احادیث
#1284
سنن ترمذی - Business
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دو غلام دیئے جو آپس میں بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”علی! تمہارا غلام کیا ہوا؟“، میں نے آپ کو بتایا ( کہ میں نے ایک کو بیچ دیا ہے ) تو آپ نے فرمایا: ”اسے واپس لوٹا لو، اسے واپس لوٹا لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم بیچتے وقت ( رشتہ دار ) قیدیوں کے درمیان جدائی ڈالنے کو ناجائز کہا ہے، ۳- اور بعض اہل علم نے ان لڑکوں کے درمیان جدائی کو جائز قرار دیا ہے جو سر زمین اسلام میں پیدا ہوئے ہیں۔ پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے، ۴- ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ انہوں نے بیچتے وقت ماں اور اس کے لڑکے کے درمیان تفریق، چنانچہ ان پر یہ اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے اس کی ماں سے اس کی اجازت مانگی تو وہ اس پر راضی ہے۔
حدثنا الحسن بن قزعة، اخبرنا عبد الرحمن بن مهدي، عن حماد بن سلمة، عن الحجاج، عن الحكم، عن ميمون بن ابي شبيب، عن علي، قال وهب لي رسول الله صلى الله عليه وسلم غلامين اخوين فبعت احدهما فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا علي ما فعل غلامك " . فاخبرته فقال " رده رده " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد كره بعض�� اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم التفريق بين السبى في البيع ويكره ان يفرق بين الوالدة وولدها وبين الوالد والولد وبين الاخوة والاخوات في البيع . ورخص بعض اهل العلم في التفريق بين المولدات الذين ولدوا في ارض الاسلام . والقول الاول اصح . وروي عن ابراهيم النخعي انه فرق بين والدة وولدها في البيع فقيل له في ذلك فقال اني قد استاذنتها بذلك فرضيت
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Business
- Hadith Index
- #1284
- Book Index
- 86
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirDaif
- Al-AlbaniDaif
- Zubair Ali ZaiDaif
