Loading...

Loading...
کتب
۱۶۶ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں «خسف» اور «مسخ» کا عذاب ہو گا اور یہ عذاب تقدیر کے جھٹلانے والوں پر آئے گا“۔
حدثنا قتيبة، قال: حدثنا رشدين بن سعد، عن ابي صخر، حميد بن زياد عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم " يكون في امتي خسف ومسخ وذلك في المكذبين بالقدر
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ قسم کے لوگ ایسے ہیں جن پر میں نے، اللہ تعالیٰ نے اور تمام انبیاء نے لعنت بھیجی ہے: اللہ کی کتاب میں اضافہ کرنے والا، اللہ کی تقدیر کو جھٹلانے والا، طاقت کے ذریعہ غلبہ حاصل کرنے والا تاکہ اس کے ذریعہ اسے عزت دے جسے اللہ نے ذلیل کیا ہے، اور اسے ذلیل کرے جسے اللہ نے عزت بخشی ہے، اللہ کی محرمات کو حلال سمجھنے والا، میرے کنبہ میں سے اللہ کی محرمات کو حلال سمجھنے والا اور میری سنت ترک کرنے والا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن ابوموالی نے یہ حدیث اسی طرح «عن عبيد الله ابن عبدالرحمٰن بن موهب عن عمرة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے۔ سفیان ثوری، حفص بن غیاث اور کئی لوگوں نے اسے «عن عبيد الله بن عبدالرحمٰن بن موهب عن علي بن حسين عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ یہ زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، قال: حدثنا عبد الرحمن بن زيد بن ابي الموالي المزني، عن عبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب، عن عمرة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ستة لعنتهم لعنهم الله وكل نبي كان الزايد في كتاب الله والمكذب بقدر الله والمتسلط بالجبروت ليعز بذلك من اذل الله ويذل من اعز الله والمستحل لحرم الله والمستحل من عترتي ما حرم الله والتارك لسنتي " . قال ابو عيسى هكذا روى عبد الرحمن بن ابي الموالي هذا الحديث عن عبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب عن عمرة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواه سفيان الثوري وحفص بن غياث وغير واحد عن عبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب عن علي بن حسين عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا وهذا اصح
عبدالواحد بن سلیم کہتے ہیں کہ میں مکہ گیا تو عطاء بن ابی رباح سے ملاقات کی اور ان سے کہا: ابو محمد! بصرہ والے تقدیر کے سلسلے میں ( برسبیل انکار ) کچھ گفتگو کرتے ہیں، انہوں نے کہا: بیٹے! کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: سورۃ الزخرف پڑھو، میں نے پڑھا: «حم والكتاب المبين إنا جعلناه قرآنا عربيا لعلكم تعقلون وإنه في أم الكتاب لدينا لعلي حكيم» ”حم، قسم ہے اس واضح کتاب کی، ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو، یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے، اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت والی ہے“ ( الزخرف: ۱-۴ ) پڑھی، انہوں نے کہا: جانتے ہو ام الکتاب کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، انہوں نے کہا: وہ ایک کتاب ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے لکھا ہے، اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ فرعون جہنمی ہے اور اس میں «تبت يدا أبي لهب وتب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے، اور وہ ( خود ) ہلاک ہو گیا“ ( تبت: ۱ ) بھی لکھا ہوا ہے۔ عطاء کہتے ہیں: پھر میں ولید بن عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے ملا ( ولید کے والد عبادہ بن صامت صحابی رسول تھے ) اور ان سے سوال کیا: مرتے وقت آپ کے والد کی کیا وصیت تھی؟ کہا: میرے والد نے مجھے بلایا اور کہا: بیٹے! اللہ سے ڈرو اور یہ جان لو کہ تم اللہ سے ہرگز نہیں ڈر سکتے جب تک تم اللہ پر اور تقدیر کی اچھائی اور برائی پر ایمان نہ لاؤ۔ اگر اس کے سوا دوسرے عقیدہ پر تمہاری موت آئے گی تو جہنم میں جاؤ گے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا“ اور فرمایا: ”لکھو“، قلم نے عرض کیا: کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”تقدیر لکھو جو کچھ ہو چکا ہے اور جو ہمیشہ تک ہونے والا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
حدثنا يحيى بن موسى، قال: حدثنا ابو داود الطيالسي، قال: حدثنا عبد الواحد بن سليم، قال قدمت مكة فلقيت عطاء بن ابي رباح فقلت له يا ابا محمد ان اهل البصرة يقولون في القدر . قال يا بنى اتقرا القران قلت نعم . قال فاقرا الزخرف . قال فقرات : (حم* والكتاب المبين * انا جعلناه قرانا عربيا لعلكم تعقلون * وانه في ام الكتاب لدينا لعلي حكيم ) فقال اتدري ما ام الكتاب قلت الله ورسوله اعلم . قال فانه كتاب كتبه الله قبل ان يخلق السموات وقبل ان يخلق الارض فيه ان فرعون من اهل النار وفيه : (تبت يدا ابي لهب وتب ) قال عطاء فلقيت الوليد بن عبادة بن الصامت صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالته ما كان وصية ابيك عند الموت قال دعاني ابي فقال لي يا بنى اتق الله واعلم انك لن تتقي الله حتى تومن بالله وتومن بالقدر كله خيره وشره فان مت على غير هذا دخلت النار اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان اول ما خلق الله القلم فقال اكتب . فقال ما اكتب قال اكتب القدر ما كان وما هو كاين الى الابد " . قال ابو عيسى وهذا حديث غريب من هذا الوجه
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے تقدیر کو زمین و آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے لکھا تھا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا ابراهيم بن عبد الله بن المنذر الباهلي الصنعاني، قال: حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، قال: حدثنا حيوة بن شريح، قال: حدثني ابو هاني الخولاني، انه سمع ابا عبد الرحمن الحبلي، يقول سمعت عبد الله بن عمرو، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " قدر الله المقادير قبل ان يخلق السموات والارض بخمسين الف سنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مشرکین قریش تقدیر کے بارے میں جھگڑتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو یہ آیت نازل ہوئی «يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر إنا كل شيء خلقناه بقدر» یعنی ”جس دن وہ جہنم میں منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے ( تو ان سے کہا جائے گا ) تم لوگ جہنم کا مزہ چکھو، ہم نے ہر چیز کو اندازے سے پیدا کیا ہے“ ( القمر: ۴۸-۴۹ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- مذکورہ حدیث مجھ سے قبیصہ نے بیان کی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے عبدالرحمٰن بن زید نے بیان کی۔
حدثنا ابو كريب، محمد بن العلاء ومحمد بن بشار قالا حدثنا وكيع، عن سفيان الثوري، عن زياد بن اسماعيل، عن محمد بن عباد بن جعفر المخزومي، عن ابي هريرة، قال جاء مشركو قريش الى رسول الله صلى الله عليه وسلم يخاصمون في القدر فنزلت هذه الاية : (يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر * انا كل شيء خلقناه بقدر ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح