احادیث
#1454
سنن ترمذی - Legal Punishments
وائل بن حجر کندی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نماز کے لیے نکلی، اسے ایک آدمی ملا، اس نے عورت کو ڈھانپ لیا اور اس سے اپنی حاجت پوری کی ( یعنی اس سے زبردستی زنا کیا ) ، وہ عورت چیخنے لگی اور وہ چلا گیا، پھر اس کے پاس سے ایک ( دوسرا ) آدمی گزرا تو یہ عورت بولی: اس ( دوسرے ) آدمی نے میرے ساتھ ایسا ایسا ( یعنی زنا ) کیا ہے ۱؎ اور اس کے پاس سے مہاجرین کی بھی ایک جماعت گزری تو یہ عورت بولی: اس آدمی نے میرے ساتھ ایسا ایسا ( یعنی زنا ) کیا ہے، ( یہ سن کر ) وہ لوگ گئے اور جا کر انہوں نے اس آدمی کو پکڑ لیا جس کے بارے میں اس عورت نے گمان کیا تھا کہ اسی نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے اور اسے اس عورت کے پاس لائے، وہ بولی: ہاں، وہ یہی ہے، پھر وہ لوگ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے، چنانچہ جب آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، تو اس عورت کے ساتھ زنا کرنے والا کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کے ساتھ زنا کرنے والا میں ہوں، پھر آپ نے اس عورت سے فرمایا: ”تو جا اللہ نے تیری بخشش کر دی ہے ۲؎“ اور آپ نے اس آدمی کو ( جو قصوروار نہیں تھا ) اچھی بات کہی ۳؎ اور جس آدمی نے زنا کیا تھا اس کے متعلق آپ نے فرمایا: ”اسے رجم کرو“، آپ نے یہ بھی فرمایا: ”اس ( زانی ) نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ اس طرح توبہ کر لیں تو ان سب کی توبہ قبول ہو جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- علقمہ بن وائل بن حجر کا سماع ان کے والد سے ثابت ہے، یہ عبدالجبار بن وائل سے بڑے ہیں اور عبدالجبار کا سماع ان کے والد سے ثابت نہیں۔
حدثنا محمد بن يحيى النيسابوري، حدثنا محمد بن يوسف، عن اسراييل، حدثنا سماك بن حرب، عن علقمة بن وايل الكندي، عن ابيه، ان امراة، خرجت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم تريد الصلاة فتلقاها رجل فتجللها فقضى حاجته منها فصاحت فانطلق ومر عليها رجل فقالت ان ذاك الرجل فعل بي كذا وكذا . ومرت بعصابة من المهاجرين فقالت ان ذاك الرجل فعل بي كذا وكذا . فانطلقوا فاخذوا الرجل الذي ظنت انه وقع عليها واتوها فقالت نعم هو هذا . فاتوا به رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما امر به ليرجم قام صاحبها الذي وقع عليها فقال يا رسول الله انا صاحبها . فقال لها " اذهبي فقد غفر الله لك " . وقال للرجل قولا حسنا وقال للرجل الذي وقع عليها " ارجموه " . وقال " لقد تاب توبة لو تابها اهل المدينة لقبل منهم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب صحيح . وعلقمة بن وايل بن حجر سمع من ابيه وهو اكبر من عبد الجبار بن وايل وعبد الجبار بن وايل لم يسمع من ابيه
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Legal Punishments
- Hadith Index
- #1454
- Book Index
- 37
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan
- Al-AlbaniHasan
- Bashar Awad MaaroufHasan
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
