Loading...

Loading...
کتب
۱۱۷ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے اور فسخ کرنے کا اختیار ہے ۱؎ یا وہ دونوں اختیار کی شرط کر لیں“ ۲؎۔ نافع کہتے ہیں: جب ابن عمر رضی الله عنہما کوئی چیز خریدتے اور بیٹھے ہوتے تو کھڑے ہو جاتے تاکہ بیع واجب ( پکی ) ہو جائے ( اور اختیار باقی نہ رہے ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبرزہ، حکیم بن حزام، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمرو، سمرہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ تفرق سے مراد جسمانی جدائی ہے نہ کہ قولی جدائی، یعنی مجلس سے جدائی مراد ہے گفتگو کا موضوع بدلنا مراد نہیں، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «مالم يتفرقا» سے مراد قولی جدائی ہے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ ابن عمر رضی الله عنہما نے ہی اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اور وہ اپنی روایت کردہ حدیث کا معنی زیادہ جانتے ہیں اور ان سے مروی ہے کہ جب وہ بیع واجب ( پکی ) کرنے کا ارادہ کرتے تو ( مجلس سے اٹھ کر ) چل دیتے تاکہ بیع واجب ہو جائے، ۵- ابوبرزہ رضی الله عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى الكوفي، حدثنا ابن فضيل، عن يحيى بن سعيد، عن نافع، عن ابن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا او يختارا " . قال فكان ابن عمر اذا ابتاع بيعا وهو قاعد قام ليجب له البيع . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي برزة وحكيم بن حزام وعبد الله بن عباس وعبد الله بن عمرو وسمرة وابي هريرة قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول الشافعي واحمد واسحق وقالوا الفرقة بالابدان لا بالكلام وقد قال بعض اهل العلم معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم ما لم يتفرقا يعني الفرقة بالكلام والقول الاول اصح لان ابن عمر هو روى عن النبي صلى الله عليه وسلم وهو اعلم بمعنى ما روى وروي عنه انه كان اذا اراد ان يوجب البيع مشى ليجب له وهكذا روي عن ابي برزة الاسلمي
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع ( بیچنے والا ) اور مشتری ( خریدار ) جب تک جدا نہ ہوں ۱؎ دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کر دینے کا اختیار ہے، اگر وہ دونوں سچ کہیں اور سامان خوبی اور خرابی واضح کر دیں تو ان کی بیع میں برکت دی جائے گی اور اگر ان دونوں نے عیب کو چھپایا اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان کی بیع کی برکت ختم کر دی جائے گی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسی طرح ابوبرزہ اسلمی سے بھی مروی ہے کہ دو آدمی ایک گھوڑے کی بیع کرنے کے بعد اس کا مقدمہ لے کر ان کے پاس آئے، وہ لوگ ایک کشتی میں تھے۔ ابوبرزہ نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ تم دونوں جدا ہوئے ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بائع اور مشتری کو جب تک ( مجلس سے ) جدا نہ ہوں اختیار ہے“، ۳- اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم اس طرف گئے ہیں کہ جدائی قول سے ہو گی، یہی سفیان ثوری کا قول ہے، اور اسی طرح مالک بن انس سے بھی مروی ہے، ۴- اور ابن مبارک کا کہنا ہے کہ میں اس مسلک کو کیسے رد کر دوں؟ جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد حدیث صحیح ہے، ۵- اور انہوں نے اس کو قوی کہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول «إلا بيع الخيار» کا مطلب یہ ہے کہ بائع مشتری کو بیع کے واجب کرنے کے بعد اختیار دیدے، پھر جب مشتری بیع کو اختیار کر لے تو اس کے بعد اس کو بیع فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہو گا، اگرچہ وہ دونوں جدا نہ ہوئے ہوں۔ اسی طرح شافعی وغیرہ نے اس کی تفسیر کی ہے، ۶- اور جو لوگ جسمانی جدائی ( تفرق بالابدان ) کے قائل ہیں ان کے قول کو عبداللہ بن عمرو کی حدیث تقویت دے رہی ہے جسے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ( آگے ہی آ رہی ہے ) ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن قتادة، عن صالح ابي الخليل، عن عبد الله بن الحارث، عن حكيم بن حزام، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا فان صدقا وبينا بورك لهما في بيعهما وان كتما وكذبا محقت بركة بيعهما " . هذا حديث صحيح . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابي برزة وحكيم بن حزام وعبد الله بن عباس وعبد الله بن عمرو وسمرة وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث ابن عمر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم وهو قول الشافعي واحمد واسحاق وقالوا الفرقة بالابدان لا بالكلام . وقد قال بعض اهل العلم معنى قول النبي صلى الله عليه وسلم " ما لم يتفرقا " . يعني الفرقة بالكلام . والقول الاول اصح لان ابن عمر هو روى عن النبي صلى الله عليه وسلم وهو اعلم بمعنى ما روى وروي عنه انه كان اذا اراد ان يوجب البيع مشى ليجب له . وهكذا روي عن ابي برزة الاسلمي ان رجلين اختصما اليه في فرس بعد ما تبايعا . وكانوا في سفينة فقال لا اراكما افترقتما وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا " . وقد ذهب بعض اهل العلم من اهل الكوفة وغيرهم الى ان الفرقة بالكلام وهو قول سفيان الثوري وهكذا روي عن مالك بن انس . وروي عن ابن المبارك انه قال كيف ارد هذا والحديث فيه عن النبي صلى الله عليه وسلم صحيح . وقوى هذا المذهب . ومعنى قول النبي صلى الله عليه وسلم " الا بيع الخيار " . معناه ان يخير البايع المشتري بعد ايجاب البيع فاذا خيره فاختار البيع فليس له خيار بعد ذلك في فسخ البيع وان لم يتفرقا . هكذا فسره الشافعي وغيره . ومما يقوي قول من يقول الفرقة بالابدان لا بالكلام حديث عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں ان کو اختیار ہے الا یہ کہ بیع خیار ہو ( تب جدا ہونے کے بعد بھی واپسی کا اختیار باقی رہتا ہے ) ، اور بائع کے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنے ساتھی ( مشتری ) سے اس ڈر سے جدا ہو جائے کہ وہ بیع کو فسخ کر دے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور اس کا معنی یہی ہے کہ بیع کے بعد وہ مشتری سے جدا ہو جائے اس ڈر سے کہ وہ اسے فسخ کر دے گا اور اگر جدائی صرف کلام سے ہو جاتی، اور بیع کے بعد مشتری کو اختیار نہ ہوتا تو اس حدیث کا کوئی معنی نہ ہو گا جو کہ آپ نے فرمایا ہے: ”بائع کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ مشتری سے اس ڈر سے جدا ہو جائے کہ وہ اس کی بیع کو فسخ کر دے گا“۔
اخبرنا بذلك، قتيبة بن سعيد حدثنا الليث بن سعد، عن ابن عجلان، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " البيعان بالخيار ما لم يتفرقا الا ان تكون صفقة خيار ولا يحل له ان يفارق صاحبه خشية ان يستقيله " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن . ومعنى هذا ان يفارقه بعد البيع خشية ان يستقيله ولو كانت الفرقة بالكلام ولم يكن له خيار بعد البيع لم يكن لهذا الحديث معنى حيث قال صلى الله عليه وسلم " ولا يحل له ان يفارقه خشية ان يستقيله
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بائع اور مشتری بیع ( کی مجلس ) سے رضا مندی کے ساتھ ہی جدا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا ابو احمد، حدثنا يحيى بن ايوب، وهو البجلي الكوفي قال سمعت ابا زرعة بن عمرو بن جرير، يحدث عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يتفرقن عن بيع الا عن تراض " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع کے بعد ایک اعرابی کو اختیار دیا۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
حدثنا عمر بن حفص الشيباني، حدثنا ابن وهب، عن ابن جريج، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم خير اعرابيا بعد البيع . وهذا حديث حسن غريب
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی خرید و فروخت کرنے میں بودا ۱؎ تھا اور وہ ( اکثر ) خرید و فروخت کرتا تھا، اس کے گھر والے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ان لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کو ( خرید و فروخت سے ) روک دیجئیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا اور اسے اس سے منع فرما دیا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بیع سے باز رہنے پر صبر نہیں کر سکوں گا، آپ نے فرمایا: ” ( اچھا ) جب تم بیع کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ ایک ہاتھ سے دو اور دوسرے ہاتھ سے لو اور کوئی دھوکہ دھڑی نہیں ۲؎“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ آزاد شخص کو خرید و فروخت سے اس وقت روکا جا سکتا ہے جب وہ ضعیف العقل ہو، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۴- اور بعض لوگ آزاد بالغ کو بیع سے روکنے کو درست نہیں سمجھتے ہیں ۳؎۔
