Loading...

Loading...
کتب
۶۴ احادیث
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے ماموں ابوبردہ بن نیار رضی الله عنہ میرے پاس سے گزرے اور ان کے ہاتھ میں ایک جھنڈا تھا، میں نے پوچھا: آپ کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کے پاس بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی ( دوسری ) بیوی سے شادی کر رکھی ہے تاکہ میں اس کا سر لے کر آؤں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- براء کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- محمد بن اسحاق نے بھی اس حدیث کو عدی بن ثابت سے اور عدی نے عبداللہ بن یزید سے اور عبداللہ نے براء رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۳- یہ حدیث اشعث سے بھی مروی ہے انہوں نے عدی سے اور عدی نے یزید بن براء سے اور یزید نے براء رضی الله عنہ سے روایت کی ہے، ۴- نیز یہ اشعث سے مروی ہے انہوں نے عدی سے اور عدی نے یزید بن البراء سے اور یزید نے اپنے ماموں سے اور ان کے ماموں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۵- اس باب میں قرہ مزنی سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابو سعيد الاشج، حدثنا حفص بن غياث، عن اشعث، عن عدي بن ثابت، عن البراء، قال مر بي خالي ابو بردة بن نيار ومعه لواء فقلت اين تريد قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى رجل تزوج امراة ابيه ان اتيه براسه . قال وفي الباب عن قرة المزني . قال ابو عيسى حديث البراء حديث حسن غريب . وقد روى محمد بن اسحاق هذا الحديث عن عدي بن ثابت عن عبد الله بن يزيد عن البراء وقد روي هذا الحديث عن اشعث عن عدي عن يزيد بن البراء عن ابيه وروي عن اشعث عن عدي عن يزيد بن البراء عن خاله عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس زبیر سے حرہ کی نالیوں کے بارے میں جس سے لوگ اپنے کھجور کے درخت سینچتے تھے جھگڑا کیا، انصاری نے زبیر سے کہا: پانی چھوڑ دو تاکہ بہتا رہے، زبیر نے اس کی بات نہیں مانی، تو دونوں نے رسول اللہ کی خدمت میں اپنا قضیہ پیش کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر سے فرمایا: ”زبیر! ( تم اپنے کھیت کو ) سیراب کر لو، پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو“، ( یہ سن کر ) انصاری غصہ ہو گیا اور کہا: اللہ کے رسول! ( ایسا فیصلہ ) اس وجہ سے کہ وہ آپ کی پھوپھی کا لڑکا ہے؟ ( یہ سنتے ہی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا: ”زبیر! تم اپنے کھیت سیراب کر لو، پھر پانی کو روکے رکھو یہاں تک کہ وہ منڈیر تک پہنچ جائے“ ۱؎، زبیر کہتے ہیں: اللہ کی قسم، میرا گمان ہے کہ اسی سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم» ”آپ کے رب کی قسم، وہ لوگ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے جھگڑوں میں ( اے نبی ) وہ آپ کو حکم نہ مان لیں“ ( النساء: ۶۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اور زہری نے عروہ بن زبیر سے اور عروہ نے زبیر سے روایت کی ہے اور شعیب نے اس میں عبداللہ بن زبیر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور عبداللہ بن وہب نے اسے پہلی حدیث کی طرح ہی لیث اور یونس سے روایت کیا ہے اور ان دونوں نے زہری سے اور زہری نے عروہ سے اور عروہ نے عبداللہ بن زبیر سے روایت کی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، انه حدثه ان عبد الله بن الزبير حدثه ان رجلا من الانصار خاصم الزبير عند رسول الله صلى الله عليه وسلم في شراج الحرة التي يسقون بها النخل فقال الانصاري سرح الماء يمر . فابى عليه فاختصموا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للزبير " اسق يا زبير ثم ارسل الماء الى جارك " . فغضب الانصاري فقال يا رسول الله ان كان ابن عمتك فتلون وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " يا زبير اسق ثم احبس الماء حتى يرجع الى الجدر " . فقال الزبير والله اني لاحسب نزلت هذه الاية في ذلك : (فلا وربك لا يومنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ) . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وروى شعيب بن ابي حمزة عن الزهري عن عروة بن الزبير عن الزبير ولم يذكر فيه عن عبد الله بن الزبير . ورواه عبد الله بن وهب عن الليث ويونس عن الزهري عن عروة عن عبد الله بن الزبير نحو الحديث الاول
