Loading...

Loading...
کتب
۱۶۶ احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے، اس وقت ہم سب تقدیر کے مسئلہ میں بحث و مباحثہ کر رہے تھے، آپ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور ایسا نظر آنے لگا گویا آپ کے گالوں پر انار کے دانے نچوڑ دئیے گئے ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے، یا میں اسی واسطے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں؟ بیشک تم سے پہلی امتیں ہلاک ہو گئیں جب انہوں نے اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ کیا، میں تمہیں قسم دلاتا ہوں کہ اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ نہ کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱ – یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے اس سند سے صرف صالح مری کی روایت سے جانتے ہیں اور صالح مری کے بہت سارے غرائب ہیں جن کی روایت میں وہ منفرد ہیں، کوئی ان کی متابعت نہیں کرتا۔ ۳- اس باب میں عمر، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي البصري، قال حدثنا صالح المري، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نتنازع في القدر فغضب حتى احمر وجهه حتى كانما فقي في وجنتيه الرمان فقال " ابهذا امرتم ام بهذا ارسلت اليكم انما هلك من كان قبلكم حين تنازعوا في هذا الامر عزمت عليكم الا تتنازعوا فيه " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمر وعايشة وانس . وهذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث صالح المري . وصالح المري له غرايب ينفرد بها لا يتابع عليها
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدم اور موسیٰ نے باہم مناظرہ کیا، موسیٰ نے کہا: آدم! آپ وہی تو ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی ۱؎ پھر آپ نے لوگوں کو گمراہ کیا اور ان کو جنت سے نکالا؟ آدم نے اس کے جواب میں کہا: آپ وہی موسیٰ ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے گفتگو کرنے کے لیے منتخب کیا، کیا آپ میرے ایسے کام پر مجھے ملامت کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کرنے سے پہلے میرے اوپر لازم کر دیا تھا؟، آدم موسیٰ سے دلیل میں جیت گئے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- حسن صحیح غریب ہے، ۲- یہ حدیث اس سند سے یعنی سلیمان تیمی کی روایت سے جسے وہ اعمش سے روایت کرتے ہیں، ۳- اعمش کے بعض شاگردوں نے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ اور بعض نے اس کی سند یوں بیان کی ہے «عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم»، ۴- کئی اور سندوں سے یہ حدیث ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، ۵- اس باب میں عمر اور جندب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا يحيى بن حبيب بن عربي، قال حدثنا المعتمر بن سليمان، قال حدثنا ابي، عن سليمان الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " احتج ادم وموسى فقال موسى يا ادم انت الذي خلقك الله بيده ونفخ فيك من روحه اغويت الناس واخرجتهم من الجنة . قال فقال ادم وانت موسى الذي اصطفاك الله بكلامه اتلومني على عمل عملته كتبه الله على قبل ان يخلق السموات والارض قال فحج ادم موسى " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمر وجندب . وهذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث سليمان التيمي عن الاعمش . وقد روى بعض اصحاب الاعمش عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . وقال بعضهم عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو عمل ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، وہ نیا شروع ہونے والا امر ہے یا ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے؟ ۱؎ آپ نے فرمایا: ”ابن خطاب! وہ ایسا امر ہے جس سے فراغت ہو چکی ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہ امر آسان کر دیا گیا ہے ( جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ) ، چنانچہ جو آدمی سعادت مندوں میں سے ہے وہ سعادت والا کام کرتا ہے اور جو بدبختوں میں سے ہے وہ بدبختی والا کام کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، حذیفہ بن اسید، انس اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا بندار، قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا شعبة، عن عاصم بن عبيد الله، قال سمعت سالم بن عبد الله، يحدث عن ابيه، قال قال عمر يا رسول الله ارايت ما نعمل فيه امر مبتدع او مبتدا او فيما قد فرغ منه فقال " فيما قد فرغ منه يا ابن الخطاب وكل ميسر اما من كان من اهل السعادة فانه يعمل للسعادة واما من كان من اهل الشقاء فانه يعمل للشقاء " . قال ابو عيسى وفي الباب عن علي وحذيفة بن اسيد وانس وعمران بن حصين . وهذا حديث حسن صحيح
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ زمین کرید رہے تھے کہ اچانک آپ نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا پھر فرمایا: ”تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس کا حال معلوم نہ ہو، ( وکیع کی روایت میں ہے: تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جس کی جنت یا جہنم کی جگہ نہ لکھ دی گئی ہو ) ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم لوگ ( تقدیر کے لکھے ہوئے پر ) بھروسہ نہ کر لیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، تم لوگ عمل کرو اس لیے کہ ہر آدمی کے لیے وہ چیز آسان کر دی گئی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الحلواني،قال حدثنا عبد الله بن نمير، ووكيع، عن الاعمش، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي، قال بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ينكت في الارض اذ رفع راسه الى السماء ثم قال " ما منكم من احد الا قد علم وقال وكيع الا قد كتب مقعده من النار ومقعده من الجنة " . قالوا افلا نتكل يا رسول الله قال " لا اعملوا فكل ميسر لما خلق له " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے صادق و مصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ۱؎، ”تم میں سے ہر آدمی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن تک «علقة» ( یعنی جمے ہوئے خون ) کی شکل میں رہتا ہے، پھر اتنے ہی دن تک «مضغة» ( یعنی گوشت کے لوتھڑے ) کی شکل میں رہتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے، پھر اسے چار چیزوں ( کے لکھنے ) کا حکم کیا جاتا ہے، چنانچہ وہ لکھتا ہے: اس کا رزق، اس کی موت، اس کا عمل اور یہ چیز کہ وہ «شقي» ( بدبخت ) ہے یا «سعيد» ( نیک بخت ) ، اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تم میں سے کوئی آدمی جنتیوں کا عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس کے اوپر لکھی ہوئی تقدیر غالب آتی ہے اور جہنمیوں کے عمل پر اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔ لہٰذا وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اور تم میں سے کوئی آدمی جہنمیوں کا عمل کرتا رہتا ہے پھر اس کے اوپر لکھی ہوئی تقدیر غالب آتی ہے اور جنتیوں کے عمل پر اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے، لہٰذا وہ جنت میں داخل ہوتا ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، قال عن الاعمش، عن زيد بن وهب، عن عبد الله بن مسعود، قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق " ان احدكم يجمع خلقه في بطن امه في اربعين يوما ثم يكون علقة مثل ذلك ثم يكون مضغة مثل ذلك ثم يرسل الله اليه الملك فينفخ فيه ويومر باربع يكتب رزقه واجله وعمله وشقي او سعيد فوالذي لا اله غيره ان احدكم ليعمل بعمل اهل الجنة حتى ما يكون بينه وبينها الا ذراع ثم يسبق عليه الكتاب فيختم له بعمل اهل النار فيدخلها وان احدكم ليعمل بعمل اهل النار حتى ما يكون بينه وبينها الا ذراع ثم يسبق عليه الكتاب فيختم له بعمل اهل الجنة فيدخلها " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا الاعمش، حدثنا زيد بن وهب، عن عبد الله بن مسعود، قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر مثله . وهذا حديث حسن صحيح . وقد روى شعبة والثوري عن الاعمش نحوه . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة وانس . وسمعت احمد بن الحسن قال سمعت احمد بن حنبل يقول ما رايت بعيني مثل يحيى بن سعيد القطان و هذا حديث حسن صحيح. وقد روى شعبة والثوري عن عن الاعمش نحوه. حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن زيد، نحوه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے ۱؎، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی، یا مشرک بناتے ہیں“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! جو اس سے پہلے ہی مر جائے؟ ۲؎ آپ نے فرمایا: ”اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے“۔
