Loading...

Loading...
کتب
۴۱ احادیث
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مجلس میں موجود تھے، آپ نے فرمایا: ”ہم سے اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو گے، چوری نہ کرو گے اور زنا نہ کرو گے، پھر آپ نے ان کے سامنے آیت پڑھی ۱؎ اور فرمایا: جو اس اقرار کو پورا کرے گا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کا مرتکب ہوا پھر اس پر حد قائم ہو گئی تو یہ اس کے لیے کفارہ ہو جائے گا ۲؎، اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو وہ اللہ کے اختیار میں ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے بخش دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ بن صامت کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- امام شافعی کہتے ہیں: میں نے اس باب میں اس حدیث سے اچھی کوئی چیز نہیں سنی کہ حدود اصحاب حدود کے لیے کفارہ ہیں، ۳- شافعی کہتے ہیں: میں چاہتا ہوں کہ جب کوئی گناہ کرے اور اللہ اس پر پردہ ڈال دے تو وہ خود اپنے اوپر پردہ ڈال لے اور اپنے اس گناہ کی ایسی توبہ کرے کہ اسے اور اس کے رب کے سوا کسی کو اس کا علم نہ ہو، ۴- ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما سے اسی طرح مروی ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اپنے اوپر پردہ ڈال لے، ۵- اس باب میں علی، جریر بن عبداللہ اور خزیمہ بن ثابت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن ابي ادريس الخولاني، عن عبادة بن الصامت، قال كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم في مجلس فقال " تبايعوني على ان لا تشركوا بالله شييا ولا تسرقوا ولا تزنوا قرا عليهم الاية فمن وفى منكم فاجره على الله ومن اصاب من ذلك شييا فعوقب عليه فهو كفارة له ومن اصاب من ذلك شييا فستره الله عليه فهو الى الله ان شاء عذبه وان شاء غفر له " . قال وفي الباب عن علي وجرير بن عبد الله وخزيمة بن ثابت . قال ابو عيسى حديث عبادة بن الصامت حديث حسن صحيح . وقال الشافعي لم اسمع في هذا الباب ان الحدود تكون كفارة لاهلها شييا احسن من هذا الحديث . قال الشافعي واحب لمن اصاب ذنبا فستره الله عليه ان يستر على نفسه ويتوب فيما بينه وبين ربه . وكذلك روي عن ابي بكر وعمر انهما امرا رجلا ان يستر على نفسه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اللہ کی کتاب کے ( حکم کے ) مطابق تین بار اسے کوڑے لگاؤ ۱؎ اگر وہ پھر بھی ( یعنی چوتھی بار ) زنا کرے تو اسے فروخت کر دو، چاہے قیمت میں بال کی رسی ہی ملے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ان سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے، ۳- اس باب میں علی، ابوہریرہ، زید بن خالد رضی الله عنہم سے اور شبل سے بواسطہ عبداللہ بن مالک اوسی بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ میں سے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ سلطان ( حاکم ) کے بجائے آدمی اپنے مملوک ( غلام ) پر خود حد نافذ کرے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۵- بعض لوگ کہتے ہیں: سلطان ( حاکم ) کے پاس مقدمہ پیش کیا جائے گا، کوئی آدمی بذات خود حد نافذ نہیں کرے گا، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۲؎۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا ابو خالد الاحمر، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا زنت امة احدكم فليجلدها ثلاثا بكتاب الله فان عادت فليبعها ولو بحبل من شعر " . قال وفي الباب عن علي وابي هريرة وزيد بن خالد وشبل عن عبد الله بن مالك الاوسي . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح وقد روي عنه من غير وجه . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم راوا ان يقيم الرجل الحد على مملوكه دون السلطان وهو قول احمد واسحاق . وقال بعضهم يرفع الى السلطان ولا يقيم الحد هو بنفسه . والقول الاول اصح
