احادیث
#2152
سنن ترمذی - Destiny
نافع کا بیان ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا: فلاں شخص نے آپ کو سلام عرض کیا ہے، اس سے ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے، اگر اس نے دین میں نیا عقیدہ ایجاد کیا ہے تو اسے میرا سلام نہ پہنچانا، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”اس امت میں یا میری امت میں، ( یہ شک راوی کی طرف سے ہوا ہے ) تقدیر کا انکار کرنے والوں پر «خسف»، «مسخ» یا «قذف» کا عذاب ہو گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- ابوصخر کا نام حمید بن زیاد ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال: حدثنا ابو عاصم، قال: حدثنا حيوة بن شريح، اخبرني ابو صخر، قال حدثني نافع، ان ابن عمر، جاءه رجل فقال ان فلانا يقرا عليك السلام . فقال له انه بلغني انه قد احدث فان كان قد احدث فلا تقريه مني السلام فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يكون في هذه الامة او في امتي الشك منه خسف او مسخ او قذف في اهل القدر " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب . وابو صخر اسمه حميد بن زياد
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Destiny
- Hadith Index
- #2152
- Book Index
- 20
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan
- Al-AlbaniHasan
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
