احادیث
#2133
سنن ترمذی - Destiny
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ( ایک دن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکلے، اس وقت ہم سب تقدیر کے مسئلہ میں بحث و مباحثہ کر رہے تھے، آپ غصہ ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور ایسا نظر آنے لگا گویا آپ کے گالوں پر انار کے دانے نچوڑ دئیے گئے ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں اسی کا حکم دیا گیا ہے، یا میں اسی واسطے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں؟ بیشک تم سے پہلی امتیں ہلاک ہو گئیں جب انہوں نے اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ کیا، میں تمہیں قسم دلاتا ہوں کہ اس مسئلہ میں بحث و مباحثہ نہ کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱ – یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے اس سند سے صرف صالح مری کی روایت سے جانتے ہیں اور صالح مری کے بہت سارے غرائب ہیں جن کی روایت میں وہ منفرد ہیں، کوئی ان کی متابعت نہیں کرتا۔ ۳- اس باب میں عمر، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي البصري، قال حدثنا صالح المري، عن هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نتنازع في القدر فغضب حتى احمر وجهه حتى كانما فقي في وجنتيه الرمان فقال " ابهذا امرتم ام بهذا ارسلت اليكم انما هلك من كان قبلكم حين تنازعوا في هذا الامر عزمت عليكم الا تتنازعوا فيه " . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمر وعايشة وانس . وهذا حديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث صالح المري . وصالح المري له غرايب ينفرد بها لا يتابع عليها
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Destiny
- Hadith Index
- #2133
- Book Index
- 1
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan
- Al-AlbaniHasan
- Zubair Ali ZaiDaif
