Loading...

Loading...
کتب
۱۱۷ احادیث
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور اس کے درمیان بہت سی چیزیں شبہ والی ہیں ۱؎ جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں کہ یہ حلال کے قبیل سے ہیں یا حرام کے۔ تو جس نے اپنے دین کو پاک کرنے اور اپنی عزت بچانے کے لیے انہیں چھوڑے رکھا تو وہ مامون رہا اور جو ان میں سے کسی میں پڑ گیا یعنی انہیں اختیار کر لیا تو قریب ہے کہ وہ حرام میں مبتلا ہو جائے، جیسے وہ شخص جو سرکاری چراگاہ کے قریب ( اپنا جانور ) چرا رہا ہو، قریب ہے کہ وہ اس میں واقع ہو جائے، جان لو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں“۔ دوسری سند سے مؤلف نے شعبی سے اور انہوں نے نے نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے اسی طرح کی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اسے کئی رواۃ نے شعبی سے اور شعبی نے نعمان بن بشیر سے روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے، سود دینے والے، اس کے دونوں گواہوں اور اس کے لکھنے والے پر لعنت بھیجی ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، جابر اور ابوجحیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن سماك بن حرب، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن ابن مسعود، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم اكل الربا وموكله وشاهديه وكاتبه . قال وفي الباب عن عمر وعلي وجابر وابي جحيفة . قال ابو عيسى حديث عبد الله حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں ۱؎ سے متعلق فرمایا: ”اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی کو ( ناحق ) قتل کرنا اور جھوٹی بات کہنا ( کبائر میں سے ہیں“ ۲؎ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوبکرہ، ایمن بن خریم اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن عبد الاعلى الصنعاني، حدثنا خالد بن الحارث، عن شعبة، حدثنا عبيد الله بن ابي بكر بن انس، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم في الكباير قال " الشرك بالله وعقوق الوالدين وقتل النفس وقول الزور " . قال وفي الباب عن ابي بكرة وايمن بن خريم وابن عمر . قال ابو عيسى حديث انس حديث حسن صحيح غريب
قیس بن ابی غرزہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم ( اس وقت ) «سماسرہ» ۱؎ ( دلال ) کہلاتے تھے، آپ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت کے وقت شیطان اور گناہ سے سابقہ پڑ ہی جاتا ہے، لہٰذا تم اپنی خرید فروخت کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- قیس بن ابی غرزہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے منصور نے بسند «الأعمش وحبيب بن أبي ثابت»، اور دیگر کئی لوگوں نے بسند «أبي وائل عن قيس بن أبي غرزة» سے روایت کیا ہے۔ ہم اس کے علاوہ قیس کی کوئی اور حدیث نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو، ۳- مؤلف نے بسند «أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق بن سلمة وشقيق هو أبو وائل عن قيس بن أبي غرزة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی جیسی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے، ۴- یہ حدیث صحیح ہے، ۵- اس باب میں براء بن عازب اور رفاعہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سچا اور امانت دار تاجر ( قیامت کے دن ) انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے بروایت ثوری صرف اسی سند سے جانتے ہیں انہوں نے ابوحمزہ سے روایت کی ہے، ۲- اور ابوحمزہ کا نام عبداللہ بن جابر ہے اور وہ بصرہ کے شیخ ہیں –
رفاعہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عید گاہ کی طرف نکلے، آپ نے لوگوں کو خرید و فروخت کرتے دیکھا تو فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت!“ تو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننے لگے اور انہوں نے آپ کی طرف اپنی گردنیں اور نگاہیں اونچی کر لیں، آپ نے فرمایا: ”تاجر لوگ قیامت کے دن گنہگار اٹھائے جائیں گے سوائے اس کے جو اللہ سے ڈرے نیک کام کرے اور سچ بولے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسماعیل بن عبید بن رفاعہ کو اسماعیل بن عبیداللہ بن رفاعہ بھی کہا جاتا ہے۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف حدثنا بشر بن المفضل، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن اسماعيل بن عبيد بن رفاعة، عن ابيه، عن جده، انه خرج مع النبي صلى الله عليه وسلم الى المصلى فراى الناس يتبايعون فقال " يا معشر التجار " . فاستجابوا لرسول الله صلى الله عليه وسلم ورفعوا اعناقهم وابصارهم اليه فقال " ان التجار يبعثون يوم القيامة فجارا الا من اتقى الله وبر وصدق " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ويقال اسماعيل بن عبيد الله بن رفاعة ايضا