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نے مرتے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا جبکہ اس کے پاس ان کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر ملی تو آپ نے اس آدمی کو سخت بات کہی، پھر ان غلاموں کو بلایا اور دو دو کر کے ان کے تین حصے کئے، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور جن ( دو غلاموں ) کے نام قرعہ نکلا ان کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمران بن حصین رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور یہ اور بھی سندوں سے عمران بن حصین سے مروی ہے، ۳- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ یہ لوگ یہ اور اس طرح کے دوسرے مواقع پر قرعہ اندازی کو درست کہتے ہیں، ۵- اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم قرعہ اندازی کو جائز نہیں سمجھتے، اس موقع پر لوگ کہتے ہیں کہ ہر غلام سے ایک تہائی آزاد کیا جائے گا اور دو تہائی قیمت کی آزادی کے لیے کسب ( کمائی ) کرایا جائے گا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي المهلب، عن عمران بن حصين، ان رجلا، من الانصار اعتق ستة اعبد له عند موته ولم يكن له مال غيرهم فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال له قولا شديدا ثم دعاهم فجزاهم ثم اقرع بينهم فاعتق اثنين وارق اربعة . وقد روي من غير وجه عن عمران بن حصين . قال وفي الباب عن ابي هريرة . قال ابو عيسى حديث عمران بن حصين حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول مالك والشافعي واحمد واسحاق يرون استعمال القرعة في هذا وفي غيره . واما بعض اهل العلم من اهل الكوفة وغيرهم فلم يروا القرعة وقالوا يعتق من كل عبد الثلث ويستسعى في ثلثى قيمته . وابو المهلب اسمه عبد الرحمن بن عمرو الجرمي وهو غير ابي قلابة ويقال معاوية بن عمرو . وابو قلابة الجرمي اسمه عبد الله بن زيد
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو جائے تو وہ ( رشتہ دار ) آزاد ہو جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف حماد بن سلمہ ہی کی روایت سے مسنداً ( مرفوعاً ) جانتے ہیں، ۲- اور بعض لوگوں نے اس حدیث کے کچھ حصہ کو قتادہ سے اور قتادہ نے حسن سے اور حسن نے عمر رضی الله عنہ سے ( موقوفاً ) روایت کیا ہے۔ اس سند سے محمد بن بکر برسانی نے بیان کیا انہوں نے حماد بن سلمہ سے اور حماد نے قتادہ اور عاصم احول سے اور قتادہ اور عاصم نے حسن بصری سے اور حسن نے سمرہ سے اور سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص کسی محرم قرابت دار کا مالک ہو جائے تو وہ آزاد ہو جائے گا“، امام ترمذی کہتے ہیں: ۳- محمد بن بکر کے علاوہ ہم کسی کو نہیں جانتے ہیں جس نے عاصم احول کا ذکر کیا ہو اور انہوں ( عاصم ) نے حماد بن سلمہ سے روایت کی ہو، ۴- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، ۵- ابن عمر رضی الله عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص کسی محرم قرابت دار کا مالک ہو جائے تو وہ آزاد ہو جائے گا“۔ اسے ضمرہ بن ربیعہ نے ثوری سے روایت کیا ہے، انہوں نے عبداللہ بن دینار سے، اور عبداللہ نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اس حدیث کی روایت میں لوگوں نے ضمرہ کی متابعت نہیں کی ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ حدیث غلط ہے ۱؎۔
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص دوسرے کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر فصل بوئے، اس کو فصل سے کچھ نہیں ملے گا وہ صرف خرچ لے سکتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے بروایت ابواسحاق صرف شریک بن عبداللہ ہی کے طریق سے جانتے ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۱؎ ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث حسن ہے، انہوں نے کہا: میں اسے بروایت ابواسحاق صرف شریک ہی کے طریق سے جانتا ہوں، ۵- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ہم سے معقل بن مالک بصریٰ نے بسند «عقبة بن الأصم عن عطاء عن رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا شريك بن عبد الله النخعي، عن ابي اسحاق، عن عطاء، عن رافع بن خديج، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من زرع في ارض قوم بغير اذنهم فليس له من الزرع شيء وله نفقته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه من حديث ابي اسحاق الا من هذا الوجه من حديث شريك بن عبد الله . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم وهو قول احمد واسحاق . وسالت محمد بن اسماعيل عن هذا الحديث فقال هو حديث حسن . وقال لا اعرفه من حديث ابي اسحاق الا من رواية شريك . قال محمد حدثنا معقل بن مالك البصري، حدثنا عقبة بن الاصم، عن عطاء، عن رافع بن خديج، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کے باپ ( بشیر ) نے اپنے ایک بیٹے کو ایک غلام دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تاکہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں، تو آپ نے ان سے پوچھا: کیا تم نے اپنے تمام لڑکوں کو ایسا ہی غلام عطیہ میں دیا ہے ۱؎ جیسا اس کو دیا ہے؟“ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو اسے واپس لے لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ۲- یہ اور بھی سندوں سے نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے مروی ہے۔ ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ اولاد کے درمیان ( عطیہ دینے میں ) برابری کو ملحوظ رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے تو کہا ہے کہ بوسہ لینے میں بھی اپنی اولاد کے درمیان برابری برقرار رکھے، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: بخشش اور عطیہ میں اپنی اولاد یعنی بیٹا اور بیٹی کے درمیان بھی برابری برقرار رکھے۔ یہی سفیان ثوری کا قول ہے، ۵- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: اولاد کے درمیان برابری یہی ہے کہ میراث کی طرح لڑکے کو لڑکی کے دوگنا دیا جائے۔
حدثنا نصر بن علي، وسعيد بن عبد الرحمن المخزومي المعنى الواحد، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، وعن محمد بن النعمان بن بشير، يحدثان عن النعمان بن بشير، ان اباه، نحل ابنا له غلاما فاتى النبي صلى الله عليه وسلم يشهده فقال " اكل ولدك نحلته مثل ما نحلت هذا " . قال لا . قال " فاردده " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن النعمان بن بشير . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم يستحبون التسوية بين الولد حتى قال بعضهم يسوي بين ولده حتى في القبلة . وقال بعضهم يسوي بين ولده في النحل والعطية الذكر والانثى سواء . وهو قول سفيان الثوري . وقال بعضهم التسوية بين الولد ان يعطى الذكر مثل حظ الانثيين مثل قسمة الميراث . وهو قول احمد واسحاق
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھر کا پڑوسی گھر ( خریدنے ) کا زیادہ حقدار ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے انہوں نے قتادہ سے اور قتادہ نے انس سے اور انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ نیز سعید بن ابی عروبہ سے مروی ہے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے حسن بصری سے اور حسن بصری نے سمرہ سے اور سمرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں شرید، ابورافع اور انس سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اور اہل علم کے نزدیک صحیح حسن کی حدیث ہے جسے انہوں نے سمرہ سے روایت کی ہے۔ اور ہم قتادہ کی حدیث کو جسے انہوں نے انس سے روایت کی ہے، صرف عیسیٰ بن یونس ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن الطائفی کی حدیث جسے انہوں نے عمرو بن شرید سے اور عمرو نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس باب میں حسن حدیث ہے۔ اور ابراہیم بن میسرہ نے عمرو بن شرید سے اور عمرو نے ابورافع سے اور ابورافع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ میرے نزدیک دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا اسماعيل ابن علية، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " جار الدار احق بالدار " . قال وفي الباب عن الشريد وابي رافع وانس . قال ابو عيسى حديث سمرة حديث حسن صحيح . وروى عيسى بن يونس عن سعيد بن ابي عروبة عن قتادة عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله . وروي عن سعيد عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن النبي صلى الله عليه وسلم . والصحيح عند اهل العلم حديث الحسن عن سمرة ولا نعرف حديث قتادة عن انس الا من حديث عيسى بن يونس . وحديث عبد الله بن عبد الرحمن الطايفي عن عمرو بن الشريد عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الباب هو حديث حسن . وروى ابراهيم بن ميسرة عن عمرو بن الشريد عن ابي رافع عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال سمعت محمدا يقول كلا الحديثين عندي صحيح
