احادیث
#1428
سنن ترمذی - Legal Punishments
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ماعز اسلمی رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اعتراف کیا کہ میں نے زنا کیا ہے، آپ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، آپ نے پھر ان کی طرف سے منہ پھیر لیا، پھر وہ دوسری طرف سے آئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، پھر چوتھی مرتبہ اعتراف کرنے پر آپ نے رجم کا حکم دے دیا، چنانچہ وہ ایک پتھریلی زمین کی طرف لے جائے گئے اور انہیں رجم کیا گیا، جب انہیں پتھر کی چوٹ لگی تو دوڑتے ہوئے بھاگے، حتیٰ کہ ایک ایسے آدمی کے قریب سے گزرے جس کے پاس اونٹ کے جبڑے کی ہڈی تھی، اس نے ماعز کو اسی سے مارا اور لوگوں نے بھی مارا یہاں تک کہ وہ مر گئے، پھر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ جب پتھر اور موت کی تکلیف انہیں محسوس ہوئی تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگوں نے اسے کیوں نہیں چھوڑ دیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ سے کئی اور سندوں سے بھی مروی ہے، یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے، انہوں نے اسے بطریق: «عن أبي سلمة عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، حدثنا ابو سلمة، عن ابي هريرة، قال جاء ماعز الاسلمي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال انه قد زنى . فاعرض عنه ثم جاء من شقه الاخر فقال يا رسول الله انه قد زنى . فاعرض عنه ثم جاء من شقه الاخر فقال يا رسول الله انه قد زنى . فامر به في الرابعة فاخرج الى الحرة فرجم بالحجارة فلما وجد مس الحجارة فر يشتد حتى مر برجل معه لحى جمل فضربه به وضربه الناس حتى مات فذكروا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم انه فر حين وجد مس الحجارة ومس الموت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هلا تركتموه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن وقد روي من غير وجه عن ابي هريرة . وروي هذا الحديث عن الزهري عن ابي سلمة عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Legal Punishments
- Hadith Index
- #1428
- Book Index
- 8
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan Sahih
- Al-AlbaniHasan Sahih
- Bashar Awad MaaroufHasan
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
