Loading...

Loading...
کتب
۱۱۷ احادیث
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں فرماتے سنا: ”عاریت لی ہوئی چیز لوٹائی جائے گی، ضامن کو تاوان دینا ہو گا اور قرض واجب الاداء ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور یہ ابوامامہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور بھی طریق سے مروی ہے، ۳- اس باب میں سمرہ، صفوان بن امیہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، وعلي بن حجر، قالا حدثنا اسماعيل بن عياش، عن شرحبيل بن مسلم الخولاني، عن ابي امامة، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول في خطبته عام حجة الوداع " العارية موداة والزعيم غارم والدين مقضي " . قال ابو عيسى وفي الباب عن سمرة وصفوان بن امية وانس . قال وحديث ابي امامة حديث حسن . وقد روي عن ابي امامة عن النبي صلى الله عليه وسلم ايضا من غير هذا الوجه
سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ ہاتھ نے لیا ہے جب تک وہ اسے ادا نہ کر دے اس کے ذمہ ہے“ ۱؎، قتادہ کہتے ہیں: پھر حسن بصری اس حدیث کو بھول گئے اور کہنے لگے ”جس نے عاریت لی ہے“ وہ تیرا امین ہے، اس پر تاوان نہیں ہے، یعنی عاریت لی ہوئی چیز تلف ہونے پر تاوان نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں یہ لوگ کہتے ہیں: عاریۃً لینے والا ضامن ہوتا ہے۔ اور یہی شافعی اور احمد کا بھی قول ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ عاریت لینے والے پر تاوان نہیں ہے، الا یہ کہ وہ سامان والے کی مخالفت کرے۔ ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " على اليد ما اخذت حتى تودي " . قال قتادة ثم نسي الحسن فقال هو امينك لا ضمان عليه . يعني العارية . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وقد ذهب بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الى هذا وقالوا يضمن صاحب العارية . وهو قول الشافعي واحمد . وقال بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ليس على صاحب العارية ضمان الا ان يخالف . وهو قول الثوري واهل الكوفة وبه يقول اسحاق
معمر بن عبداللہ بن نضلہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”گنہگار ہی احتکار ( ذخیرہ اندوزی ) کرتا ہے“ ۱؎۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے سعید بن المسیب سے کہا: ابو محمد! آپ تو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: معمر بھی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- معمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ تیل، گیہوں اور اسی طرح کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے، ۳- اس باب میں عمر، علی، ابوامامہ، اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ان لوگوں نے کھانے کی ذخیرہ اندوزی ناجائز کہا ہے، ۵- بعض اہل علم نے کھانے کے علاوہ دیگر اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کی اجازت دی ہے، ۶- ابن مبارک کہتے ہیں: روئی، دباغت دی ہوئی بکری کی کھال، اور اسی طرح کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا يزيد بن هارون، اخبرنا محمد بن اسحاق، عن محمد بن ابراهيم، عن سعيد بن المسيب، عن معمر بن عبد الله بن نضلة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يحتكر الا خاطي " . فقلت لسعيد يا ابا محمد انك تحتكر . قال ومعمر قد كان يحتكر . قال ابو عيسى وانما روي عن سعيد بن المسيب انه كان يحتكر الزيت والحنطة ونحو هذا . قال ابو عيسى وفي الباب عن عمر وعلي وابي امامة وابن عمر . وحديث معمر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم كرهوا احتكار الطعام . ورخص بعضهم في الاحتكار في غير الطعام . وقال ابن المبارك لا باس بالاحتكار في القطن والسختيان ونحو ذلك
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ( بازار میں آنے والے قافلہ تجارت کا بازار سے پہلے ) استقبال نہ کرو، جانور کے تھن میں دودھ نہ روکو ( تاکہ خریدار دھوکہ کھا جائے ) اور ( جھوٹا خریدار بن کر ) ایک دوسرے کا سامان نہ فروخت کراؤ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ ایسے جانور کی بیع کو جس کا دودھ تھن میں روک لیا گیا ہو جائز نہیں سمجھتے، ۴- محفلۃ ایسے جانور کو کہتے ہیں جس کا دودھ تھن میں چھوڑے رکھا گیا ہو، اس کا مالک کچھ دن سے اسے نہ دوہتا ہوتا کہ اس کی تھن میں دودھ جمع ہو جائے اور خریدار اس سے دھوکہ کھا جائے۔ یہ فریب اور دھوکہ ہی کی ایک شکل ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو الاحوص، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تستقبلوا السوق ولا تحفلوا ولا ينفق بعضكم لبعض " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن مسعود وابي هريرة . وحديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم كرهوا بيع المحفلة وهي المصراة لا يحلبها صاحبها اياما او نحو ذلك ليجتمع اللبن في ضرعها فيغتر بها المشتري . وهذا ضرب من الخديعة والغرر