حدثنا يوسف بن حماد البصري، حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، عن انس، ان رجلا، كان في عقدته ضعف وكان يبايع وان اهله اتوا النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله احجر عليه . فدعاه نبي الله صلى الله عليه وسلم فنهاه فقال يا رسول الله اني لا اصبر عن البيع . فقال " اذا بايعت فقل هاء وهاء ولا خلابة " . قال ابو عيسى وفي الباب عن ابن عمر . وحديث انس حديث حسن صحيح غريب . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم وقالوا يحجر على الرجل الحر في البيع والشراء اذا كان ضعيف العقل . وهو قول احمد واسحاق . ولم ير بعضهم ان يحجر على الحر البالغ
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی ایسا جانور خریدا جس کا دودھ تھن میں ( کئی دنوں سے ) روک دیا گیا ہو، تو جب وہ اس کا دودھ دو ہے تو اسے اختیار ہے اگر وہ چاہے تو ایک صاع کھجور کے ساتھ اس کو واپس کر دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں انس اور ایک اور صحابی سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن حماد بن سلمة، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من اشترى مصراة فهو بالخيار اذا حلبها ان شاء ردها ورد معها صاعا من تمر " . قال ابو عيسى وفي الباب عن انس ورجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی ایسا جانور خریدا جس کا دودھ تھن میں روک دیا گیا ہو تو اسے تین دن تک اختیار ہے۔ اگر وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کوئی غلہ بھی واپس کرے جو گیہوں نہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہمارے اصحاب کا اسی پر عمل ہے۔ ان ہی میں شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔ آپ کے قول «لا سمراء» کا مطلب «لابُرّ» ہے یعنی گیہوں نہ ہو ( کھانے کی کوئی اور چیز ہو، پچھلی حدیث میں کھجور کا تذکرہ ہے ) ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عامر، حدثنا قرة بن خالد، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اشترى مصراة فهو بالخيار ثلاثة ايام فان ردها رد معها صاعا من طعام لا سمراء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . والعمل على هذا الحديث عند اصحابنا منهم الشافعي واحمد واسحاق . ومعنى قوله " لا سمراء " . يعني لا بر
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے ( راستے میں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک اونٹ بیچا اور اپنے گھر والوں تک سوار ہو کر جانے کی شرط رکھی لگائی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ اور بھی سندوں سے جابر سے مروی ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ بیع میں شرط کو جائز سمجھتے ہیں جب شرط ایک ہو۔ یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے، ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ بیع میں شرط جائز نہیں ہے اور جب اس میں شرط ہو تو بیع تام نہیں ہو گی۔
حدثنا ابن ابي عمر، حدثنا وكيع، عن زكريا، عن الشعبي، عن جابر بن عبد الله، انه باع من النبي صلى الله عليه وسلم بعيرا واشترط ظهره الى اهله . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح وقد روي من غير وجه عن جابر . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم . يرون الشرط في البيع جايزا اذا كان شرطا واحدا . وهو قول احمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم لا يجوز الشرط في البيع ولا يتم البيع اذا كان فيه شرط
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سواری کا جانور جب رہن رکھا ہو تو اس پر سواری کی جائے اور دودھ والا جانور جب گروی رکھا ہو تو اس کا دودھ پیا جائے، اور جو سواری کرے اور دودھ پیے جانور کا خرچ اسی کے ذمہ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ہم اسے بروایت عامر شعبی ہی مرفوع جانتے ہیں، انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو اعمش سے روایت کیا ہے اور اعمش نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے موقوفا روایت کی ہے، ۳- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ اور یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے، ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ رہن سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا درست نہیں ہے۔
حدثنا ابو كريب، ويوسف بن عيسى، قالا حدثنا وكيع، عن زكريا، عن عامر، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الظهر يركب اذا كان مرهونا ولبن الدر يشرب اذا كان مرهونا وعلى الذي يركب ويشرب نفقته " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح لا نعرفه مرفوعا الا من حديث عامر الشعبي عن ابي هريرة . وقد روى غير واحد هذا الحديث عن الاعمش عن ابي صالح عن ابي هريرة موقوفا . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم وهو قول احمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم ليس له ان ينتفع من الرهن بشيء
فضالہ بن عبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا، جس میں سونے اور جواہرات جڑے ہوئے تھے، میں نے انہیں ( توڑ کر ) جدا جدا کیا تو مجھے اس میں بارہ دینار سے زیادہ ملے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ” ( سونے اور جواہرات جڑے ہوئے ہار ) نہ بیچے جائیں جب تک انہیں جدا جدا نہ کر لیا جائے“۔ اسی طرح مؤلف نے قتیبہ سے اسی سند سے حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ چاندی جڑی ہوئی تلوار یا کمر بند یا اسی جیسی دوسرے چیزوں کو درہم سے فروخت کرنا درست نہیں سمجھتے ہیں، جب تک کہ ان سے چاندی الگ نہ کر لی جائے۔ ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ ۳- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ ( لونڈی ) کو خریدنا چاہا، تو بریرہ کے مالکوں نے ولاء ۱؎ کی شرط لگائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ سے فرمایا: ”تم اسے خرید لو، ( اور آزاد کر دو ) اس لیے کہ ولاء تو اسی کا ہو گا جو قیمت ادا کرے، یا جو نعمت ( آزاد کرنے ) کا مالک ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر رضی الله عنہما سے بھی حدیث مروی ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، انها ارادت ان تشتري، بريرة فاشترطوا الولاء فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اشتريها فانما الولاء لمن اعطى الثمن او لمن ولي النعمة " . قال وفي الباب عن ابن عمر . قال ابو عيسى حديث عايشة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم . قال ومنصور بن المعتمر يكنى ابا عتاب . حدثنا ابو بكر العطار البصري عن علي بن المديني قال سمعت يحيى بن سعيد يقول اذا حدثت عن منصور فقد ملات يدك من الخير لا ترد غيره . ثم قال يحيى ما اجد في ابراهيم النخعي ومجاهد اثبت من منصور . قال واخبرني محمد عن عبد الله بن ابي الاسود قال قال عبد الرحمن بن مهدي منصور اثبت اهل الكوفة
حکیم بن حزام رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک دینار میں قربانی کا جانور خریدنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے قربانی کا ایک جانور خریدا ( پھر اسے دو دینار میں بیچ دیا ) ، اس میں انہیں ایک دینار کا فائدہ ہوا، پھر انہوں نے اس کی جگہ ایک دینار میں دوسرا جانور خریدا، قربانی کا جانور اور ایک دینار لے کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ نے فرمایا: ”بکری کی قربانی کر دو اور دینار کو صدقہ کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: حکیم بن حزام کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور میرے نزدیک جبیب بن ابی ثابت کا سماع حکیم بن حزام سے ثابت نہیں ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن ابي حصين، عن حبيب بن ابي ثابت، عن حكيم بن حزام، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث حكيم بن حزام يشتري له اضحية بدينار فاشترى اضحية فاربح فيها دينارا فاشترى اخرى مكانها فجاء بالاضحية والدينار الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ضح بالشاة وتصدق بالدينار " . قال ابو عيسى حديث حكيم بن حزام لا نعرفه الا من هذا الوجه . وحبيب بن ابي ثابت لم يسمع عندي من حكيم بن حزام
