Loading...

Loading...
کتب
۱۱۱ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ نکلیں گے جو دین کے ساتھ دنیا کے بھی طلب گار ہوں گے، وہ لوگوں کو اپنی سادگی اور نرمی دکھانے کے لیے بھیڑ کی کھال پہنیں گے، ان کی زبانیں شکر سے بھی زیادہ میٹھی ہوں گی جب کہ ان کے دل بھیڑیوں کے دل کی طرح ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا یہ لوگ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا مجھ پر جرات کرتے ہیں میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ ضرور میں ان پر ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں کا عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا سويد، اخبرنا ابن المبارك، اخبرنا يحيى بن عبيد الله، قال سمعت ابي يقول، سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يخرج في اخر الزمان رجال يختلون الدنيا بالدين يلبسون للناس جلود الضان من اللين السنتهم احلى من السكر وقلوبهم قلوب الذياب يقول الله عز وجل ابي يغترون ام على يجتريون فبي حلفت لابعثن على اوليك منهم فتنة تدع الحليم منهم حيرانا " . وفي الباب عن ابن عمر
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے ایک ایسی مخلوق پیدا کی ہے جن کی زبانیں شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہیں اور ان کے دل ایلوا کے پھل سے بھی زیادہ کڑوے ہیں، میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں! کہ ضرور میں ان کے درمیان ایسا فتنہ نازل کروں گا جس سے ان میں کا عقلمند آدمی بھی حیران رہ جائے گا، پھر بھی یہ مجھ پر غرور کرتے ہیں یا جرات کرتے ہیں؟“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب ہے اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن سعيد الدارمي، حدثنا محمد بن عباد، اخبرنا حاتم بن اسماعيل، اخبرنا حمزة بن ابي محمد، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله تعالى قال لقد خلقت خلقا السنتهم احلى من العسل وقلوبهم امر من الصبر فبي حلفت لاتيحنهم فتنة تدع الحليم منهم حيرانا فبي يغترون ام على يجترءون " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث ابن عمر لا نعرفه الا من هذا الوجه
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا صالح بن عبد الله، حدثنا عبد الله بن المبارك، ح وحدثنا سويد بن نصر، اخبرنا ابن المبارك، عن يحيى بن ايوب، عن عبيد الله بن زحر، عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن ابي امامة، عن عقبة بن عامر، قال قلت يا رسول الله ما النجاة قال " امسك عليك لسانك وليسعك بيتك وابك على خطييتك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان جب صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء زبان کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر اس لیے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم سب بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے“ ۱؎۔
حدثنا محمد بن موسى البصري، حدثنا حماد بن زيد، عن ابي الصهباء، عن سعيد بن جبير، عن ابي سعيد الخدري، رفعه قال " اذا اصبح ابن ادم فان الاعضاء كلها تكفر اللسان فتقول اتق الله فينا فانما نحن بك فان استقمت استقمنا وان اعوججت اعوججنا " . حدثنا هناد، حدثنا ابو اسامة، عن حماد بن زيد، نحوه ولم يرفعه وهذا اصح من حديث محمد بن موسى . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه الا من حديث حماد بن زيد وقد رواه غير واحد عن حماد بن زيد ولم يرفعوه . حدثنا صالح بن عبد الله، حدثنا حماد بن زيد، عن ابي الصهباء، عن سعيد بن جبير، عن ابي سعيد الخدري، قال احسبه عن النبي صلى الله عليه وسلم فذكر نحوه
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مجھ سے اپنی دونوں ڈاڑھوں اور دونوں ٹانگوں کے بیچ کا ضامن ہو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سہل بن سعد کی روایت سے حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا عمر بن علي المقدمي، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يتكفل لي ما بين لحييه وما بين رجليه اتكفل له بالجنة " . وفي الباب عن ابي هريرة وابن عباس . قال ابو عيسى حديث سهل حديث حسن صحيح غريب من حديث سهل بن سعد
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اللہ نے اس کی ٹانگوں اور ڈاڑھوں کے درمیان کی چیز کے شر و فساد سے بچا لیا وہ جنت میں داخل ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمان ہے، یہ عزہ اشجعیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں اور کوفی ہیں اور سہل بن سعد سے روایت کرنے والے راوی ابوحازم کا نام سلمہ بن دینار ہے جو زاہد مدنی ہیں۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من وقاه الله شر ما بين لحييه وشر ما بين رجليه دخل الجنة " . قال ابو عيسى ابو حازم الذي روى عن ابي هريرة اسمه سلمان مولى عزة الاشجعية وهو كوفي وابو حازم الذي روى عن سهل بن سعد هو ابو حازم الزاهد مدني واسمه سلمة بن دينار . وهذا حديث حسن غريب
سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھ سے ایسی بات بیان فرمائیں جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں، آپ نے فرمایا: ”کہو: میرا رب ( معبود حقیقی ) اللہ ہے پھر اسی عہد پر قائم رہو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ کو مجھ سے کس چیز کا زیادہ خوف ہے؟ آپ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: ”اسی کا زیادہ خوف ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث سفیان بن عبداللہ ثقفی سے کئی سندوں سے مروی ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن معمر، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن ماعز، عن سفيان بن عبد الله الثقفي، قال قلت يا رسول الله حدثني بامر اعتصم به . قال " قل ربي الله ثم استقم " . قلت يا رسول الله ما اخوف ما تخاف على فاخذ بلسان نفسه ثم قال " هذا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن سفيان بن عبد الله الثقفي