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے جھوٹی قسم کھائی تاکہ اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا“۔ اشعث بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آپ نے میرے سلسلے میں یہ حدیث بیان فرمائی تھی۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، اس نے میرے حصے کا انکار کیا تو میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پاس لے گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ نے یہودی سے فرمایا: ”تم قسم کھاؤ“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو قسم کھا لے گا اور میرا مال ہضم کر لے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”اور جو لوگ اللہ کے قرار اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑا سا مول حاصل کرتے ہیں…“ ( آل عمران: ۷۷ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں وائل بن حجر، ابوموسیٰ، ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری اور عمران بن حصین رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق بن سلمة، عن عبد الله بن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين وهو فيها فاجر ليقتطع بها مال امري مسلم لقي الله وهو عليه غضبان " . فقال الاشعث بن قيس في والله لقد كان ذلك كان بيني وبين رجل من اليهود ارض فجحدني فقدمته الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الك بينة " . قلت لا . فقال لليهودي " احلف " . فقلت يا رسول الله اذا يحلف فيذهب بمالي . فانزل الله تعالى: (ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا ) . الى اخر الاية . قال ابو عيسى وفي الباب عن وايل بن حجر وابي موسى وابي امامة بن ثعلبة الانصاري وعمران بن حصين . وحديث ابن مسعود حديث حسن صحيح
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بائع اور مشتری میں اختلاف ہو جائے تو بات بائع کی مانی جائے گی، اور مشتری کو اختیار ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث مرسل ہے، عون بن عبداللہ نے ابن مسعود کو نہیں پایا، ۲- اور قاسم بن عبدالرحمٰن سے بھی یہ حدیث مروی ہے، انہوں نے ابن مسعود سے اور ابن مسعود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اور یہ روایت بھی مرسل ہے، ۳- اسحاق بن منصور کہتے ہیں: میں نے احمد سے پوچھا: جب بائع اور مشتری میں اختلاف ہو جائے اور کوئی گواہ نہ ہو تو کس کی بات تسلیم کی جائے گی؟ انہوں نے کہا: بات وہی معتبر ہو گی جو سامان کا مالک کہے گا، یا پھر دونوں اپنی اپنی چیز واپس لے لیں یعنی بائع سامان واپس لے لے اور مشتری قیمت۔ اسحاق بن راہویہ نے بھی وہی کہا ہے جو احمد نے کہا ہے، ۴- اور بات جس کی بھی مانی جائے اس کے ذمہ قسم کھانا ہو گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: تابعین میں سے بعض اہل علم سے اسی طرح مروی ہے، انہیں میں شریح بھی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا سفيان، عن ابن عجلان، عن عون بن عبد الله، عن ابن مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اختلف البيعان فالقول قول البايع والمبتاع بالخيار " . قال ابو عيسى هذا حديث مرسل عون بن عبد الله لم يدرك ابن مسعود . وقد روي عن القاسم بن عبد الرحمن عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم هذا الحديث ايضا وهو مرسل ايضا . قال ابو عيسى قال اسحاق بن منصور قلت لاحمد اذا اختلف البيعان ولم تكن بينة قال القول ما قال رب السلعة او يترادان . قال اسحاق كما قال وكل من كان القول قوله فعليه اليمين . قال ابو عيسى هكذا روي عن بعض اهل العلم من التابعين منهم شريح وغيره نحو هذا
ایاس بن عبد مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی بیچنے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ایاس کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، بہیسہ، بہیسہ کے باپ، ابوہریرہ، عائشہ، انس اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے پانی بیچنے کو ناجائز کہا ہے، یہی ابن مبارک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- اور بعض اہل علم نے پانی بیچنے کی اجازت دی ہے، جن میں حسن بصری بھی شامل ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا داود بن عبد الرحمن العطار، عن عمرو بن دينار، عن ابي المنهال، عن اياس بن عبد المزني، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الماء . قال وفي الباب عن جابر وبهيسة عن ابيها وابي هريرة وعايشة وانس وعبد الله بن عمرو . قال ابو عيسى حديث اياس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم انهم كرهوا بيع الماء . وهو قول ابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وقد رخص بعض اهل العلم في بيع الماء . منهم الحسن البصري
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضرورت سے زائد پانی سے نہ روکا جائے کہ اس کے سبب گھاس سے روک دیا جائے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يمنع فضل الماء ليمنع به الكلا " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو المنهال اسمه عبد الرحمن بن مطعم كوفي وهو الذي روى عنه حبيب بن ابي ثابت . وابو المنهال سيار بن سلامة بصري صاحب ابي برزة الاسلمي
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ بعض علماء نے اس کام پر بخشش قبول کرنے کی اجازت دی ہے، جمہور کے نزدیک یہ نہی تحریمی ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، وابو عمار قالا حدثنا اسماعيل ابن علية، قال اخبرنا علي بن الحكم، عن نافع، عن ابن عمر، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن عسب الفحل . قال وفي الباب عن ابي هريرة وانس وابي سعيد . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وقد رخص بعضهم في قبول الكرامة على ذلك
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ کلاب کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اسے منع کر دیا، پھر اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم مادہ پر نر چھوڑتے ہیں تو ہمیں بخشش دی جاتی ہے ( تو اس کا حکم کیا ہے؟ ) آپ نے اسے بخشش لینے کی اجازت دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف ابراہیم بن حمید ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ہے۔
حدثنا عبدة بن عبد الله الخزاعي البصري، حدثنا يحيى بن ادم، عن ابراهيم بن حميد الرواسي، عن هشام بن عروة، عن محمد بن ابراهيم التيمي، عن انس بن مالك، ان رجلا، من كلاب سال النبي صلى الله عليه وسلم عن عسب الفحل فنهاه فقال يا رسول الله انا نطرق الفحل فنكرم . فرخص له في الكرامة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث ابراهيم بن حميد عن هشام بن عروة
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پچھنا لگانے والے کی کمائی خبیث ( گھٹیا ) ہے ۱؎ زانیہ کی اجرت ناپاک ۲؎ ہے اور کتے کی قیمت ناپاک ہے“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، ابن مسعود، ابومسعود، جابر، ابوہریرہ، ابن عباس، ابن عمر اور عبداللہ ابن جعفر رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ان لوگوں نے کتے کی قیمت کو ناجائز جانا ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ اور بعض اہل علم نے شکاری کتے کی قیمت کی اجازت دی ہے۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابراهيم بن عبد الله بن قارظ، عن السايب بن يزيد، عن رافع بن خديج، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كسب الحجام خبيث ومهر البغي خبيث وثمن الكلب خبيث " . قال وفي الباب عن عمر وعلي وابن مسعود وابي مسعود وجابر وابي هريرة وابن عباس وابن عمر وعبد الله بن جعفر . قال ابو عيسى حديث رافع حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم كرهوا ثمن الكلب . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقد رخص بعض اهل العلم في ثمن كلب الصيد
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی مٹھائی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، ح وحدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، وغير، واحد، قالوا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن ابي بكر بن عبد الرحمن، عن ابي مسعود الانصاري، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ثمن الكلب ومهر البغي وحلوان الكاهن . هذا حديث حسن صحيح
محیصہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنا لگانے والے کی اجرت کی اجازت طلب کی، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا ۱؎ لیکن وہ باربار آپ سے پوچھتے اور اجازت طلب کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: ”اسے اپنے اونٹ کے چارہ پر خرچ کرو یا اپنے غلام کو کھلا دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- محیصہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں رافع بن خدیج، جحیفہ، جابر اور سائب بن یزید سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- احمد کہتے ہیں: اگر مجھ سے کوئی پچھنا لگانے والا مزدوری طلب کرے تو میں نہیں دوں گا اور دلیل میں یہی حدیث پیش کروں گا۔
حدثنا قتيبة، عن مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن ابن محيصة، اخي بني حارثة عن ابيه، انه استاذن النبي صلى الله عليه وسلم في اجارة الحجام فنهاه عنها فلم يزل يساله ويستاذنه حتى قال " اعلفه ناضحك واطعمه رقيقك " . قال وفي الباب عن رافع بن خديج وابي جحيفة وجابر والسايب بن يزيد . قال ابو عيسى حديث محيصة حديث حسن . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم . وقال احمد ان سالني حجام نهيته واخذ بهذا الحديث
حمید کہتے ہیں کہ انس رضی الله عنہ سے پچھنا لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انس رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور آپ کو پچھنا لگانے والے ابوطیبہ تھے، تو آپ نے انہیں دو صاع غلہ دینے کا حکم دیا اور ان کے مالکوں سے بات کی، تو انہوں نے ابوطیبہ کے خراج میں کمی کر دی اور آپ نے فرمایا: ”جن چیزوں سے تم دوا کرتے ہو ان میں سب سے افضل پچھنا ہے“ یا فرمایا: ”تمہاری بہتر دواؤں میں سے پچھنا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی، ابن عباس اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳ – صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے پچھنا لگانے والے کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔ یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، قال سيل انس عن كسب الحجام، فقال انس احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم وحجمه ابو طيبة فامر له بصاعين من طعام وكلم اهله فوضعوا عنه من خراجه وقال " ان افضل ما تداويتم به الحجامة " . او " ان من امثل دوايكم الحجامة " . قال وفي الباب عن علي وابن عباس وابن عمر . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح . وقد رخص بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم في كسب الحجام . وهو قول الشافعي
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے۔ بلی کی قیمت کے بارے میں یہ صحیح نہیں ہے، ۲- یہ حدیث اعمش سے مروی ہے انہوں نے اپنے بعض اصحاب سے روایت کی ہے اور اس نے جابر سے، یہ لوگ اعمش سے اس حدیث کی روایت میں اضطراب کا شکار ہیں، ۳- اور ابن فضل نے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بطریق: «الأعمش، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے، ۴- اہل علم کی ایک جماعت نے بلی کی قیمت کو ناجائز کہا ہے، ۵- اور بعض لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا علي بن حجر، وعلي بن خشرم، قالا انبانا عيسى بن يونس، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ثمن الكلب والسنور . قال ابو عيسى هذا حديث في اسناده اضطراب ولا يصح في ثمن السنور . وقد روي هذا الحديث عن الاعمش عن بعض اصحابه عن جابر . واضطربوا على الاعمش في رواية هذا الحديث . وقد كره قوم من اهل العلم ثمن الهر ورخص فيه بعضهم وهو قول احمد واسحاق . وروى ابن فضيل عن الاعمش عن ابي حازم عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم من غير هذا الوجه