ابوذر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین لوگ ایسے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ ( رحمت کی نظر سے ) نہیں دیکھے گا، نہ انہیں ( گناہوں سے ) پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا“، ہم نے پوچھا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ یہ تو نقصان اور گھاٹے میں رہے، آپ نے فرمایا: ”احسان جتانے والا، اپنے تہبند ( ٹخنے سے نیچے ) لٹکانے والا ۱؎ اور جھوٹی قسم کے ذریعہ اپنے سامان کو رواج دینے والا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوذر کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، ابوامامہ بن ثعلبہ، عمران بن حصین اور معقل بن یسار رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، قال انبانا شعبة، قال اخبرني علي بن مدرك، قال سمعت ابا زرعة بن عمرو بن جرير، يحدث عن خرشة بن الحر، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة لا ينظر الله اليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم " . قلت من هم يا رسول الله فقد خابوا وخسروا فقال " المنان والمسبل ازاره والمنفق سلعته بالحلف الكاذب " . قال وفي الباب عن ابن مسعود وابي هريرة وابي امامة بن ثعلبة وعمران بن حصين ومعقل بن يسار . قال ابو عيسى حديث ابي ذر حديث حسن صحيح
صخر غامدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میری امت کو اس کے دن کے ابتدائی حصہ میں برکت دے“ ۱؎ صخر کہتے ہیں کہ آپ جب کسی سریہ یا لشکر کو روانہ کرتے تو اسے دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ کرتے۔ اور صخر ایک تاجر آدمی تھے۔ جب وہ تجارت کا سامان لے کر ( اپنے آدمیوں کو ) روانہ کرتے تو انہیں دن کے ابتدائی حصہ میں روانہ کرتے۔ تو وہ مالدار ہو گئے اور ان کی دولت بڑھ گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- صخر غامدی کی حدیث حسن ہے۔ ہم اس حدیث کے علاوہ صخر غامدی کی کوئی اور حدیث نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو، ۲- اس باب میں علی، ابن مسعود، بریدہ، انس، ابن عمر، ابن عباس، اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، حدثنا هشيم، حدثنا يعلى بن عطاء، عن عمارة بن حديد، عن صخر الغامدي، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم بارك لامتي في بكورها " . قال وكان اذا بعث سرية او جيشا بعثهم اول النهار وكان صخر رجلا تاجرا وكان اذا بعث تجارة بعثهم اول النهار فاثرى وكثر ماله . قال وفي الباب عن علي وابن مسعود وبريدة وانس وابن عمر وابن عباس وجابر . قال ابو عيسى حديث صخر الغامدي حديث حسن . ولا نعرف لصخر الغامدي عن النبي صلى الله عليه وسلم غير هذا الحديث . وقد روى سفيان الثوري عن شعبة عن يعلى بن عطاء هذا الحديث
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر دو موٹے قطری کپڑے تھے، جب آپ بیٹھتے اور پسینہ آتا تو وہ آپ پر بوجھل ہو جاتے، شام سے فلاں یہودی کے کپڑے آئے۔ تو میں نے عرض کیا: کاش! آپ اس کے پاس کسی کو بھیجتے اور اس سے دو کپڑے اس وعدے پر خرید لیتے کہ جب گنجائش ہو گی تو قیمت دے دیں گے، آپ نے اس کے پاس ایک آدمی بھیجا، تو اس نے کہا: جو وہ چاہتے ہیں مجھے معلوم ہے، ان کا ارادہ ہے کہ میرا مال یا میرے دراہم ہڑپ کر لیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ جھوٹا ہے، اسے خوب معلوم ہے کہ میں لوگوں میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا اور امانت کو سب سے زیادہ ادا کرنے والا ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اسے شعبہ نے بھی عمارہ بن ابی حفصہ سے روایت کیا ہے، ۳- ابوداؤد طیالسی کہتے ہیں: ایک دن شعبہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: میں تم سے اس وقت اسے نہیں بیان کر سکتا جب تک کہ تم کھڑے ہو کر حرمی بن عمارہ بن ابی حفصہ ( جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں ) کا سر نہیں چومتے اور حرمی ( وہاں ) لوگوں میں موجود تھے، انہوں نے اس حدیث سے حد درجہ خوش ہوتے ہوئے یہ بات کہی، ۴- اس باب میں ابن عباس، انس اور اسماء بنت یزید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو حفص، عمر بن علي اخبرنا يزيد بن زريع، اخبرنا عمارة بن ابي حفصة، اخبرنا عكرمة، عن عايشة، قالت كان على رسول الله صلى الله عليه وسلم ثوبان قطريان غليظان فكان اذا قعد فعرق ثقلا عليه فقدم بز من الشام لفلان اليهودي . فقلت لو بعثت اليه فاشتريت منه ثوبين الى الميسرة . فارسل اليه فقال قد علمت ما يريد انما يريد ان يذهب بمالي او بدراهمي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كذب قد علم اني من اتقاهم لله واداهم للامانة " . قال وفي الباب عن ابن عباس وانس واسماء بنت يزيد . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن غريب صحيح . وقد رواه شعبة ايضا عن عمارة بن ابي حفصة . قال وسمعت محمد بن فراس البصري يقول سمعت ابا داود الطيالسي يقول سيل شعبة يوما عن هذا الحديث فقال لست احدثكم حتى تقوموا الى حرمي بن عمارة بن ابي حفصة فتقبلوا راسه . قال وحرمي في القوم . قال ابو عيسى اى اعجابا بهذا الحديث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی زرہ بیس صاع غلے کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی۔ آپ نے اسے اپنے گھر والوں کے لیے لیا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، وعثمان بن عمر، عن هشام بن حسان، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال توفي النبي صلى الله عليه وسلم ودرعه مرهونة بعشرين صاعا من طعام اخذه لاهله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کی روٹی اور پگھلی ہوئی چربی جس میں کچھ تبدیلی آ چکی تھی لے کر چلا، آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس بیس صاع غلے کے عوض جسے آپ نے اپنے گھر والوں کے لیے لے رکھا تھا گروی رکھی ہوئی تھی ۱؎ قتادہ کہتے ہیں میں نے ایک دن انس رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے پاس ایک صاع کھجور یا ایک صاع غلہ شام کو نہیں ہوتا تھا جب کہ اس وقت آپ کے پاس نو بیویاں تھیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن هشام الدستوايي، عن قتادة، عن انس، ح قال محمد وحدثنا معاذ بن هشام، قال حدثنا ابي، عن قتادة، عن انس، قال مشيت الى النبي صلى الله عليه وسلم بخبز شعير واهالة سنخة ولقد رهن له درع عند يهودي بعشرين صاعا من طعام اخذه لاهله ولقد سمعته ذات يوم يقول " ما امسى في ال محمد صلى الله عليه وسلم صاع تمر ولا صاع حب " . وان عنده يوميذ لتسع نسوة . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
عبدالمجید بن وہب کہتے ہیں کہ مجھ سے عداء بن خالد بن ھوذہ نے کہا: کیا میں تمہیں ایک تحریر نہ پڑھاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے لکھی تھی؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور پڑھائیے، پھر انہوں نے ایک تحریر نکالی، ( جس میں لکھا تھا ) ”یہ بیع نامہ ہے ایک ایسی چیز کا جو عداء بن خالد بن ھوذہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خریدی ہے“، انہوں نے آپ سے غلام یا لونڈی کی خریداری اس شرط کے ساتھ کی کہ اس میں نہ کوئی بیماری ہو، نہ وہ بھگیوڑو ہو اور نہ حرام مال کا ہو، یہ مسلمان کی مسلمان سے بیع ہے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عباد بن لیث کی روایت سے جانتے ہیں۔ ان سے یہ حدیث محدثین میں سے کئی لوگوں نے روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، اخبرنا عباد بن ليث، صاحب الكرابيسي البصري اخبرنا عبد المجيد بن وهب، قال قال لي العداء بن خالد بن هوذة الا اقريك كتابا كتبه لي رسول الله صلى الله عليه وسلم قال قلت بلى . فاخرج لي كتابا " هذا ما اشترى العداء بن خالد بن هوذة من محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم اشترى منه عبدا او امة لا داء ولا غايلة ولا خبثة بيع المسلم المسلم " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه الا من حديث عباد بن ليث وقد روى عنه هذا الحديث غير واحد من اهل الحديث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپ تول والوں سے فرمایا: ”تمہارے دو ایسے کام ۱؎ کیے گئے ہیں جس میں تم سے پہلے کی امتیں ہلاک ہو گئیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ہم اس حدیث کو صرف بروایت حسین بن قیس مرفوع جانتے ہیں، اور حسین بن قیس حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔ نیز یہ صحیح سند سے ابن عباس سے موقوفاً مروی ہے۔