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑوسی اپنے پڑوسی ( ساجھی ) کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، جب دونوں کا راستہ ایک ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا ۱؎ اگرچہ وہ موجود نہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم عبدالملک بن سلیمان کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے ہیں جس نے اس حدیث کو عطاء سے اور عطاء نے جابر سے روایت کی ہو، ۲- شعبہ نے عبدالملک بن سلیمان پر اسی حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے۔ محدثین کے نزدیک عبدالملک ثقہ اور مامون ہیں، شعبہ کے علاوہ ہم کسی کو نہیں جانتے ہیں جس نے عبدالملک پر کلام کیا ہو، شعبہ نے بھی صرف اسی حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے۔ اور وکیع نے بھی یہ حدیث شعبہ سے اور شعبہ نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے روایت کی ہے۔ اور ابن مبارک نے سفیان ثوری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: عبدالملک بن سفیان میزان ہیں یعنی علم میں، ۲- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ آدمی اپنے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے اگرچہ وہ غائب ہی کیوں نہ ہو، جب وہ ( سفر وغیرہ ) سے واپس آئے گا تو اس کو شفعہ ملے گا گرچہ اس پر لمبی مدت گزر چکی ہو۔
حدثنا قتيبة، حدثنا خالد بن عبد الله الواسطي، عن عبد الملك بن ابي سليمان، عن عطاء، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الجار احق بشفعته ينتظر به وان كان غايبا اذا كان طريقهما واحدا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب ولا نعلم احدا روى هذا الحديث غير عبد الملك بن ابي سليمان عن عطاء عن جابر . وقد تكلم شعبة في عبد الملك بن ابي سليمان من اجل هذا الحديث وعبد الملك هو ثقة مامون عند اهل الحديث لا نعلم احدا تكلم فيه غير شعبة من اجل هذا الحديث . وقد روى وكيع عن شعبة عن عبد الملك بن ابي سليمان هذا الحديث . وروي عن ابن المبارك عن سفيان الثوري قال عبد الملك بن ابي سليمان ميزان . يعني في العلم . والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم ان الرجل احق بشفعته وان كان غايبا فاذا قدم فله الشفعة وان تطاول ذلك
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حد بندی ہو جائے اور راستے الگ الگ کر دیے جائیں تو شفعہ نہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے بعض لوگوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، ۳- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم کا جن میں عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان بھی شامل ہیں اسی پر عمل ہے اور بعض تابعین فقہاء جیسے عمر بن عبدالعزیز وغیرہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے، جن میں یحییٰ بن سعید انصاری، ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن اور مالک بن انس شامل ہیں، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، یہ لوگ صرف ساجھی دار کے لیے ہی حق شفعہ کے قائل ہیں۔ اور جب پڑوسی ساجھی دار نہ ہو تو اس کے لیے حق شفعہ کے قائل نہیں۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ پڑوسی کے لیے بھی شفعہ ہے اور ان لوگوں نے مرفوع حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گھر کا پڑوسی گھر کا زیادہ حقدار ہے ۲؎“، نیز فرماتے ہیں: ”پڑوسی اپنے سے لگی ہوئی زمین یا مکان کا زیادہ حقدار ہے اور یہی ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد رواه بعضهم مرسلا عن ابي سلمة عن النبي صلى الله عليه وسلم . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم منهم عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان وبه يقول بعض فقهاء التابعين مثل عمر بن عبد العزيز وغيره وهو قول اهل المدينة منهم يحيى بن سعيد الانصاري وربيعة بن ابي عبد الرحمن ومالك بن انس وبه يقول الشافعي واحمد واسحاق لا يرون الشفعة الا للخليط ولا يرون للجار شفعة اذا لم يكن خليطا . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الشفعة للجار . واحتجوا بالحديث المرفوع عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " جار الدار احق بالدار " . وقال " الجار احق بسقبه " . وهو قول الثوري وابن المبارك واهل الكوفة