عروہ بارقی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری خریدنے کے لیے مجھے ایک دینار دیا، تو میں نے اس سے دو بکریاں خریدیں، پھر ان میں سے ایک کو ایک دینار میں بیچ دیا اور ایک بکری اور ایک دینار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے تمام معاملہ بیان کیا اور آپ نے فرمایا: ”اللہ تمہیں تمہارے ہاتھ کے سودے میں برکت دے“، پھر اس کے بعد وہ کوفہ کے کناسہ کی طرف جاتے اور بہت زیادہ منافع کماتے تھے۔ چنانچہ وہ کوفہ کے سب سے زیادہ مالدار آدمی بن گئے۔ مؤلف نے احمد بن سعید دارمی کے طرق سے زبیر بن خریت سے اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں اور وہ اسی کے قائل ہیں اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ بعض اہل علم نے اس حدیث کو نہیں لیا ہے، انہیں لوگوں میں شافعی اور حماد بن زید سعید بن زید کے بھائی ہیں۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب مکاتب غلام کسی دیت یا میراث کا مستحق ہو تو اسی کے مطابق وہ حصہ پائے گا جتنا وہ آزاد کیا جا چکا ہے“، نیز آپ نے فرمایا: ”مکاتب جتنا زر کتابت ادا کر چکا ہے اتنی آزادی کے مطابق دیت دیا جائے گا اور جو باقی ہے اس کے مطابق غلام کی دیت دیا جائے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے، ۲- اسی طرح یحییٰ بن ابی کثیر نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۴- لیکن خالد الحذاء نے بھی عکرمہ سے ( روایت کی ہے مگر ان کے مطابق ) عکرمہ نے علی رضی الله عنہ کے قول سے روایت کی ہے، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی ہے وہ غلام ہے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله البزاز، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حماد بن سلمة، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اصاب المكاتب حدا او ميراثا ورث بحساب ما عتق منه " . وقال النبي صلى الله عليه وسلم " يودي المكاتب بحصة ما ادى دية حر وما بقي دية عبد " . قال وفي الباب عن ام سلمة . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن . وهكذا روى يحيى بن ابي كثير عن عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم . وروى خالد الحذاء عن عكرمة عن علي قوله . والعمل على هذا الحديث عند بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم . وقال اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم المكاتب عبد ما بقي عليه درهم . وهو قول سفيان الثوري والشافعي واحمد واسحاق
عبداللہ بن عمر و رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ کے دوران کہتے سنا: ”جو اپنے غلام سے سو اوقیہ ( بارہ سو درہم ) پر مکاتبت کرے اور وہ دس اوقیہ کے علاوہ تمام ادا کر دے پھر باقی کی ادائیگی سے وہ عاجز رہے تو وہ غلام ہی رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- حجاج بن ارطاۃ نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب تک مکاتب پر کچھ بھی زر کتابت باقی ہے وہ غلام ہی رہے گا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن يحيى بن ابي انيسة، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب يقول " من كاتب عبده على ماية اوقية فاداها الا عشر اواق او قال عشرة دراهم ثم عجز فهو رقيق " . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . والعمل عليه عند اكثر اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم ان المكاتب عبد ما بقي عليه شيء من كتابته . وقد روى الحجاج بن ارطاة عن عمرو بن شعيب نحوه
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے مکاتب غلام کے پاس اتنی رقم ہو کہ وہ زر کتابت ادا کر سکے تو اسے اس سے پردہ کرنا چاہیئے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم کا اس حدیث پر عمل ازراہ ورع و تقویٰ اور احتیاط ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ مکاتب غلام جب تک زر کتابت نہ ادا کر دے آزاد نہیں ہو گا اگرچہ اس کے پاس زر کتابت ادا کرنے کے لیے رقم موجود ہو۔