حدثنا محمد بن يحيى القطعي البصري، قال: حدثنا عبد العزيز بن ربيعة البناني، قال: حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل مولود يولد على الملة فابواه يهودانه او ينصرانه او يشركانه " . قيل يا رسول الله فمن هلك قبل ذلك قال " الله اعلم بما كانوا عاملين به " . حدثنا ابو كريب، والحسين بن حريث، قالا حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه وقال " يولد على الفطرة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه شعبة وغيره عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه . وفي الباب عن الاسود بن سريع
سلمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دعا کے سوا کوئی چیز تقدیر کو نہیں ٹالتی ہے ۱؎ اور نیکی کے سوا کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کرتی ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث سلمان کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابواسید سے بھی روایت ہے، ۳- ہم اسے صرف یحییٰ بن ضریس کی روایت سے جانتے ہیں، ۴- ابومودود دو راویوں کی کنیت ہے، ایک کو فضہ کہا جاتا ہے، اور یہ وہی ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے، ان کا نام فضہ ہے اور دوسرے ابومودود کا نام عبدالعزیز بن ابوسلیمان ہے، ان میں سے ایک بصرہ کے رہنے والے ہیں اور دوسرے مدینہ کے، دونوں ایک ہی دور میں تھے۔
حدثنا محمد بن حميد الرازي، وسعيد بن يعقوب، قالا حدثنا يحيى بن الضريس، عن ابي مودود، عن سليمان التيمي، عن ابي عثمان النهدي، عن سلمان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يرد القضاء الا الدعاء ولا يزيد في العمر الا البر " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي اسيد . وهذا حديث حسن غريب من حديث سلمان لا نعرفه الا من حديث يحيى بن الضريس . وابو مودود اثنان احدهما يقال له فضة وهو الذي روى هذا الحديث اسمه فضة بصري والاخر عبد العزيز بن ابي سليمان احدهما بصري والاخر مدني وكانا في عصر واحد وابو مودود الذي روى هذا الحديث اسمه فضة بصري
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا پڑھتے تھے «يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك» ”اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ آپ پر اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لے آئے کیا آپ کو ہمارے سلسلے میں اندیشہ رہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، لوگوں کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں جیسا چاہتا ہے انہیں الٹتا پلٹتا رہتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- کئی لوگوں نے اسی طرح «عن الأعمش عن أبي سفيان عن أنس» کی سند سے روایت کی ہے۔ بعض لوگوں نے «عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، لیکن ابوسفیان کی حدیث جو انس سے مروی ہے زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں نواس بن سمعان، ام سلمہ، عبداللہ بن عمرو اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن انس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر ان يقول " يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك " . فقلت يا رسول الله امنا بك وبما جيت به فهل تخاف علينا قال " نعم ان القلوب بين اصبعين من اصابع الله يقلبها كيف يشاء " . قال ابو عيسى وفي الباب عن النواس بن سمعان وام سلمة وعبد الله بن عمرو وعايشة . وهذا حديث حسن وهكذا روى غير واحد عن الاعمش عن ابي سفيان عن انس . وروى بعضهم عن الاعمش عن ابي سفيان عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم . وحديث ابي سفيان عن انس اصح
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک بار ) ہماری طرف نکلے اس وقت آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں۔ آپ نے پوچھا: ”تم لوگ جانتے ہو یہ دونوں کتابیں کیا ہیں؟“ ہم لوگوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ آپ ہمیں بتا دیں۔ داہنے ہاتھ والی کتاب کے بارے میں آپ نے فرمایا: ”یہ رب العالمین کی کتاب ہے، اس کے اندر جنتیوں، ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں، پھر آخر میں ان کا میزان ذکر کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا ان میں نہ تو کسی کا اضافہ ہو گا اور نہ ان میں سے کوئی کم ہو گا“، پھر آپ نے بائیں ہاتھ والی کتاب کے بارے میں فرمایا: ”یہ رب العالمین کی کتاب ہے، اس کے اندر جہنمیوں، ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبیلوں کے نام ہیں اور آخر میں ان کا میزان ذکر کر دیا گیا ہے، اب ان میں نہ تو کسی کا اضافہ ہو گا اور نہ ان میں سے کوئی کم ہو گا۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر عمل کس لیے کریں جب کہ اس معاملہ سے فراغت ہو چکی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”سیدھی راہ پر چلو اور میانہ روی اختیار کرو، اس لیے کہ جنتی کا خاتمہ جنتی کے عمل پہ ہو گا، اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے اور جہنمی کا خاتمہ جہنمی کے عمل پہ ہو گا اگرچہ اس سے پہلے وہ جو بھی عمل کرے“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا، پھر ان دونوں کتابوں کو پھینک دیا اور فرمایا: ”تمہارا رب بندوں سے فارغ ہو چکا ہے، ایک فریق جنت میں جائے گا اور ایک فریق جہنم میں جائے گا“۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال: حدثنا الليث، عن ابي قبيل، عن شفى بن ماتع، عن عبد الله بن عمرو بن العاصي، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي يده كتابان فقال " اتدرون ما هذان الكتابان " . فقلنا لا يا رسول الله الا ان تخبرنا . فقال للذي في يده اليمنى " هذا كتاب من رب العالمين فيه اسماء اهل الجنة واسماء ابايهم وقبايلهم ثم اجمل على اخرهم فلا يزاد فيهم ولا ينقص منهم ابدا " . ثم قال للذي في شماله " هذا كتاب من رب العالمين فيه اسماء اهل النار واسماء ابايهم وقبايلهم ثم اجمل على اخرهم فلا يزاد فيهم ولا ينقص منهم ابدا " . فقال اصحابه ففيم العمل يا رسول الله ان كان امر قد فرغ منه فقال " سددوا وقاربوا فان صاحب الجنة يختم له بعمل اهل الجنة وان عمل اى عمل وان صاحب النار يختم له بعمل اهل النار وان عمل اى عمل " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم بيديه فنبذهما ثم قال " فرغ ربكم من العباد فريق في الجنة وفريق في السعير " . حدثنا قتيبة حدثنا بكر بن مضر عن ابي قبيل نحوه . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عمر . وهذا حديث حسن غريب صحيح . وابو قبيل اسمه حيى بن هاني
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے عمل کراتا ہے“، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیسے عمل کراتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”موت سے پہلے اسے عمل صالح کی توفیق دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، قال: حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اراد الله بعبد خيرا استعمله " . فقيل كيف يستعمله يا رسول الله قال " يوفقه لعمل صالح قبل الموت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”کسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی“، ایک اعرابی ( بدوی ) نے عرض کیا: اللہ کے رسول! خارشتی شرمگاہ والے اونٹ سے ( جب اسے باڑہ میں لاتے ہیں ) تو تمام اونٹ ( کھجلی والے ) ہو جاتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر پہلے کو کس نے کھجلی دی؟ کسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی ہے اور نہ ماہ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی، رزق اور مصیبتوں کو لکھ دیا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، ابن عباس اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا بندار، قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن عمارة بن القعقاع، حدثنا ابو زرعة بن عمرو بن جرير، قال حدثنا صاحب، لنا عن ابن مسعود، قال قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لا يعدي شيء شييا " . فقال اعرابي يا رسول الله البعير الجرب الحشفة ندبنه فيجرب الابل كلها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فمن اجرب الاول لا عدوى ولا صفر خلق الله كل نفس وكتب حياتها ورزقها ومصايبها " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي هريرة وابن عباس وانس . قال وسمعت محمد بن عمرو بن صفوان الثقفي البصري قال سمعت علي بن المديني يقول لو حلفت بين الركن والمقام لحلفت اني لم ار احدا اعلم من عبد الرحمن بن مهدي
