Loading...

Loading...
کتب
۴۱ احادیث
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگ مرفوع القلم ہیں ( یعنی قابل مواخذہ نہیں ہیں ) : سونے والا جب تک کہ نیند سے بیدار نہ ہو جائے، بچہ جب تک کہ بالغ نہ ہو جائے، اور دیوانہ جب تک کہ سمجھ بوجھ والا نہ ہو جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث کئی اور سندوں سے بھی علی رضی الله عنہ سے مروی ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، ۳- بعض راویوں نے «وعن الغلام حتى يحتلم» کہا ہے، یعنی بچہ جب تک بالغ نہ ہو جائے مرفوع القلم ہے، ۴ – علی رضی الله عنہ کے زمانے میں حسن بصری موجود تھے، حسن نے ان کا زمانہ پایا ہے، لیکن علی رضی الله عنہ سے ان کے سماع کا ہمیں علم نہیں ہے، ۵- یہ حدیث: عطاء بن سائب سے بھی مروی ہے انہوں نے یہ حدیث بطریق: «أبي ظبيان عن علي بن أبي طالب عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اور اعمش نے بطریق: «أبي ظبيان عن ابن عباس عن علي» موقوفاً روایت کیا ہے، انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا، ۶- اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۷- اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى القطعي البصري، حدثنا بشر بن عمر، حدثنا همام، عن قتادة، عن الحسن البصري، عن علي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " رفع القلم عن ثلاثة عن النايم حتى يستيقظ وعن الصبي حتى يشب وعن المعتوه حتى يعقل " . قال وفي الباب عن عايشة . قال ابو عيسى حديث علي حديث حسن غريب من هذا الوجه وقد روي من غير وجه عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم . وذكر بعضهم " وعن الغلام حتى يحتلم " . ولا نعرف للحسن سماعا عن علي بن ابي طالب . وقد روي هذا الحديث عن عطاء بن السايب عن ابي ظبيان عن علي بن ابي طالب عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا الحديث . ورواه الاعمش عن ابي ظبيان عن ابن عباس عن علي موقوفا ولم يرفعه . والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم . قال ابو عيسى قد كان الحسن في زمان علي وقد ادركه ولكنا لا نعرف له سماعا منه وابو ظبيان اسمه حصين بن جندب
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہاں تک تم سے ہو سکے مسلمانوں سے حدود کو دفع کرو، اگر مجرم کے بچ نکلنے کی کوئی صورت ہو تو اسے چھوڑ دو، کیونکہ مجرم کو معاف کر دینے میں امام کا غلطی کرنا اسے سزا دینے میں غلطی کرنے سے کہیں بہتر ہے۔ اس سند سے وکیع نے یزید بن زیاد سے محمد بن ربیعہ کی حدیث کی طرح بیان کیا، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو ہم مرفوع صرف بطریق: «محمد بن ربيعة عن يزيد بن زياد الدمشقي عن الزهري عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» ہی جانتے ہیں، ۲- اسے وکیع نے بھی یزید بن زیاد سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن یہ مرفوع نہیں ہے، اور وکیع کی روایت زیادہ صحیح ہے، ۳- یزید بن زیاد دمشقی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، اور یزید بن ابوزیاد کوفی ان سے زیادہ اثبت اور اقدم ہیں، ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے اسی طرح مروی ہے، ان تمام لوگوں نے ایسا ہی کہا ہے، ۵- اس باب میں ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا عبد الرحمن بن الاسود ابو عمرو البصري، حدثنا محمد بن ربيعة، حدثنا يزيد بن زياد الدمشقي، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ادرءوا الحدود عن المسلمين ما استطعتم فان كان له مخرج فخلوا سبيله فان الامام ان يخطي في العفو خير من ان يخطي في العقوبة
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن يزيد بن زياد، نحو حديث محمد بن ربيعة ولم يرفعه . قال وفي الباب عن ابي هريرة، وعبد الله بن عمرو، . قال ابو عيسى حديث عايشة لا نعرفه مرفوعا الا من حديث محمد بن ربيعة عن يزيد بن زياد الدمشقي عن الزهري عن عروة عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورواه وكيع عن يزيد بن زياد نحوه ولم يرفعه ورواية وكيع اصح . وقد روي نحو هذا عن غير واحد من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم انهم قالوا مثل ذلك . ويزيد بن زياد الدمشقي ضعيف في الحديث ويزيد بن ابي زياد الكوفي اثبت من هذا واقدم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مومن