Loading...

Loading...
کتب
۱۱۷ احادیث
عبداللہ بن یزید سے روایت ہے کہ ابوعیاش زید نے سعد رضی الله عنہ سے گیہوں کو چھلکا اتارے ہوئے جو سے بیچنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے پوچھا: ان دونوں میں کون افضل ہے؟ انہوں نے کہا: گیہوں، تو انہوں نے اس سے منع فرمایا۔ اور سعد رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ سے تر کھجور سے خشک کھجور خریدنے کا مسئلہ پوچھا جا رہا تھا۔ تو آپ نے قریب بیٹھے لوگوں سے پوچھا: ”کیا تر کھجور خشک ہونے پر کم ہو جائے گا؟ ۱؎“ لوگوں نے کہا ہاں ( کم ہو جائے گا ) ، تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ مؤلف نے بسند «وكيع عن مالك» اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی شافعی اور ہمارے اصحاب کا بھی قول ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے کھجور کے درخت کی بیع سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ خوش رنگ ہو جائے ( پختگی کو پہنچ جائے ) ۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع النخل حتى يزهو
اسی سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( گیہوں اور جو وغیرہ کے ) خوشے بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ پختہ ہو جائیں اور آفت سے مامون ہو جائیں، آپ نے بائع اور مشتری دونوں کو منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس، عائشہ، ابوہریرہ، ابن عباس، جابر، ابو سعید خدری اور زید بن ثابت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ پھل کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اس کے بیچنے کو مکروہ سمجھتے ہیں، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
وبهذا الاسناد ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع السنبل حتى يبيض ويامن العاهة نهى البايع والمشتري . قال وفي الباب عن انس وعايشة وابي هريرة وابن عباس وجابر وابي سعيد وزيد بن ثابت . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم كرهوا بيع الثمار قبل ان يبدو صلاحها . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگور کو بیچنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ سیاہ ( پختہ ) ہو جائے۔ اور دانے ( غلے ) کو بیچنے سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ سخت ہو جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف بروایت حماد بن سلمہ ہی مرفوع جانتے ہیں۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا ابو الوليد، وعفان، وسليمان بن حرب، قالوا حدثنا حماد بن سلمة، عن حميد، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع العنب حتى يسود وعن بيع الحب حتى يشتد . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب لا نعرفه مرفوعا الا من حديث حماد بن سلمة
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ نے اس حدیث کو بطریق: «عن أيوب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس» روایت کیا ہے۔ اور عبدالوھاب ثقفی وغیرہ نے بطریق: «عن أيوب عن سعيد بن جبير ونافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے۔ اور یہ زیادہ صحیح ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ «حبل الحبلة» ( حمل کے حمل ) سے مراد اونٹنی کے بچے کا بچہ ہے۔ اہل علم کے نزدیک یہ بیع منسوخ ہے اور یہ دھوکہ کی بیع میں سے ایک بیع ہے، ۴- اس باب میں عبداللہ بن عباس اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع حبل الحبلة . قال وفي الباب عن عبد الله بن عباس وابي سعيد الخدري . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم وحبل الحبلة نتاج النتاج وهو بيع مفسوخ عند اهل العلم وهو من بيوع الغرر . وقد روى شعبة هذا الحديث عن ايوب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس . وروى عبد الوهاب الثقفي وغيره عن ايوب عن سعيد بن جبير ونافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم . وهذا اصح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع غرر ۱؎ اور بیع حصاۃ سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، ابوسعید اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، وہ بیع غرر کو مکروہ سمجھتے ہیں، ۴- شافعی کہتے ہیں: مچھلی کی بیع جو پانی میں ہو، بھاگے ہوئے غلام کی بیع، آسمان میں اڑتے پرندوں کی بیع اور اسی طرح کی دوسری بیع، بیع غرر کی قبیل سے ہیں، ۵- اور بیع حصاۃ سے مراد یہ ہے کہ بیچنے والا خریدنے والے سے یہ کہے کہ جب میں تیری طرف کنکری پھینک دوں تو میرے اور تیرے درمیان میں بیع واجب ہو گئی۔ یہ بیع منابذہ کے مشابہ ہے۔ اور یہ جاہلیت کی بیع کی قسموں میں سے ایک قسم تھی۔
