احادیث
#1378
سنن ترمذی - Judgements
سعید بن زید رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی بنجر زمین ( جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو ) آباد کی تو وہ اسی کی ہے کسی ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض لوگوں نے اسے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز ہے، ۴- بعض علماء کہتے ہیں: حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز نہیں ہے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، ۵- اس باب میں جابر، کثیر کے دادا عمرو بن عوف مزنی اور سمرہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ۶- ہم سے ابوموسیٰ محمد بن مثنی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوولید طیالسی سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «وليس لعرق ظالم حق» کا مطلب پوچھا، انہوں نے کہا: «العرق الظالم» سے مراد وہ غاصب ہے جو دوسروں کی چیز زبردستی لے۔ میں نے کہا: اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوسرے کی زمین میں درخت لگائے؟ انہوں نے کہا: وہی شخص مراد ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، اخبرنا عبد الوهاب الثقفي، اخبرنا ايوب، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن سعيد بن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من احيى ارضا ميتة فهي له وليس لعرق ظالم حق " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد رواه بعضهم عن هشام بن عروة عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم وهو قول احمد واسحاق قالوا له ان يحيي الارض الموات بغير اذن السلطان . وقد قال بعضهم ليس له ان يحييها الا باذن السلطان . والقول الاول اصح . قال وفي الباب عن جابر وعمرو بن عوف المزني جد كثير وسمرة . حدثنا ابو موسى محمد بن المثنى قال سالت ابا الوليد الطيالسي عن قوله " وليس لعرق ظالم حق " . فقال العرق الظالم الغاصب الذي ياخذ ما ليس له . قلت هو الرجل الذي يغرس في ارض غيره قال هو ذاك
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Judgements
- Hadith Index
- #1378
- Book Index
- 59
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiSahih