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی الله عنہ نے خطبہ کے دوران کہا: لوگو! اپنے غلاموں اور لونڈیوں پر حد قائم کرو، جس کی شادی ہوئی ہو اس پر بھی اور جس کی شادی نہ ہوئی ہو اس پر بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لونڈی نے زنا کیا، چنانچہ آپ نے مجھے کوڑے لگانے کا حکم دیا، میں اس کے پاس آیا تو ( دیکھا ) اس کو کچھ ہی دن پہلے نفاس کا خون آیا تھا ۱؎ لہٰذا مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے لگائے تو کہیں میں اسے قتل نہ کر بیٹھوں، یا انہوں نے کہا: کہیں وہ مر نہ جائے ۲؎، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ سے اسے بیان کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا ابو داود الطيالسي، حدثنا زايدة بن قدامة، عن السدي، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن السلمي، قال خطب علي فقال يا ايها الناس اقيموا الحدود على ارقايكم من احصن منهم ومن لم يحصن وان امة لرسول الله صلى الله عليه وسلم زنت فامرني ان اجلدها فاذا هي حديثة عهد بنفاس فخشيت ان انا جلدتها ان اقتلها - او قال تموت - فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال " احسنت " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والسدي اسمه اسماعيل بن عبد الرحمن وهو من التابعين قد سمع من انس بن مالك وراى حسين بن علي بن ابي طالب رضى الله عنه
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حد قائم کرتے ہوئے چالیس جوتیوں کی سزا دی، مسعر راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے شراب کی حد میں ( آپ نے چالیس جوتیوں کی سزا دی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی، عبدالرحمٰن بن ازہر، ابوہریرہ، سائب، ابن عباس اور عقبہ بن حارث رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا سفيان بن وكيع، حدثنا ابي، عن مسعر، عن زيد العمي، عن ابي الصديق الناجي، عن ابي سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ضرب الحد بنعلين اربعين . قال مسعر اظنه في الخمر . قال وفي الباب عن علي وعبد الرحمن بن ازهر وابي هريرة والسايب وابن عباس وعقبة بن الحارث . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد حديث حسن . وابو الصديق الناجي اسمه بكر بن عمرو ويقال بكر بن قيس
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی، آپ نے اسے کھجور کی دو چھڑیوں سے چالیس کے قریب مارا، ابوبکر رضی الله عنہ نے بھی ( اپنے دور خلافت میں ) ایسا ہی کیا، پھر جب عمر رضی الله عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس سلسلے میں لوگوں سے مشورہ کیا، چنانچہ عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: حدوں میں سب سے ہلکی حد اسی کوڑے ہیں، چنانچہ عمر نے اسی کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ میں سے اہل علم اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ شرابی کی حد اسی کوڑے ہیں ۱؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، يحدث عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه اتي برجل قد شرب الخمر فضربه بجريدتين نحو الاربعين وفعله ابو بكر فلما كان عمر استشار الناس فقال عبد الرحمن بن عوف كاخف الحدود ثمانين . فامر به عمر . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان حد السكران ثمانون
معاویہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئے تو اسے قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معاویہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اسی طرح ثوری نے بطریق: «عاصم عن أبي صالح عن معاوية عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور ابن جریج اور معمر نے بطریق: «سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابوصالح کی حدیث جو بواسطہ معاویہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں آئی ہے، یہ ابوصالح کی اس حدیث سے جو بواسطہ ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، شرید، شرحبیل بن اوس، جریر، ابورمد بلوی اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا ۱؎ پھر اس کے بعد منسوخ ہو گیا، اسی طرح محمد بن اسحاق نے ” «محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله» کے طریق سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئیے تو اسے قتل کر دو“، پھر اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے اور قتل نہیں کیا، اسی طرح زہری نے قبیصہ بن ذویب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۵- چنانچہ قتل کا حکم منسوخ ہو گیا، پہلے اس کی رخصت تھی، عام اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، میرے علم میں اس مسئلہ میں ان کے درمیان نہ پہلے اختلاف تھا نہ اب اختلاف ہے، اور اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بےشمار سندوں سے آئی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو مسلمان شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو اس کا خون تین میں سے کسی ایک چیز کی