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ساجھی دار کو حق شفعہ حاصل ہے اور شفعہ ہر چیز میں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اس حدیث کو اس طرح ( مرفوعاً ) صرف ابوحمزہ سکری ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- اس حدیث کو کئی لوگوں نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور عبدالعزیز نے ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلا روایت کیا ہے۔ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ اس سند میں ہناد نے ابوبکر بن عیاش سے ابوبکر بن عیاش نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور عبدالعزیز نے ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، اس میں ابن عباس کا واسطہ نہیں ہے، ۳- اور اسی طرح کئی اور لوگوں نے عبدالعزیز بن رفیع سے اسی کے مثل حدیث روایت کی ہے اور اس میں بھی ابن عباس کا واسطہ نہیں ہے، ۴ – ابوحمزہ ( یہ مرفوع ) کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ ابوحمزہ ثقہ ہیں۔ ممکن ہے یہ خطا ابوحمزہ کے علاوہ کسی اور سے ہوئی ہو۔ اس سند میں ھناد نے ابوالاحوص سے اور ابوالاحوص نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور عبدالعزیز نے ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوبکر بن عیاش کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۶ – اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ حق شفعہ کا نفاذ صرف گھر اور زمین میں ہو گا۔ ان لوگوں کی رائے میں شفعہ ہر چیز میں نہیں، ۷- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: شعفہ ہر چیز میں ہے۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا يوسف بن عيسى، حدثنا الفضل بن موسى، عن ابي حمزة السكري، عن عبد العزيز بن رفيع، عن ابن ابي مليكة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الشريك شفيع والشفعة في كل شيء " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه مثل هذا الا من حديث ابي حمزة السكري . وقد روى غير واحد هذا الحديث عن عبد العزيز بن رفيع عن ابن ابي مليكة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا وهذا اصح . حدثنا هناد، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن عبد العزيز بن رفيع، عن ابن ابي مليكة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه بمعناه وليس فيه عن ابن عباس وهكذا روى غير واحد عن عبد العزيز بن رفيع مثل هذا ليس فيه عن ابن عباس وهذا اصح من حديث ابي حمزة . وابو حمزة ثقة يمكن ان يكون الخطا من غير ابي حمزة . حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن عبد العزيز بن رفيع، عن ابن ابي مليكة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث ابي بكر بن عياش . وقال اكثر اهل العلم انما تكون الشفعة في الدور والارضين ولم يروا الشفعة في كل شيء . وقال بعض اهل العلم الشفعة في كل شيء . والقول الاول اصح
حدثنا قتيبة، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن يزيد، مولى المنبعث عن زيد بن خالد الجهني، ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اللقطة فقال " عرفها سنة ثم اعرف وكاءها ووعاءها وعفاصها ثم استنفق بها فان جاء ربها فادها اليه " . فقال له يا رسول الله فضالة الغنم فقال " خذها فانما هي لك او لاخيك او للذيب " . فقال يا رسول الله فضالة الابل قال فغضب النبي صلى الله عليه وسلم حتى احمرت وجنتاه او احمر وجهه فقال " ما لك ولها معها حذاوها وسقاوها حتى تلقى ربها " . حديث زيد بن خالد حديث حسن صحيح وقد روي عنه من غير وجه . وحديث يزيد مولى المنبعث عن زيد بن خالد حديث حسن صحيح وقد روي عنه من غير وجه . قال وفي الباب عن ابى بن كعب وعبد الله بن عمرو والجارود بن المعلى وعياض بن حمار وجرير بن عبد الله . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ورخصوا في اللقطة اذا عرفها سنة فلم يجد من يعرفها ان ينتفع بها . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم يعرفها سنة فان جاء صاحبها والا تصدق بها . وهو قول سفيان الثوري وعبد الله بن المبارك وهو قول اهل الكوفة لم يروا لصاحب اللقطة ان ينتفع بها اذا كان غنيا . وقال الشافعي ينتفع بها وان كان غنيا لان ابى بن كعب اصاب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم صرة فيها ماية دينار فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يعرفها ثم ينتفع بها وكان ابى كثير المال من مياسير اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فامره النبي صلى الله عليه وسلم ان يعرفها فلم يجد من يعرفها فامره النبي صلى الله عليه وسلم ان ياكلها فلو كانت اللقطة لم تحل الا لمن تحل له الصدقة لم تحل لعلي بن ابي طالب لان علي بن ابي طالب اصاب دينارا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فعرفه فلم يجد من يعرفه فامره النبي صلى الله عليه وسلم باكله وكان لا يحل له الصدقة . وقد رخص بعض اهل العلم اذا كانت اللقطة يسيرة ان ينتفع بها ولا يعرفها . وقال بعضهم اذا كان دون دينار يعرفها قدر جمعة . وهو قول اسحاق بن ابراهيم