حدثنا ابو كريب، انبانا ابو اسامة، عن عبيد الله بن عمر، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الغرر وبيع الحصاة . قال وفي الباب عن ابن عمر وابن عباس وابي سعيد وانس . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم كرهوا بيع الغرر . قال الشافعي ومن بيوع الغرر بيع السمك في الماء وبيع العبد الابق وبيع الطير في السماء ونحو ذلك من البيوع . ومعنى بيع الحصاة ان يقول البايع للمشتري اذا نبذت اليك بالحصاة فقد وجب البيع فيما بيني وبينك . وهذا شبيه ببيع المنابذة وكان هذا من بيوع اهل الجاهلية
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو، ابن عمر اور ابن مسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- بعض اہل علم نے ایک بیع میں دو بیع کی تفسیر یوں کی ہے کہ ایک بیع میں دو بیع یہ ہے کہ مثلاً کہے: میں تمہیں یہ کپڑا نقد دس روپے میں اور ادھار بیس روپے میں بیچتا ہوں اور مشتری دونوں بیعوں میں سے کسی ایک پر جدا نہ ہو، ( بلکہ بغیر کسی ایک کی تعیین کے مبہم بیع ہی پر وہاں سے چلا جائے ) جب وہ ان دونوں میں سے کسی ایک پر جدا ہو تو کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ان دونوں میں سے کسی ایک پر بیع منعقد ہو گئی ہو، ۵- شافعی کہتے ہیں: ایک بیع میں دو بیع کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی کہے: میں اپنا یہ گھر اتنے روپے میں اس شرط پر بیچ رہا ہوں کہ تم اپنا غلام مجھ سے اتنے روپے میں بیچ دو۔ جب تیرا غلام میرے لیے واجب و ثابت ہو جائے گا تو میرا گھر تیرے لیے واجب و ثابت ہو جائے گا، یہ بیع بغیر ثمن معلوم کے واقع ہوئی ہے ۲؎ اور بائع اور مشتری میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کا سودا کس چیز پر واقع ہوا ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا عبدة بن سليمان، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة . وفي الباب عن عبد الله بن عمرو وابن عمر وابن مسعود . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم وقد فسر بعض اهل العلم قالوا بيعتين في بيعة . ان يقول ابيعك هذا الثوب بنقد بعشرة وبنسيية بعشرين ولا يفارقه على احد البيعين فاذا فارقه على احدهما فلا باس اذا كانت العقدة على واحد منهما . قال الشافعي ومن معنى نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة ان يقول ابيعك داري هذه بكذا على ان تبيعني غلامك بكذا فاذا وجب لي غلامك وجب لك داري . وهذا يفارق عن بيع بغير ثمن معلوم ولا يدري كل واحد منهما على ما وقعت عليه صفقته
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: میرے پاس کچھ لوگ آتے ہیں اور اس چیز کو بیچنے کے لیے کہتے ہیں جو میرے پاس نہیں ہوتی، تو کیا میں اس چیز کو ان کے لیے بازار سے خرید کر لاؤں پھر فروخت کروں؟ آپ نے فرمایا: ”جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کی بیع نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے- حکم ۱۲۳۴ میں آ رہا ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا هشيم، عن ابي بشر، عن يوسف بن ماهك، عن حكيم بن حزام، قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت ياتيني الرجل يسالني من البيع ما ليس عندي ابتاع له من السوق ثم ابيعه قال " لا تبع ما ليس عندك " . قال وفي الباب عن عبد الله بن عمر
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس چیز کے بیچنے سے منع فرمایا جو میرے پاس نہ ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسحاق بن منصور کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا: بیع کے ساتھ قرض سے منع فرمانے کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے کہا: اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی کو قرض دے پھر اس سے بیع کرے اور سامان کی قیمت زیادہ لے اور یہ بھی احتمال ہے کہ کوئی کسی سے کسی چیز میں سلف کرے اور کہے: اگر تیرے پاس روپیہ فراہم نہیں ہو سکا تو تجھے یہ سامان میرے ہاتھ بیچ دینا ہو گا۔ اسحاق ( ابن راھویہ ) نے بھی وہی بات کہی ہے جو احمد نے کہی ہے، ۳- اسحاق بن منصور نے کہا: میں نے احمد سے ایسی چیز کی بیع کے بارے میں پوچھا جس کا بائع ضامن نہیں تو انہوں نے جواب دیا، ( یہ ممانعت ) میرے نزدیک صرف طعام کی بیع کے ساتھ ہے جب تک قبضہ نہ ہو یعنی ضمان سے قبضہ مراد ہے، اسحاق بن راہویہ نے بھی وہی بات کہی ہے جو احمد نے کہی ہے لیکن یہ ممانعت ہر اس چیز میں ہے جو ناپی یا تولی جاتی ہو۔ احمد بن حنبل کہتے ہیں: جب بائع یہ کہے: میں آپ سے یہ کپڑا اس شرط کے ساتھ بیچ رہا ہوں کہ اس کی سلائی اور دھلائی میرے ذمہ ہے۔ تو بیع کی یہ شکل ایک بیع میں دو شرط کے قبیل سے ہے۔ اور جب بائع یہ کہے: میں یہ کپڑا آپ کو اس شرط کے ساتھ بیچ رہا ہوں کہ اس کی سلائی میرے ذمہ ہے۔ یا بائع یہ کہے: میں یہ کپڑا آپ کو اس شرط کے ساتھ بیچ رہا ہوں کہ اس کی دھلائی میرے ذمہ ہے، تو اس بیع میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، یہ ایک ہی شرط ہے۔ اسحاق بن راہویہ نے بھی وہی بات کہی ہے جو احمد نے کہی ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن يوسف بن ماهك، عن حكيم بن حزام، قال نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ابيع ما ليس عندي . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن . قال اسحاق بن منصور قلت لاحمد ما معنى نهى عن سلف وبيع قال ان يكون يقرضه قرضا ثم يبايعه عليه بيعا يزداد عليه ويحتمل ان يكون يسلف اليه في شيء فيقول ان لم يتهيا عندك فهو بيع عليك . قال اسحاق يعني ابن راهويه كما قال قلت لاحمد وعن بيع ما لم تضمن قال لا يكون عندي الا في الطعام ما لم تقبض . قال اسحاق كما قال في كل ما يكال او يوزن . قال احمد اذا قال ابيعك هذا الثوب وعلى خياطته وقصارته فهذا من نحو شرطين في بيع واذا قال ابيعكه وعلى خياطته فلا باس به او قال ابيعكه وعلى قصارته فلا باس به انما هو شرط واحد . قال اسحاق كما قال
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیع کے ساتھ قرض جائز نہیں ہے ۱؎، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں ۲؎ اور نہ ایسی چیز سے فائدہ اٹھانا جائز ہے جس کا وہ ضامن نہ ہو ۳؎ اور نہ ایسی چیز کی بیع جائز ہے جو تمہارے پاس نہ ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حکیم بن حزام کی حدیث حسن ہے ( ۱۲۳۲، ۱۲۳۳ ) ، یہ ان سے اور بھی سندوں سے مروی ہے۔ اور ایوب سختیانی اور ابوبشر نے اسے یوسف بن ماہک سے اور یوسف نے حکیم بن حزام سے روایت کیا ہے۔ اور عوف اور ہشام بن حسان نے اس حدیث کو ابن سیرین سے اور ابن سیرین نے حکیم بن حزام سے اور حکیم بن حزام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور یہ حدیث ( روایت ) مرسل ( منقطع ) ہے۔ اسے ( اصلاً ) ابن سیرین نے ایوب سختیانی سے اور ایوب نے یوسف بن ماہک سے اور یوسف بن ماہک نے حکیم بن حزام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا ايوب، حدثنا عمرو بن شعيب، قال حدثني ابي، عن ابيه، حتى ذكر عبد الله بن عمرو ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يحل سلف وبيع ولا شرطان في بيع ولا ربح ما لم يضمن ولا بيع ما ليس عندك " . قال ابو عيسى وهذا حديث حسن صحيح . قال ابو عيسى حديث حكيم بن حزام حديث حسن قد روي عنه من غير وجه . روى ايوب السختياني وابو بشر عن يوسف بن ماهك عن حكيم بن حزام . قال ابو عيسى وروى هذا الحديث عوف وهشام بن حسان عن ابن سيرين عن حكيم بن حزام عن النبي صلى الله عليه وسلم . وهذا حديث مرسل انما رواه ابن سيرين عن ايوب السختياني عن يوسف بن ماهك عن حكيم بن حزام
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس چیز کے بیچنے سے منع فرمایا ہے جو میرے پاس نہیں ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وکیع نے اس حدیث کو بطریق: «عن يزيد بن إبراهيم عن ابن سيرين عن أيوب عن حكيم بن حزام» روایت کیا ہے اور اس میں یوسف بن ماہک کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ عبدالصمد کی روایت زیادہ صحیح ہے ( جس میں ابن سیرین کا ذکر ہے ) ۔ اور یحییٰ بن ابی کثیر نے یہ حدیث بطریق: «عن يعلى بن حكيم عن يوسف بن ماهك عن عبد الله بن عصمة عن حكيم بن حزام عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کیا ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، یہ لوگ اس چیز کی بیع کو مکروہ سمجھتے ہیں جو آدمی کے پاس نہ ہو۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، وعبدة بن عبد الله الخزاعي البصري ابو سهل، وغير، واحد، قالوا حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، عن يزيد بن ابراهيم، عن ابن سيرين، عن ايوب، عن يوسف بن ماهك، عن حكيم بن حزام، قال نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ابيع ما ليس عندي . قال ابو عيسى وروى وكيع هذا الحديث عن يزيد بن ابراهيم عن ابن سيرين عن ايوب عن حكيم بن حزام . ولم يذكر فيه عن يوسف بن ماهك ورواية عبد الصمد اصح . وقد روى يحيى بن ابي كثير هذا الحديث عن يعلى بن حكيم عن يوسف بن ماهك عن عبد الله بن عصمة عن حكيم بن حزام عن النبي صلى الله عليه وسلم . والعمل على هذا الحديث عند اكثر اهل العلم كرهوا ان يبيع الرجل ما ليس عنده