بنا پر ہی حلال ہو سکتا ہے: ناحق کسی کا قاتل ہو، شادی شدہ زانی ہو، یا اپنا دین ( اسلام ) چھوڑنے والا ( مرتد ) ہو“۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عاصم بن بهدلة، عن ابي صالح، عن معاوية، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من شرب الخمر فاجلدوه فان عاد في الرابعة فاقتلوه " . قال وفي الباب عن ابي هريرة والشريد وشرحبيل بن اوس وجرير وابي الرمد البلوي وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث معاوية هكذا روى الثوري ايضا عن عاصم عن ابي صالح عن معاوية عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى ابن جريج ومعمر عن سهيل بن ابي صالح عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال سمعت محمدا يقول حديث ابي صالح عن معاوية عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا اصح من حديث ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . وانما كان هذا في اول الامر ثم نسخ بعد هكذا روى محمد بن اسحاق عن محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان من شرب الخمر فاجلدوه فان عاد في الرابعة فاقتلوه " . قال ثم اتي النبي صلى الله عليه وسلم بعد ذلك برجل قد شرب الخمر في الرابعة فضربه ولم يقتله . وكذلك روى الزهري عن قبيصة بن ذويب عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . قال فرفع القتل وكانت رخصة . والعمل على هذا الحديث عند عامة اهل العلم لا نعلم بينهم اختلافا في ذلك في القديم والحديث ومما يقوي هذا ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم من اوجه كثيرة انه قال " لا يحل دم امري مسلم يشهد ان لا اله الا الله واني رسول الله الا باحدى ثلاث النفس بالنفس والثيب الزاني والتارك لدينه
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چوتھائی دینار ۱؎ اور اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے عمرہ کے واسطہ سے عائشہ رضی الله عنہا سے مرفوعاً آئی ہے، جب کہ بعض لوگوں نے اسے عمرہ کے واسطہ سے عائشہ رضی الله عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، اخبرته عمرة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقطع في ربع دينار فصاعدا . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . وقد روي هذا الحديث من غير وجه عن عمرة عن عايشة مرفوعا ورواه بعضهم عن عمرة عن عايشة موقوفا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم ۱؎ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، ابوہریرہ اور ایمن رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان میں ابوبکر رضی الله عنہ بھی شامل ہیں، انہوں نے پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا، ۴- عثمان اور علی رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ ان لوگوں نے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹا، ۵- ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا، ۶- بعض فقہائے تابعین کا اسی پر عمل ہے، مالک بن انس، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا، ۷- اور ابن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک دینار یا دس درہم کی چوری پر ہی ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن یہ مرسل ( یعنی منقطع ) حدیث ہے اسے قاسم بن عبدالرحمٰن نے ابن مسعود رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے، حالانکہ قاسم نے ابن مسعود سے نہیں سنا ہے، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، چنانچہ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے، ۸- علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لیکن اس کی سند متصل نہیں ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، قال قطع رسول الله صلى الله عليه وسلم في مجن قيمته ثلاثة دراهم . قال وفي الباب عن سعد وعبد الله بن عمرو وابن عباس وابي هريرة وايمن . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابو بكر الصديق قطع في خمسة دراهم . وروي عن عثمان وعلي انهما قطعا في ربع دينار . وروي عن ابي هريرة وابي سعيد انهما قالا تقطع اليد في خمسة دراهم . والعمل على هذا عند بعض فقهاء التابعين وهو قول مالك بن انس والشافعي واحمد واسحاق راوا القطع في ربع دينار فصاعدا . وقد روي عن ابن مسعود انه قال لا قطع الا في دينار او عشرة دراهم . وهو حديث مرسل رواه القاسم بن عبد الرحمن عن ابن مسعود والقاسم لم يسمع من ابن مسعود . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة قالوا لا قطع في اقل من عشرة دراهم . وروي عن علي انه قال لا قطع في اقل من عشرة دراهم . وليس اسناده بمتصل
