Loading...

Loading...
کتب
۱۱۱ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آدمی نیک عمل کرتا ہے پھر اسے چھپاتا ہے لیکن جب لوگوں کو اس کی اطلاع ہو جاتی ہے تو وہ اسے پسند کرتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے لیے دو اجر ہیں ایک نیکی کے چھپانے کا اور دوسرا اس کے ظاہر ہو جانے کا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ۲- اعمش وغیرہ نے اس حدیث کو «حبيب بن أبي ثابت عن أبي صالح عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور اعمش کے شاگردوں نے اس میں «عن أبي هريرة» کا ذکر نہیں کیا، ۳- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اس کے نیک عمل کے ظاہر ہو جانے پر لوگوں کے پسند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی تعریف اور ثناء خیر کو وہ پسند کرتا ہے اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ”تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو“، یقیناً اسے لوگوں کی تعریف پسند آتی ہے کیونکہ اسے لوگوں کی تعریف سے آخرت کے خیر کی امید ہوتی ہے، البتہ اگر کوئی لوگوں کے جان جانے پر اس لیے خوش ہوتا ہے کہ اس کے نیک عمل کو جان کر لوگ اس کی تعظیم و تکریم کریں گے تو یہ ریا و نمود میں داخل ہو جائے گا، ۴- اور بعض اہل علم نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ لوگوں کے جان جانے پر وہ اس لیے خوش ہوتا ہے کہ نیک عمل میں لوگ اس کی اقتداء کریں گے اور اسے بھی ان کے اعمال میں اجر ملے گا تو یہ خوشی بھی مناسب ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو داود، حدثنا ابو سنان الشيباني، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رجل يا رسول الله الرجل يعمل العمل فيسره فاذا اطلع عليه اعجبه ذلك قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " له اجران اجر السر واجر العلانية " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد رواه الاعمش وغيره عن حبيب بن ابي ثابت عن ابي صالح عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا واصحاب الاعمش لم يذكروا فيه عن ابي هريرة . قال ابو عيسى وقد فسر بعض اهل العلم هذا الحديث فقال اذا اطلع عليه فاعجبه فانما معناه ان يعجبه ثناء الناس عليه بالخير لقول النبي صلى الله عليه وسلم " انتم شهداء الله في الارض " . فيعجبه ثناء الناس عليه لهذا لما يرجو بثناء الناس عليه فاما اذا اعجبه ليعلم الناس منه الخير ليكرم على ذلك ويعظم عليه فهذا رياء . وقال بعض اهل العلم اذا اطلع عليه فاعجبه رجاء ان يعمل بعمله فيكون له مثل اجورهم فهذا له مذهب ايضا
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟“ اس آدمی نے کہا: میں موجود ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”قیامت کے لیے تم نے کیا تیاری کر رکھی ہے“، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کوئی زیادہ صوم و صلاۃ اکٹھا نہیں کی ہے ( یعنی نوافل وغیرہ ) مگر یہ بات ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے محبت کرتا ہے، اور تم بھی اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو“۔ انس کا بیان ہے کہ اسلام لانے کے بعد میں نے مسلمانوں کو اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا آپ کے اس قول سے وہ سب خوش نظر آ رہے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس، انه قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله متى قيام الساعة فقام النبي صلى الله عليه وسلم الى الصلاة فلما قضى صلاته قال " اين السايل عن قيام الساعة " . فقال الرجل انا يا رسول الله . قال " ما اعددت لها " قال يا رسول الله ما اعددت لها كبير صلاة ولا صوم الا اني احب الله ورسوله . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المرء مع من احب وانت مع من احببت " . فما رايت فرح المسلمون بعد الاسلام فرحهم بهذا . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اسے وہی بدلہ ملے گا جو کچھ اس نے کمایا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن بصری کی روایت سے حسن غریب ہے، اور حسن بصری نے انس بن مالک سے اور انس بن مالک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۲- یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری سندوں سے بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، صفوان بن عسال، ابوہریرہ اور ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو هشام الرفاعي، حدثنا حفص بن غياث، عن اشعث، عن الحسن، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المرء مع من احب وله ما اكتسب " . وفي الباب عن علي وعبد الله بن مسعود وصفوان بن عسال وابي هريرة وابي موسى . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث الحسن البصري عن انس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن النبي صلى الله عليه وسلم
صفوان بن عسال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی جس کی آواز بہت بھاری تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے محمد! ایک آدمی قوم سے محبت کرتا ہے البتہ وہ ان سے عمل میں پیچھے ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا سفيان، عن عاصم، عن زر بن حبيش، عن صفوان بن عسال، قال جاء اعرابي جهوري الصوت فقال يا محمد الرجل يحب القوم ولما يلحق بهم . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المرء مع من احب " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم، عن زر، عن صفوان بن عسال، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث محمود
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جیسا وہ گمان مجھ سے رکھے، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن جعفر بن برقان، عن يزيد بن الاصم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يقول انا عند ظن عبدي في وانا معه اذا دعاني " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
نواس بن سمعان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور بدی کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹک پیدا کرے اور لوگوں کا مطلع ہونا تم اس پر ناگوار گزرے“ ۱؎۔
حدثنا موسى بن عبد الرحمن الكندي الكوفي، حدثنا زيد بن حباب، حدثنا معاوية بن صالح، حدثنا عبد الرحمن بن جبير بن نفير الحضرمي، عن ابيه، عن النواس بن سمعان، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البر والاثم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " البر حسن الخلق والاثم ما حاك في نفسك وكرهت ان يطلع عليه الناس " . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا معاوية بن صالح، نحوه الا انه قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میری عظمت و بزرگی کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے قیامت کے دن نور ( روشنی ) کے ایسے منبر ہوں گے جن پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو الدرداء، ابن مسعود، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ اور ابو مالک اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا كثير بن هشام، حدثنا جعفر بن برقان، حدثنا حبيب بن ابي مرزوق، عن عطاء بن ابي رباح، عن ابي مسلم الخولاني، حدثني معاذ بن جبل، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قال الله عز وجل المتحابون في جلالي لهم منابر من نور يغبطهم النبيون والشهداء " . وفي الباب عن ابي الدرداء وابن مسعود وعبادة بن الصامت وابي هريرة وابي مالك الاشعري . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو مسلم الخولاني اسمه عبد الله بن ثوب
ابوہریرہ یا ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن کہ جب اس کے ( عرش کے ) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہو گا اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا: ان میں سے ایک انصاف کرنے والا حکمراں ہے، دوسرا وہ نوجوان ہے جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا ۱؎، تیسرا وہ شخص ہے جس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہو ۲؎ چوتھا وہ دو آدمی جنہوں نے صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی، اسی کے واسطے جمع ہوتے ہیں اور اسی کے واسطے الگ ہوتے ہیں ۳؎، پانچواں وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کرے اور عذاب الٰہی کے خوف میں آنسو بہائے، چھٹا وہ آدمی جسے خوبصورت عورت گناہ کی دعوت دے، لیکن وہ کہے کہ مجھے اللہ کا خوف ہے، ساتواں وہ آدمی جس نے کوئی صدقہ کیا تو اسے چھپایا یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی نہ پتہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث امام مالک بن انس سے اس کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی اسی کے مثل مروی ہے، ان میں بھی راوی نے شک کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے «عن أبي هريرة أو عن أبي سعيد» اور عبیداللہ بن عمر عمری نے اس حدیث کو خبیب بن عبدالرحمٰن سے بغیر شک کے روایت کیا ہے، اس میں انہوں نے صرف «عن أبي هريرة» کہا ہے۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة، او عن ابي سعيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل الا ظله امام عادل وشاب نشا بعبادة الله ورجل كان قلبه معلقا بالمسجد اذا خرج منه حتى يعود اليه ورجلان تحابا في الله فاجتمعا على ذلك وتفرقا ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه ورجل دعته امراة ذات حسب وجمال فقال اني اخاف الله ورجل تصدق بصدقة فاخفاها حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهكذا روي هذا الحديث عن مالك بن انس من غير وجه مثل هذا وشك فيه وقال عن ابي هريرة او عن ابي سعيد وعبيد الله بن عمر رواه عن خبيب بن عبد الرحمن ولم يشك فيه يقول عن ابي هريرة . حدثنا سوار بن عبد الله العنبري، ومحمد بن المثنى، قالا حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله بن عمر، حدثني خبيب، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث مالك بن انس بمعناه الا انه قال " كان قلبه معلقا بالمساجد " . وقال " ذات منصب وجمال " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
مقدام بن معدیکرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے کسی مسلمان بھائی سے محبت کرے تو وہ اپنی اس محبت سے آگاہ کر دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- مقدام کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوذر اور انس رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابومعمر عبداللہ بن سخبرہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر ایک امیر کی تعریف شروع کی تو مقداد بن عمرو کندی رضی الله عنہ اس کے چہرے پر مٹی ڈالنے لگے، اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دیں ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- زائدہ نے یہ حدیث مجاہد سے، مجاہد نے ابن عباس رضی الله عنہما سے روایت کی ہے حالانکہ مجاہد کی روایت جو ابومعمر سے ہے وہ زیادہ صحیح ہے، ۳- ابومعمر کا نام عبداللہ بن سخبرہ ہے اور مقداد بن اسود مقداد بن عمرو الکندی ہیں، جن کی کنیت ابو معبد ہے۔ اسود بن عبدیغوث کی طرف ان کی نسبت اس لیے کی گئی کیونکہ انہوں نے مقداد کو لڑکپن میں اپنا متبنی بیٹا بنا لیا تھا، ۴- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن مجاهد، عن ابي معمر، قال قام رجل فاثنى على امير من الامراء فجعل المقداد يحثو في وجهه التراب وقال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نحثو في وجوه المداحين التراب . وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد روى زايدة عن يزيد بن ابي زياد عن مجاهد عن ابن عباس وحديث مجاهد عن ابي معمر اصح . وابو معمر اسمه عبد الله بن سخبرة والمقداد بن الاسود هو المقداد بن عمرو الكندي ويكنى ابا معبد وانما نسب الى الاسود بن عبد يغوث لانه كان قد تبناه وهو صغير
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم بے جا تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت سے غریب ہے۔
حدثنا محمد بن عثمان الكوفي، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن سالم الخياط، عن الحسن، عن ابي هريرة، قال امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نحثو في افواه المداحين التراب . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من حديث ابي هريرة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مومن کے سوا کسی کی صحبت اختیار نہ کرو، اور تمہارا کھانا صرف متقی ہی کھائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا ابن المبارك، عن حيوة بن شريح، حدثني سالم بن غيلان، ان الوليد بن قيس التجيبي، اخبره انه، سمع ابا سعيد الخدري، قال سالم او عن ابي الهيثم، عن ابي سعيد، - انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا تصاحب الا مومنا ولا ياكل طعامك الا تقي " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن انما نعرفه من هذا الوجه
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر اور بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اسے دنیا ہی میں جلد سزا دے دیتا ہے ۱؎، اور جب اپنے کسی بندے کے ساتھ شر ( برائی ) کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا کو روکے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دیتا ہے“۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن سعد بن سنان، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اراد الله بعبده الخير عجل له العقوبة في الدنيا واذا اراد الله بعبده الشر امسك عنه بذنبه حتى يوفى به يوم القيامة " . وبهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان عظم الجزاء مع عظم البلاء وان الله اذا احب قوما ابتلاهم فمن رضي فله الرضا ومن سخط فله السخط " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درد سے زیادہ درد کسی شخص کا نہیں دیکھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، عن الاعمش، قال سمعت ابا وايل، يقول قالت عايشة ما رايت الوجع على احد اشد منه على رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سب سے زیادہ مصیبت کس پر آتی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”انبیاء و رسل پر، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر بندہ اپنے دین میں سخت ہے تو اس کی مصیبت بھی سخت ہوتی ہے اور اگر وہ اپنے دین میں نرم ہوتا ہے تو اس کے دین کے مطابق مصیبت بھی ہوتی ہے، پھر مصیبت بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے، یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں ابوہریرہ اور حذیفہ بن یمان کی بہن فاطمہ رضی الله عنہم سے بھی روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مصیبتیں کس پر زیادہ آتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء و رسل پر پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں پھر جو ان کے بعد میں ہوں“ ۱؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم بن بهدلة، عن مصعب بن سعد، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله اى الناس اشد بلاء قال " الانبياء ثم الامثل فالامثل فيبتلى الرجل على حسب دينه فان كان دينه صلبا اشتد بلاوه وان كان في دينه رقة ابتلي على حسب دينه فما يبرح البلاء بالعبد حتى يتركه يمشي على الارض ما عليه خطيية " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وفي الباب عن ابي هريرة واخت حذيفة بن اليمان ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل اي الناس اشد بلاء قال الانبياء ثم الامثل فالامثل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن مرد اور مومن عورت کی جان، اولاد، اور مال میں آزمائشیں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ مرنے کے بعد اللہ سے ملاقات کرتے ہیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہوتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى، حدثنا يزيد بن زريع، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما يزال البلاء بالمومن والمومنة في نفسه وولده وماله حتى يلقى الله وما عليه خطيية " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جب میں اپنے بندے کی پیاری آنکھیں چھین لیتا ہوں تو میرے پاس اس کا بدلہ صرف جنت ہی ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور زید بن ارقم رضی الله عنہما سے احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، حدثنا ابو ظلال، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله يقول اذا اخذت كريمتى عبدي في الدنيا لم يكن له جزاء عندي الا الجنة " . وفي الباب عن ابي هريرة وزيد بن ارقم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وابو ظلال اسمه هلال
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے جس کی پیاری آنکھیں چھین لیں اور اس نے اس پر صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی تو میں اسے جنت کے سوا اور کوئی بدلہ نہیں دوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عرباض بن ساریہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، رفعه الى النبي صلى الله عليه وسلم قال " يقول الله عز وجل من اذهبت حبيبتيه فصبر واحتسب لم ارض له ثوابا دون الجنة " . وفي الباب عن عرباض بن سارية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قیامت کے دن ایسے لوگوں کو ثواب دیا جائے گا جن کی دنیا میں آزمائش ہوئی تھی تو اہل عافیت خواہش کریں گے کاش دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کتری جاتیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کا کچھ حصہ «عن الأعمش عن طلحة بن مصرف عن مسروق» کی سند مسروق کے قول سے روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، ويوسف بن موسى القطان البغدادي، قالا حدثنا عبد الرحمن بن مغراء ابو زهير، عن الاعمش، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يود اهل العافية يوم القيامة حين يعطى اهل البلاء الثواب لو ان جلودهم كانت قرضت في الدنيا بالمقاريض " . وهذا حديث غريب لا نعرفه بهذا الاسناد الا من هذا الوجه . وقد روى بعضهم هذا الحديث عن الاعمش عن طلحة بن مصرف عن مسروق قوله شييا من هذا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مرتا ہے وہ نادم و شرمندہ ہوتا ہے“، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! شرم و ندامت کی کیا وجہ ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”اگر وہ شخص نیک ہے تو اسے اس بات پر ندامت ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکی نہ کر سکا، اور اگر وہ بد ہے تو نادم ہوتا ہے کہ میں نے بدی سے اپنے آپ کو نکالا کیوں نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یحییٰ بن عبیداللہ کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے، اور یہ یحییٰ بن عبیداللہ بن موہب مدنی ہیں۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا يحيى بن عبيد الله، قال سمعت ابي يقول، سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من احد يموت الا ندم " . قالوا وما ندامته يا رسول الله قال " ان كان محسنا ندم ان لا يكون ازداد وان كان مسييا ندم ان لا يكون نزع " . قال ابو عيسى هذا حديث انما نعرفه من هذا الوجه . ويحيى بن عبيد الله قد تكلم فيه شعبة وهو يحيى بن عبيد الله بن موهب مدني