Loading...

Loading...
کتب
۶۴ احادیث
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ عثمان رضی الله عنہ نے ابن عمر رضی الله عنہما سے کہا: جاؤ ( قاضی بن کر ) لوگوں کے درمیان فیصلے کرو، انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ مجھے معاف رکھیں گے، عثمان رضی الله عنہ نے کہا: ”تم اسے کیوں برا سمجھتے ہو، تمہارے باپ تو فیصلے کیا کرتے تھے؟“ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو قاضی ہوا اور اس نے عدل انصاف کے ساتھ فیصلے کئے تو لائق ہے کہ وہ اس سے برابر سرابر چھوٹ جائے“ ( یعنی نہ ثواب کا مستحق ہو نہ عقاب کا ) ، اس کے بعد میں ( بھلائی کی ) کیا امید رکھوں، حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے، میرے نزدیک اس کی سند متصل نہیں ہے۔ اور عبدالملک جس سے معتمر نے اسے روایت کیا ہے عبدالملک بن ابی جمیلہ ہیں، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قضاء کا مطالبہ کرتا ہے وہ اپنی ذات کے حوالے کر دیا جاتا ہے ( اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہیں ہوتی ) اور جس کو جبراً قاضی بنایا جاتا ہے، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اسے راہ راست پر رکھتا ہے“۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن عبد الاعلى، عن بلال بن ابي موسى، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سال القضاء وكل الى نفسه ومن اجبر عليه ينزل الله عليه ملكا فيسدده
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قضاء کا طالب ہوتا ہے اور اس کے لیے سفارشی ڈھونڈتا ہے، وہ اپنی ذات کے سپرد کر دیا جاتا ہے، اور جس کو جبراً قاضی بنایا گیا ہے، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کو راہ راست پر رکھتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ اسرائیل کی ( سابقہ ) روایت سے جسے انہوں نے عبدالاعلیٰ سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، اخبرنا يحيى بن حماد، عن ابي عوانة، عن عبد الاعلى الثعلبي، عن بلال بن مرداس الفزاري، عن خيثمة، وهو البصري عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ابتغى القضاء وسال فيه شفعاء وكل الى نفسه ومن اكره عليه انزل الله عليه ملكا يسدده " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب وهو اصح من حديث اسراييل عن عبد الاعلى
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو منصب قضاء پر فائز کیا گیا یا جو لوگوں کا قاضی بنایا گیا، ( گویا ) وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ۲- اور یہ اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابوہریرہ سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا الفضيل بن سليمان، عن عمرو بن ابي عمرو، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من ولي القضاء او جعل قاضيا بين الناس فقد ذبح بغير سكين " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه . وقد روي ايضا من غير هذا الوجه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب حاکم ( قاضی ) خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے ۱؎ اور جب فیصلہ کرے اور غلط ہو جائے تو ( بھی ) اس کے لیے ایک اجر ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمرو بن العاص اور عقبہ بن عامر سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوہریرہ کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے۔ ہم اسے بسند «سفيان الثوري عن يحيى بن سعيد الأنصاري» إلا من حديث «عبدالرزاق عن معمر عن سفيان الثوري» روایت کی ہے۔
حدثنا الحسين بن مهدي البصري، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن سفيان الثوري، عن يحيى بن سعيد، عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا حكم الحاكم فاجتهد فاصاب فله اجران واذا حكم فاخطا فله اجر واحد " . قال وفي الباب عن عمرو بن العاصي وعقبة بن عامر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن غريب من هذا الوجه . لا نعرفه من حديث سفيان الثوري عن يحيى بن سعيد الا من حديث عبد الرزاق عن معمر عن سفيان الثوري
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کے شاگردوں میں سے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ کو ( قاضی بنا کر ) یمن بھیجا، تو آپ نے پوچھا: ”تم کیسے فیصلہ کرو گے؟“، انہوں نے کہا: میں اللہ کی کتاب سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: ”اگر ( اس کا حکم ) اللہ کی کتاب ( قرآن ) میں موجود نہ ہو تو؟“ معاذ نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے فیصلے کروں گا، آپ نے فرمایا: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی ( اس کا حکم ) موجود نہ ہو تو؟“، معاذ نے کہا: ( تب ) میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا۔ آپ نے فرمایا: ”اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو ( صواب کی ) توفیق بخشی“۔
حدثنا هناد، حدثنا وكيع، عن شعبة، عن ابي عون الثقفي، عن الحارث بن عمرو، عن رجال، من اصحاب معاذ عن معاذ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث معاذا الى اليمن فقال " كيف تقضي " . فقال اقضي بما في كتاب الله . قال " فان لم يكن في كتاب الله " . قال فبسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال " فان لم يكن في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم " . قال اجتهد رايي . قال " الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم
اس سند سے بھی معاذ سے اسی طرح کی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کو ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اور اس کی سند میرے نزدیک متصل نہیں ہے، ۳- ابو عون ثقفی کا نام محمد بن عبیداللہ ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، وعبد الرحمن بن مهدي، قالا حدثنا شعبة، عن ابي عون، عن الحارث بن عمرو ابن اخ، للمغيرة بن شعبة عن اناس، من اهل حمص عن معاذ، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه الا من هذا الوجه وليس اسناده عندي بمتصل . وابو عون الثقفي اسمه محمد بن عبيد الله
