احادیث
#1239
سنن ترمذی - Business
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک غلام آیا اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں جان سکے کہ یہ غلام ہے۔ اتنے میں اس کا مالک آ گیا وہ اس کا مطالبہ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: تم اسے مجھ سے بیچ دو، چنانچہ آپ نے اسے دو کالے غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد آپ کسی سے اس وقت تک بیعت نہیں لیتے تھے جب تک کہ اس سے دریافت نہ کر لیتے کہ کیا وہ غلام ہے؟ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ ایک غلام کو دو غلام سے نقدا نقد خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور جب ادھار ہو تو اس میں اختلاف ہے۔
حدثنا قتيبة، اخبرنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، قال جاء عبد فبايع النبي صلى الله عليه وسلم على الهجرة ولا يشعر النبي صلى الله عليه وسلم انه عبد فجاء سيده يريده فقال النبي صلى الله عليه وسلم " بعنيه " . فاشتراه بعبدين اسودين ثم لم يبايع احدا بعد حتى يساله اعبد هو قال وفي الباب عن انس . قال ابو عيسى حديث جابر حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم انه لا باس بعبد بعبدين يدا بيد . واختلفوا فيه اذا كان نسييا
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Business
- Hadith Index
- #1239
- Book Index
- 39
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirSahih
- Al-AlbaniSahih Hadith
- Bashar Awad MaaroufHasan Sahih
- Zubair Ali ZaiSahih Muslim
