Loading...

Loading...
کتب
۱۱۷ احادیث
سوید بن قیس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور مخرمہ عبدی دونوں مقام ہجر سے ایک کپڑا لے آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے ہم سے ایک پائجامے کا مول بھاؤ کیا۔ میرے پاس ایک تولنے ولا تھا جو اجرت لے کر تولتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تولنے والے سے فرمایا: ”جھکا کر تول“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سوید رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل علم جھکا کر تولنے کو مستحب سمجھتے ہیں، ۳- اس باب میں جابر اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۴- اور شعبہ نے بھی اس حدیث کو سماک سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے «عن سوید بن قیس» کی جگہ «عن ابی صفوان» کہا ہے پھر آگے حدیث ذکر کی ہے۔
حدثنا هناد، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن سماك بن حرب، عن سويد بن قيس، قال جلبت انا ومخرفة العبدي، بزا من هجر فجاءنا النبي صلى الله عليه وسلم فساومنا بسراويل وعندي وزان يزن بالاجر فقال النبي صلى الله عليه وسلم للوزان " زن وارجح " . قال وفي الباب عن جابر وابي هريرة . قال ابو عيسى حديث سويد حديث حسن صحيح . واهل العلم يستحبون الرجحان في الوزن . وروى شعبة هذا الحديث عن سماك فقال عن ابي صفوان وذكر الحديث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی تنگ دست ( قرض دار ) کو مہلت دے یا اس کا کچھ قرض معاف کر دے، تو اللہ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ کے نیچے جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابویسر ( کعب بن عمرو ) ، ابوقتادہ، حذیفہ، ابن مسعود، عبادہ اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا اسحاق بن سليمان الرازي، عن داود بن قيس، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من انظر معسرا او وضع له اظله الله يوم القيامة تحت ظل عرشه يوم لا ظل الا ظله " . قال وفي الباب عن ابي اليسر وابي قتادة وحذيفة وابن مسعود وعبادة وجابر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح غريب من هذا الوجه
ابومسعود انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلی امتوں میں سے ایک آدمی کا حساب ( اس کی موت کے بعد ) لیا گیا، تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ملی، سوائے اس کے کہ وہ ایک مالدار آدمی تھا، لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ ( تقاضے کے وقت ) تنگ دست سے درگزر کریں، تو اللہ تعالیٰ نے ( فرشتوں سے ) فرمایا: ہم اس سے زیادہ اس کے ( درگزر کے ) حقدار ہیں، تم لوگ اسے معاف کر دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن ابي مسعود، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " حوسب رجل ممن كان قبلكم فلم يوجد له من الخير شيء الا انه كان رجلا موسرا وكان يخالط الناس وكان يامر غلمانه ان يتجاوزوا عن المعسر فقال الله عز وجل نحن احق بذلك منه تجاوزوا عنه " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح . وابو اليسر كعب بن عمرو
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: ”مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۱؎ اور جب تم میں سے کوئی کسی مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی اسے قبول کرے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابن عمر اور شرید بن سوید ثقفی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مطل الغني ظلم واذا اتبع احدكم على ملي فليتبع " . قال وفي الباب عن ابن عمر والشريد بن سويد الثقفي
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ اور جب تم کسی مالدار کے حوالے کئے جاؤ تو اسے قبول کر لو، اور ایک بیع میں دو بیع نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی قرض وصول کرنے میں کسی مالدار کے حوالے کیا جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، ۳- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب آدمی کو کسی مالدار کے حوالے کیا جائے اور وہ حوالہ قبول کر لے تو حوالے کرنے والا بری ہو جائے گا اور قرض خواہ کے لیے درست نہیں کہ پھر حوالے کرنے والے کی طرف پلٹے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں: کہ «محتال علیہ» ”جس آدمی کی طرف تحویل کیا گیا ہے“، کے مفلس ہو جانے کی وجہ سے اس کے مال کے ڈوب جانے کا خطرہ ہو تو قرض خواہ کے لیے جائز ہو گا کہ وہ پہلے کی طرف لوٹ جائے، ان لوگوں نے اس بات پر عثمان رضی الله عنہ وغیرہ کے قول سے استدلال کیا ہے کہ مسلمان کا مال ضائع نہیں ہوتا ہے، ۵- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اس حدیث «ليس على مال مسلم توي» ”مسلمان کا مال ضائع نہیں ہوتا ہے“، کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی قرض خواہ کسی کے حوالے کیا گیا اور اسے مالدار سمجھ رہا ہو لیکن درحقیقت وہ غریب ہو تو ایسی صورت میں مسلمان کا مال ضائع نہ ہو گا ( اور وہ اصل قرض دار سے اپنا مال طلب کر سکتا ہے ) ۔
حدثنا ابراهيم بن عبد الله الهروي، قال حدثنا هشيم، قال حدثنا يونس بن عبيد، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مطل الغني ظلم واذا احلت على مليء فاتبعه ولا تبع بيعتين في بيعة " . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . ومعناه انه اذا احيل احدكم على ملي فليتبع . فقال بعض اهل العلم اذا احيل الرجل على ملي فاحتاله فقد بري المحيل وليس له ان يرجع على المحيل . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وقال بعض اهل العلم اذا توي مال هذا بافلاس المحال عليه فله ان يرجع على الاول . واحتجوا بقول عثمان وغيره حين قالوا ليس على مال مسلم توى . قال اسحاق معنى هذا الحديث " ليس على مال مسلم توى " . هذا اذا احيل الرجل على اخر وهو يرى انه ملي فاذا هو معدم فليس على مال مسلم توى
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع منابذہ اور بیع ملامسہ سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے: جب میں تمہاری طرف یہ چیز پھینک دوں تو میرے اور تمہارے درمیان بیع واجب ہو جائے گی۔ ( یہ منابذہ کی صورت ہے ) اور ملامسہ یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے: جب میں یہ چیز چھولوں تو بیع واجب ہو جائے گی اگرچہ وہ سامان کو بالکل نہ دیکھ رہا ہو۔ مثلاً تھیلے وغیرہ میں ہو۔ یہ دونوں جاہلیت کی مروج بیعوں میں سے تھیں لہٰذا آپ نے اس سے منع فرمایا ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، ومحمود بن غيلان، قالا حدثنا وكيع، عن سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع المنابذة والملامسة . قال وفي الباب عن ابي سعيد وابن عمر . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . ومعنى هذا الحديث ان يقول اذا نبذت اليك الشىء فقد وجب البيع بيني وبينك . والملامسة ان يقول اذا لمست الشىء فقد وجب البيع وان كان لا يرى منه شييا مثل ما يكون في الجراب او غير ذلك وانما كان هذا من بيوع اهل الجاهلية فنهى عن ذلك
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور اہل مدینہ پھلوں میں سلف کیا کرتے تھے یعنی قیمت پہلے ادا کر دیتے تھے، آپ نے فرمایا: ”جو سلف کرے وہ متعین ناپ تول اور متعین مدت میں سلف کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی اور عبدالرحمٰن بن ابزی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ غلہ، کپڑا، اور جن چیزوں کی حد اور صفت معلوم ہو اس کی خریداری کے لیے پیشگی رقم دینے کو جائز کہتے ہیں، ۴- جانور خریدنے کے لیے پیشگی رقم دینے میں اختلاف ہے، ۵- بعض اہل علم جانور خریدنے کے لیے پیشگی رقم دینے کو جائز کہتے ہیں۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے جانور خریدنے کے لیے پیشگی دینے کو مکروہ سمجھا ہے۔ سفیان اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
حدثنا احمد بن منيع، حدثنا سفيان، عن ابن ابي نجيح، عن عبد الله بن كثير، عن ابي المنهال، عن ابن عباس، قال قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وهم يسلفون في الثمر فقال " من اسلف فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم الى اجل معلوم " . قال وفي الباب عن ابن ابي اوفى وعبد الرحمن بن ابزى . قال ابو عيسى حديث ابن عباس حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم اجازوا السلف في الطعام والثياب وغير ذلك مما يعرف حده وصفته واختلفوا في السلم في الحيوان فراى بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم السلم في الحيوان جايزا . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وكره بعض اهل العلم من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم السلم في الحيوان . وهو قول سفيان الثوري واهل الكوفة . ابو المنهال اسمه عبد الرحمن بن مطعم
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی کے باغ میں کوئی ساجھی دار ہو تو وہ اپنا حصہ اس وقت تک نہ بیچے جب تک کہ اسے اپنے ساجھی دار پر پیش نہ کر لے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: سلیمان یشکری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں مر گئے تھے، ان سے قتادہ اور ابوبشر کا سماع نہیں ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں نہیں جانتا ہوں کہ ان میں سے کسی نے سلیمان یشکری سے کچھ سنا ہو سوائے عمرو بن دینار کے، شاید انہوں نے جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں سلیمان یشکری سے حدیث سنی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ قتادہ، سلیمان یشکری کی کتاب سے حدیث روایت کرتے تھے، سلیمان کے پاس ایک کتاب تھی جس میں جابر بن عبداللہ سے مروی احادیث لکھی تھیں، ۳- سلیمان تمیمی کہتے ہیں: لوگ جابر بن عبداللہ کی کتاب حسن بصری کے پاس لے گئے تو انہوں نے اسے لیا یا اس کی روایت کی۔ اور لوگ اسے قتادہ کے پاس لے گئے تو انہوں نے بھی اس کی روایت کی اور میرے پاس لے کر آئے تو میں نے اس کی روایت نہیں کی میں نے اسے رد کر دیا۔
حدثنا علي بن خشرم، حدثنا عيسى بن يونس، عن سعيد، عن قتادة، عن سليمان اليشكري، عن جابر بن عبد الله، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " من كان له شريك في حايط فلا يبيع نصيبه من ذلك حتى يعرضه على شريكه " . قال ابو عيسى هذا حديث اسناده ليس بمتصل . سمعت محمدا يقول سليمان اليشكري يقال انه مات في حياة جابر بن عبد الله . قال ولم يسمع منه قتادة ولا ابو بشر . قال محمد ولا نعرف لاحد منهم سماعا من سليمان اليشكري الا ان يكون عمرو بن دينار فلعله سمع منه في حياة جابر بن عبد الله . قال وانما يحدث قتادة عن صحيفة سليمان اليشكري وكان له كتاب عن جابر بن عبد الله . حدثنا ابو بكر العطار عبد القدوس قال قال علي بن المديني قال يحيى بن سعيد قال سليمان التيمي ذهبوا بصحيفة جابر بن عبد الله الى الحسن البصري فاخذها او قال فرواها وذهبوا بها الى قتادة فرواها واتوني بها فلم اروها . يقول رددتها
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ، مزابنہ ۱؎، مخابرہ ۲؎ اور معاومہ ۳؎ سے منع فرمایا، اور آپ نے عرایا ۴؎ کی اجازت دی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا ايوب، عن ابي الزبير، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن المحاقلة والمزابنة والمخابرة والمعاومة ورخص في العرايا . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( غلہ وغیرہ کا ) نرخ بڑھ گیا، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمارے لیے نرخ مقرر کر دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، وہی روزی تنگ کرنے والا، کشادہ کرنے والا اور کھولنے والا اور بہت روزی دینے والا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جان و مال کے سلسلے میں کسی ظلم ( کے بدلے ) کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا الحجاج بن منهال، حدثنا حماد بن سلمة، عن قتادة، وثابت، وحميد، عن انس، قال غلا السعر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله سعر لنا . فقال " ان الله هو المسعر القابض الباسط الرزاق واني لارجو ان القى ربي وليس احد منكم يطلبني بمظلمة في دم ولا مال " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کر دیا، آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں تو آپ نے فرمایا: ”غلہ والے! یہ کیا معاملہ ہے؟“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش سے بھیگ گیا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے اوپر کیوں نہیں کر دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”جو دھوکہ دے ۱؎، ہم میں سے نہیں ہے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲ – اس باب میں ابن عمر، ابوحمراء، ابن عباس، بریدہ، ابوبردہ بن دینار اور حذیفہ بن یمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ دھوکہ دھڑی کو ناپسند کرتے ہیں اور اسے حرام کہتے ہیں۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا اسماعيل بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام فادخل يده فيها فنالت اصابعه بللا فقال " يا صاحب الطعام ما هذا " . قال اصابته السماء يا رسول الله . قال " افلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس " . ثم قال " من غش فليس منا " . قال وفي الباب عن ابن عمر وابي الحمراء وابن عباس وبريدة وابي بردة بن نيار وحذيفة بن اليمان . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . والعمل على هذا عند اهل العلم كرهوا الغش وقالوا الغش حرام
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا اور آپ نے اسے اس سے بہتر اونٹ دیا اور فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے شعبہ اور سفیان نے بھی سلمہ سے روایت کیا ہے، ۳- اس باب میں ابورافع رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۴- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کسی بھی عمر کا اونٹ قرض لینے کو مکروہ نہیں سمجھتے ہیں، ۵- اور بعض لوگوں نے اسے مکروہ جانا ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا وكيع، عن علي بن صالح، عن سلمة بن كهيل، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال استقرض رسول الله صلى الله عليه وسلم سنا فاعطاه سنا خيرا من سنه وقال " خياركم احاسنكم قضاء " . قال وفي الباب عن ابي رافع . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن صحيح . وقد رواه شعبة وسفيان عن سلمة . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم لم يروا باستقراض السن باسا من الابل . وهو قول الشافعي واحمد واسحاق . وكره بعضهم ذلك
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( قرض کا ) تقاضہ کیا اور سختی کی، صحابہ نے اسے دفع کرنے کا قصد کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، کیونکہ حقدار کو کہنے کا حق ہے“، پھر آپ نے فرمایا: ”اسے ایک اونٹ خرید کر دے دو“، لوگوں نے تلاش کیا تو انہیں ایسا ہی اونٹ ملا جو اس کے اونٹ سے بہتر تھا، آپ نے فرمایا: ”اسی کو خرید کر دے دو، کیونکہ تم میں بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں“۔
ابورافع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا، پھر آپ کے پاس صدقے کا اونٹ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آدمی کا اونٹ ادا کر دوں، میں نے آپ سے عرض کیا: مجھے چار دانتوں والے ایک عمدہ اونٹ کے علاوہ کوئی اور اونٹ نہیں مل رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اسے اسی کو دے دو، کیونکہ لوگوں میں سب سے اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں سب سے اچھے ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدثنا عبد بن حميد، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا مالك بن انس، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي رافع، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال استسلف رسول الله صلى الله عليه وسلم بكرا فجاءته ابل من الصدقة . قال ابو رافع فامرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اقضي الرجل بكره . فقلت لا اجد في الابل الا جملا خيارا رباعيا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعطه اياه فان خيار الناس احسنهم قضاء " . قال ابو عيسى هذا حديث حسن صحيح
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بیچنے، خریدنے اور قرض کے مطالبہ میں نرمی و آسانی کو پسند کرتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض لوگوں نے اس حدیث کو بسند «عن يونس عن سعيد المقبري عن أبي هريرة» روایت کی ہے، ۳- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا اسحاق بن سليمان الرازي، عن مغيرة بن مسلم، عن يونس، عن الحسن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله يحب سمح البيع سمح الشراء سمح القضاء " . قال وفي الباب عن جابر . قال ابو عيسى هذا حديث غريب . وقد روى بعضهم هذا الحديث عن يونس عن سعيد المقبري عن ابي هريرة
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جو تم سے پہلے تھا بخش دیا، جو نرمی کرنے والا تھا جب بیچتا اور جب خریدتا اور جب قرض کا مطالبہ کرتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس طریق سے حسن، صحیح، غریب ہے۔
حدثنا عباس بن محمد الدوري، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، اخبرنا اسراييل، عن زيد بن عطاء بن السايب، عن محمد بن المنكدر، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " غفر الله لرجل كان قبلكم كان سهلا اذا باع سهلا اذا اشترى سهلا اذا اقتضى " . قال هذا حديث صحيح حسن غريب من هذا الوجه
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں گمشدہ چیز ( کا اعلان کرتے ہوئے اسے ) تلاش کرتا ہو تو کہو: اللہ تمہاری چیز تمہیں نہ لوٹائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ مسجد میں خرید و فروخت ناجائز سمجھتے ہیں۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ۳- بعض اہل علم نے اس میں خرید و فروخت کی رخصت دی ہے ۱؎۔
حدثنا الحسن بن علي الخلال، حدثنا عارم، حدثنا عبد العزيز بن محمد، اخبرنا يزيد بن خصيفة، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا رايتم من يبيع او يبتاع في المسجد فقولوا لا اربح الله تجارتك واذا رايتم من ينشد فيه ضالة فقولوا لا رد الله عليك " . قال ابو عيسى حديث ابي هريرة حديث حسن غريب . والعمل على هذا عند بعض اهل العلم كرهوا البيع والشراء في المسجد . وهو قول احمد واسحاق . وقد رخص بعض اهل العلم في البيع والشراء في المسجد