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور بیٹھنے میں اس کے سب سے قریب عادل حکمراں ہو گا، اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور اس سے سب سے دور بیٹھنے والا ظالم حکمراں ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا علي بن المنذر الكوفي، حدثنا محمد بن فضيل، عن فضيل بن مرزوق، عن عطية، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان احب الناس الى الله يوم القيامة وادناهم منه مجلسا امام عادل وابغض الناس الى الله وابعدهم منه مجلسا امام جاير " . قال وفي الباب عن عبد الله بن ابي اوفى . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه
عبداللہ بن ابی اوفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ قاضی کے ساتھ ہوتا ہے ۱؎ جب تک وہ ظلم نہیں کرتا، اور جب وہ ظلم کرتا ہے تو وہ اسے چھوڑ کر الگ ہو جاتا ہے۔ اور اس سے شیطان چمٹ جاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس کو صرف عمران بن قطان کی روایت سے جانتے ہیں۔
حدثنا عبد القدوس بن محمد ابو بكر العطار، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا عمران القطان، عن ابي اسحاق الشيباني، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله مع القاضي ما لم يجر فاذا جار تخلى عنه ولزمه الشيطان " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب لا نعرفه الا من حديث عمران القطان
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس دو آدمی فیصلہ کے لیے آئیں تو تم پہلے کے حق میں فیصلہ نہ کرو جب تک کہ دوسرے کی بات نہ سن لو ۱؎ عنقریب تم جان لو گے کہ تم کیسے فیصلہ کرو“۔ علی رضی الله عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں برابر فیصلے کرتا رہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا حسين الجعفي، عن زايدة، عن سماك بن حرب، عن حنش، عن علي، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا تقاضى اليك رجلان فلا تقض للاول حتى تسمع كلام الاخر فسوف تدري كيف تقضي " . قال علي فما زلت قاضيا بعد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
عمرو بن مرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے معاویہ رضی الله عنہ سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”جو بھی حاکم حاجت مندوں، محتاجوں اور مسکینوں کے لیے اپنے دروازے بند رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ضرورت، حاجت اور مسکنت کے لیے اپنے دروازے بند رکھتا ہے“، جب معاویہ رضی الله عنہ نے یہ سنا تو لوگوں کی ضرورت کے لیے ایک آدمی مقرر کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمرو بن مرہ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- یہ حدیث دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- عمرو بن مرہ جہنی کی کنیت ابومریم ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثني علي بن الحكم، حدثني ابو الحسن، قال قال عمرو بن مرة لمعاوية اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من امام يغلق بابه دون ذوي الحاجة والخلة والمسكنة الا اغلق الله ابواب السماء دون خلته وحاجته ومسكنته " . فجعل معاوية رجلا على حوايج الناس . قال وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى حديث عمرو بن مرة حديث غريب وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه . وعمرو بن مرة الجهني يكنى ابا مريم
ابومریم رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کی طرح اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ یزید بن ابی مریم شام کے رہنے والے ہیں اور برید بن ابی مریم کوفہ کے رہنے والے ہیں اور ابومریم کا نام عمرو بن مرہ جہنی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، حدثنا يحيى بن حمزة، عن يزيد بن ابي مريم، عن القاسم بن مخيمرة، عن ابي مريم، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا الحديث بمعناه . ويزيد بن ابي مريم شامي وبريد بن ابي مريم كوفي وابو مريم هو عمرو بن مرة الجهني
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کو جو قاضی تھے خط لکھا کہ تم غصہ کی حالت میں فریقین کے بارے میں فیصلے نہ کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”حاکم غصہ کی حالت میں فریقین کے درمیان فیصلے نہ کرے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابوبکرہ کا نام نفیع ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن عبد الملك بن عمير، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، قال كتب ابي الى عبيد الله بن ابي بكرة وهو قاض ان لا، تحكم بين اثنين وانت غضبان . فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يحكم الحاكم بين اثنين وهو غضبان " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو بكرة اسمه نفيع
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( قاضی بنا کر ) یمن بھیجا، جب میں روانہ ہوا تو آپ نے میرے پیچھے ( مجھے بلانے کے لیے ) ایک آدمی کو بھیجا، میں آپ کے پاس واپس آیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ میں نے تمہیں بلانے کے لیے آدمی کیوں بھیجا ہے؟ ( یہ کہنے کے لیے کہ ) تم میری اجازت کے بغیر کوئی چیز نہ لینا، اس لیے کہ وہ خیانت ہے، اور جو شخص خیانت کرے گا قیامت کے دن خیانت کے مال کے ساتھ حاضر ہو گا، یہی بتانے کے لیے میں نے تمہیں بلایا تھا، اب تم اپنے کام پر جاؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معاذ رضی الله عنہ کی حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے اس طریق سے بروایت ابواسامہ جانتے ہیں جسے انہوں نے داود اودی سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں عدی بن عمیرہ، بریدہ، مستور بن شداد، ابوحمید اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو اسامة، عن داود بن يزيد الاودي، عن المغيرة بن شبيل، عن قيس بن ابي حازم، عن معاذ بن جبل، قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم الى اليمن فلما سرت ارسل في اثري فرددت فقال " اتدري لم بعثت اليك لا تصيبن شييا بغير اذني فانه غلول ومن يغلل يات بما غل يوم القيامة لهذا دعوتك فامض لعملك " . قال وفي الباب عن عدي بن عميرة وبريدة والمستورد بن شداد وابي حميد وابن عمر . قال ابو عيسى حديث معاذ حديث حسن غريب لا نعرفه الا من هذا الوجه من حديث ابي اسامة عن داود الاودي
