Loading...

Loading...
کتب
۱۱۷ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ فائدے کا استحقاق ضامن ہونے کی بنیاد پر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ اور بھی سندوں سے مروی ہے، ۳ – اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عثمان بن عمر، وابو عامر العقدي عن ابن ابي ذيب، عن مخلد بن خفاف، عن عروة، عن عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى ان الخراج بالضمان . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي هذا الحديث من غير هذا الوجه . والعمل على هذا عند اهل العلم
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ فائدہ کا استحقاق ضامن ہونے کی بنیاد پر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ہشام بن عروہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل نے اس حدیث کو عمر بن علی کی روایت سے غریب جانا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا آپ کی نظر میں اس میں تدلیس ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، ۳- مسلم بن خالد زنجی نے اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے۔ ۴- جریر نے بھی اسے ہشام سے روایت کیا ہے، ۵- اور کہا جاتا ہے کہ جریر کی حدیث میں تدلیس ہے، اس میں جریر نے تدلیس کی ہے، انہوں نے اسے ہشام بن عروہ سے نہیں سنا ہے، ۶- «الخراج بالضمان» کی تفسیر یہ ہے کہ آدمی غلام خریدے اور اس سے مزدوری کرائے پھر اس میں کوئی عیب دیکھے اور اس کو بیچنے والے کے پاس لوٹا دے، تو غلام کی جو مزدوری اور فائدہ ہے وہ خریدنے والے کا ہو گا۔ اس لیے کہ اگر غلام ہلاک ہو جاتا تو مشتری ( خریدار ) کا مال ہلاک ہوتا۔ یہ اور اس طرح کے مسائل میں فائدہ کا استحقاق ضامن ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف اخبرنا عمر بن علي المقدمي، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى ان الخراج بالضمان . قال هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث هشام بن عروة . قال ابو عيسى استغرب محمد بن اسماعيل هذا الحديث من حديث عمر بن علي . قلت تراه تدليسا قال لا . قال ابو عيسى وقد روى مسلم بن خالد الزنجي هذا الحديث عن هشام بن عروة ورواه جرير عن هشام ايضا . وحديث جرير يقال تدليس دلس فيه جرير . لم يسمعه من هشام بن عروة . وتفسير الخراج بالضمان هو الرجل يشتري العبد فيستغله ثم يجد به عيبا فيرده على البايع فالغلة للمشتري لان العبد لو هلك هلك من مال المشتري . ونحو هذا من المسايل يكون فيه الخراج بالضمان . قال ابو عيسى استغرب محمد بن اسمعيل هذا الحديث من حديث عمر بن علي قلت تراه تدليسا قال لا
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی باغ میں داخل ہو تو ( پھل ) کھائے، کپڑوں میں باندھ کر نہ لے جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث غریب ہے۔ ہم اسے اس طریق سے صرف یحییٰ بن سلیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عباد بن شرحبیل، رافع بن عمرو، عمیر مولی آبی اللحم اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم نے راہ گیر کے لیے پھل کھانے کی رخصت دی ہے۔ اور بعض نے اسے ناجائز کہا ہے، الا یہ کہ قیمت ادا کر کے ہو۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا يحيى بن سليم، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من دخل حايطا فلياكل ولا يتخذ خبنة " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وعباد بن شرحبيل ورافع بن عمرو وعمير مولى ابي اللحم وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث غريب لا نعرفه من هذا الوجه الا من حديث يحيى بن سليم . وقد رخص فيه بعض اهل العلم لابن السبيل في اكل الثمار وكرهه بعضهم الا بالثمن
رافع بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھر مارتا تھا، ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے آپ نے پوچھا: ”رافع! تم ان کے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھوک کی وجہ سے، آپ نے فرمایا: ”پتھر مت مارو، جو خودبخود گر جائے اسے کھاؤ اللہ تمہیں آسودہ اور سیراب کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث الخزاعي، حدثنا الفضل بن موسى، عن صالح بن ابي جبير، عن ابيه، عن رافع بن عمرو، قال كنت ارمي نخل الانصار فاخذوني فذهبوا بي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " يا رافع لم ترمي نخلهم " . قال قلت يا رسول الله الجوع . قال " لا ترم وكل ما وقع اشبعك الله وارواك " . هذا حديث حسن صحيح غريب
