احادیث
#1286
سنن ترمذی - Business
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ فائدہ کا استحقاق ضامن ہونے کی بنیاد پر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث ہشام بن عروہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل نے اس حدیث کو عمر بن علی کی روایت سے غریب جانا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا آپ کی نظر میں اس میں تدلیس ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، ۳- مسلم بن خالد زنجی نے اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے۔ ۴- جریر نے بھی اسے ہشام سے روایت کیا ہے، ۵- اور کہا جاتا ہے کہ جریر کی حدیث میں تدلیس ہے، اس میں جریر نے تدلیس کی ہے، انہوں نے اسے ہشام بن عروہ سے نہیں سنا ہے، ۶- «الخراج بالضمان» کی تفسیر یہ ہے کہ آدمی غلام خریدے اور اس سے مزدوری کرائے پھر اس میں کوئی عیب دیکھے اور اس کو بیچنے والے کے پاس لوٹا دے، تو غلام کی جو مزدوری اور فائدہ ہے وہ خریدنے والے کا ہو گا۔ اس لیے کہ اگر غلام ہلاک ہو جاتا تو مشتری ( خریدار ) کا مال ہلاک ہوتا۔ یہ اور اس طرح کے مسائل میں فائدہ کا استحقاق ضامن ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
حدثنا ابو سلمة، يحيى بن خلف اخبرنا عمر بن علي المقدمي، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى ان الخراج بالضمان . قال هذا حديث حسن صحيح غريب من حديث هشام بن عروة . قال ابو عيسى استغرب محمد بن اسماعيل هذا الحديث من حديث عمر بن علي . قلت تراه تدليسا قال لا . قال ابو عيسى وقد روى مسلم بن خالد الزنجي هذا الحديث عن هشام بن عروة ورواه جرير عن هشام ايضا . وحديث جرير يقال تدليس دلس فيه جرير . لم يسمعه من هشام بن عروة . وتفسير الخراج بالضمان هو الرجل يشتري العبد فيستغله ثم يجد به عيبا فيرده على البايع فالغلة للمشتري لان العبد لو هلك هلك من مال المشتري . ونحو هذا من المسايل يكون فيه الخراج بالضمان . قال ابو عيسى استغرب محمد بن اسمعيل هذا الحديث من حديث عمر بن علي قلت تراه تدليسا قال لا
Metadata
- Edition
- سنن ترمذی
- Book
- Business
- Hadith Index
- #1286
- Book Index
- 88
Grades
- Ahmad Muhammad ShakirHasan
- Al-AlbaniHasan
- Bashar Awad MaaroufHasan
- Zubair Ali ZaiHasan