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو بكر الحنفي، اخبرنا الضحاك بن عثمان، حدثني سالم ابو النضر، عن بسر بن سعيد، عن زيد بن خالد الجهني، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل عن اللقطة فقال " عرفها سنة فان اعترفت فادها والا فاعرف وعاءها وعفاصها ووكاءها وعددها ثم كلها فاذا جاء صاحبها فادها " . قال ابو عيسى حديث زيد بن خالد حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه . قال احمد اصح شيء في هذا الباب هذا الحديث
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا تو مجھے ( راستے میں ) ایک کوڑا پڑا ملا – ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ میں نے پڑا ہوا ایک کوڑا پایا – تو میں نے اسے اٹھا لیا تو ان دونوں نے کہا: اسے رہنے دو، ( نہ اٹھاؤ ) میں نے کہا: میں اسے نہیں چھوڑ سکتا کہ اسے درندے کھا جائیں، میں اسے ضرور اٹھاؤں گا، اور اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ پھر میں ابی بن کعب کے پاس آیا، اور ان سے اس کے بارے میں پوچھا اور ان سے پوری بات بیان کی تو انہوں نے کہا: تم نے اچھا کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں، میں نے ایک تھیلی پائی جس میں سو دینار تھے، اسے لے کر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے مجھ سے فرمایا: ”ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ“، میں نے ایک سال تک اس کی پہچان کرائی لیکن مجھے کوئی نہیں ملا جو اسے پہچانتا، پھر میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا: ”ایک سال تک اور اس کی پہچان کراؤ“، میں نے اس کی پہچان کرائی، پھر اسے لے کر آپ کے پاس آیا۔ تو آپ نے فرمایا: ”ایک سال تک اور اس کی پہچان کراؤ ۱؎“، اور فرمایا: ”اس کی گنتی کر لو، اس کی تھیلی اور اس کے سربند کو خوب اچھی طرح پہچان لو اگر اسے تلاش کرنے والا آئے اور اس کی تعداد، اس کی تھیلی اور اس کے سربند کے بارے میں بتائے تو اسے دے دو ورنہ تم اسے اپنے کام میں لاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عبد الله بن نمير، ويزيد بن هارون، عن سفيان الثوري، عن سلمة بن كهيل، عن سويد بن غفلة، قال خرجت مع زيد بن صوحان وسلمان بن ربيعة فوجدت سوطا قال ابن نمير في حديثه فالتقطت سوطا فاخذته قالا دعه . فقلت لا ادعه تاكله السباع لاخذنه فلاستمتعن به . فقدمت على ابى بن كعب فسالته عن ذلك وحدثته الحديث فقال احسنت انا وجدت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم صرة فيها ماية دينار . قال فاتيته بها فقال لي " عرفها حولا " . فعرفتها حولا فما اجد من يعرفها ثم اتيته بها فقال " عرفها حولا اخر " . فعرفتها ثم اتيته بها فقال " عرفها حولا اخر " . وقال " احص عدتها ووعاءها ووكاءها فان جاء طالبها فاخبرك بعدتها ووعايها ووكايها فادفعها اليه والا فاستمتع بها " . قال هذا حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی الله عنہ کو خیبر میں ( مال غنیمت سے ) کچھ زمین ملی، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! خیبر میں مجھے مال ملا ہے اس سے زیادہ عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا۔ ( اس کے بارے میں ) آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگر چاہو تو اس کی اصل روک لو اور اسے ( پیداوار کو ) صدقہ کر دو، تو عمر رضی الله عنہ نے اسے اس طرح سے صدقہ کیا کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے، اور نہ کسی کو وراثت میں دی جائے ۱؎، اور اسے فقیروں میں، رشتہ داروں میں، غلام آزاد کرنے میں، اللہ کے راستے ( جہاد ) میں، مسافروں میں اور مہمانوں میں خرچ کیا جائے۔ اور جو اس کا والی ( نگراں ) ہو اس کے لیے اس میں سے معروف طریقے سے کھانے اور دوست کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، جبکہ وہ اس میں سے ذخیرہ اندوزی کرنے والا نہ ہو۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے اسے محمد بن سیرین سے بیان کیا تو انہوں نے «غير متمول فيه» کے بجائے «غير متأثل مالا» کہا۔ ابن عون کہتے ہیں: مجھ سے اسے ایک اور آدمی نے بیان کیا ہے کہ اس نے اس وقف نامے کو پڑھا تھا جو ایک لال چمڑے پر تحریر تھا اور اس میں بھی «غير متأثل مالا» کے الفاظ تھے۔ اسماعیل کہتے ہیں: میں نے اس وقف نامے کو عبیداللہ بن عمر کے بیٹے کے پاس پڑھا، اس میں بھی «غير متأثل مالا» کے الفاظ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ متقدمین میں سے ہم کسی کو نہیں جانتے ہیں جس نے زمین وغیرہ کو وقف کرنے میں اختلاف کیا ہو۔