حدثنا سعيد بن يعقوب الطالقاني، حدثنا خالد بن عبد الله الواسطي، عن حسين بن قيس، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لاصحاب المكيال والميزان " انكم قد وليتم امرين هلكت فيه الامم السالفة قبلكم " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه مرفوعا الا من حديث حسين بن قيس . وحسين بن قيس يضعف في الحديث . وقد روي هذا باسناد صحيح عن ابن عباس موقوفا
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ٹاٹ جو کجاوہ کے نیچے بچھایا جاتا ہے اور ایک پیالہ بیچا، آپ نے فرمایا: ”یہ ٹاٹ اور پیالہ کون خریدے گا؟ ایک آدمی نے عرض کیا: میں انہیں ایک درہم میں لے سکتا ہوں“، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک درہم سے زیادہ کون دے گا؟“ تو ایک آدمی نے آپ کو دو درہم دیا، تو آپ نے اسی کے ہاتھ سے یہ دونوں چیزیں بیچ دیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے صرف اخضر بن عجلان کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اور عبداللہ حنفی ہی جنہوں نے انس سے روایت کی ہے ابوبکر حنفی ہیں ۱؎، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ غنیمت اور میراث کے سامان کو زیادہ قیمت دینے والے سے بیچنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں، ۴- یہ حدیث معتمر بن سلیمان اور دوسرے کئی بڑے لوگوں نے بھی اخضر بن عجلان سے روایت کی ہے۔
حدثنا حميد بن مسعدة، اخبرنا عبيد الله بن شميط بن عجلان، حدثنا الاخضر بن عجلان، عن عبد الله الحنفي، عن انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم باع حلسا وقدحا وقال " من يشتري هذا الحلس والقدح " . فقال رجل اخذتهما بدرهم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من يزيد على درهم من يزيد على درهم " فاعطاه رجل درهمين فباعهما منه . قال ابو عيسى هذا حديث حسن لا نعرفه الا من حديث الاخضر بن عجلان . وعبد الله الحنفي الذي روى عن انس هو ابو بكر الحنفي . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم لم يروا باسا ببيع من يزيد في الغنايم والمواريث . وقد روى المعتمر بن سليمان وغير واحد من اهل الحديث عن الاخضر بن عجلان هذا الحديث
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے ایک شخص نے ۱؎ اپنے غلام کو مدبر ۲؎ بنا دیا ( یعنی اس سے یہ کہہ دیا کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو ) ، پھر وہ مر گیا، اور اس غلام کے علاوہ اس نے کوئی اور مال نہیں چھوڑا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ دیا ۳؎ اور نعیم بن عبداللہ بن نحام نے اسے خریدا۔ جابر کہتے ہیں: وہ ایک قبطی غلام تھا۔ عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کی امارت کے پہلے سال وہ فوت ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ جابر بن عبداللہ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے۔ ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ مدبر غلام کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے مدبر کی بیع کو مکروہ جانا ہے۔ یہ سفیان ثوری، مالک اور اوزاعی کا قول ہے۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن جابر، ان رجلا، من الانصار دبر غلاما له فمات ولم يترك مالا غيره فباعه النبي صلى الله عليه وسلم فاشتراه نعيم بن عبد الله بن النحام . قال جابر عبدا قبطيا مات عام الاول في امارة ابن الزبير . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن جابر بن عبد الله . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم لم يروا ببيع المدبر باسا . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وكره قوم من اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم بيع المدبر . وهو قول سفيان الثوري ومالك والاوزاعي