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے پوچھا: کیا چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر آپ نے حکم دیا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف عمر بن علی مقدمی ہی کی روایت سے جانتے ہیں، انہوں نے اسے حجاج بن ارطاۃ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عمر بن علي المقدمي، حدثنا الحجاج، عن مكحول، عن عبد الرحمن بن محيريز، قال سالت فضالة بن عبيد عن تعليق اليد، في عنق السارق امن السنة هو قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بسارق فقطعت يده ثم امر بها فعلقت في عنقه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث عمر بن علي المقدمي عن الحجاج بن ارطاة . وعبد الرحمن بن محيريز هو اخو عبد الله بن محيريز شامي
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خیانت کرنے والے، ڈاکو اور اچکے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- مغیرہ بن مسلم نے ابن جریج کی حدیث کی طرح اسے ابوزبیر سے، ابوزبیر نے جابر رضی الله عنہ سے اور جابر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا علي بن خشرم، حدثنا عيسى بن يونس، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس على خاين ولا منتهب ولا مختلس قطع " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم . وقد رواه مغيرة بن مسلم عن ابي الزبير عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث ابن جريج . ومغيرة بن مسلم هو بصري اخو عبد العزيز القسملي كذا قال علي بن المديني
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اسی طرح بعض اور لوگوں نے بھی لیث بن سعد کی روایت کی طرح بطریق: «يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان عن رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۲- مالک بن انس اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو بطریق: «يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ان لوگوں نے اس حدیث کی سند میں واسع بن حبان کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن عمه، واسع بن حبان، ان رافع بن خديج، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا قطع في ثمر ولا كثر " . قال ابو عيسى هكذا روى بعضهم عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان عن رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو رواية الليث بن سعد . وروى مالك بن انس وغير واحد هذا الحديث عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه وسلم ولم يذكروا فيه عن واسع بن حبان
بسر بن ارطاۃ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جنگ کے دوران ( چوری کرنے والے کا ) ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابن لہیعہ کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، انہیں میں اوزاعی بھی ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: دشمن کی موجودگی میں جہاد کے دوران ( چوری کرنے پر ) حد قائم نہیں کی جائے گی، کیونکہ جس پر حد قائم کی جائے گی اندیشہ ہے کہ وہ دشمن سے مل جائے، البتہ امام جب دارالحرب سے نکل کر دارالاسلام واپس آ جائے تو چوری کرنے والے پر حد قائم کرے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابن لهيعة، عن عياش بن عباس المصري، عن شييم بن بيتان، عن جنادة بن ابي امية، عن بسر بن ارطاة، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا تقطع الايدي في الغزو " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد روى غير ابن لهيعة بهذا الاسناد نحو هذا . ويقال بسر بن ابي ارطاة ايضا . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم منهم الاوزاعي لا يرون ان يقام الحد في الغزو بحضرة العدو مخافة ان يلحق من يقام عليه الحد بالعدو فاذا خرج الامام من ارض الحرب ورجع الى دار الاسلام اقام الحد على من اصابه . كذلك قال الاوزاعي