حدثنا علي بن حجر، انبانا اسماعيل بن ابراهيم، عن ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، قال اصاب عمر ارضا بخيبر فقال يا رسول الله اصبت مالا بخيبر لم اصب مالا قط انفس عندي منه فما تامرني قال " ان شيت حبست اصلها وتصدقت بها " . فتصدق بها عمر انها لا يباع اصلها ولا يوهب ولا يورث تصدق بها في الفقراء والقربى وفي الرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل والضيف لا جناح على من وليها ان ياكل منها بالمعروف او يطعم صديقا غير متمول فيه . قال فذكرته لمحمد بن سيرين فقال غير متاثل مالا . قال ابن عون فحدثني به رجل اخر انه قراها في قطعة اديم احمر غير متاثل مالا . قال اسماعيل وانا قراتها عند ابن عبيد الله بن عمر فكان فيه غير متاثل مالا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم لا نعلم بين المتقدمين منهم في ذلك اختلافا في اجازة وقف الارضين وغير ذلك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب انسان مر جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: ایک صدقہ جاریہ ۱؎ ہے، دوسرا ایسا علم ہے ۲؎ جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور تیسرا نیک و صالح اولاد ہے ۳؎ جو اس کے لیے دعا کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا مات الانسان انقطع عمله الا من ثلاث صدقة جارية وعلم ينتفع به وولد صالح يدعو له " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بےزبان ( جانور ) کا زخم رائیگاں ہے، کنویں اور کان میں گر کر کوئی مر جائے تو وہ بھی رائیگاں ہے ۱؎، اور جاہلیت کے دفینے میں پانچواں حصہ ہے“۔ مؤلف نے اپنی سند سے بطریق «عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب وأبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر عمرو بن عوف مزنی اور عبادہ بن صامت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- مالک بن انس کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث «العجماء جرحها جبار» کی تفسیر یہ ہے کہ چوپایوں سے لگے ہوئے زخم رائیگاں ہیں اس میں کوئی دیت نہیں ہے، ۴- «العجماء جرحها جبار» کی بعض علماء نے یہی تفسیر کی ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بےزبان جانور وہ ہیں جو اپنے مالک کے پاس سے بدک کر بھاگ جائیں، اگر ان کے بدک کر بھاگنے کی حالت میں کسی کو ان سے زخم لگے یا چوٹ آ جائے تو جانور والے پر کوئی تاوان نہیں ہو گا، ۵- «والمعدن جبار» کی تفسیر میں مالک کہتے ہیں: جب کوئی شخص کان کھدوائے اور اس میں کوئی گر جائے تو کان کھودوانے والے پر کوئی تاوان نہیں ہے، اسی طرح کنواں ہے جب کوئی مسافروں وغیرہ کے لیے کنواں کھدوائے اور اس میں کوئی شخص گر جائے تو کھدوائے والے پر کوئی تاوان نہیں ہے، ۶- «وفي الركاز الخمس» کی تفسیر میں مالک کہتے ہیں: «رکاز» اہل جاہلیت کا دفینہ ہے اگر کسی کو جاہلیت کا دفینہ ملے تو وہ پانچواں حصہ سلطان کے پاس ( سرکاری خزانہ میں ) جمع کرے گا اور جو باقی بچے گا وہ اس کا ہو گا۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العجماء جرحها جبار والبير جبار والمعدن جبار وفي الركاز الخمس " . حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال وفي الباب عن جابر وعمرو بن عوف المزني وعبادة بن الصامت . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . حدثنا الانصاري حدثنا معن قال اخبرنا مالك بن انس وتفسير حديث النبي صلى الله عليه وسلم " العجماء جرحها جبار " . يقول هدر لا دية فيه . قال ابو عيسى ومعنى قوله " العجماء جرحها جبار " . فسر ذلك بعض اهل العلم قالوا العجماء الدابة المنفلتة من صاحبها فما اصابت في انفلاتها فلا غرم على صاحبها . " والمعدن جبار " . يقول اذا احتفر الرجل معدنا فوقع فيها انسان فلا غرم عليه وكذلك البير اذا احتفرها الرجل للسبيل فوقع فيها انسان فلا غرم على صاحبها . " وفي الركاز الخمس " . والركاز ما وجد في دفن اهل الجاهلية . فمن وجد ركازا ادى منه الخمس الى السلطان وما بقي فهو له
