Loading...

Loading...
کتب
۶۴ احادیث
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بھی مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا فصل بوتا ہے اور اس میں سے انسان یا پرند یا چرند کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوایوب، جابر، ام مبشر اور زید بن خالد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من مسلم يغرس غرسا او يزرع زرعا فياكل منه انسان او طير او بهيمة الا كانت له صدقة " . قال وفي الباب عن ابي ايوب وجابر وام مبشر وزيد بن خالد . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کے ساتھ خیبر کی زمین سے جو بھی پھل یا غلہ حاصل ہو گا اس کے آدھے پر معاملہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، ابن عباس، زید بن ثابت اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ آدھے، تہائی یا چوتھائی کی شرط پر مزارعت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے، ۴- اور بعض اہل علم نے یہ اختیار کیا ہے کہ بیج زمین والا دے گا، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ۵- بعض اہل علم نے تہائی یا چوتھائی کی شرط پر مزارعت کو مکروہ سمجھا ہے، لیکن وہ تہائی یا چوتھائی کی شرط پر کھجور کے درختوں کی سینچائی کرانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ مالک بن انس اور شافعی کا یہی قول ہے، ۶- بعض لوگ مطلقًا مزارعت کو درست نہیں سمجھتے البتہ سونے یا چاندی ( نقدی ) کے عوض کرایہ پر زمین لینے کو درست سمجھتے ہیں۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم عامل اهل خيبر بشطر ما يخرج منها من ثمر او زرع . قال وفي الباب عن انس وابن عباس وزيد بن ثابت وجابر . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم لم يروا بالمزارعة باسا على النصف والثلث والربع . واختار بعضهم ان يكون البذر من رب الارض . وهو قول احمد واسحاق . وكره بعض اهل العلم المزارعة بالثلث والربع ولم يروا بمساقاة النخيل بالثلث والربع باسا . وهو قول مالك بن انس والشافعي . ولم ير بعضهم ان يصح شيء من المزارعة الا ان يستاجر الارض بالذهب والفضة
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرما دیا جو ہمارے لیے مفید تھا، وہ یہ کہ جب ہم میں سے کسی کے پاس زمین ہوتی تو وہ اس کو ( زراعت کے لیے ) کچھ پیداوار یا روپیوں کے عوض دے دیتا۔ آپ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے پاس زمین ہو تو وہ اپنے بھائی کو ( مفت ) دیدے۔ یا خود زراعت کرے ۱؎“۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي حصين، عن مجاهد، عن رافع بن خديج، قال نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن امر كان لنا نافعا اذا كانت لاحدنا ارض ان يعطيها ببعض خراجها او بدراهم وقال " اذا كانت لاحدكم ارض فليمنحها اخاه او ليزرعها
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت کو حرام نہیں کیا، لیکن آپ نے ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کرنے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- رافع کی حدیث میں ( جو اوپر مذکور ہوئی ) اضطراب ہے۔ کبھی یہ حدیث بواسطہ رافع بن خدیج ان کے چچاؤں سے روایت کی جاتی ہے اور کبھی بواسطہ رافع بن خدیج ظہیر بن رافع سے روایت کی جاتی ہے، یہ بھی ان کے ایک چچا ہیں، ۳- اور ان سے یہ حدیث مختلف طریقے پر روایت کی گئی ہے، ۴- اس باب میں زید بن ثابت اور جابر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، اخبرنا الفضل بن موسى الشيباني، اخبرنا شريك، عن شعبة، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يحرم المزارعة ولكن امر ان يرفق بعضهم ببعض . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وحديث رافع فيه اضطراب يروى هذا الحديث عن رافع بن خديج عن عمومته ويروى عنه عن ظهير بن رافع وهو احد عمومته وقد روي هذا الحديث عنه على روايات مختلفة . وفي الباب عن زيد بن ثابت وجابر رضى الله عنهما