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں علی، ابن عباس، ابوہریرہ، ابو سعید خدری، ابن عمر، اور ایک اور صحابی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا هناد، حدثنا ابن المبارك، اخبرنا سليمان التيمي، عن ابي عثمان، عن ابن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى عن تلقي البيوع . قال وفي الباب عن علي وابن عباس وابي هريرة وابي سعيد وابن عمر ورجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر سے آنے والے سامانوں کو بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر خرید لینے سے منع فرمایا: اگر کسی آدمی نے مل کر خرید لیا تو صاحب مال کو جب وہ بازار میں پہنچے تو اختیار ہے ( چاہے تو وہ بیچے چاہے تو نہ بیچے ) ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ایوب کی روایت سے حسن غریب ہے، ۲- ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے۔ اہل علم کی ایک جماعت نے مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے مل کر مال خریدنے کو ناجائز کہا ہے یہ دھوکے کی ایک قسم ہے ہمارے اصحاب میں سے شافعی وغیرہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا سلمة بن شبيب، حدثنا عبد الله بن جعفر الرقي، حدثنا عبيد الله بن عمرو الرقي، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى ان يتلقى الجلب فان تلقاه انسان فابتاعه فصاحب السلعة فيها بالخيار اذا ورد السوق . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب من حديث ايوب وحديث ابن مسعود حديث حسن صحيح . وقد كره قوم من اهل العلم تلقي البيوع وهو ضرب من الخديعة . وهو قول الشافعي وغيره من اصحابنا
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے ۱؎ ( بلکہ دیہاتی کو خود بیچنے دے“ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں طلحہ، جابر، انس، ابن عباس، ابویزید کثیر بن عبداللہ کے دادا عمرو بن عوف مزنی اور ایک اور صحابی رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، واحمد بن منيع، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال قتيبة يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يبيع حاضر لباد " . قال وفي الباب عن طلحة وجابر وانس وابن عباس وحكيم بن ابي يزيد عن ابيه وعمرو بن عوف المزني جد كثير بن عبد الله ورجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی گاؤں والے کا سامان نہ فروخت کرے، تم لوگوں کو ( ان کا سامان خود بیچنے کے لیے ) چھوڑ دو۔ اللہ تعالیٰ بعض کو بعض کے ذریعے رزق دیتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ۲- اس باب میں جابر کی حدیث بھی حسن صحیح ہے۔ ۳- صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ ان لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے کہ شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا سامان بیچے، ۴- اور بعض لوگوں نے رخصت دی ہے کہ شہری دیہاتی کے لیے سامان خرید سکتا ہے۔ ۵- شافعی کہتے ہیں کہ شہری کا دیہاتی کے سامان کو بیچنا مکروہ ہے اور اگر وہ بیچ دے تو بیع جائز ہو گی۔
حدثنا نصر بن علي، واحمد بن منيع، قالا حدثنا سفيان بن عيينة، عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يبيع حاضر لباد دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض " . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وحديث جابر في هذا هو حديث حسن صحيح ايضا . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم كرهوا ان يبيع حاضر لباد . ورخص بعضهم في ان يشتري حاضر لباد . وقال الشافعي يكره ان يبيع حاضر لباد وان باع فالبيع جايز
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، زید بن ثابت، سعد، جابر، رافع بن خدیج اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بالیوں میں کھڑی کھیتی کو گیہوں سے بیچنے کو محاقلہ کہتے ہیں، اور درخت پر لگے ہوئی کھجور توڑی گئی کھجور سے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں، ۴- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ محاقلہ اور مزابنہ کو مکروہ سمجھتے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن الاسكندراني، عن سهيل بن ابي صالح، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن المحاقلة والمزابنة . قال وفي الباب عن ابن عمر وابن عباس وزيد بن ثابت وسعد وجابر ورافع بن خديج وابي سعيد . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والمحاقلة بيع الزرع بالحنطة . والمزابنة بيع الثمر على رءوس النخل بالتمر . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم كرهوا بيع المحاقلة والمزابنة