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لے آئے، اور یہ یقین کر لے کہ جو کچھ اسے لاحق ہوا ہے چوکنے والا نہ تھا اور جو کچھ چوک گیا ہے اسے لاحق ہونے والا نہ تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن میمون کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- عبداللہ بن میمون منکر حدیث ہیں، ۳- اس باب میں عبادہ، جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو الخطاب، زياد بن يحيى البصري حدثنا عبد الله بن ميمون، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يومن عبد حتى يومن بالقدر خيره وشره حتى يعلم ان ما اصابه لم يكن ليخطيه وان ما اخطاه لم يكن ليصيبه " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عبادة وجابر وعبد الله بن عمرو . وهذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث عبد الله بن ميمون . وعبد الله بن ميمون منكر الحديث
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بندہ چار چیزوں پر ایمان لائے بغیر مومن نہیں ہو سکتا: ( ۱ ) گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، ( ۲ ) موت پر ایمان لائے، ( ۳ ) مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے، ( ۴ ) تقدیر پر ایمان لائے“۔
حدثنا محمود بن غيلان، قال: حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، عن منصور، عن ربعي بن حراش، عن علي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يومن عبد حتى يومن باربع يشهد ان لا اله الا الله واني محمد رسول الله بعثني بالحق ويومن بالموت وبالبعث بعد الموت ويومن بالقدر " . حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا النضر بن شميل، عن شعبة، نحوه الا انه قال ربعي عن رجل، عن علي، . قال ابو عيسى حديث ابي داود عن شعبة، عندي اصح من حديث النضر وهكذا روى غير واحد عن منصور عن ربعي عن علي . حدثنا الجارود قال سمعت وكيعا يقول بلغنا ان ربعيا لم يكذب في الاسلام كذبة
مطر بن عکامس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت و ضرورت پیدا کر دیتا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- مطر بن عکامس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے علاوہ کوئی دوسری حدیث نہیں معلوم ہے، ۳- اس باب میں ابوعزہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا بندار, قال: حدثنا مومل، قال: حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن مطر بن عكامس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قضى الله لعبد ان يموت بارض جعل له اليها حاجة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي عزة . وهذا حديث حسن غريب . ولا يعرف لمطر بن عكامس عن النبي صلى الله عليه وسلم غير هذا الحديث. حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا مومل، وابو داود الحفري عن سفيان، نحوه
ابوعزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کی موت کے لیے کسی زمین کا فیصلہ کر دیتا ہے تو وہاں اس کی کوئی حاجت پیدا کر دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- ابوعزہ کو شرف صحبت حاصل ہے اور ان کا نام یسار بن عبد ہے، ۳- راوی ابوملیح کا نام عامر بن اسامہ بن عمیر ہذلی ہے۔ انہیں زید بن اسامہ بھی کہا جاتا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، وعلي بن حجر، - المعنى واحد قالا حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن ابي المليح بن اسامة، عن ابي عزة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قضى الله لعبد ان يموت بارض جعل له اليها حاجة او قال بها حاجة " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح . وابو عزة له صحبة واسمه يسار بن عبد وابو المليح اسمه عامر بن اسامة بن عمير الهذلي ويقال زيد بن اسامة
ابوخزامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ دم جن سے ہم جھاڑ پھونک کرتے ہیں، دوائیں جن سے علاج کرتے ہیں اور بچاؤ کی چیزیں جن سے بچاؤ کرتے ہیں، آپ بتائیے کیا یہ اللہ کی تقدیر میں سے کچھ لوٹا سکتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”یہ سب بھی تو اللہ کی تقدیر سے ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم اس حدیث کو صرف زہری کی روایت سے جانتے ہیں، کئی لوگوں نے یہ حدیث «عن سفيان عن الزهري عن أبي خزامة عن أبيه» کی سند سے روایت کی ہے، یہ زیادہ صحیح ہے۔ اسی طرح کئی لوگوں نے «عن الزهري عن أبي خزامة عن أبيه» کی سند سے روایت کی ہے۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، قال: حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن ابن ابي خزامة، عن ابيه، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ارايت رقى نسترقيها ودواء نتداوى به وتقاة نتقيها هل ترد من قدر الله شييا فقال " هي من قدر الله " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه الا من حديث الزهري وقد روى غير واحد هذا عن سفيان عن الزهري عن ابي خزامة عن ابيه وهذا اصح هكذا قال غير واحد عن الزهري عن ابي خزامة عن ابيه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے دو قسم کے لوگوں کے لیے اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے: ( ۱ ) مرجئہ ( ۲ ) قدریہ“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابن عمر اور رافع بن خدیج رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى الكوفي، قال: حدثنا محمد بن فضيل، عن القاسم بن حبيب، وعلي بن نزار، عن نزار، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صنفان من امتي ليس لهما في الاسلام نصيب المرجية والقدرية " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمر وابن عمر ورافع بن خديج . وهذا حديث غريب حسن صحيح . حدثنا محمد بن رافع، قال: حدثنا محمد بن بشر، قال: حدثنا سلام بن ابي عمرة، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال محمد بن رافع واخبرنا محمد بن بشر اخبرنا علي بن نزار عن نزار عن عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن شخیر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابن آدم کی مثال ایسی ہے کہ اس کے پہلو میں ننانوے آفتیں ہیں اگر وہ ان آفتوں سے بچ گیا تو بڑھاپے میں گرفتار ہو جائے گا یہاں تک کہ اسے موت آ جائے گی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا ابو هريرة، محمد بن فراس البصري, قال: حدثنا ابو قتيبة، سلم بن قتيبة حدثنا ابو العوام، عن قتادة، عن مطرف بن عبد الله بن الشخير، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مثل ابن ادم والى جنبه تسع وتسعون منية ان اخطاته المنايا وقع في الهرم حتى يموت " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . وابو العوام هو عمران وهو ابن داور القطان
سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا ابن آدم کی سعادت ( نیک بختی ) ہے، اللہ سے خیر طلب نہ کرنا ابن آدم کی شقاوت ( بدبختی ) ہے اور اللہ کے فیصلے پر ناراض ہونا ابن آدم کی شقاوت ( بدبختی ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف محمد بن ابی حمید کی روایت سے جانتے ہیں، انہیں حماد بن ابی حمید بھی کہا جاتا ہے، ان کی کنیت ابوابراہیم ہے، اور مدینہ کے رہنے والے ہیں، یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا ابو عامر، عن محمد بن ابي حميد، عن اسماعيل بن محمد بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، عن سعد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سعادة ابن ادم رضاه بما قضى الله له ومن شقاوة ابن ادم تركه استخارة الله ومن شقاوة ابن ادم سخطه بما قضى الله له " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث محمد بن ابي حميد . ويقال له ايضا حماد بن ابي حميد وهو ابو ابراهيم المدني وليس هو بالقوي عند اهل الحديث
نافع کا بیان ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: فلاں شخص نے آپ کو سلام عرض کیا ہے، اس سے ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے، اگر اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے تو اسے میرا سلام نہ پہنچانا، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اس امت میں یا میری امت میں، ( یہ شک راوی کی طرف سے ہوا ہے ) تقدیر کا انکار کرنے والوں پر «خسف»، «مسخ» یا «قذف» کا عذاب ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوصخر کا نام حمید بن زیاد ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا ابو عاصم، قال: حدثنا حيوة بن شريح، اخبرني ابو صخر، قال حدثني نافع، ان ابن عمر، جاءه رجل فقال ان فلانا يقرا عليك السلام . فقال له انه بلغني انه قد احدث فان كان قد احدث فلا تقريه مني السلام فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يكون في هذه الامة او في امتي الشك منه خسف او مسخ او قذف في اهل القدر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وابو صخر اسمه حميد بن زياد