سے دنیا کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی اللہ اس کے آخرت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، اللہ بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کو اسی طرح کئی لوگوں نے بطریق: «الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم»، اور اسباط بن محمد نے اعمش سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوصالح کے واسطہ سے بیان کیا گیا ہے، انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے، ۳- ہم سے اسے عبید بن اسباط بن محمد نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے اعمش کے واسطہ سے یہ حدیث بیان کی، ۴- اس باب میں عقبہ بن عامر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نفس عن مومن كربة من كرب الدنيا نفس الله عنه كربة من كرب الاخرة ومن ستر على مسلم ستره الله في الدنيا والاخرة والله في عون العبد ما كان العبد في عون اخيه " . قال وفي الباب عن عقبة بن عامر وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة هكذا روى غير واحد عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو رواية ابي عوانة
وروى اسباط بن محمد، عن الاعمش، قال حدثت عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وكان هذا اصح من الحديث الاول حدثنا بذلك عبيد بن اسباط بن محمد قال حدثني ابي عن الاعمش بهذا الحديث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۱؎، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " المسلم اخو المسلم لا يظلمه ولا يسلمه ومن كان في حاجة اخيه كان الله في حاجته ومن فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه كربة من كرب يوم القيامة ومن ستر مسلما ستره الله يوم القيامة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث ابن عمر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تمہارے بارے میں جو مجھے خبر ملی ہے کیا وہ صحیح ہے؟“ ماعز رضی الله عنہ نے کہا: میرے بارے میں آپ کو کیا خبر ملی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے فلاں قبیلے کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے چار مرتبہ اقرار کیا، تو آپ نے حکم دیا، تو انہیں رجم کر دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اس حدیث کو شعبہ نے سماک بن حرب سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے مرسلاً روایت کیا ہے، انہوں نے اس سند میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- اس باب میں سائب بن یزید سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن سماك بن حرب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لماعز بن مالك " احق ما بلغني عنك " . قال وما بلغك عني قال " بلغني انك وقعت على جارية ال فلان " . قال نعم . فشهد اربع شهادات فامر به فرجم . قال وفي الباب عن السايب بن يزيد . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن . وروى شعبة هذا الحديث عن سماك بن حرب عن سعيد بن جبير مرسلا ولم يذكر فيه عن ابن عباس
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ماعز اسلمی رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اعتراف کیا کہ میں نے زنا کیا ہے، آپ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ نے پھر ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، پھر چوتھی مرتبہ اعتراف کرنے پر آپ نے رجم کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ ایک پتھریلی زمین کی طرف لے جائے گئے اور انہیں رجم کیا گیا، جب انہیں پتھر کی چوٹ لگی تو دوڑتے ہوئے بھاگے، حتیٰ کہ ایک ایسے آدمی کے قریب سے گزرے جس کے پاس اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے ماعز کو اسی سے مارا اور لوگوں نے بھی مارا یہاں تک کہ وہ مر گئے، پھر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ جب پتھر اور موت کی تکلیف انہیں محسوس ہوئی تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے اسے کیوں نہیں چھوڑ دیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کئی اور سندوں سے بھی مروی ہے، یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے، انہوں نے اسے بطریق: «عن أبي سلمة عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال جاء ماعز