حدثنا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي، قال حدثنا سفيان بن عيينة، عن الزهري، عن نبهان، مولى ام سلمة عن ام سلمة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان عند مكاتب احداكن ما يودي فلتحتجب منه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . ومعنى هذا الحديث عند اهل العلم على التورع وقالوا لا يعتق المكاتب وان كان عنده ما يودي حتى يودي
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ( قرض دار ) آدمی مفلس ہو جائے اور ( قرض دینے والا ) آدمی اپنا سامان اس کے پاس بعینہ پائے تو وہ اس سامان کا دوسرے سے زیادہ مستحق ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سمرہ اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، اور بعض اہل علم کہتے ہیں: وہ بھی دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہو گا، یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يحيى بن سعيد، عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن عمر بن عبد العزيز، عن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " ايما امري افلس ووجد رجل سلعته عنده بعينها فهو اولى بها من غيره " . قال وفي الباب عن سمرة وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم هو اسوة الغرماء . وهو قول اهل الكوفة
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک یتیم کی شراب تھی، جب سورۃ المائدہ نازل ہوئی ( جس میں شراب کی حرمت مذکور ہے ) تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا اور عرض کیا کہ وہ ایک یتیم کی ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اسے بہا دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور بھی سندوں سے یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے، ۳- اس باب میں انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے، ۴- بعض اہل علم اسی کے قائل ہیں، یہ لوگ شراب کا سرکہ بنانے کو مکروہ سمجھتے ہیں، اس وجہ سے اسے مکروہ قرار دیا گیا ہے کہ مسلمان کے گھر میں شراب رہے یہاں تک کہ وہ سرکہ بن جائے۔ «واللہ اعلم»، ۵- بعض لوگوں نے شراب کے سرکہ کی اجازت دی ہے جب وہ خود سرکہ بن جائے۔
حدثنا علي بن خشرم، اخبرنا عيسى بن يونس، عن مجالد، عن ابي الوداك، عن ابي سعيد، قال كان عندنا خمر ليتيم فلما نزلت المايدة سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عنه وقلت انه ليتيم . فقال " اهريقوه " . قال وفي الباب عن انس بن مالك . قال ابو عيسى حديث ابي سعيد حديث حسن وقد روي من غير وجه عن النبي صلى الله عليه وسلم نحو هذا . وقال بهذا بعض اهل العلم وكرهوا ان تتخذ الخمر خلا وانما كره من ذلك والله اعلم ان يكون المسلم في بيته خمر حتى يصير خلا . ورخص بعضهم في خل الخمر اذا وجد قد صار خلا . ابو الوداك اسمه جبر بن نوف
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے امانت لوٹاؤ ۱؎ اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ ( بھی ) خیانت نہ کرو“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی کا کسی دوسرے کے ذمہ کوئی چیز ہو اور وہ اسے لے کر چلا جائے پھر اس جانے والے کی کوئی چیز اس کے ہاتھ میں آئے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس میں سے اتنا روک لے جتنا وہ اس کالے کر گیا ہے، ۳- تابعین میں سے بعض اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے، اور یہی ثوری کا بھی قول ہے، وہ کہتے ہیں: اگر اس کے ذمہ درہم ہو اور ( بطور امانت ) اس کے پاس اس کے دینار آ گئے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے دراہم کے بدلے اسے روک لے، البتہ اس کے پاس اس کے دراہم آ جائیں تو اس وقت اس کے لیے درست ہو گا کہ اس کے دراہم میں سے اتنا روک لے جتنا اس کے ذمہ اس کا ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا طلق بن غنام، عن شريك، وقيس، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اد الامانة الى من ايتمنك ولا تخن من خانك " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن غريب . وقد ذهب بعض اهل العلم الى هذا الحديث وقالوا اذا كان للرجل على اخر شيء فذهب به فوقع له عنده شيء فليس له ان يحبس عنه بقدر ما ذهب له عليه . ورخص فيه بعض اهل العلم من التابعين . وهو قول الثوري وقال ان كان له عليه دراهم فوقع له عنده دنانير فليس له ان يحبس بمكان دراهمه الا ان يقع عنده له دراهم فله حينيذ ان يحبس من دراهمه بقدر ما له عليه