن واقد منکرالحدیث ہیں۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا محمد بن المبارك، حدثنا عمرو بن واقد، حدثنا يونس بن حلبس، عن ابي ادريس الخولاني، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الزهادة في الدنيا ليست بتحريم الحلال ولا اضاعة المال ولكن الزهادة في الدنيا ان لا تكون بما في يديك اوثق مما في يدى الله وان تكون في ثواب المصيبة اذا انت اصبت بها ارغب فيها لو انها ابقيت لك " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وابو ادريس الخولاني اسمه عايذ الله بن عبد الله . وعمرو بن واقد منكر الحديث
عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا کی چیزوں میں سے ابن آدم کا حق سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اس کے لیے ایک گھر ہو جس میں وہ زندگی بسر کر سکے اور اتنا کپڑا ہو جس سے وہ اپنا ستر ڈھانپ سکے، اور روٹی اور پانی کے لیے برتن ہوں جن سے وہ کھانے پینے کا جتن کر سکے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث حریث بن سائب کی روایت سے ہے، ۳- میں نے ابوداؤد سلیمان بن سلم بلخی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نضر بن شمیل نے کہا: «جلف الخبز» کا مطلب ہے وہ روٹی ہے جس کے ساتھ سالن نہ ہو۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا حريث بن السايب، قال سمعت الحسن، يقول حدثني حمران بن ابان، عن عثمان بن عفان، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس لابن ادم حق في سوى هذه الخصال بيت يسكنه وثوب يواري عورته وجلف الخبز والماء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وهو حديث الحريث بن السايب . وسمعت ابا داود سليمان بن سلم البلخي يقول قال النضر بن شميل جلف الخبز يعني ليس معه ادام
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور آپ «ألهاكم التكاثر» کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تمہارا مال صرف وہ ہے جو تم نے صدقہ کر دیا اور اسے آگے چلا دیا ۱؎، اور کھایا اور اسے ختم کر دیا یا پہنا اور اسے پرانا کر دیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن مطرف، عن ابيه، انه انتهى الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقول : (الهاكم التكاثر ) قال " يقول ابن ادم مالي مالي وهل لك من مالك الا ما تصدقت فامضيت او اكلت فافنيت او لبست فابليت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوامامہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم! اگر تو اپنی حاجت سے زائد مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا تو یہ تیرے لیے بہتر ہو گا، اور اگر تو اسے روک رکھے گا تو یہ تیرے لیے برا ہو گا، اور بقدر کفاف خرچ کرنے میں تیری ملامت نہیں کی جائے گی اور صدقہ و خیرات دیتے وقت ان لوگوں سے شروع کر جن کی کفالت تیرے ذمہ ہے، اور اوپر والا ( دینے والا ) ہاتھ نیچے والے ہاتھ ( مانگنے والے ) سے بہتر ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عمر بن يونس، - هو اليمامي حدثنا عكرمة بن عمار، حدثنا شداد بن عبد الله، قال سمعت ابا امامة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابن ادم انك ان تبذل الفضل خير لك وان تمسكه شر لك ولا تلام على كفاف وابدا بمن تعول واليد العليا خير من اليد السفلى " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وشداد بن عبد الله يكنى ابا عمار