الاسلمي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال انه قد زنى . فاعرض عنه ثم جاء من شقه الاخر فقال يا رسول الله انه قد زنى . فاعرض عنه ثم جاء من شقه الاخر فقال يا رسول الله انه قد زنى . فامر به في الرابعة فاخرج الى الحرة فرجم بالحجارة فلما وجد مس الحجارة فر يشتد حتى مر برجل معه لحى جمل فضربه به وضربه الناس حتى مات فذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم انه فر حين وجد مس الحجارة ومس الموت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هلا تركتموه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة . وروي هذا الحديث عن الزهري عن ابي سلمة عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے آ کر زنا کا اعتراف کیا، تو آپ نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر اس نے اقرار کیا، آپ نے پھر منہ پھیر لیا، حتیٰ کہ اس نے خود چار مرتبہ اقرار کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم پاگل ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے پوچھا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا ہاں: پھر آپ نے رجم کا حکم دیا، چنانچہ اسے عید گاہ میں رجم کیا گیا، جب اسے پتھروں نے نڈھال کر دیا تو وہ بھاگ کھڑا ہوا، پھر اسے پکڑا گیا اور رجم کیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق میں کلمہ خیر کہا لیکن اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ زنا کا اقرار کرنے والا جب اپنے اوپر چار مرتبہ گواہی دے تو اس پر حد قائم کی جائے گی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں: ایک مرتبہ بھی کوئی زنا کا اقرار کر لے گا تو اس پر حد قائم کر دی جائے گی، یہ مالک بن انس اور شافعی کا قول ہے، اس بات کے قائلین کی دلیل ابوہریرہ رضی الله عنہ اور زید بن خالد کی یہ حدیث ہے کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اپنا قضیہ لے گئے، ایک نے کہا: اللہ کے رسول! میرے بیٹے نے اس کی بیوی سے زنا کیا، یہ ایک لمبی حدیث ہے، ( آخر میں ہے ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انیس! اس کی بیوی کے پاس جاؤ اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے رجم کر دو“، آپ نے اس حدیث میں یہ نہیں فرمایا کہ ”جب چار مرتبہ اقرار کرے“ ۲؎۔
حدثنا بذلك الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الرزاق، انبانا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن جابر بن عبد الله، ان رجلا، من اسلم جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فاعترف بالزنا فاعرض عنه ثم اعترف فاعرض عنه حتى شهد على نفسه اربع شهادات فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ابك جنون " . قال لا . قال " احصنت " . قال نعم . قال فامر به فرجم بالمصلى فلما اذلقته الحجارة فر فادرك فرجم حتى مات فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم خيرا ولم يصل عليه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم ان المعترف بالزنا اذا اقر على نفسه اربع مرات اقيم عليه الحد وهو قول احمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم اذا اقر على نفسه مرة اقيم عليه الحد وهو قول مالك بن انس والشافعي . وحجة من قال هذا القول حديث ابي هريرة وزيد بن خالد ان رجلين اختصما الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال احدهما يا رسول الله ان ابني زنى بامراة هذا الحديث بطوله وقال النبي صلى الله عليه وسلم " اغد يا انيس على امراة هذا فان اعترفت فارجمها " . ولم يقل فان اعترفت اربع مرات
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ قریش قبیلہ بنو مخزوم کی ایک عورت ۱؎ کے معاملے میں جس نے چوری کی تھی، کافی فکرمند ہوئے، وہ کہنے لگے: اس کے سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون گفتگو کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید کے علاوہ کون اس کی جرات کر سکتا ہے؟ چنانچہ اسامہ نے آپ سے گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟“ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے آپ نے فرمایا: ”لوگو! تم سے پہلے کے لوگ اپنی اس روش کی بنا پر ہلاک ہوئے کہ جب کوئی اعلیٰ خاندان کا شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے، اور جب کمزور حال شخص چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے، اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا ( بھی ) ہاتھ کاٹ دیتا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مسعود بن عجماء، ابن عمر اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- مسعود بن عجماء کو مسعود بن اعجم بھی کہا جاتا ہے، ان سے صرف یہی ایک حدیث آئی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان قريشا، اهمهم شان المراة المخزومية التي سرقت فقالوا من يكلم فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا من يجتري عليه الا اسامة بن زيد حب رسول الله صلى الله عليه وسلم . فكلمه اسامة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتشفع في حد من حدود الله " . ثم قام فاختطب فقال " انما اهلك الذين من قبلكم انهم كانوا اذا سرق فيهم الشريف تركوه واذا سرق فيهم الضعيف اقاموا عليه الحد وايم الله لو ان فاطمة بنت محمد سرقت لقطعت يدها " . قال وفي الباب عن مسعود ابن العجماء ويقال مسعود بن الاعجم وابن عمر وجابر . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا، ابوبکر رضی الله عنہ نے رجم کیا، اور میں نے بھی رجم کیا، اگر میں کتاب اللہ میں زیادتی حرام نہ سمجھتا تو اس کو ۱؎ مصحف میں لکھ دیتا، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ کچھ قومیں آئیں گی اور کتاب اللہ میں حکم رجم ( سے متعلق آیت ) نہ پا کر اس کا انکار کر دیں۔ ابوعیسیٰ ( ترمذی ) کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور دوسری سندوں سے بھی عمر رضی الله عنہ سے روایت کی گئی ہے، ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، عن داود بن ابي هند، عن سعيد بن المسيب، عن عمر بن الخطاب، قال رجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجم ابو بكر ورجمت ولولا اني اكره ان ازيد في كتاب الله لكتبته في المصحف فاني قد خشيت ان تجيء اقوام فلا يجدونه في كتاب الله فيكفرون به . قال وفي الباب عن علي . قال ابو عيسى حديث عمر حديث حسن صحيح وروي من غير وجه عن عمر
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، اور آپ پر کتاب نازل کی، آپ پر جو کچھ نازل کیا گیا اس میں آیت رجم بھی تھی ۱؎، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، ( لیکن ) مجھے اندیشہ ہے کہ جب لوگوں پر زمانہ دراز ہو جائے گا تو کہنے والے کہیں گے: اللہ کی کتاب میں ہم رجم کا حکم نہیں پاتے، ایسے لوگ اللہ کا نازل کردہ ایک فریضہ چھوڑنے کی وجہ سے گمراہ ہو جائیں گے، خبردار! جب زانی شادی شدہ ہو اور گواہ موجود ہوں، یا جس عورت کے ساتھ زنا کیا گیا ہو وہ حاملہ ہو جائے، یا زانی خود اعتراف کر لے تو رجم کرنا واجب ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور کئی سندوں سے یہ حدیث عمر رضی الله عنہ سے آئی ہے، ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا سلمة بن شبيب، واسحاق بن منصور، والحسن بن علي الخلال، وغير، واحد، قالوا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، عن عمر بن الخطاب، قال ان الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق وانزل عليه الكتاب فكان فيما انزل عليه اية الرجم فرجم رسول الله صلى الله عليه وسلم ورجمنا بعده واني خايف ان يطول بالناس زمان فيقول قايل لا نجد الرجم في كتاب الله فيضلوا بترك فريضة انزلها الله الا وان الرجم حق على من زنى اذا احصن وقامت البينة او كان حبل او اعتراف . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وروي من غير وجه عن عمر رضي الله عنه
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، اسی دوران آپ کے پاس جھگڑتے ہوئے دو آدمی آئے، ان میں سے ایک کھڑا ہوا اور بولا: اللہ کے رسول! میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں! آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کیجئے ( یہ سن کر ) مدعی علیہ نے کہا اور وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا، ہاں، اللہ کے رسول! ہمارے درمیان آپ کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کیجئے، اور مجھے مدعا بیان کرنے کی اجازت دیجئیے، ( چنانچہ اس نے بیان کیا ) میرا لڑکا اس کے پاس مزدور تھا، چنانچہ وہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر بیٹھا ۱؎، لوگوں ( یعنی بعض علماء ) نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم واجب ہے، لہٰذا میں نے اس کی طرف سے سو بکری اور ایک خادم فدیہ میں دے دی، پھر میری ملاقات کچھ اہل علم سے ہوئی تو ان لوگوں نے کہا: میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی واجب ہے ۲؎، اور اس کی بیوی پر رجم واجب ہے ۳؎، ( یہ سن کر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے موافق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکری اور خادم تمہیں واپس مل جائیں گے، ( اور ) تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کے لیے اسے شہر بدر کیا جائے گا، انیس! ۴؎ تم اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دو“، چنانچہ انیس اس کے گھر گئے، اس نے اقبال جرم کر لیا، لہٰذا انہوں نے اسے رجم کر دیا ۵؎۔ اس سند سے ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی سے، اسی جیسی اسی معنی کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔ اس سند سے بھی مالک کی سابقہ حدیث جیسی اسی معنی کی حدیث روایت ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ اور زید بن خالد کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح مالک بن انس، معمر اور کئی لوگوں نے بطریق: «الزهري، عن عبيد الله بن عتبة، عن أبي هريرة و زيد بن خالد، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۳- کچھ اور لوگوں نے بھی اسی سند سے ۶؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس میں ہے کہ ”جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی مرتبہ زنا کرے تو اسے بیچ دو، خواہ قیمت میں گندھے ہوئے بالوں کی رسی ہی کیوں نہ ملے“، ۴- اور سفیان بن عیینہ زہری سے، زہری عبیداللہ سے، عبیداللہ ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں، ان لوگوں نے کہا: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، ۵- ابن عیینہ نے اسی طرح دونوں حدیثوں کو ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے، ابن عیینہ کی حدیث میں سفیان بن عیینہ سے وہم ہوا ہے، انہوں نے ایک حدیث کو دوسری حدیث کے ساتھ خلط ملط کر دیا ہے، صحیح وہ حدیث ہے جسے محمد بن ولید زبیدی، یونس بن عبید اور زہری کے بھتیجے نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے ابوہریرہ اور زید بن خالد سے اور ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ“، ۶- اور زہری نے عبیداللہ سے، عبیداللہ نے شبل بن خالد سے، شبل نے عبداللہ بن مالک اوسی سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا: ”جب لونڈی زنا کرے“، ۷- اہل حدیث کے نزدیک ( شبل کی روایت بواسطہ عبداللہ بن مالک ) یہی صحیح ہے، کیونکہ شبل بن خالد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا ہے، بلکہ شبل، عبداللہ بن مالک اوسی سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، یہی صحیح ہے اور ابن عیینہ کی حدیث غیر محفوظ ہے، کیونکہ انہوں نے اپنی روایت میں ”شبل بن حامد“ کہا ہے، یہ غلط ہے، صحیح ”شبل بن خالد“ ہے اور انہیں ”شبل بن خلید“ بھی کہا جاتا ہے، ۸- اس باب میں ابوبکرہ، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ، ابوسعید، ابن عباس، جابر بن سمرہ، ہزال، بریدہ، سلمہ بن محبق، ابوبرزہ اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد الجهني، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، باسناده نحو حديث مالك بمعناه . قال وفي الباب عن ابي بكرة وعبادة بن الصامت وابي هريرة وابي سعيد وابن عباس وجابر بن سمرة وهزال وبريدة وسلمة بن المحبق وابي برزة وعمران بن حصين . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة وزيد بن خالد حديث حسن صحيح . وهكذا روى مالك بن انس ومعمر وغير واحد عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابي هريرة وزيد بن خالد عن النبي صلى الله عليه وسلم . ورووا بهذا الاسناد عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا زنت الامة فاجلدوها فان زنت في الرابعة فبيعوها ولو بضفير " . وروى سفيان بن عيينة عن الزهري عن عبيد الله عن ابي هريرة وزيد بن خالد وشبل قالوا كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم . هكذا روى ابن عيينة الحديثين جميعا عن ابي هريرة وزيد بن خالد وشبل وحديث ابن عيينة وهم وهم فيه سفيان بن عيينة ادخل حديثا في حديث . والصحيح ما روى محمد بن الوليد الزبيدي ويونس بن يزيد وابن اخي الزهري عن الزهري عن عبيد الله عن ابي هريرة وزيد بن خالد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا زنت الامة فاجلدوها " . والزهري عن عبيد الله عن شبل بن خالد عن عبد الله بن مالك الاوسي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا زنت الامة " . وهذا الصحيح عند اهل الحديث . - وشبل بن خالد لم يدرك النبي صلى الله عليه وسلم انما روى شبل عن عبد الله بن مالك الاوسي عن النبي صلى الله عليه وسلم وهذا الصحيح وحديث ابن عيينة غير محفوظ وروي عنه انه قال شبل بن حامد وهو خطا انما هو شبل بن خالد ويقال ايضا شبل بن خليد