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لٹکے ہوئے پھل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”جو ضرورت مند اس میں سے ( ضرورت کے مطابق ) لے لے اور کپڑے میں جمع کرنے والا نہ ہو تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عن الثمر المعلق فقال " من اصاب منه من ذي حاجة غير متخذ خبنة فلا شىء عليه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ، مزابنہ ۱؎ مخابرہ ۲؎ اور بیع میں کچھ چیزوں کو مستثنیٰ کرنے سے منع فرمایا ۳؎ الا یہ کہ استثناء کی ہوئی چیز معلوم ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس طریق سے بروایت یونس بن عبید جسے یونس نے عطاء سے اور عطاء نے جابر سے روایت کی ہے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا زياد بن ايوب البغدادي، اخبرنا عباد بن العوام، قال اخبرني سفيان بن حسين، عن يونس بن عبيد، عن عطاء، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن المحاقلة والمزابنة والمخابرة والثنيا الا ان تعلم . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه من حديث يونس بن عبيد عن عطاء عن جابر
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غلہ خریدے تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اس پر قبضہ نہ کر لے“ ۱؎، ابن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: میں ہر چیز کو غلے ہی کے مثل سمجھتا ہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے غلہ کی بیع کو ناجائز کہا ہے۔ جب تک مشتری اس پر قبضہ نہ کر لے، ۴- اور بعض اہل علم نے قبضہ سے پہلے اس شخص کو بیچنے کی رخصت دی ہے جو کوئی ایسی چیز خریدے جو ناپی اور تولی نہ جاتی ہو اور نہ کھائی اور پی جاتی ہو، ۵- اہل علم کے نزدیک سختی غلے کے سلسلے میں ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن طاوس، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه " . قال ابن عباس واحسب كل شيء مثله . قال وفي الباب عن جابر وابن عمر وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم كرهوا بيع الطعام حتى يقبضه المشتري . وقد رخص بعض اهل العلم فيمن ابتاع شييا مما لا يكال ولا يوزن مما لا يوكل ولا يشرب ان يبيعه قبل ان يستوفيه . وانما التشديد عند اهل العلم في الطعام وهو قول احمد واسحاق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے ۱؎ اور نہ کوئی کسی کے شادی کے پیغام پر پیغام دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور سمرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا آدمی اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ کرے۔ ۴- اور بعض اہل علم کے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اس حدیث میں بیع سے مراد بھاؤ تاؤ اور مول تول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يبيع بعضكم على بيع بعض ولا يخطب بعضكم على خطبة بعض " . قال وفي الباب عن ابي هريرة وسمرة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لا يسوم الرجل على سوم اخيه " . ومعنى البيع في هذا الحديث عن النبي صلى الله عليه وسلم عند بعض اهل العلم هو السوم
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے ان یتیموں کے لیے شراب خریدی تھی جو میری پرورش میں ہیں۔ ( اس کا کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: ”شراب بہا دو اور مٹکے توڑ دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوطلحہ رضی الله عنہ کی اس حدیث کو ثوری نے بطریق: «السدي، عن يحيى بن عباد، عن أنس» روایت کیا ہے کہ ابوطلحہ آپ کے پاس تھے ۱؎، اور یہ لیث کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، عائشہ، ابوسعید، ابن مسعود، ابن عمر، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا المعتمر بن سليمان، قال سمعت ليثا، يحدث عن يحيى بن عباد، عن انس، عن ابي طلحة، انه قال يا نبي الله اني اشتريت خمرا لايتام في حجري . قال " اهرق الخمر واكسر الدنان " . قال وفي الباب عن جابر وعايشة وابي سعيد وابن مسعود وابن عمر وانس . قال ابو عيسى حديث ابي طلحة روى الثوري هذا الحديث عن السدي عن يحيى بن عباد عن انس ان ابا طلحة كان عنده . وهذا اصح من حديث الليث
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا شراب کا سرکہ بنایا جا سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، عن السدي، عن يحيى بن عباد، عن انس بن مالك، قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم ايتخذ الخمر خلا قال " لا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کی وجہ سے ”دس آدمیوں پر لعنت بھیجی: اس کے نچوڑوانے والے پر، اس کے پینے والے پر، اس کے لے جانے والے پر، اس کے منگوانے والے پر، اور جس کے لیے لے جائی جائے اس پر، اس کے پلانے والے پر، اور اس کے بیچنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کو خریدنے والے پر اور جس کے لیے خریدی گئی ہو اس پر“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث انس رضی الله عنہ کی روایت سے غریب ہے، ۲- اور اسی حدیث کی طرح ابن عباس، ابن مسعود اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی مروی ہے جسے یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن منير، قال سمعت ابا عاصم، عن شبيب بن بشر، عن انس بن مالك، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة عاصرها ومعتصرها وشاربها وحاملها والمحمولة اليه وساقيها وبايعها واكل ثمنها والمشتري لها والمشتراة له . قال ابو عيسى هذا حديث غريب من حديث انس . وقد روي نحو هذا عن ابن عباس وابن مسعود وابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی ریوڑ کے پاس ( دودھ پینے ) آئے تو اگر ان میں ان کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ پی لے۔ اگر ان میں کوئی نہ ہو تو تین بار آواز لگائے، اگر کوئی جواب دے تو اس سے اجازت لے لے، اور اگر کوئی جواب نہ دے تو دودھ پی لے لیکن ساتھ نہ لے جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں عمر اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ۴- علی بن مدینی کہتے ہیں کہ سمرہ سے حسن کا سماع ثابت ہے، ۵- بعض محدثین نے حسن کی روایت میں جسے انہوں نے سمرہ سے روایت کی ہے کلام کیا ہے، وہ لوگ کہتے ہیں کہ حسن سمرہ کے صحیفہ سے حدیث روایت کرتے تھے ۲؎۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة بن جندب، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اتى احدكم على ماشية فان كان فيها صاحبها فليستاذنه فان اذن له فليحتلب وليشرب ولا يحمل وان لم يكن فيها احد فليصوت ثلاثا فان اجابه احد فليستاذنه فان لم يجبه احد فليحتلب وليشرب ولا يحمل " . قال وفي الباب عن عمر وابي سعيد . قال ابو عيسى حديث سمرة حديث حسن غريب . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وبه يقول احمد واسحاق . قال ابو عيسى وقال علي بن المديني سماع الحسن من سمرة صحيح . وقد تكلم بعض اهل الحديث في رواية الحسن عن سمرة وقالوا انما يحدث عن صحيفة سمرة
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیا ہے“، عرض کیا گیا، اللہ کے رسول! مجھے مردار کی چربی کے بارے میں بتائیے، اسے کشتیوں پہ ملا جاتا ہے، چمڑوں پہ لگایا جاتا ہے، اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، یہ جائز نہیں، یہ حرام ہے“، پھر آپ نے اسی وقت فرمایا: ”یہود پر اللہ کی مار ہو، اللہ نے ان کے لیے چربی حرام قرار دے دی، تو انہوں نے اس کو پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح وهو بمكة يقول " ان الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير والاصنام " . فقيل يا رسول الله ارايت شحوم الميتة فانه يطلى بها السفن ويدهن بها الجلود ويستصبح بها الناس قال " لا هو حرام " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك " قاتل الله اليهود ان الله حرم عليهم الشحوم فاجملوه ثم باعوه فاكلوا ثمنه " . قال وفي الباب عن عمر وابن عباس . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بری مثال ہمارے لیے مناسب نہیں، ہدیہ دے کر واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹتا ہے“ ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة الضبي، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ليس لنا مثل السوء العايد في هبته كالكلب يعود في قييه " . قال وفي الباب عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " لا يحل لاحد ان يعطي عطية فيرجع فيها الا الوالد فيما يعطي ولده
عبداللہ بن عمر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی عطیہ دے کر اسے واپس لے سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو کسی ذی محرم کو کوئی چیز بطور ہبہ دے تو پھر اسے واپس لینے کا اختیار نہیں، اور جو کسی غیر ذی محرم کو کوئی چیز بطور ہبہ دے تو اس کے لیے اسے واپس لینا جائز ہے جب اسے اس کا بدلہ نہ دیا گیا ہو، یہی ثوری کا قول ہے، ۳- اور شافعی کہتے ہیں: کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو کوئی عطیہ دے پھر اسے واپس لے، سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے، شافعی نے عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کی حدیث سے استدلال کیا ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کسی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی عطیہ دے کر اسے واپس لے سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے“۔
حدثنا بذلك محمد بن بشار حدثنا ابن ابي عدي عن حسين المعلم عن عمرو بن شعيب انه سمع طاوسا يحدث عن ابن عمر وابن عباس يرفعان الحديث الى النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث . قال ابو عيسى حديث ابن عباس رضى الله عنهما حديث حسن صحيح . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم قالوا من وهب هبة لذي رحم محرم فليس له ان يرجع فيها ومن وهب هبة لغير ذي رحم محرم فله ان يرجع فيها ما لم يثب منها . وهو قول الثوري . وقال الشافعي لا يحل لاحد ان يعطي عطية فيرجع فيها الا الوالد فيما يعطي ولده . واحتج الشافعي بحديث عبد الله بن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل لاحد ان يعطي عطية فيرجع فيها الا الوالد فيما يعطي ولده
