Loading...

Loading...
کتب
۴۱ احادیث
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ۱؎۔ اس باب میں ابن عمر، ابن زبیر، ابوہریرہ اور سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو كريب، وابو السايب، سلم بن جنادة قالا حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حمل علينا السلاح فليس منا " . قال وفي الباب عن ابن عمر وابن الزبير وابي هريرة وسلمة بن الاكوع . قال ابو عيسى حديث ابي موسى حديث حسن صحيح
جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جادوگر کی سزا تلوار سے گردن مارنا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن سے بھی مروی ہے، اور صحیح یہ ہے کہ جندب سے موقوفاً مروی ہے۔ ۲- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ۳- اسماعیل بن مسلم مکی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، اور اسماعیل بن مسلم جن کی نسبت عبدی اور بصریٰ ہے وکیع نے انہیں ثقہ کہا ہے۔ ۴- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم صحابہ اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، مالک بن انس کا یہی قول ہے، ۵- شافعی کہتے ہیں: جب جادوگر کا جادو حد کفر تک پہنچے تو اسے قتل کیا جائے گا اور جب اس کا جادو حد کفر تک نہ پہنچے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا قتل نہیں ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا ابو معاوية، عن اسماعيل بن مسلم، عن الحسن، عن جندب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حد الساحر ضربة بالسيف " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه مرفوعا الا من هذا الوجه . واسماعيل بن مسلم المكي يضعف في الحديث واسماعيل بن مسلم العبدي البصري قال وكيع هو ثقة . ويروى عن الحسن ايضا والصحيح عن جندب موقوف . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول مالك بن انس . وقال الشافعي انما يقتل الساحر اذا كان يعمل في سحره ما يبلغ به الكفر فاذا عمل عملا دون الكفر فلم نر عليه قتلا
عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اللہ کی راہ میں مال ( غنیمت ) میں خیانت کرتے ہوئے پاؤ اس کا سامان جلا دو“۔ صالح کہتے ہیں: میں مسلمہ کے پاس گیا، ان کے ساتھ سالم بن عبداللہ تھے تو مسلمہ نے ایک ایسے آدمی کو پایا جس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی، چنانچہ سالم نے ( ان سے ) یہ حدیث بیان کی، تو مسلمہ نے حکم دیا پھر اس ( خائن ) کا سامان جلا دیا گیا اور اس کے سامان میں ایک مصحف بھی پایا گیا تو سالم نے کہا: اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اسے صالح بن محمد بن زائدہ نے روایت کیا ہے، یہی ابوواقد لیثی ہے، یہ منکرالحدیث ہے، ۳- بخاری کہتے ہیں کہ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوسری احادیث بھی آئی ہیں، آپ نے ان میں اس ( خائن ) کے سامان جلانے کا حکم نہیں دیا ہے، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا محمد بن عمرو السواق، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن صالح بن محمد بن زايدة، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن عبد الله بن عمر، عن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من وجدتموه غل في سبيل الله فاحرقوا متاعه " . قال صالح فدخلت على مسلمة ومعه سالم بن عبد الله فوجد رجلا قد غل فحدث سالم بهذا الحديث فامر به فاحرق متاعه فوجد في متاعه مصحف فقال سالم بع هذا وتصدق بثمنه . قال ابو عيسى هذا الحديث غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وهو قول الاوزاعي واحمد واسحاق . قال وسالت محمدا عن هذا الحديث فقال انما روى هذا صالح بن محمد بن زايدة وهو ابو واقد الليثي وهو منكر الحديث قال محمد وقد روي في غير حديث عن النبي صلى الله عليه وسلم في الغال فلم يامر فيه بحرق متاعه . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی آدمی دوسرے کو یہودی کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جب مخنث ( ہجڑا ) کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کئی سندوں سے مروی ہے، ۴- براء بن عازب اور قرہ بن ایاس مزنی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، ۵- ہمارے اصحاب ( محدثین ) کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: جو جانتے ہوئے کسی محرم کے ساتھ زنا کرے تو اس پر قتل واجب ہے، ۶- ( امام ) احمد کہتے ہیں: جو اپنی ماں سے نکاح کرے گا اسے قتل کیا جائے گا، ۷- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کیا جائے گا۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ابن ابي فديك، عن ابراهيم بن اسماعيل بن ابي حبيبة، عن داود بن الحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال الرجل للرجل يا يهودي فاضربوه عشرين واذا قال يا مخنث فاضربوه عشرين ومن وقع على ذات محرم فاقتلوه " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه الا من هذا الوجه . وابراهيم بن اسماعيل يضعف في الحديث . والعمل على هذا عند اصحابنا قالوا من اتى ذات محرم وهو يعلم فعليه القتل . وقال احمد من تزوج امه قتل . وقال اسحاق من وقع على ذات محرم قتل . - وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير وجه رواه البراء بن عازب وقرة بن اياس المزني ان رجلا تزوج امراة ابيه فامر النبي صلى الله عليه وسلم بقتله
ابوبردہ بن نیار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”دس سے زیادہ کسی کو کوڑے نہ لگائے جائیں ۱؎ سوائے اس کے کہ اللہ کی حدود میں سے کوئی حد جاری کرنا ہو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف بکیر بن اشج کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲-تعزیر کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، تعزیر کے باب میں یہ حدیث سب سے اچھی ہے، ۳- اس حدیث کو ابن لہیعہ نے بکیر سے روایت کیا ہے، لیکن ان سے اس سند میں غلطی ہوئی ہے، انہوں نے سند اس طرح بیان کی ہے: «عن عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد الله عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» حالانکہ یہ غلط ہے، صحیح لیث بن سعد کی حدیث ہے، اس کی سند اس طرح ہے: «عبدالرحمٰن بن جابر بن عبد الله عن أبي بردة بن نيار عن النبي صلى الله عليه وسلم» ۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن بكير بن عبد الله بن الاشج، عن سليمان بن يسار، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن ابي بردة بن نيار، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يجلد فوق عشر جلدات الا في حد من حدود الله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث بكير بن الاشج . وقد اختلف اهل العلم في التعزير واحسن شيء روي في التعزير هذا الحديث . قال وقد روى هذا الحديث ابن لهيعة عن بكير فاخطا فيه وقال عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم وهو خطا والصحيح حديث الليث بن سعد انما هو عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله عن ابي بردة بن نيار عن النبي صلى الله عليه وسلم