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( دین خاص طور پر زنا کے احکام ) مجھ سے سیکھ لو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ۱؎ راہ نکال دی ہے: شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ ملوث ہو تو سو کوڑوں اور رجم کی سزا ہے، اور کنوارا کنواری کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تو سو کوڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اہل علم صحابہ کا اسی پر عمل ہے، ان میں علی بن ابی طالب، ابی بن کعب اور عبداللہ بن مسعود وغیرہ رضی الله عنہم شامل ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں: شادی شدہ زانی کو کوڑے لگائے جائیں گے اور رجم کیا جائے گا، بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۳- جب کہ صحابہ میں سے بعض اہل علم جن میں ابوبکر اور عمر وغیرہ رضی الله عنہما شامل ہیں، کہتے ہیں: شادی شدہ زنا کار پر صرف رجم واجب ہے، اسے کوڑے نہیں لگائے جائیں گے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح دوسری حدیث میں ماعز وغیرہ کے قصہ کے سلسلے میں آئی ہے کہ آپ نے صرف رجم کا حکم دیا، رجم سے پہلے کوڑے لگانے کا حکم نہیں دیا، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی اور احمد کا یہی قول ہے ۲؎۔
حدثنا قتيبة، حدثنا هشيم، عن منصور بن زاذان، عن الحسن، عن حطان بن عبد الله، عن عبادة بن الصامت، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خذوا عني فقد جعل الله لهن سبيلا الثيب بالثيب جلد ماية ثم الرجم والبكر بالبكر جلد ماية ونفى سنة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم علي بن ابي طالب وابى بن كعب وعبد الله بن مسعود وغيرهم قالوا الثيب تجلد وترجم . والى هذا ذهب بعض اهل العلم وهو قول اسحاق . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم ابو بكر وعمر وغيرهما الثيب انما عليه الرجم ولا يجلد . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم مثل هذا في غير حديث في قصة ماعز وغيره انه امر بالرجم ولم يامر ان يجلد قبل ان يرجم . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زنا کا اقرار کیا، اور عرض کیا: میں حاملہ ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو طلب کیا اور فرمایا: اس کے ساتھ حسن سلوک کرو اور جب بچہ جنے تو مجھے خبر کرو، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، اور پھر آپ نے حکم دیا، چنانچہ اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے ۱؎ پھر آپ نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اسے رجم کیا ہے، پھر اس کی نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یہ مدینہ کے ستر آدمیوں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو سب کو شامل ہو جائے گی ۲؎، عمر! اس سے اچھی کوئی چیز تمہاری نظر میں ہے کہ اس نے اللہ کے لیے اپنی جان قربان کر دی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، حدثنا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، ان امراة، من جهينة اعترفت عند النبي صلى الله عليه وسلم بالزنا فقالت اني حبلى . فدعا النبي صلى الله عليه وسلم وليها فقال " احسن اليها فاذا وضعت حملها فاخبرني " . ففعل فامر بها فشدت عليها ثيابها ثم امر برجمها فرجمت ثم صلى عليها فقال له عمر بن الخطاب يا رسول الله رجمتها ثم تصلي عليها . فقال " لقد تابت توبة لو قسمت بين سبعين من اهل المدينة لوسعتهم وهل وجدت شييا افضل من ان جادت بنفسها لله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو رجم کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حدیث میں ایک قصہ کا بھی ذکر ہے ۱؎۔