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا، البتہ آپ نے عرایا والوں کو اندازہ لگا کر اسے اتنی ہی کھجور میں بیچنے کی اجازت دی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث کو محمد بن اسحاق نے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ایوب، عبیداللہ بن عمر اور مالک بن انس نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور اسی سند سے ابن عمر نے زید بن ثابت سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے بیع عرایا کی اجازت دی۔ اور یہ محمد بن اسحاق کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ۲؎۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة، عن محمد بن اسحاق، عن نافع، عن ابن عمر، عن زيد بن ثابت، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن المحاقلة والمزابنة الا انه قد اذن لاهل العرايا ان يبيعوها بمثل خرصها . قال وفي الباب عن ابي هريرة وجابر . قال ابو عيسى حديث زيد بن ثابت هكذا روى محمد بن اسحاق هذا الحديث . وروى ايوب وعبيد الله بن عمر ومالك بن انس عن نافع عن ابن عمر ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن المحاقلة والمزابنة . وبهذا الاسناد عن ابن عمر عن زيد بن ثابت عن النبي صلى الله عليه وسلم انه رخص في العرايا . وهذا اصح من حديث محمد بن اسحاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ وسق سے کم میں عرایا کے بیچنے کی اجازت دی ہے یا ایسے ہی کچھ آپ نے فرمایا۔ راوی کو شک ہے کہ حدیث کے یہی الفاظ ہیں یا کچھ فرق ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ لگا کر عرایا کو بیچنے کی اجازت دی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ جس میں شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی میں شامل ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے من جملہ جن چیزوں سے منع فرمایا ہے اس سے عرایا مستثنیٰ ہے، اس لیے کہ آپ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ ان لوگوں نے زید بن ثابت اور ابوہریرہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے پانچ وسق سے کم خریدنا جائز ہے، ۳- بعض اہل علم کے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر اس سلسلہ میں توسع اور گنجائش دینا ہے، اس لیے کہ عرایا والوں نے آپ سے شکایت کی اور عرض کیا کہ خشک کھجور کے سوا ہمیں کوئی اور چیز میسر نہیں جس سے ہم تازہ کھجور خرید سکیں۔ تو آپ نے انہیں پانچ وسق سے کم میں خریدنے کی اجازت دے دی تاکہ وہ تازہ کھجور کھا سکیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، عن زيد بن ثابت، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ارخص في بيع العرايا بخرصها . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وحديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل عليه عند بعض اهل العلم منهم الشافعي واحمد واسحاق وقالوا ان العرايا مستثناة من جملة نهى النبي صلى الله عليه وسلم اذ نهى عن المحاقلة والمزابنة واحتجوا بحديث زيد بن ثابت وحديث ابي هريرة وقالوا له ان يشتري ما دون خمسة اوسق . ومعنى هذا عند بعض اهل العلم ان النبي صلى الله عليه وسلم اراد التوسعة عليهم في هذا لانهم شكوا اليه وقالوا لا نجد ما نشتري من الثمر الا بالتمر فرخص لهم فيما دون خمسة اوسق ان يشتروها فياكلوها رطبا
رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ یعنی سوکھی کھجوروں کے عوض درخت پر لگی کھجور بیچنے سے منع فرمایا، البتہ آپ نے عرایا والوں کو اجازت دی، اور خشک انگور کے عوض تر انگور بیچنے سے اور اندازہ لگا کر کوئی بھی پھل بیچنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الحلواني الخلال، حدثنا ابو اسامة، عن الوليد بن كثير، حدثنا بشير بن يسار، مولى بني حارثة ان رافع بن خديج، وسهل بن ابي حثمة، حدثاه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع المزابنة الثمر بالتمر الا لاصحاب العرايا فانه قد اذن لهم وعن بيع العنب بالزبيب وعن كل ثمر بخرصه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نجش نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے «نجش» کو ناجائز کہا ہے، ۴- «نجش» یہ ہے کہ ایسا آدمی جو سامان کے اچھے برے کی تمیز رکھتا ہو سامان والے کے پاس آئے اور اصل قیمت سے بڑھا کر سامان کی قیمت لگائے اور یہ ایسے وقت ہو جب خریدار اس کے پاس موجود ہو، مقصد صرف یہ ہو کہ اس سے خریدار دھوکہ کھا جائے اور وہ ( دام بڑھا چڑھا کر لگانے والا ) خریدنے کا خیال نہ رکھتا ہو بلکہ صرف یہ چاہتا ہو کہ اس کی قیمت لگانے کی وجہ سے خریدار دھوکہ کھا جائے۔ یہ دھوکہ ہی کی ایک قسم ہے، ۵- شافعی کہتے ہیں: اگر کوئی آدمی «نجش» کرتا ہے تو اپنے اس فعل کی وجہ سے وہ یعنی «نجش» کرنے والا گنہگار ہو گا اور بیع جائز ہو گی، اس لیے کہ بیچنے والا تو «نجش» نہیں کر رہا ہے۔
حدثنا قتيبة، واحمد بن منيع، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال قتيبة يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تناجشوا " . قال وفي الباب عن ابن عمر وانس . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم . كرهوا النجش . قال ابو عيسى والنجش ان ياتي الرجل الذي يفصل السلعة الى صاحب السلعة فيستام باكثر مما تسوى وذلك عندما يحضره المشتري يريد ان يغتر المشتري به وليس من رايه الشراء انما يريد ان يخدع المشتري بما يستام وهذا ضرب من الخديعة . قال الشافعي وان نجش رجل فالناجش اثم فيما يصنع والبيع جايز لان البايع غير الناجش