Loading...

Loading...
کتب
۶۴ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ قسم مدعی علیہ پر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ پر ہے۔
حدثنا محمد بن سهل بن عسكر البغدادي، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا نافع بن عمر الجمحي، عن عبد الله بن ابي مليكة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى ان اليمين على المدعى عليه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے ( مدعی کے حق میں ) فیصلہ دیا۔ ربیعہ کہتے ہیں: مجھے سعد بن عبادہ کے بیٹے نے خبر دی کہ ہم نے سعد رضی الله عنہ کی کتاب میں لکھا پایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے ( مدعی کے حق میں ) فیصلہ دیا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، جابر، ابن عباس اور سرق رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے ( مدعی کے حق میں ) فیصلہ کیا“ حسن غریب ہے۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، قال حدثني ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم باليمين مع الشاهد الواحد . قال ربيعة واخبرني ابن لسعد بن عبادة قال وجدنا في كتاب سعد ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى باليمين مع الشاهد . قال وفي الباب عن علي وجابر وابن عباس وسرق . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى باليمين مع الشاهد الواحد حديث حسن غريب
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور مدی کی قسم سے ( مدعی کے حق میں ) فیصلہ دیا۔
حدثنا محمد بن بشار، ومحمد بن ابان، قالا حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن جعفر بن محمد، عن ابيه، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى باليمين مع الشاهد
ابو جعفر صادق سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے ( مدعی کے حق میں ) فیصلہ کیا، راوی کہتے ہیں: اور علی نے بھی اسی سے تمہارے درمیان فیصلہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، ۲- اسی طرح سفیان ثوری نے بھی بطریق: «عن جعفر بن محمد عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور عبدالعزیز بن ابوسلمہ اور یحییٰ بن سلیم نے اس حدیث کو بطریق: «عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم» ( مرفوعاً ) روایت کیا ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں کی رائے ہے کہ حقوق اور اموال کے سلسلے میں ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم کھلانا جائز ہے۔ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے صرف حقوق اور اموال کے سلسلے ہی میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ۴- اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے فیصلہ کرنے کو جائز نہیں سمجھتے ۱؎۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، حدثنا جعفر بن محمد، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى باليمين مع الشاهد الواحد . قال وقضى بها علي فيكم . قال ابو عيسى وهذا اصح وهكذا روى سفيان الثوري عن جعفر بن محمد عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا . وروى عبد العزيز بن ابي سلمة ويحيى بن سليم هذا الحديث عن جعفر بن محمد عن ابيه عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم راوا ان اليمين مع الشاهد الواحد جايز في الحقوق والاموال . وهو قول مالك بن انس والشافعي واحمد واسحاق وقالوا لا يقضى باليمين مع الشاهد الواحد الا في الحقوق والاموال . ولم ير بعض اهل العلم من اهل الكوفة وغيرهم ان يقضى باليمين مع الشاهد الواحد
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا“، اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی واجبی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو وہ اس مال سے باقی شریکوں کا حصہ ادا کرے گا اور غلام ( پورا ) آزاد ہو جائے گا ورنہ جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی آزاد ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے سالم بن عبداللہ نے بھی بطریق: «عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق نصيبا - او قال شقصا او قال شركا له في عبد فكان له من المال ما يبلغ ثمنه بقيمة العدل فهو عتيق والا فقد عتق منه ما عتق " . قال ايوب وربما قال نافع في هذا الحديث يعني فقد عتق منه ما عتق . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح وقد رواه سالم عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی قیمت کو پہنچ رہا ہو ( تو وہ باقی شریکوں کا حصہ بھی ادا کرے گا ) اور وہ اس کے مال سے آزاد ہو جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا بذلك الحسن بن علي الخلال الحلواني، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق نصيبا له في عبد فكان له من المال ما يبلغ ثمنه فهو عتيق من ماله " . قال ابو عيسى هذا حديث صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو باقی حصے کی آزادی بھی اسی کے مال سے ہو گی اگر اس کے پاس مال ہے، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی، پھر غلام کو پریشانی میں ڈالے بغیر اسے موقع دیا جائے گا کہ وہ کمائی کر کے اس شخص کا حصہ ادا کر دے جس نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا ہے“۔ محمد بن بشار سے بھی ایسے ہی روایت ہے اور اس میں «شقصاً» کے بجائے «شقیصا» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسی طرح ابان بن یزید نے قتادہ سے سعید بن ابی عروبہ کی حدیث کے مثل روایت کی ہے، ۳- اور شعبہ نے بھی اس حدیث کو قتادہ سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے اس سے آزادی کے لیے کمائی کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- سعایہ ( کمائی کرانے ) کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم نے اس بارے میں سعایہ کو جائز کہا ہے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے، اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۵- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۶- اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ جب غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے ساجھی دار کے حصے کا تاوان ادا کرے گا اور غلام اسی کے مال سے آزاد ہو جائے گا، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو غلام کو جتنا آزاد کیا گیا ہے اتنا آزاد ہو گا، اور باقی حصہ کی آزادی کے لیے اس سے کمائی نہیں کرائی جائے گی۔ اور ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی رو سے یہ بات کہی ہے، اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے۔ اور مالک بن انس، شافعی اور احمد بھی اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا عيسى بن يونس، عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اعتق نصيبا - او قال شقصا في مملوك فخلاصه في ماله ان كان له مال فان لم يكن له مال قوم قيمة عدل ثم يستسعى في نصيب الذي لم يعتق غير مشقوق عليه " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو . حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد بن ابي عروبة، نحوه وقال " شقيصا " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . وهكذا روى ابان بن يزيد، عن قتادة، مثل رواية سعيد بن ابي عروبة . وروى شعبة، هذا الحديث عن قتادة، ولم يذكر فيه امر السعاية . واختلف اهل العلم في السعاية فراى بعض اهل العلم السعاية في هذا . وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة وبه يقول اسحاق . وقد قال بعض اهل العلم اذا كان العبد بين الرجلين فاعتق احدهما نصيبه فان كان له مال غرم نصيب صاحبه وعتق العبد من ماله وان لم يكن له مال عتق من العبد ما عتق ولا يستسعى . وقالوا بما روي عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم . وهذا قول اهل المدينة وبه يقول مالك بن انس والشافعي واحمد
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ ۱؎ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے“، یا فرمایا: ”عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کی میراث ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں زید بن ثابت، جابر، ابوہریرہ، عائشہ، عبداللہ بن زبیر اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " العمرى جايزة لاهلها او ميراث لاهلها " . قال وفي الباب عن زيد بن ثابت وجابر وابي هريرة وعايشة وابن الزبير ومعاوية
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کو عمریٰ دیا گیا وہ اس کا ہے اور اس کے گھر والوں یعنی ورثاء کا ہے کیونکہ وہ اسی کا ہو جاتا ہے جس کو دیا جاتا ہے، عمری دینے والے کی طرف نہیں لوٹتا ہے اس لیے کہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں میراث ثابت ہو گئی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسی طرح معمر اور دیگر کئی لوگوں نے زہری سے مالک کی روایت ہی کی طرح روایت کی ہے اور بعض نے زہری سے روایت کی ہے، مگر اس نے اس میں «ولعقبه» کا ذکر نہیں کیا ہے، ۳- اور یہ حدیث اس کے علاوہ اور بھی سندوں سے جابر سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ جس کو دیا جاتا ہے اس کے گھر والوں کا ہو جاتا ہے“ اور اس میں «لعقبه» کا ذکر نہیں ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب دینے والا یہ کہے کہ یہ تیری عمر تک تیرا ہے اور تیرے بعد تیری اولاد کا ہے تو یہ اسی کا ہو گا جس کو دیا گیا ہے۔ اور دینے والے کے پاس لوٹ کر نہیں جائے گا اور جب وہ یہ نہ کہے کہ ( تیری اولاد ) کا بھی ہے تو جسے دیا گیا ہے اس کے مرنے کے بعد دینے والے کا ہو جائے گا۔ مالک بن انس اور شافعی کا یہی قول ہے ۱؎، ۵- اور دیگر کئی سندوں سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ جسے دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہو جائے گا“، ۶- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں: جس کو گھر دیا گیا ہے اس کے مرنے کے بعد وہ گھر اس کے وارثوں کا ہو جائے گا اگرچہ اس کے وارثوں کو نہ دیا گیا ہو۔ سفیان ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ۲؎۔
حدثنا الانصاري، حدثنا معن، حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ايما رجل اعمر عمرى له ولعقبه فانها للذي يعطاها لا ترجع الى الذي اعطاها لانه اعطى عطاء وقعت فيه المواريث " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وهكذا روى معمر وغير واحد عن الزهري مثل رواية مالك . وروى بعضهم عن الزهري ولم يذكر فيه " ولعقبه " . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم قالوا اذا قال هي لك حياتك ولعقبك . فانها لمن اعمرها لا ترجع الى الاول . واذا لم يقل لعقبك فهي راجعة الى الاول اذا مات المعمر . وهو قول مالك بن انس والشافعي . وروي من غير وجه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العمرى جايزة لاهلها " . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم قالوا اذا مات المعمر فهي لورثته وان لم تجعل لعقبه . وهو قول سفيان الثوري واحمد واسحاق
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہے اور رقبیٰ ۱؎ بھی جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور بعض نے اسی سند سے ابوزبیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اسے جابر سے موقوفاً نقل کیا ہے، اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع نہیں کیا ہے، ۳- رقبیٰ کی تفسیر یہ ہے کہ کوئی آدمی کہے کہ یہ چیز جب تک تم زندہ رہو گے تمہاری ہے اور اگر تم مجھ سے پہلے مر گئے تو یہ پھر میری طرف لوٹ آئے گی، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عمریٰ کی طرح رقبیٰ بھی جسے دیا گیا ہے اس کے گھر والوں ہی کا ہو گا۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے عمریٰ اور رقبیٰ کے درمیان فرق کیا ہے، ان لوگوں نے عمریٰ کو تو معمر ( جس کے نام چیز دی گئی تھی ) کی موت کے بعد اس کے ورثاء کا حق بتایا ہے اور رقبیٰ کو کہا ہے کہ ورثاء کا حق نہیں ہو گا بلکہ وہ دینے والی کی طرف لوٹ جائے گا۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا هشيم، عن داود بن ابي هند، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العمرى جايزة لاهلها والرقبى جايزة لاهلها " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد رواه بعضهم عن ابي الزبير بهذا الاسناد عن جابر موقوفا ولم يرفعه . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان الرقبى جايزة مثل العمرى . وهو قول احمد واسحاق . وفرق بعض اهل العلم من اهل الكوفة وغيرهم بين العمرى والرقبى فاجازوا العمرى ولم يجيزوا الرقبى . قال ابو عيسى وتفسير الرقبى ان يقول هذا الشىء لك ما عشت فان مت قبلي فهي راجعة الى . وقال احمد واسحاق الرقبى مثل العمرى وهي لمن اعطيها ولا ترجع الى الاول
عمرو بن عوف مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صلح مسلمان کے درمیان نافذ ہو گی سوائے ایسی صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال۔ اور مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں۔ سوائے ایسی شرط کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الصلح جايز بين المسلمين الا صلحا حرم حلالا او احل حراما والمسلمون على شروطهم الا شرطا حرم حلالا او احل حراما " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اس سے اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے“۔ ابوہریرہ رضی الله عنہ نے جب یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے تو انہوں نے کہا: کیا بات ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ اس سے اعراض کر رہے ہو؟ اللہ کی قسم میں اسے تمہارے شانوں پر مار کر ہی رہوں گا یعنی تم سے اسے بیان کر کے ہی رہوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس اور مجمع بن جاریہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ شافعی بھی اسی کے قائل ہیں، ۴- بعض اہل علم سے مروی ہے: جن میں مالک بن انس بھی شامل ہیں کہ اس کے لیے درست ہے کہ اپنے پڑوسی کو دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کر دے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال سمعته يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا استاذن احدكم جاره ان يغرز خشبة في جداره فلا يمنعه " . فلما حدث ابو هريرة طاطيوا رءوسهم فقال ما لي اراكم عنها معرضين والله لارمين بها بين اكتافكم . قال وفي الباب عن ابن عباس ومجمع بن جارية . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وبه يقول الشافعي . وروي عن بعض اهل العلم منهم مالك بن انس قالوا له ان يمنع جاره ان يضع خشبه في جداره . والقول الاول اصح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اسی چیز پر واقع ہو گی جس پر تمہارا ساتھی ( فریق مخالف ) قسم لے رہا ہے“ ( توریہ کا اعتبار نہیں ہو گا ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے ہشیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے عبداللہ بن ابی صالح سے روایت کی ہے۔ اور عبداللہ بن ابی صالح، سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۴- ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ جب قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت کا اعتبار ہو گا، اور جب قسم لینے والا مظلوم ہو تو قسم لینے والے کی نیت کا اعتبار ہو گا۔