حدثنا اسحاق بن موسى الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك بن انس، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رجم يهوديا ويهودية . قال ابو عيسى وفي الحديث قصة وهذا حديث حسن صحيح
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو رجم کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، براء، جابر، ابن ابی اوفی، عبداللہ بن حارث بن جزء اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں: جب اہل کتاب آپس میں جھگڑیں اور مسلم حکمرانوں کے پاس اپنا مقدمہ پیش کریں تو ان پر لازم ہے کہ وہ کتاب و سنت اور مسلمانوں کے احکام کے مطابق فیصلہ کریں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۴- بعض لوگ کہتے ہیں: اہل کتاب پر زنا کی حد نہ قائم کی جائے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
حدثنا هناد، حدثنا شريك، عن سماك بن حرب، عن جابر بن سمرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم رجم يهوديا ويهودية . قال وفي الباب عن ابن عمر والبراء وجابر وابن ابي اوفى وعبد الله بن الحارث بن جزء وابن عباس . قال ابو عيسى حديث جابر بن سمرة حديث حسن غريب . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم قالوا اذا اختصم اهل الكتاب وترافعوا الى حكام المسلمين حكموا بينهم بالكتاب والسنة وباحكام المسلمين وهو قول احمد واسحاق . وقال بعضهم لا يقام عليهم الحد في الزنا . والقول الاول اصح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کو ) کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا ابوبکر رضی الله عنہ نے بھی کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، اور عمر رضی الله عنہ نے بھی کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے، ۲- اسے کئی لوگوں نے عبداللہ بن ادریس سے روایت کیا ہے، اور ان لوگوں نے اسے مرفوع کیا ہے، ( جب کہ ) بعض لوگوں نے اس حدیث کو بطریق: «عن عبد الله بن إدريس هذا الحديث عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر» ( موقوفاً ) روایت کیا ہے کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے ( غیر شادی شدہ زانی کو ) کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، عمر رضی الله عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، ۳- اس باب میں ابوہریرہ، زید بن خالد اور عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ہم سے اسے ابوسعید اشج نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، نیز اسی طرح یہ حدیث عبداللہ بن ادریس کے علاوہ کئی ایک نے عبیداللہ بن عمر سے روایت کی ہے، اسی طرح اسے محمد بن اسحاق نے نافع سے، نافع نے ابن عمر رضی الله عنہما سے ( موقوفاً ) روایت کیا ہے کہ ابوبکر رضی الله عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، اور عمر رضی الله عنہ نے کوڑے لگائے اور شہر بدر کیا، لیکن اس میں ان لوگوں نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آئی ہے، ۱- حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی شہر بدر کرنے کی روایت صحیح ہے، ۲- اسے ابوہریرہ، زید بن خالد اور عبادہ بن صامت وغیرہ رضی الله عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان لوگوں میں ابوبکر، عمر، علی، ابی بن کعب، عبداللہ بن مسعود اور ابوذر وغیرہم رضی الله عنہم شامل ہیں، اسی طرح یہ حدیث کئی تابعین فقہاء سے مروی ہے، سفیان ثوری مالک بن انس، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا نصر بن علي، وغير، واحد، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، سمعه من ابي هريرة، وزيد بن خالد، وشبل، انهم كانوا عند النبي صلى الله عليه وسلم فاتاه رجلان يختصمان فقام اليه احدهما وقال انشدك الله يا رسول الله لما قضيت بيننا بكتاب الله . فقال خصمه وكان افقه منه اجل يا رسول الله اقض بيننا بكتاب الله وايذن لي فاتكلم ان ابني كان عسيفا على هذا فزنا بامراته فاخبروني ان على ابني الرجم ففديت منه بماية شاة وخادم ثم لقيت ناسا من اهل العلم فزعموا ان على ابني جلد ماية وتغريب عام وانما الرجم على امراة هذا . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده لاقضين بينكما بكتاب الله الماية شاة والخادم رد عليك وعلى ابنك جلد ماية وتغريب عام واغد يا انيس على امراة هذا فان اعترفت فارجمها " . فغدا عليها فاعترفت فرجمها