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام سے پرہیز کرو اس لیے کہ ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام دل کو سخت بنا دیتا ہے اور لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ دور سخت دل والا ہو گا“۔
حدثنا ابو عبد الله، محمد بن ابي ثلج البغدادي صاحب احمد بن حنبل حدثنا علي بن حفص، حدثنا ابراهيم بن عبد الله بن حاطب، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تكثروا الكلام بغير ذكر الله فان كثرة الكلام بغير ذكر الله قسوة للقلب وان ابعد الناس من الله القلب القاسي " . حدثنا ابو بكر بن ابي النضر، حدثني ابو النضر، عن ابراهيم بن عبد الله بن حاطب، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث ابراهيم بن عبد الله بن حاطب
ام المؤمنین حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کی ساری باتیں اس کے لیے وبال ہیں ان میں سے اسے امربالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکر الٰہی کے سوا اسے کسی اور کا ثواب نہیں ملے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے اسے ہم صرف محمد بن یزید بن خنیس کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، وغير، واحد، قالوا حدثنا محمد بن يزيد بن خنيس المكي، قال سمعت سعيد بن حسان المخزومي، قال حدثتني ام صالح، عن صفية بنت شيبة، عن ام حبيبة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كل كلام ابن ادم عليه لا له الا امر بمعروف او نهى عن منكر او ذكر الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث محمد بن يزيد بن خنيس
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابو الدرداء کے مابین بھائی چارہ کروایا تو ایک دن سلمان نے ابوالدرداء رضی الله عنہ کی زیارت کی، دیکھا کہ ان کی بیوی ام الدرداء معمولی کپڑے میں ملبوس ہیں، چنانچہ انہوں نے پوچھا کہ تمہاری اس حالت کی کیا وجہ ہے؟ ان کی بیوی نے جواب دیا: تمہارے بھائی ابوالدرداء رضی الله عنہ کو دنیا سے کوئی رغبت نہیں ہے کہ جب ابو الدرداء گھر آئے تو پہلے انہوں نے سلمان رضی الله عنہ کے سامنے کھانا پیش کیا اور کہا: کھاؤ میں آج روزے سے ہوں۔ سلمان رضی الله عنہ نے کہا: میں نہیں کھاؤں گا یہاں تک کہ تم بھی میرے ساتھ کھاؤ۔ چنانچہ سلمان نے بھی کھایا۔ پھر جب رات آئی تو ابوالدرداء رضی الله عنہ تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے، تو سلمان نے ان سے کہا: سو جاؤ وہ سو گئے۔ پھر تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو کہا سو جاؤ، چنانچہ وہ سو گئے، پھر جب صبح قریب ہوئی تو سلمان نے ان سے کہا: اب اٹھ جاؤ چنانچہ دونوں نے اٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر سلمان نے ان سے کہا: ”تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہارے رب کا تم پر حق ہے، تمہارے مہمان کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر صاحب حق کو اس کا حق ادا کرو“، اس کے بعد دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس گفتگو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”سلمان نے سچ کہا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا جعفر بن عون، حدثنا ابو العميس، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، قال اخى رسول الله صلى الله عليه وسلم بين سلمان وبين ابي الدرداء فزار سلمان ابا الدرداء فراى ام الدرداء متبذلة فقال ما شانك متبذلة قالت ان اخاك ابا الدرداء ليس له حاجة في الدنيا . قال فلما جاء ابو الدرداء قرب اليه طعاما فقال كل فاني صايم . قال ما انا باكل حتى تاكل . قال فاكل فلما كان الليل ذهب ابو الدرداء ليقوم فقال له سلمان نم . فنام ثم ذهب يقوم فقال له نم . فنام فلما كان عند الصبح قال له سلمان قم الان فقاما فصليا فقال ان لنفسك عليك حقا ولربك عليك حقا ولضيفك عليك حقا وان لاهلك عليك حقا فاعط كل ذي حق حقه . فاتيا النبي صلى الله عليه وسلم فذكرا ذلك فقال له " صدق سلمان " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وابو العميس اسمه عتبة بن عبد الله وهو اخو عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي
عبدالوہاب بن ورد سے روایت ہے کہ ان سے مدینہ کے ایک شخص نے بیان کیا: معاویہ رضی الله عنہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کے پاس ایک خط لکھا کہ مجھے ایک خط لکھئیے اور اس میں کچھ وصیت کیجئے لیكن بہت زیادہ نہیں ۔ چنانچہ عائشہ رضی الله عنہا نے معاویہ رضی الله عنہ کے پاس خط لکھا: دعا و سلام کے بعد معلوم ہو کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو لوگوں کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو تو لوگوں سے پہنچنے والی تکلیف کے سلسلے میں اللہ اس کے لیے کافی ہو گا اور جو اللہ کی ناراضگی میں لوگوں کی رضا کا طالب ہو تو اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کو اسے تکلیف دینے کے لیے مقرر کر دے گا“، ( والسلام علیک تم پر اللہ کی سلامتی نازل ہو ) ۱؎۔
حدثنا سويد بن نصر، اخبرنا عبد الله بن المبارك، عن عبد الوهاب بن الورد، عن رجل، من اهل المدينة قال كتب معاوية الى عايشة ام المومنين رضى الله عنها ان اكتبي الى كتابا توصيني فيه ولا تكثري على . فكتبت عايشة رضى الله عنها الى معاوية سلام عليك اما بعد فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من التمس رضاء الله بسخط الناس كفاه الله مونة الناس ومن التمس رضاء الناس بسخط الله وكله الله الى الناس " . والسلام عليك . حدثنا محمد بن يحيى، حدثنا محمد بن يوسف، عن سفيان الثوري، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، انها كتبت الى معاوية فذكر الحديث بمعناه ولم يرفعه