حدثنا قتيبة، واحمد بن منيع، - المعنى واحد - قالا حدثنا هشيم، عن عبد الله بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اليمين على ما يصدقك به صاحبك " . وقال قتيبة " على ما صدقك عليه صاحبك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث هشيم عن عبد الله بن ابي صالح . وعبد الله بن ابي صالح هو اخو سهيل بن ابي صالح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وبه يقول احمد واسحاق . وروي عن ابراهيم النخعي انه قال اذا كان المستحلف ظالما فالنية نية الحالف واذا كان المستحلف مظلوما فالنية نية الذي استحلف
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راستہ سات ہاتھ ( چوڑا ) رکھو“۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن المثنى بن سعيد الضبعي، عن قتادة، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اجعلوا الطريق سبعة اذرع
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب راستے کے سلسلے میں تم میں اختلاف ہو تو اسے سات ہاتھ ( چوڑا ) رکھو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ ( سابقہ ) وکیع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۲- بشیر بن کعب کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، اور بعض نے اسے قتادہ سے اور قتادہ نے بشیر بن نہیک سے اور بشیر نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے اور یہ غیر محفوظ ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا المثنى بن سعيد، عن قتادة، عن بشير بن كعب العدوي، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا تشاجرتم في الطريق فاجعلوه سبعة اذرع " . قال ابو عيسى وهذا اصح من حديث وكيع . قال وفي الباب عن ابن عباس . قال ابو عيسى حديث بشير بن كعب العدوي عن ابي هريرة حديث حسن صحيح . وروى بعضهم هذا عن قتادة عن بشير بن نهيك عن ابي هريرة . وهو غير محفوظ
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو اختیار دیا کہ چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے اپنی ماں کے ساتھ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبدالحمید بن جعفر کے دادا رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ماں باپ کے درمیان بچے کے سلسلے میں اختلاف ہو جائے تو بچے کو اختیار دیا جائے گا چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے وہ اپنی ماں کے ساتھ رہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بچہ کم سن ہو تو اس کی ماں زیادہ مستحق ہے۔ اور جب وہ سات سال کا ہو جائے تو اس کو اختیار دیا جائے، چاہے تو باپ کے ساتھ رہے یا چاہے تو ماں کے ساتھ رہے۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا سفيان، عن زياد بن سعد، عن هلال بن ابي ميمونة الثعلبي، عن ابي ميمونة، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خير غلاما بين ابيه وامه . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وجد عبد الحميد بن جعفر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وابو ميمونة اسمه سليم . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم قالوا يخير الغلام بين ابويه اذا وقعت بينهما المنازعة في الولد . وهو قول احمد واسحاق وقالا ما كان الولد صغيرا فالام احق فاذا بلغ الغلام سبع سنين خير بين ابويه . هلال بن ابي ميمونة هو هلال بن علي بن اسامة وهو مدني وقد روى عنه يحيى بن ابي كثير ومالك بن انس وفليح بن سليمان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے پاکیزہ چیز جس کو تم کھاتے ہو تمہاری اپنی کمائی ہے اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے عمارہ بن عمیر سے اور عمارہ نے اپنی ماں سے اور ان کی ماں نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے، لیکن اکثر راویوں نے «عن أمّه» کے بجائے «عن عمته» کہا ہے یعنی عمارہ بن عمیر نے اپنی پھوپھی سے اور انہوں نے عائشہ رضی الله عنہا سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں جابر اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ باپ کو بیٹے کے مال میں کلی اختیار ہے وہ جتنا چاہے لے سکتا ہے، ۵- اور بعض کہتے ہیں کہ باپ اپنے بیٹے کے مال سے بوقت ضرورت ہی لے سکتا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا يحيى بن زكريا بن ابي زايدة، حدثنا الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن عمته، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اطيب ما اكلتم من كسبكم وان اولادكم من كسبكم " . قال وفي الباب عن جابر وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . وقد روى بعضهم هذا عن عمارة بن عمير عن امه عن عايشة . واكثرهم قالوا عن عمته عن عايشة . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم قالوا ان يد الوالد مبسوطة في مال ولده ياخذ ما شاء . وقال بعضهم لا ياخذ من ماله الا عند الحاجة اليه