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اور ہم عبدالرزاق کے علاوہ کسی بڑے محدث کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن زید سے روایت کی ہو۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا عمر بن زيد الصنعاني، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن اكل الهر وثمنه . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وعمر بن زيد لا نعرف كبير احد روى عنه غير عبد الرزاق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ کتے کی قیمت سے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) منع فرمایا ہے سوائے شکاری کتے کی قیمت کے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس طریق سے صحیح نہیں ہے، ۲- ابومہزم کا نام یزید بن سفیان ہے، ان کے سلسلہ میں شعبہ بن حجاج نے کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے، ۳- اور جابر سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اور اس کی سند بھی صحیح نہیں ہے ( دیکھئیے الصحیحۃ رقم: ۲۹۷۱ ) ۔
اخبرنا ابو كريب، اخبرنا وكيع، عن حماد بن سلمة، عن ابي المهزم، عن ابي هريرة، قال نهى عن ثمن الكلب، الا كلب الصيد . قال ابو عيسى هذا حديث لا يصح من هذا الوجه . وابو المهزم اسمه يزيد بن سفيان وتكلم فيه شعبة بن الحجاج وضعفه . وقد روي عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا ولا يصح اسناده ايضا
ابوامامہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں ( گانا ) سکھاؤ ۱؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» ”اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں“ ( لقمان: ۶ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں، ۲- اس باب میں عمر بن خطاب رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، اخبرنا بكر بن مضر، عن عبيد الله بن زحر، عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن ابي امامة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تبيعوا القينات ولا تشتروهن ولا تعلموهن ولا خير في تجارة فيهن وثمنهن حرام في مثل هذا انزلت هذه الاية : ( ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله ) الى اخر الاية " . قال وفي الباب عن عمر بن الخطاب . قال ابو عيسى حديث ابي امامة انما نعرفه مثل هذا من هذا الوجه . وقد تكلم بعض اهل العلم في علي بن يزيد وضعفه وهو شامي
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص ماں اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈالے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اور اس کے دوستوں کے درمیان جدائی ڈال دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عمر بن حفص الشيباني، اخبرنا عبد الله بن وهب، قال اخبرني حيى بن عبد الله، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن ابي ايوب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من فرق بين الوالدة وولدها فرق الله بينه وبين احبته يوم القيامة " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام دیئے جو آپس میں بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”علی! تمہارا غلام کیا ہوا؟“، میں نے آپ کو بتایا ( کہ میں نے ایک کو بیچ دیا ہے ) تو آپ نے فرمایا: ”اسے واپس لوٹا لو، اسے واپس لوٹا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم بیچتے وقت ( رشتہ دار ) قیدیوں کے درمیان جدائی ڈالنے کو ناجائز کہا ہے، ۳- اور بعض اہل علم نے ان لڑکوں کے درمیان جدائی کو جائز قرار دیا ہے جو سر زمین اسلام میں پیدا ہوئے ہیں۔ پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے، ۴- ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ انہوں نے بیچتے وقت ماں اور اس کے لڑکے کے درمیان تفریق، چنانچہ ان پر یہ اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے اس کی ماں سے اس کی اجازت مانگی تو وہ اس پر راضی ہے۔
حدثنا الحسن بن قزعة، اخبرنا عبد الرحمن بن مهدي، عن حماد بن سلمة، عن الحجاج، عن الحكم، عن ميمون بن ابي شبيب، عن علي، قال وهب لي رسول الله صلى الله عليه وسلم غلامين اخوين فبعت احدهما فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا علي ما فعل غلامك " . فاخبرته فقال " رده رده " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد كره بعض�� اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم التفريق بين السبى في البيع ويكره ان يفرق بين الوالدة وولدها وبين الوالد والولد وبين الاخوة والاخوات في البيع . ورخص بعض اهل العلم في التفريق بين المولدات الذين ولدوا في ارض الاسلام . والقول الاول اصح . وروي عن ابراهيم النخعي انه فرق بين والدة وولدها في البيع فقيل له في ذلك فقال اني قد استاذنتها بذلك فرضيت