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء ۱؎ کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱ – یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم اسے صرف بروایت عبداللہ بن دینار جانتے ہیں جسے انہوں نے ابن عمر سے روایت کی ہے، ۳- یحییٰ بن سلیم نے یہ حدیث بطریق: «عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ آپ نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ اس سند میں وہم ہے۔ اس کے اندر یحییٰ بن سلیم سے وہم ہوا ہے، ۴- عبدالوھاب ثقفی، اور عبداللہ بن نمیر اور دیگر کئی لوگوں نے بطریق: «عن عبيد الله بن عمر عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے اور یہ یحییٰ بن سلیم کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ۵- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، قال حدثنا سفيان، وشعبة، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الولاء وهبته . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح لا نعرفه الا من حديث عبد الله بن دينار عن ابن عمر . والعمل على هذا الحديث عند اهل العلم . وقد روى يحيى بن سليم هذا الحديث عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى عن بيع الولاء وهبته . وهو وهم وهم فيه يحيى بن سليم . وروى عبد الوهاب الثقفي وعبد الله بن نمير وغير واحد عن عبيد الله بن عمر عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم . وهذا اصح من حديث يحيى بن سليم
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور کو جانور سے ادھار بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حسن کا سماع سمرہ سے صحیح ہے۔ علی بن مدینی وغیرہ نے ایسا ہی کہا ہے، ۳- اس باب میں ابن عباس، جابر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا جانور کو جانور سے ادھار بیچنے کے مسئلہ میں اسی حدیث پر عمل ہے۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ احمد بھی اسی کے قائل ہیں، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے جانور کے جانور سے ادھار بیچنے کی اجازت دی ہے۔ اور یہی شافعی، اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن مثنى حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن حماد بن سلمة، عن قتادة، عن الحسن، عن سمرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيية . قال وفي الباب عن ابن عباس وجابر وابن عمر . قال ابو عيسى حديث سمرة حديث حسن صحيح . وسماع الحسن من سمرة صحيح هكذا قال علي بن المديني وغيره . والعمل على هذا عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم في بيع الحيوان بالحيوان نسيية وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة وبه يقول احمد . وقد رخص بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم في بيع الحيوان بالحيوان نسيية وهو قول الشافعي واسحاق
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جانور کو ایک جانوروں سے ادھار بیچنا درست نہیں ہے، ہاتھوں ہاتھ ( نقد ) بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا ابو عمار الحسين بن حريث، حدثنا عبد الله بن نمير، عن الحجاج، وهو ابن ارطاة عن ابي الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الحيوان اثنان بواحد لا يصلح نسييا ولا باس به يدا بيد " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جان سکے کہ یہ غلام ہے۔ اتنے میں اس کا مالک آ گیا وہ اس کا مطالبہ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تم اسے مجھ سے بیچ دو، چنانچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد آپ کسی سے اس وقت تک بیعت نہیں لیتے تھے جب تک کہ اس سے دریافت نہ کر لیتے کہ کیا وہ غلام ہے؟ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ ایک غلام کو دو غلام سے نقدا نقد خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور جب ادھار ہو تو اس میں اختلاف ہے۔
حدثنا قتيبة، اخبرنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، قال جاء عبد فبايع النبي صلى الله عليه وسلم على الهجرة ولا يشعر النبي صلى الله عليه وسلم انه عبد فجاء سيده يريده فقال النبي صلى الله عليه وسلم " بعنيه " . فاشتراه بعبدين اسودين ثم لم يبايع احدا بعد حتى يساله اعبد هو قال وفي الباب عن انس . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم انه لا باس بعبد بعبدين يدا بيد . واختلفوا فيه اذا كان نسييا
عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سونے کو سونے سے، چاندی کو چاندی سے، کھجور کو کھجور سے، گیہوں کو گیہوں سے، نمک کو نمک سے اور جو کو جو سے برابر برابر بیچو، جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سود کا معاملہ کیا۔ سونے کو چاندی سے نقداً نقد، جیسے چاہو بیچو، گیہوں کو کھجور سے نقداً نقد جیسے چاہو بیچو، اور جو کو کھجور سے نقداً نقد جیسے چاہو بیچو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کو خالد سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں یہ ہے کہ گیہوں کو جو سے نقدا نقد جیسے چاہو بیچو، ۳- بعض لوگوں نے اس حدیث کو خالد سے اور خالد نے ابوقلابہ سے اور ابوقلابہ نے ابوالاشعث سے اور ابوالاشعث نے عبادہ سے اور عبادہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا ہے: خالد کہتے ہیں: ابوقلابہ نے کہا: گیہوں کو جو سے جیسے سے چاہو بیچو۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی، ۴- اس باب میں ابوسعید، ابوہریرہ، بلال اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۵- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ لوگ گیہوں کو گیہوں سے اور جو کو جو سے صرف برابر برابر ہی بیچنے کو جائز سمجھتے ہیں اور جب اجناس مختلف ہو جائیں تو کمی، بیشی کے ساتھ بیچنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ بیع نقداً نقد ہو۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا یہی قول ہے۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ شافعی کہتے ہیں: اس کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ جو کو گیہوں سے نقدا نقد جیسے چاہو بیچو، ۶- اہل علم کی ایک جماعت نے جو سے بھی گیہوں کے بیچنے کو مکروہ سمجھا ہے، الا یہ کہ وزن میں مساوی ہوں، پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا سويد بن نصر، حدثنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا سفيان، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن ابي الاشعث، عن عبادة بن الصامت، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الذهب بالذهب مثلا بمثل والفضة بالفضة مثلا بمثل والتمر بالتمر مثلا بمثل والبر بالبر مثلا بمثل والملح بالملح مثلا بمثل والشعير بالشعير مثلا بمثل فمن زاد او ازداد فقد اربى بيعوا الذهب بالفضة كيف شيتم يدا بيد وبيعوا البر بالتمر كيف شيتم يدا بيد وبيعوا الشعير بالتمر كيف شيتم يدا بيد " . قال وفي الباب عن ابي سعيد وابي هريرة وبلال وانس . قال ابو عيسى حديث عبادة حديث حسن صحيح . وقد روى بعضهم هذا الحديث عن خالد بهذا الاسناد وقال " بيعوا البر بالشعير كيف شيتم يدا بيد " . وروى بعضهم هذا الحديث عن خالد عن ابي قلابة عن ابي الاشعث عن عبادة عن النبي صلى الله عليه وسلم الحديث وزاد فيه قال خالد قال ابو قلابة " بيعوا البر بالشعير كيف شيتم " فذكر الحديث . والعمل على هذا عند اهل العلم لا يرون ان يباع البر بالبر الا مثلا بمثل والشعير بالشعير الا مثلا بمثل فاذا اختلف الاصناف فلا باس ان يباع متفاضلا اذا كان يدا بيد . وهذا قول اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق . قال الشافعي والحجة في ذلك قول النبي صلى الله عليه وسلم " بيعوا الشعير بالبر كيف شيتم يدا بيد " . قال ابو عيسى وقد كره قوم من اهل العلم ان تباع الحنطة بالشعير الا مثلا بمثل . وهو قول مالك بن انس والقول الاول اصح
نافع کہتے ہیں کہ میں اور ابن عمر دونوں ابو سعید خدری رضی الله عنہم کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( اسے میرے دونوں کانوں نے آپ سے سنا ) : ”سونے کو سونے سے برابر برابر ہی بیچو اور چاندی کو چاندی سے برابر برابر ہی بیچو۔ ایک کو دوسرے سے کم و بیش نہ کیا جائے اور غیر موجود کو موجود سے نہ بیچو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رباء کے سلسلہ میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر، عمر، عثمان، ابوہریرہ، ہشام بن عامر، براء، زید بن ارقم، فضالہ بن عبید، ابوبکرہ، ابن عمر، ابودرداء اور بلال رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ۴- مگر وہ جو ابن عباس رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ وہ سونے کو سونے سے اور چاندی کو چاندی سے کمی بیشی کے ساتھ بیچنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے، جب کہ بیع نقدا نقد ہو، اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ سود تو ادھار بیچنے میں ہے اور ایسا ہی کچھ ان کے بعض اصحاب سے بھی مروی ہے، ۵- اور ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ ابو سعید خدری نے جب ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی تو انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، اور ابن مبارک کہتے ہیں: صرف ۱؎ میں اختلاف نہیں ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، اخبرنا حسين بن محمد، اخبرنا شيبان، عن يحيى بن ابي كثير، عن نافع، قال انطلقت انا وابن، عمر الى ابي سعيد فحدثنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سمعته اذناى هاتان يقول " لا تبيعوا الذهب بالذهب الا مثلا بمثل والفضة بالفضة الا مثلا بمثل لا يشف بعضه على بعض ولا تبيعوا منه غايبا بناجز " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي بكر وعمر وعثمان وابي هريرة وهشام بن عامر والبراء وزيد بن ارقم وفضالة بن عبيد وابي بكرة وابن عمر وابي الدرداء وبلال . قال وحديث ابي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم في الربا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم الا ما روي عن ابن عباس انه كان لا يرى باسا ان يباع الذهب بالذهب متفاضلا والفضة بالفضة متفاضلا اذا كان يدا بيد . وقال انما الربا في النسيية . وكذلك روي عن بعض اصحابه شيء من هذا وقد روي عن ابن عباس انه رجع عن قوله حين حدثه ابو سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه وسلم . والقول الاول اصح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول سفيان الثوري وابن المبارك والشافعي واحمد واسحاق . وروي عن ابن المبارك انه قال ليس في الصرف اختلاف
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں بقیع کے بازار میں اونٹ بیچا کرتا تھا، میں دیناروں سے بیچتا تھا، اس کے بدلے چاندی لیتا تھا، اور چاندی سے بیچتا تھا اور اس کے بدلے دینار لیتا تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ حفصہ رضی الله عنہا کے گھر سے نکل رہے ہیں تو میں نے آپ سے اس کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا: ”قیمت کے ساتھ ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہم اس حدیث کو صرف سماک بن حرب ہی کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- سماک نے اسے سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عمر سے روایت کی ہے اور داود بن ابی ھند نے یہ حدیث سعید بن جبیر سے اور سعید نے ابن عمر سے موقوفاً روایت کی ہے، ۳- بعض اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ اگر کوئی سونا کے بدلے چاندی لے یا چاندی کے بدلے سونا لے، تو کوئی حرج نہیں ہے۔ یہی احمد اور اسحاق کا بھی قول ہے، ۴- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے اسے مکروہ جانا ہے۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حماد بن سلمة، عن سماك بن حرب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عمر، قال كنت ابيع الابل بالبقيع فابيع بالدنانير فاخذ مكانها الورق وابيع بالورق فاخذ مكانها الدنانير فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجدته خارجا من بيت حفصة فسالته عن ذلك فقال " لا باس به بالقيمة " . قال ابو عيسى هذا حديث لا نعرفه مرفوعا الا من حديث سماك بن حرب عن سعيد بن جبير عن ابن عمر . وروى داود بن ابي هند هذا الحديث عن سعيد بن جبير عن ابن عمر موقوفا . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم ان لا باس ان يقتضي الذهب من الورق والورق من الذهب . وهو قول احمد واسحاق . وقد كره بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ذلك
مالک بن اوس بن حدثان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں ( بازار میں ) یہ کہتے ہوئے آیا: درہموں کو ( دینار وغیرہ سے ) کون بدلے گا؟ تو طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ نے کہا اور وہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے پاس تھے: ہمیں اپنا سونا دکھاؤ، اور جب ہمارا خادم آ جائے تو ہمارے پاس آ جاؤ ہم ( اس کے بدلے ) تمہیں چاندی دے دیں گے۔ ( یہ سن کر ) عمر رضی الله عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا تم اسے چاندی ہی دو ورنہ اس کا سونا ہی لوٹا دو، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سونے کے بدلے چاندی لینا سود ہے، الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو ۱؎، گیہوں کے بدلے گیہوں لینا سود ہے، الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو، جو کے بدلے جو لینا سود ہے الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو، اور کھجور کے بدلے کھجور لینا سود ہے الا یہ کہ ایک ہاتھ سے دو، دوسرے ہاتھ سے لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ «إلاھاء وھاء» کا مفہوم ہے نقدا نقد۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن مالك بن اوس بن الحدثان، انه قال اقبلت اقول من يصطرف الدراهم فقال طلحة بن عبيد الله وهو عند عمر بن الخطاب ارنا ذهبك ثم ايتنا اذا جاء خادمنا نعطك ورقك . فقال عمر كلا والله لتعطينه ورقه او لتردن اليه ذهبه فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الورق بالذهب ربا الا هاء وهاء والبر بالبر ربا الا هاء وهاء والشعير بالشعير ربا الا هاء وهاء والتمر بالتمر ربا الا هاء وهاء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم . ومعنى قوله " الا هاء وهاء " يقول يدا بيد
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے «تأبیر» ۱؎ ( پیوند کاری ) کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہو گا ۲؎ الا یہ کہ خریدنے والا ( خریدتے وقت پھل کی ) شرط لگا لے۔ اور جس نے کوئی ایسا غلام خریدا جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( خریدتے وقت مال کی ) شرط لگا لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسی طرح اور بھی طرق سے بسند «عن الزهري عن سالم عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت ہے آپ نے فرمایا: ”جس نے پیوند کاری کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( درخت کے ساتھ پھل کی بھی ) شرط لگا لے اور جس نے کوئی ایسا غلام خریدا جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( غلام کے ساتھ مال کی بھی ) شرط لگا لے“، ۳- یہ نافع سے بھی مروی ہے انہوں نے ابن عمر سے اور ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے کھجور کا کوئی درخت خریدا جس کی پیوند کاری کی جا چکی ہو تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( درخت کے ساتھ پھل کی بھی ) شرط لگا لے“، ۴- نافع سے مروی ہے وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جس نے کوئی غلام بیچا جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بیچنے والے ہی کا ہو گا الا یہ کہ خریدنے والا ( غلام کے ساتھ مال کی بھی ) شرط لگا لے، ۵- اسی طرح عبیداللہ بن عمر وغیرہ نے نافع سے دونوں حدیثیں روایت کی ہیں، ۶- نیز بعض لوگوں نے یہ حدیث نافع سے، نافع نے ابن عمر سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۷- عکرمہ بن خالد نے ابن عمر سے ابن عمر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سالم کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔ ۸- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ زہری کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «عن سالم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ہے، ۹- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۱۰- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من ابتاع نخلا بعد ان توبر فثمرتها للذي باعها الا ان يشترط المبتاع ومن ابتاع عبدا وله مال فماله للذي باعه الا ان يشترط المبتاع " . قال وفي الباب عن جابر . وحديث ابن عمر حديث حسن صحيح . هكذا روي من غير وجه عن الزهري عن سالم عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " من ابتاع نخلا بعد ان توبر فثمرتها للبايع الا ان يشترط المبتاع ومن باع عبدا وله مال فماله للبايع الا ان يشترط المبتاع " . وقد روي عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ابتاع نخلا قد ابرت فثمرتها للبايع الا ان يشترط المبتاع " . وقد روي عن نافع عن ابن عمر عن عمر انه قال من باع عبدا وله مال فماله للبايع الا ان يشترط المبتاع . هكذا روى عبيد الله بن عمر وغيره عن نافع الحديثين . وقد روى بعضهم هذا الحديث عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم ايضا . وروى عكرمة بن خالد عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو حديث سالم . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . قال محمد بن اسماعيل حديث الزهري عن سالم عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم اصح ما جاء في هذا الباب