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کے پاس ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا تھا، انہوں نے کہا: میں اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا: اگر اس کی بیوی نے اسے لونڈی کے ساتھ جماع کی اجازت دی ہے تو ( بطور تادیب ) اسے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اجازت نہیں دی ہے تو ( بطور حد ) اسے رجم کروں گا۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا هشيم، عن سعيد بن ابي عروبة، وايوب بن مسكين، عن قتادة، عن حبيب بن سالم، قال رفع الى النعمان بن بشير رجل وقع على جارية امراته فقال لاقضين فيها بقضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم لين كانت احلتها له لاجلدنه ماية وان لم تكن احلتها له رجمته
اس سند سے بھی نعمان بن بشیر سے اسی جیسی حدیث آئی ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا: حبیب بن سالم کے پاس یہ مسئلہ لکھ کر بھیجا گیا ۱؎۔ ابوبشر نے بھی یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- نعمان کی حدیث کی سند میں اضطراب ہے میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ قتادہ نے اس حدیث کو حبیب بن سالم سے نہیں سنا ہے، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے، ۲- اس باب میں سلمہ بن محبق سے بھی روایت ہے، ۳- بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے مروی ہے جن میں علی اور ابن عمر بھی شامل ہیں کہ اس پر رجم واجب ہے، ابن مسعود کہتے ہیں: اس پر کوئی حد نہیں ہے، البتہ اس کی تادیبی سزا ہو گی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک اس ( حدیث ) کے مطابق ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بواسطہ نعمان بن بشیر آئی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا هشيم، عن ابي بشر، عن حبيب بن سالم، عن النعمان بن بشير، نحوه . قال وفي الباب عن سلمة بن المحبق، . قال ابو عيسى حديث النعمان في اسناده اضطراب . قال سمعت محمدا يقول لم يسمع قتادة من حبيب بن سالم هذا الحديث انما رواه عن خالد بن عرفطة . ويروى عن قتادة انه قال كتب به الى حبيب بن سالم . وابو بشر لم يسمع من حبيب بن سالم هذا ايضا انما رواه عن خالد بن عرفطة . قال ابو عيسى وقد اختلف اهل العلم في الرجل يقع على جارية امراته فروي عن غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم علي وابن عمر ان عليه الرجم . وقال ابن مسعود ليس عليه حد ولكن يعزر . وذهب احمد واسحاق الى ما روى النعمان بن بشير عن النبي صلى الله عليه وسلم
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کے ساتھ زبردستی زنا کیا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حد سے بری کر دیا اور زانی پر حد جاری کی، راوی نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ آپ نے اسے کچھ مہر بھی دلایا ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اس کی اسناد متصل نہیں ہے، ۲- یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا: عبدالجبار بن وائل بن حجر کا سماع ان کے باپ سے ثابت نہیں ہے، انہوں نے اپنے والد کا زمانہ نہیں پایا ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے والد کی موت کے کچھ مہینے بعد پیدا ہوئے، ۳- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جس سے جبراً زنا کیا گیا ہو اس پر حد واجب نہیں ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا معمر بن سليمان الرقي، عن الحجاج بن ارطاة، عن عبد الجبار بن وايل بن حجر، عن ابيه، قال استكرهت امراة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فدرا عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم الحد واقامه على الذي اصابها ولم يذكر انه جعل لها مهرا . قال ابو عيسى هذا حديث غريب وليس اسناده بمتصل وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه . قال سمعت محمدا يقول عبد الجبار بن وايل بن حجر لم يسمع من ابيه ولا ادركه يقال انه ولد بعد موت ابيه باشهر . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان ليس على المستكرهة حد
وائل بن حجر کندی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نماز کے لیے نکلی، اسے ایک آدمی ملا، اس نے عورت کو ڈھانپ لیا اور اس سے اپنی حاجت پوری کی ( یعنی اس سے زبردستی زنا کیا ) ، وہ عورت چیخنے لگی اور وہ چلا گیا، پھر اس کے پاس سے ایک ( دوسرا ) آدمی گزرا تو یہ عورت بولی: اس ( دوسرے ) آدمی نے میرے ساتھ ایسا ایسا ( یعنی زنا ) کیا ہے ۱؎ اور اس کے پاس سے مہاجرین کی بھی ایک جماعت گزری تو یہ عورت بولی: اس آدمی نے میرے ساتھ ایسا ایسا ( یعنی زنا ) کیا ہے، ( یہ سن کر ) وہ لوگ گئے اور جا کر انہوں نے اس آدمی کو پکڑ لیا جس کے بارے میں اس عورت نے گمان کیا تھا کہ اسی نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے اور اسے اس عورت کے پاس لائے، وہ بولی: ہاں، وہ یہی ہے، پھر وہ لوگ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے، چنانچہ جب آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، تو اس عورت کے ساتھ زنا کرنے والا کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کے ساتھ زنا کرنے والا میں ہوں، پھر آپ نے اس عورت سے فرمایا: ”تو جا اللہ نے تیری بخشش کر دی ہے ۲؎“ اور آپ نے اس آدمی کو ( جو قصوروار نہیں تھا ) اچھی بات کہی ۳؎ اور جس آدمی نے زنا کیا تھا اس کے متعلق آپ نے فرمایا: ”اسے رجم کرو“، آپ نے یہ بھی فرمایا: ”اس ( زانی ) نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ اس طرح توبہ کر لیں تو ان سب کی توبہ قبول ہو جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- علقمہ بن وائل بن حجر کا سماع ان کے والد سے ثابت ہے، یہ عبدالجبار بن وائل سے بڑے ہیں اور عبدالجبار کا سماع ان کے والد سے ثابت نہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا محمد بن يوسف، عن اسراييل، حدثنا سماك بن حرب، عن علقمة بن وايل الكندي، عن ابيه، ان امراة، خرجت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم تريد الصلاة فتلقاها رجل فتجللها فقضى حاجته منها فصاحت فانطلق ومر عليها رجل فقالت ان ذاك الرجل فعل بي كذا وكذا . ومرت بعصابة من المهاجرين فقالت ان ذاك الرجل فعل بي كذا وكذا . فانطلقوا فاخذوا الرجل الذي ظنت انه وقع عليها واتوها فقالت نعم هو هذا . فاتوا به رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما امر به ليرجم قام صاحبها الذي وقع عليها فقال يا رسول الله انا صاحبها . فقال لها " اذهبي فقد غفر الله لك " . وقال للرجل قولا حسنا وقال للرجل الذي وقع عليها " ارجموه " . وقال " لقد تاب توبة لو تابها اهل المدينة لقبل منهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح . وعلقمة بن وايل بن حجر سمع من ابيه وهو اكبر من عبد الجبار بن وايل وعبد الجبار بن وايل لم يسمع من ابيه
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کو جانور کے ساتھ وطی ( جماع ) کرتے ہوئے پاؤ تو اسے قتل کر دو اور ( ساتھ میں ) جانور کو بھی قتل کر دو“۔ عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے پوچھا گیا: جانور کو قتل کرنے کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ جس جانور کے ساتھ یہ برا فعل کیا گیا ہو، اس کا گوشت کھانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند سمجھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کو جسے وہ بطریق: «عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کرتے ہیں۔ ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
حدثنا محمد بن عمرو السواق، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن ابي عمرو، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من وجدتموه وقع على بهيمة فاقتلوه واقتلوا البهيمة " . فقيل لابن عباس ما شان البهيمة قال ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك شييا ولكن ارى رسول الله كره ان يوكل من لحمها او ينتفع بها وقد عمل بها ذلك العمل . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه الا من حديث عمرو بن ابي عمرو عن عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ جسے قوم لوط کا عمل ( اغلام بازی ) کرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول ( بدفعلی کرنے اور کرانے والے ) دونوں کو قتل کر دو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث بواسطہ ابن عباس رضی الله عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے، محمد بن اسحاق نے بھی اس حدیث کو عمرو بن ابی عمرو سے روایت کیا ہے، ( لیکن اس میں ہے ) آپ نے فرمایا: ”قوم لوط کا عمل ( اغلام بازی ) کرنے والا ملعون ہے“، راوی نے اس حدیث میں قتل کا ذکر نہیں کیا، البتہ اس میں یہ بیان ہے کہ جانور سے وطی ( جماع ) کرنے والا ملعون ہے“، اور یہ حدیث بطریق: «عاصم بن عمر عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی گئی ہے۔ ( اس میں ہے کہ ) آپ نے فرمایا: ”فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو“، ۲- اس حدیث کی سند میں کلام ہے، ہم نہیں جانتے کہ اسے سہیل بن ابی صالح سے عاصم بن عمر العمری کے علاوہ کسی اور نے روایت کیا ہے اور عاصم بن عمر کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ۳- اس باب میں جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اغلام بازی ( بدفعلی ) کرنے والے کی حد کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں: بدفعلی کرنے والا شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اس کی سزا رجم ہے، مالک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۵- فقہاء تابعین میں سے بعض اہل علم نے جن میں حسن بصری، ابراہیم نخعی اور عطا بن ابی رباح وغیرہ شامل ہیں کہتے ہیں: بدفعلی کرنے والے کی سزا زانی کی سزا کی طرح ہے، ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا محمد بن عمرو السواق، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن ابي عمرو، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من وجدتموه يعمل عمل قوم لوط فاقتلوا الفاعل والمفعول به " . قال وفي الباب عن جابر وابي هريرة . قال ابو عيسى وانما يعرف هذا الحديث عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم من هذا الوجه وروى محمد بن اسحاق هذا الحديث عن عمرو بن ابي عمرو فقال " ملعون من عمل عمل قوم لوط " . ولم يذكر فيه القتل وذكر فيه ملعون من اتى بهيمة . وقد روي هذا الحديث عن عاصم بن عمر عن سهيل بن ابي صالح عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اقتلوا الفاعل والمفعول به " . قال ابو عيسى هذا حديث في اسناده مقال ولا نعرف احدا رواه عن سهيل بن ابي صالح غير عاصم بن عمر العمري . وعاصم بن عمر يضعف في الحديث من قبل حفظه . واختلف اهل العلم في حد اللوطي فراى بعضهم ان عليه الرجم احصن او لم يحصن وهذا قول مالك والشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم من فقهاء التابعين منهم الحسن البصري وابراهيم النخعي وعطاء بن ابي رباح وغيرهم قالوا حد اللوطي حد الزاني وهو قول الثوري واهل الكوفة
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنی امت کے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ قوم لوط کا عمل ( اغلام بازی ) ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور ہم اسے صرف اسی سند «عن عبد الله بن محمد بن عقيل بن أبي طالب عن جابر» سے ہی جانتے ہیں۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا همام، عن القاسم بن عبد الواحد المكي، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، انه سمع جابرا، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اخوف ما اخاف على امتي عمل قوم لوط " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب انما نعرفه من هذا الوجه عن عبد الله بن محمد بن عقيل بن ابي طالب عن جابر
عکرمہ سے روایت ہے کہ علی رضی الله عنہ نے کچھ ایسے لوگوں کو زندہ جلا دیا جو اسلام سے مرتد ہو گئے تھے، جب ابن عباس رضی الله عنہما کو یہ بات معلوم ہوئی ۱؎ تو انہوں نے کہا: اگر ( علی رضی الله عنہ کی جگہ ) میں ہوتا تو انہیں قتل کرتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”جو اپنے دین ( اسلام ) کو بدل ڈالے اسے قتل کرو“، اور میں انہیں جلاتا نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”اللہ کے عذاب خاص جیسا تم لوگ عذاب نہ دو“، پھر اس بات کی خبر علی رضی الله عنہ کو ہوئی تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی الله عنہما نے سچ کہا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح حسن ہے، ۲- مرتد کے سلسلے میں اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۳- جب عورت اسلام سے مرتد ہو جائے تو اس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے: اسے قتل کیا جائے گا، اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۴- اور اہل علم کی دوسری جماعت کہتی ہے: اسے قتل نہیں بلکہ قید کیا جائے گا، سفیان ثوری اور ان کے علاوہ بعض اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي البصري، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا ايوب، عن عكرمة، ان عليا، حرق قوما ارتدوا عن الاسلام، فبلغ ذلك ابن عباس فقال لو كنت انا لقتلتهم، لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم " من بدل دينه فاقتلوه " . ولم اكن لاحرقهم لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تعذبوا بعذاب الله " . فبلغ ذلك عليا فقال صدق ابن عباس . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح حسن . والعمل على هذا عند اهل العلم في المرتد . واختلفوا في المراة اذا ارتدت عن الاسلام فقالت طايفة من اهل العلم تقتل وهو قول الاوزاعي واحمد واسحاق . وقالت طايفة منهم تحبس ولا تقتل وهو قول سفيان الثوري وغيره من اهل الكوفة