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلے میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے بھی مروی ہے انہوں عبداللہ بن عمرو سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- اور ابوسلمہ سے ان کے باپ کے واسطے سے بھی مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے، ۴- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کو کہتے سنا کہ ابوسلمہ ( ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن ) کی حدیث جسے انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اس باب میں سب سے زیادہ اچھی اور سب سے زیادہ صحیح ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔ ۵- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عائشہ، ابن حدیدہ اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن عمر بن ابي سلمة، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي في الحكم . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وعايشة وابن حديدة وام سلمة . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن . وقد روي هذا الحديث عن ابي سلمة بن عبد الرحمن عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروي عن ابي سلمة عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم ولا يصح . قال وسمعت عبد الله بن عبد الرحمن يقول حديث ابي سلمة عن عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم احسن شيء في هذا الباب واصح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا ابن ابي ذيب، عن خاله الحارث بن عبد الرحمن، عن ابي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے کھر بھی ہدیہ کی جائے تو میں قبول کروں گا اور اگر مجھے اس کی دعوت دی جائے تو میں قبول کروں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، عائشہ، مغیرہ بن شعبہ، سلمان، معاویہ بن حیدہ اور عبدالرحمٰن بن علقمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو بكر، محمد بن عبد الله بن بزيع حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو اهدي الى كراع لقبلت ولو دعيت عليه لاجبت " . قال وفي الباب عن علي وعايشة والمغيرة بن شعبة وسلمان ومعاوية بن حيدة وعبد الرحمن بن علقمة . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ اپنا مقدمہ لے کر میرے پاس آتے ہو میں ایک انسان ہی ہوں، ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنا دعویٰ بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو ۱؎ تو اگر میں کسی کو اس کے مسلمان بھائی کا کوئی حق دلوا دوں تو گویا میں اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں، لہٰذا وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا هارون بن اسحاق الهمداني، حدثنا عبدة بن سليمان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انكم تختصمون الى وانما انا بشر ولعل بعضكم ان يكون الحن بحجته من بعض فان قضيت لاحد منكم بشيء من حق اخيه فانما اقطع له قطعة من النار فلا ياخذ منه شييا " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وعايشة . قال ابو عيسى حديث ام سلمة حديث حسن صحيح
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک حضر موت سے اور ایک کندہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ حضرمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس ( کندی ) نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے، اس پر کندی نے کہا: یہ میری زمین ہے اور میرے قبضہ میں ہے، اس پر اس ( حضرمی ) کا کوئی حق نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: ”تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“، اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”پھر تو تم اس سے قسم ہی لے سکتے ہو“، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ فاجر آدمی ہے اسے اس کی پرواہ نہیں کہ وہ کس بات پر قسم کھا رہا ہے۔ اور نہ وہ کسی چیز سے احتیاط برتتا ہے، آپ نے فرمایا: ”اس سے تم قسم ہی لے سکتے ہو“۔ آدمی قسم کھانے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا فرمایا: اگر اس نے ظلماً تمہارا مال کھانے کے لیے قسم کھائی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے رخ پھیرے ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وائل بن حجر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، اور اشعث بن قیس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك بن حرب، عن علقمة بن وايل بن حجر، عن ابيه، قال جاء رجل من حضرموت ورجل من كندة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال الحضرمي يا رسول الله ان هذا غلبني على ارض لي . فقال الكندي هي ارضي وفي يدي ليس له فيها حق . فقال النبي صلى الله عليه وسلم للحضرمي " الك بينة " . قال لا . قال " فلك يمينه " . قال يا رسول الله ان الرجل فاجر لا يبالي على ما حلف عليه وليس يتورع من شيء . قال " ليس لك منه الا ذلك " . قال فانطلق الرجل ليحلف له فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لما ادبر " لين حلف على مالك لياكله ظلما ليلقين الله وهو عنه معرض " . قال وفي الباب عن عمر وابن عباس وعبد الله بن عمرو والاشعث بن قيس . قال ابو عيسى حديث وايل بن حجر حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: ”گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ کے ذمہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس حدیث کی سند میں کلام ہے۔ محمد بن عبیداللہ عرزمی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔ ابن مبارک وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے۔
حدثنا علي بن حجر، انبانا علي بن مسهر، وغيره، عن محمد بن عبيد الله، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته " البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه " . هذا حديث في اسناده مقال . ومحمد بن عبيد الله العرزمي يضعف في الحديث من قبل حفظه ضعفه ابن المبارك وغيره