احادیث
#2369
سنن ترمذی - Asceticism
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خلاف معمول ایسے وقت میں گھر سے نکلے کہ جب آپ نہیں نکلتے تھے اور نہ اس وقت آپ سے کوئی ملاقات کرتا تھا، پھر آپ کے پاس ابوبکر رضی الله عنہ پہنچے تو آپ نے پوچھا: ابوبکر تم یہاں کیسے آئے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس لیے نکلا تاکہ آپ سے ملاقات کروں اور آپ کے چہرہ انور کو دیکھوں اور آپ پر سلام پیش کروں، کچھ وقفے کے بعد عمر رضی الله عنہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا: عمر! تم یہاں کیسے آئے؟ اس پر انہوں نے بھوک کی شکایت کی، آپ نے فرمایا: ”مجھے بھی کچھ بھوک لگی ہے ۱؎، پھر سب مل کر ابوالہیشم بن تیہان انصاری کے گھر پہنچے، ان کے پاس بہت زیادہ کھجور کے درخت اور بکریاں تھیں مگر ان کا کوئی خادم نہیں تھا، ان لوگوں نے ابوالھیثم کو گھر پر نہیں پایا تو ان کی بیوی سے پوچھا: تمہارے شوہر کہاں ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، گفتگو ہو رہی تھی کہ اسی دوران! ابوالہیشم ایک بھری ہوئی مشک لیے آ پہنچے، انہوں نے مشک کو رکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر سب کو وہ اپنے باغ میں لے گئے اور ان کے لیے ایک بستر بچھایا پھر کھجور کے درخت کے پاس گئے اور وہاں سے کھجوروں کا گچھا لے کر آئے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا: ”ہمارے لیے اس میں سے تازہ کھجوروں کو چن کر کیوں نہیں لائے؟ عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ خود ان میں سے چن لیں، یا یہ کہا کہ آپ حضرات پکی کھجوروں کو کچی کھجوروں میں سے خود پسند کر لیں، بہرحال سب نے کھجور کھائی اور ان کے اس لائے ہوئے پانی کو پیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقیناً یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا اور وہ نعمتیں یہ ہیں: باغ کا ٹھنڈا سایہ، پکی ہوئی عمدہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی“، پھر ابوالھیثم اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ ان لوگوں کے لیے کھانا تیار کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ”دودھ والے جانور کو ذبح نہ کرنا“، چنانچہ آپ کے حکم کے مطابق انہوں نے بکری کا ایک مادہ بچہ یا نر بچہ ذبح کیا اور اسے پکا کر ان حضرات کے سامنے پیش کیا، ان سبھوں نے اسے کھایا اور پھر آپ نے ابوالھیثم سے پوچھا؟ کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا: ”جب ہمارے پاس کوئی قیدی آئے تو تم ہم سے ملنا“، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو قیدی لائے گئے جن کے ساتھ تیسرا نہیں تھا، ابوالھیثم بھی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو پسند کر لو، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ خود ہمارے لیے پسند کر دیجئیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔ لہٰذا تم اس کو لے لو ( ایک غلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) کیونکہ ہم نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور اس غلام کے ساتھ اچھا سلوک کرنا“، پھر ابوالھیثم اپنی بیوی کے پاس گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں سے اسے باخبر کیا، ان کی بیوی نے کہا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کو پورا نہ کر سکو گے مگر یہ کہ اس غلام کو آزاد کر دو، اس لیے ابوالھیثم نے فوراً اسے آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا خلیفہ کو نہیں بھیجا ہے مگر اس کے ساتھ دو راز دار ساتھی ہوتے ہیں، ایک اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، جب کہ دوسرا ساتھی اسے خراب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا، پس جسے برے ساتھی سے بچا لیا گیا گویا وہ بڑی آفت سے نجات پا گیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شيبان ابو معاوية، حدثنا عبد الملك بن عمير، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم في ساعة لا يخرج فيها ولا يلقاه فيها احد فاتاه ابو بكر فقال " ما جاء بك يا ابا بكر " . فقال خرجت القى رسول الله صلى الله عليه وسلم وانظر في وجهه والتسليم عليه . فلم يلبث ان جاء عمر فقال " ما جاء بك يا عمر " . قال الجوع يا رسول الله قال فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وانا قد وجدت بعض ذلك " . فانطلقوا الى منزل ابي الهيثم بن التيهان الانصاري وكان رجلا كثير النخل والشاء ولم يكن له خدم فلم يجدوه فقالوا لامراته اين صاحبك فقالت انطلق يستعذب لنا الماء . فلم يلبثوا ان جاء ابو الهيثم بقربة يزعبها فوضعها ثم جاء يلتزم النبي صلى الله عليه وسلم ويفديه بابيه وامه ثم انطلق بهم الى حديقته فبسط لهم بساطا ثم انطلق الى نخلة فجاء بقنو فوضعه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " افلا تنقيت لنا من رطبه " . فقال يا رسول الله اني اردت ان تختاروا او قال تخيروا من رطبه وبسره . فاكلوا وشربوا من ذلك الماء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا والذي نفسي بيده من النعيم الذي تسالون عنه يوم القيامة ظل بارد ورطب طيب وماء بارد " . فانطلق ابو الهيثم ليصنع لهم طعاما فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تذبحن ذات در " . قال فذبح لهم عناقا او جديا فاتاهم بها فاكلوا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هل لك خادم " . قال لا . قال " فاذا اتانا سبى فايتنا " . فاتي النبي صلى الله عليه وسلم براسين ليس معهما ثالث فاتاه ابو الهيثم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اختر منهما " . فقال يا نبي الله اختر لي . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان المستشار موتمن خذ هذا فاني رايته يصلي واستوص به معروفا " . فانطلق ابو الهيثم الى امراته فاخبرها بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت امراته ما انت ببالغ ما قال فيه النبي صلى الله عليه وسلم الا ان تعتقه قال فهو عتيق . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله لم يبعث نبيا ولا خليفة الا وله بطانتان بطانة تامره بالمعروف وتنهاه عن المنكر وبطانة لا تالوه خبالا ومن يوق بطانة السوء فقد وقي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Asceticism
- Hadith Index
- #2369
- Book Index
- 66
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiDaif