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیوی نے آپ کے پاس پیالے میں کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی، عائشہ رضی الله عنہا نے ( غصے میں ) اپنے ہاتھ سے پیالے کو مار کر اس کے اندر کی چیز گرا دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھانے کے بدلے کھانا اور پیالے کے بدلے پیالہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود الحفري، عن سفيان الثوري، عن حميد، عن انس، قال اهدت بعض ازواج النبي صلى الله عليه وسلم الى النبي صلى الله عليه وسلم طعاما في قصعة فضربت عايشة القصعة بيدها فالقت ما فيها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " طعام بطعام واناء باناء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ منگنی لیا وہ ٹوٹ گیا، تو آپ نے جن سے پیالہ لیا تھا انہیں اس کا تاوان ادا کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث محفوظ نہیں ہے، ۲- سوید نے مجھ سے وہی حدیث بیان کرنی چاہی تھی جسے ثوری نے روایت کی ہے ۱؎، ۳- ثوری کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا سويد بن عبد العزيز، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم استعار قصعة فضاعت فضمنها لهم . قال ابو عيسى وهذا حديث غير محفوظ . وانما اراد عندي سويد الحديث الذي رواه الثوري وحديث الثوري اصح . اسم ابي داود عمر بن سعد
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک لشکر میں پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی تو آپ نے مجھے ( لشکر میں ) قبول نہیں کیا، پھر آئندہ سال مجھے آپ کے سامنے ایک اور لشکر میں پیش کیا گیا اور اس وقت میری عمر پندرہ سال کی تھی تو آپ نے مجھے ( لشکر میں ) قبول کر لیا۔ نافع کہتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز سے اس حدیث کو بیان کیا تو انہوں نے کہا: بالغ اور نابالغ کے درمیان یہی حد ہے۔ انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ جو پندرہ سال کے ہو جائیں ( مال غنیمت سے ) ان کو حصہ دیا جائے۔ دوسری سند سے عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے اور اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ ( عمر بن عبدالعزیز نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ نابالغ اور بالغ کی یہی حد ہے ) البتہ سفیان بن عیینہ نے اپنی حدیث میں یہ بیان کیا ہے کہ نافع کہتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کو عمر بن عبدالعزیز سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: بچہ اور مقاتل ( جو جنگ میں شرکت کا اہل ہو ) کے درمیان یہی حد ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب بچہ پندرہ سال مکمل کر لے تو اس کا حکم وہی ہو گا جو مردوں کا ہوتا ہے اور اگر پندرہ سال سے پہلے ہی اس کو احتلام آنے لگے تو بھی اس کا حکم مردوں جیسا ہو گا۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: بلوغت کی تین علامتیں ہیں: بچہ پندرہ سال کا ہو جائے، یا اس کو احتلام آنے لگے، اور اگر عمر اور احتلام نہ معلوم ہو سکے تو جب اس کے ناف کے نیچے کے بال اگ آئیں تو وہ بالغ ہے۔
حدثنا محمد بن وزير الواسطي، حدثنا اسحاق بن يوسف الازرق، عن سفيان، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، قال عرضت على رسول الله صلى الله عليه وسلم في جيش وانا ابن اربع عشرة فلم يقبلني فعرضت عليه من قابل في جيش وانا ابن خمس عشرة فقبلني . قال نافع وحدثت بهذا الحديث عمر بن عبد العزيز فقال هذا حد ما بين الصغير والكبير . ثم كتب ان يفرض لمن يبلغ الخمس عشرة . حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا ولم يذكر فيه ان عمر بن عبد العزيز كتب ان هذا حد ما بين الصغير والكبير . وذكر ابن عيينة في حديثه . قال نافع فحدثنا به عمر بن عبد العزيز فقال هذا حد ما بين الذرية والمقاتلة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم وبه يقول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق يرون ان الغلام اذا استكمل خمس عشرة سنة فحكمه حكم الرجال وان احتلم قبل خمس عشرة فحكمه حكم الرجال . وقال احمد واسحاق البلوغ ثلاثة منازل بلوغ خمس عشرة او الاحتلام فان لم يعرف سنه ولا احتلامه فالانبات يعني العانة