Loading...

Loading...
کتب
۱۴۰ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سو بار: «رب اغفر لي وتب علي إنك أنت التواب الرحيم» اے میرے رب! مجھے بخش دے، میری توبہ قبول کر، تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے کہنے کو شمار کرتے تھے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو اسامة، عن مالك بن مغول، عن محمد بن سوقة، عن نافع، عن ابن عمر، قال ان كنا لنعد لرسول الله صلى الله عليه وسلم في المجلس الواحد ماية مرة " رب اغفر لي وتب على انك انت التواب الرحيم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے«أستغفر الله الذي لا إله إلا هو الحي القيوم وأتوب إليه» کہا تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے اگرچہ وہ میدان جنگ سے بھاگ گیا ہو ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حفص بن عمر الشني، حدثني ابي عمر بن مرة، قال سمعت بلال بن يسار بن زيد، مولى النبي صلى الله عليه وسلم قال سمعت ابي يحدثنيه عن جدي انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " من قال استغفر الله الذي لا اله الا هو الحى القيوم واتوب اليه غفر له وان كان فر من الزحف
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی استغفار کا التزام کر لے ۱؎ تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الحكم بن مصعب، حدثنا محمد بن علي بن عبد الله بن عباس، عن ابيه، انه حدثه عن ابن عباس، انه حدثه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من لزم الاستغفار جعل الله له من كل ضيق مخرجا ومن كل هم فرجا ورزقه من حيث لا يحتسب
عبدالعزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا زیادہ مانگا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وق قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا زیادہ مانگا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ یہ دعا مانگا کرتے تھے: «اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» اے ہمارے رب! ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں بھلائی عطا کر اور جہنم کے عذاب سے بچا لے ( البقرہ: ۲۰۱ ) ۔ زیاد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے: انس جب دعا کا قصد کرتے تو یہی دعا مانگتے اور جب کوئی اور دعا مانگنا چاہتے تو اسے بھی اس میں شامل کر لیتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، ح وحدثنا زياد بن ايوب، حدثنا اسماعيل، - المعنى - عن عبد العزيز بن صهيب، قال سال قتادة انسا اى دعوة كان يدعو بها رسول الله صلى الله عليه وسلم اكثر قال كان اكثر دعوة يدعو بها " اللهم ربنا اتنا في الدنيا حسنة وفي الاخرة حسنة وقنا عذاب النار " . وزاد زياد وكان انس اذا اراد ان يدعو بدعوة دعا بها واذا اراد ان يدعو بدعاء دعا بها فيها
سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ سے سچے دل سے شہادت مانگے گا، اللہ اسے شہداء کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اسے اپنے بستر پر موت آئے ۔
حدثنا يزيد بن خالد الرملي، حدثنا ابن وهب، حدثنا عبد الرحمن بن شريح، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من سال الله الشهادة صادقا بلغه الله منازل الشهداء وان مات على فراشه
اسماء بن حکم فزاری کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: میں ایسا آدمی تھا کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تو جس قدر اللہ کو منظور ہوتا اتنی وہ میرے لیے نفع بخش ہوتی اور جب میں کسی صحابی سے کوئی حدیث سنتا تو میں اسے قسم دلاتا، جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی بات مان لیتا، مجھ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: کوئی بندہ ایسا نہیں ہے جو گناہ کرے پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعتیں ادا کرے، پھر استغفار کرے تو اللہ اس کے گناہ معاف نہ کر دے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی«والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم ذكروا الله *** إلى آخر الآية» ۱؎ جو لوگ برا کام کرتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں پھر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ ۔ ۔ آیت کے اخیر تک ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن عثمان بن المغيرة الثقفي، عن علي بن ربيعة الاسدي، عن اسماء بن الحكم الفزاري، قال سمعت عليا، - رضي الله عنه - يقول كنت رجلا اذا سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا نفعني الله منه بما شاء ان ينفعني واذا حدثني احد من اصحابه استحلفته فاذا حلف لي صدقته قال وحدثني ابو بكر وصدق ابو بكر - رضى الله عنه - انه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ما من عبد يذنب ذنبا فيحسن الطهور ثم يقوم فيصلي ركعتين ثم يستغفر الله الا غفر الله له " . ثم قرا هذه الاية { والذين اذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسهم ذكروا الله } الى اخر الاية
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: اے معاذ! قسم اللہ کی، میں تم سے محبت کرتا ہوں، قسم اللہ کی میں تم سے محبت کرتا ہوں ، پھر فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں: ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا کبھی نہ چھوڑنا: «اللهم أعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك» اے اللہ! اپنے ذکر، شکر اور اپنی بہترین عبادت کے سلسلہ میں میری مدد فرما ۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے صنابحی کو اور صنابحی نے ابوعبدالرحمٰن کو اس کی وصیت کی۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، حدثنا حيوة بن شريح، قال سمعت عقبة بن مسلم، يقول حدثني ابو عبد الرحمن الحبلي، عن الصنابحي، عن معاذ بن جبل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذ بيده وقال " يا معاذ والله اني لاحبك والله اني لاحبك " . فقال " اوصيك يا معاذ لا تدعن في دبر كل صلاة تقول اللهم اعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك " . واوصى بذلك معاذ الصنابحي واوصى به الصنابحي ابا عبد الرحمن
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں ۱؎۔
حدثنا محمد بن سلمة المرادي، حدثنا ابن وهب، عن الليث بن سعد، ان حنين بن ابي حكيم، حدثه عن على بن رباح اللخمي، عن عقبة بن عامر، قال امرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ان اقرا بالمعوذات دبر كل صلاة
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین تین بار دعا مانگنا اور تین تین بار استغفار کرنا اچھا لگتا تھا۔
حدثنا احمد بن علي بن سويد السدوسي، حدثنا ابو داود، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعجبه ان يدعو ثلاثا ويستغفر ثلاثا
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں چند ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تم مصیبت کے وقت یا مصیبت میں کہا کرو «الله الله ربي لا أشرك به شيئًا» یعنی اللہ ہی میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہلال، عمر بن عبدالعزیز کے غلام ہیں، اور ابن جعفر سے مراد عبداللہ بن جعفر ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن عبد العزيز بن عمر، عن هلال، عن عمر بن عبد العزيز، عن ابن جعفر، عن اسماء بنت عميس، قالت قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا اعلمك كلمات تقولينهن عند الكرب او في الكرب الله الله ربي لا اشرك به شييا " . قال ابو داود هذا هلال مولى عمر بن عبد العزيز وابن جعفر هو عبد الله بن جعفر
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، جب لوگ مدینہ کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تکبیر کہی اور اپنی آوازیں بلند کیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! تم کسی بہرے یا غائب کو آواز نہیں دے رہے ہو، بلکہ جسے تم پکار رہے ہو وہ تمہارے اور تمہاری سواریوں کی گردنوں کے درمیان ہے ۱؎ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوموسیٰ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ ، میں نے عرض کیا: وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ «لا حول ولا قوة إلا بالله» ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت، وعلي بن زيد، وسعيد الجريري، عن ابي عثمان النهدي، ان ابا موسى الاشعري، قال كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فلما دنوا من المدينة كبر الناس ورفعوا اصواتهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ايها الناس انكم لا تدعون اصم ولا غايبا ان الذي تدعونه بينكم وبين اعناق ركابكم " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا موسى الا ادلك على كنز من كنوز الجنة " . فقلت وما هو قال " لا حول ولا قوة الا بالله
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ایک پہاڑی پر چڑھ رہے تھے، ایک شخص تھا، وہ جب بھی پہاڑی پر چڑھتا تو «لا إله إلا الله والله أكبر» پکارتا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو ۔ پھر فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سليمان التيمي، عن ابي عثمان، عن ابي موسى الاشعري، انهم كانوا مع النبي صلى الله عليه وسلم وهم يتصعدون في ثنية فجعل رجل كلما علا الثنية نادى لا اله الا الله والله اكبر . فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم " انكم لا تنادون اصم ولا غايبا " . ثم قال " يا عبد الله بن قيس " . فذكر معناه
اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث روایت کی ہے البتہ اس میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنے اوپر آسانی کرو ۔
حدثنا ابو صالح، محبوب بن موسى اخبرنا ابو اسحاق الفزاري، عن عاصم، عن ابي عثمان، عن ابي موسى، بهذا الحديث وقال فيه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ايها الناس اربعوا على انفسكم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کہے: «رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا» میں اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوا تو جنت اس کے لیے واجب گئی ۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا ابو الحسين، زيد بن الحباب حدثنا عبد الرحمن بن شريح الاسكندراني، حدثني ابو هاني الخولاني، انه سمع ابا علي الجنبي، انه سمع ابا سعيد الخدري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قال رضيت بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد رسولا وجبت له الجنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ پر ایک بار درود ( صلاۃ ) بھیجے گا اللہ اس پر دس رحمت نازل کرے گا ۔
حدثنا سليمان بن داود العتكي، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من صلى على واحدة صلى الله عليه عشرا
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ قبر میں بوسیدہ ہو چکے ہوں گے تو ہمارے درود ( صلاۃ ) آپ پر کیسے پیش کئے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کرام کے جسم حرام کر دئیے ہیں ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا الحسين بن علي الجعفي، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن ابي الاشعث الصنعاني، عن اوس بن اوس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان من افضل ايامكم يوم الجمعة فاكثروا على من الصلاة فيه فان صلاتكم معروضة على " . قال فقالوا يا رسول الله وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد ارمت قال يقولون بليت . قال " ان الله تبارك وتعالى حرم على الارض اجساد الانبياء صلى الله عليهم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ نہ اپنے لیے بد دعا کرو اور نہ اپنی اولاد کے لیے، نہ اپنے خادموں کے لیے اور نہ ہی اپنے اموال کے لیے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھڑی ایسی ہو جس میں دعا قبول ہوتی ہو اور اللہ تمہاری بد دعا قبول کر لے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث متصل ہے کیونکہ عبادہ بن ولید کی ملاقات جابر بن عبداللہ سے ہے۔
حدثنا هشام بن عمار، ويحيى بن الفضل، وسليمان بن عبد الرحمن، قالوا حدثنا حاتم بن اسماعيل، حدثنا يعقوب بن مجاهد ابو حزرة، عن عبادة بن الوليد بن عبادة بن الصامت، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تدعوا على انفسكم ولا تدعوا على اولادكم ولا تدعوا على خدمكم ولا تدعوا على اموالكم لا توافقوا من الله تبارك وتعالى ساعة نيل فيها عطاء فيستجيب لكم " . قال ابو داود هذا الحديث متصل الاسناد فان عبادة بن الوليد بن عبادة لقي جابرا
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میرے اور میرے شوہر کے لیے رحمت کی دعا فرما دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «صلى الله عليك وعلى زوجك» اللہ تجھ پر اور تیرے شوہر پر رحمت نازل فرمائے ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا ابو عوانة، عن الاسود بن قيس، عن نبيح العنزي، عن جابر بن عبد الله، ان امراة، قالت للنبي صلى الله عليه وسلم صل على وعلى زوجي . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " صلى الله عليك وعلى زوجك
ام الدرادء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں مجھ سے میرے شوہر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب کوئی اپنے بھائی کے لیے غائبانے ( غائبانہ ) میں دعا کرتا ہے تو فرشتے آمین کہتے ہیں اور کہتے ہیں: تیرے لیے بھی اسی جیسا ہو ۔
حدثنا رجاء بن المرجى، حدثنا النضر بن شميل، اخبرنا موسى بن ثروان، حدثني طلحة بن عبيد الله بن كريز، حدثتني ام الدرداء، قالت حدثني سيدي ابو الدرداء، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا دعا الرجل لاخيه بظهر الغيب قالت الملايكة امين ولك بمثل
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے جلد قبول ہونے والی دعا وہ ہے جو غائب کسی غائب کے لیے کرے ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ابن وهب، حدثني عبد الرحمن بن زياد، عن ابي عبد الرحمن، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان اسرع الدعاء اجابة دعوة غايب لغايب