سعید بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی بنجر زمین ( جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو ) آباد کی تو وہ اسی کی ہے کسی ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز ہے، ۴- بعض علماء کہتے ہیں: حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز نہیں ہے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، ۵- اس باب میں جابر، کثیر کے دادا عمرو بن عوف مزنی اور سمرہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۶- ہم سے ابوموسیٰ محمد بن مثنی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوولید طیالسی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «وليس لعرق ظالم حق» کا مطلب پوچھا، انہوں نے کہا: «العرق الظالم» سے مراد وہ غاصب ہے جو دوسروں کی چیز زبردستی لے۔ میں نے کہا: اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوسرے کی زمین میں درخت لگائے؟ انہوں نے کہا: وہی شخص مراد ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، اخبرنا عبد الوهاب الثقفي، اخبرنا ايوب، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن سعيد بن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من احيى ارضا ميتة فهي له وليس لعرق ظالم حق " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد رواه بعضهم عن هشام بن عروة عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم وهو قول احمد واسحاق قالوا له ان يحيي الارض الموات بغير اذن السلطان . وقد قال بعضهم ليس له ان يحييها الا باذن السلطان . والقول الاول اصح . قال وفي الباب عن جابر وعمرو بن عوف المزني جد كثير وسمرة . حدثنا ابو موسى محمد بن المثنى قال سالت ابا الوليد الطيالسي عن قوله " وليس لعرق ظالم حق " . فقال العرق الظالم الغاصب الذي ياخذ ما ليس له . قلت هو الرجل الذي يغرس في ارض غيره قال هو ذاك
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غیر آباد زمین ( جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو ) آباد کرے تو وہ اسی کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن هشام بن عروة، عن وهب بن كيسان، عن جابر بن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من احيا ارضا ميتة فهي له " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابیض بن حمال رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے جاگیر میں نمک کی کان مانگی تو آپ نے انہیں دے دی، لیکن جب وہ پیٹھ پھیر کر واپس جانے لگے تو مجلس میں موجود ایک آدمی نے عرض کیا: جانتے ہیں کہ آپ نے جاگیر میں اسے کیا دیا ہے؟ آپ نے اسے جاگیر میں ایسا پانی دیا ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا ہے۔ ( اس سے برابر نمک نکلتا رہے گا ) تو آپ نے اس سے اسے واپس لے لیا، اس نے آپ سے پوچھا: پیلو کے درختوں کی کون سی جگہ ( بطور رمنہ ) گھیری جائے؟ آپ نے فرمایا: ”جس زمین تک اونٹوں کے پاؤں نہ پہنچے“ ( جو آبادی اور چراگاہ سے کافی دور ہوں ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابیض کی حدیث غریب ہے، ۲- میں نے قتیبہ سے پوچھا کیا آپ سے محمد بن یحییٰ بن قیس ماربی نے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اقرار کیا اور کہا: ہاں –
قال قلت لقتيبة بن سعيد حدثكم محمد بن يحيى بن قيس الماربي، حدثني ابي، عن ثمامة بن شراحيل، عن سمى بن قيس، عن شمير، عن ابيض بن حمال، انه وفد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستقطعه الملح فقطع له فلما ان ولى قال رجل من المجلس اتدري ما قطعت له انما قطعت له الماء العد . قال فانتزعه منه . قال وساله عما يحمى من الاراك قال " ما لم تنله خفاف الابل " . فاقر به قتيبة وقال نعم . حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا محمد بن يحيى بن قيس الماربي، بهذا الاسناد نحوه . المارب ناحية من اليمن . قال وفي الباب عن وايل واسماء بنت ابي بكر . قال ابو عيسى حديث ابيض بن حمال حديث غريب . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم في القطايع يرون جايزا ان يقطع الامام لمن راى ذلك
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حضر موت میں ایک زمین بطور جاگیر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاویہ رضی الله عنہ کو بھیجا تاکہ وہ زمین انہیں بطور جاگیر دے دیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، اخبرنا شعبة، عن سماك، قال سمعت علقمة بن وايل، يحدث عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم اقطعه ارضا بحضرموت . قال محمود واخبرنا النضر، عن شعبة، وزاد، فيه وبعث معه معاوية ليقطعها اياه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح