Loading...

Loading...
کتب
۱۴۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: باپ کی دعا، مسافر کی دعا، مظلوم کی دعا ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام الدستوايي، عن يحيى، عن ابي جعفر، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ثلاث دعوات مستجابات لا شك فيهن دعوة الوالد ودعوة المسافر ودعوة المظلوم
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم سے خوف ہوتا تو فرماتے: «اللهم إنا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم» اے اللہ! ہم تجھے ان کے بالمقابل کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے تیری پناہ طلب کرتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني ابي، عن قتادة، عن ابي بردة بن عبد الله، ان اباه، حدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا خاف قوما قال " اللهم انا نجعلك في نحورهم ونعوذ بك من شرورهم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ سکھاتے جیسے ہمیں قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے اور یہ دعا پڑھے:«اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولاأقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر ۱؎ خير لي في ديني ومعاشي ومعادي وعاقبة أمري فاقدره لي ويسره لي وبارك لي فيه اللهم وإن كنت تعلمه شرا لي فاصرفني عنه واصرفه عني واقدر لي الخير حيث كان ثم رضني به» اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے وسیلے سے خیر طلب کرتا ہوں، تجھ سے تیری قدرت کے وسیلے سے قوت طلب کرتا ہوں، تجھ سے تیرے بڑے فضل میں سے کچھ کا سوال کرتا ہوں، تو قدرت رکھتا ہے مجھ کو قدرت نہیں۔ تو جانتا ہے، میں نہیں جانتا، تو پوشیدہ چیزوں کا جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ یا یہ کام ۱؎ میرے واسطے دین و دنیا، آخرت اور انجام کار کے لیے بہتر ہے تو اسے میرا مقدر بنا دے اور اسے میرے لیے آسان بنا دے اور میرے لیے اس میں برکت عطا کر، اے اللہ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے دین، دنیا، آخرت اور انجام میں برا ہے تو مجھ کو اس سے پھیر دے اور اسے مجھ سے پھیر دے اور جہاں کہیں بھلائی ہو، اسے میرے لیے مقدر کر دے، پھر مجھے اس پر راضی فرما ۔ ابن مسلمہ اور ابن عیسیٰ کی روایت میں «عن محمد بن المنكدر عن جابر»ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، وعبد الرحمن بن مقاتل، خال القعنبي ومحمد بن عيسى - المعنى واحد - قالوا حدثنا عبد الرحمن بن ابي الموال، حدثني محمد بن المنكدر، انه سمع جابر بن عبد الله، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا الاستخارة كما يعلمنا السورة من القران يقول لنا " اذا هم احدكم بالامر فليركع ركعتين من غير الفريضة وليقل اللهم اني استخيرك بعلمك واستقدرك بقدرتك واسالك من فضلك العظيم فانك تقدر ولا اقدر وتعلم ولا اعلم وانت علام الغيوب اللهم ان كنت تعلم ان هذا الامر - يسميه بعينه الذي يريد - خير لي في ديني ومعاشي ومعادي وعاقبة امري فاقدره لي ويسره لي وبارك لي فيه اللهم وان كنت تعلمه شرا لي مثل الاول فاصرفني عنه واصرفه عني واقدر لي الخير حيث كان ثم رضني به " . او قال " في عاجل امري واجله " . قال ابن مسلمة وابن عيسى عن محمد بن المنكدر عن جابر
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پانچ چیزوں بزدلی، بخل، بری عمر ( پیرانہ سالی ) ، سینے کے فتنے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عمر بن الخطاب، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يتعوذ من خمس من الجبن والبخل وسوء العمر وفتنة الصدر وعذاب القبر
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من العجز، والكسل، والجبن، والبخل، والهرم، وأعوذ بك من عذاب القبر، وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی سے، سستی سے، بزدلی سے، بخل اور کنجوسی سے اور انتہائی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے ۱؎ ۔
حدثنا مسدد، اخبرنا المعتمر، قال سمعت ابي قال، سمعت انس بن مالك، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اني اعوذ بك من العجز والكسل والجبن والبخل والهرم واعوذ بك من عذاب القبر واعوذ بك من فتنة المحيا والممات
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا:«اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ۱؎ نے ذکر کیا ہے۔
حدثنا سعيد بن منصور، وقتيبة بن سعيد، قالا حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، - قال سعيد الزهري - عن عمرو بن ابي عمرو، عن انس بن مالك، قال كنت اخدم النبي صلى الله عليه وسلم فكنت اسمعه كثيرا يقول " اللهم اني اعوذ بك من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال " . وذكر بعض ما ذكره التيمي
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں یہ دعا اسی طرح سکھاتے جس طرح قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے، فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك من عذاب جهنم وأعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات» اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی آزمایشوں سے ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي الزبير المكي، عن طاوس، عن عبد الله بن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعلمهم هذا الدعاء كما يعلمهم السورة من القران يقول " اللهم اني اعوذ بك من عذاب جهنم واعوذ بك من عذاب القبر واعوذ بك من فتنة المسيح الدجال واعوذ بك من فتنة المحيا والممات
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات کے ساتھ دعا مانگتے: «اللهم إني أعوذ بك من فتنة النار، وعذاب النار، ومن شر الغنى، والفقر» اے اللہ! میں جہنم کے فتنے جہنم کے عذاب اور دولت مندی و فقر کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى، حدثنا هشام، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يدعو بهولاء الكلمات " اللهم اني اعوذ بك من فتنة النار وعذاب النار ومن شر الغنى والفقر
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الفقر، والقلة، والذلة، وأعوذ بك من أن أظلم أو أظلم» اے اللہ! میں فقر، قلت مال اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا اسحاق بن عبد الله، عن سعيد بن يسار، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول " اللهم اني اعوذ بك من الفقر والقلة والذلة واعوذ بك من ان اظلم او اظلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا تھی: «اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك، وتحويل عافيتك، وفجاءة نقمتك، وجميع سخطك» اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال سے، تیری دی ہوئی عافیت کے پلٹ جانے سے، تیرے ناگہانی عذاب سے اور تیرے ہر قسم کے غصے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
حدثنا ابن عوف، حدثنا عبد الغفار بن داود، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن موسى بن عقبة، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال كان من دعاء رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم اني اعوذ بك من زوال نعمتك وتحويل عافيتك وفجاءة نقمتك وجميع سخطك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تو فرماتے: «اللهم إني أعوذ بك من الشقاق، والنفاق، وسوء الأخلاق» اے اللہ! میں پھوٹ، نفاق اور برے اخلاق سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا بقية، حدثنا ضبارة بن عبد الله بن ابي السليك، عن دويد بن نافع، حدثنا ابو صالح السمان، قال قال ابو هريرة ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو يقول " اللهم اني اعوذ بك من الشقاق والنفاق وسوء الاخلاق
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الجوع فإنه بئس الضجيع، وأعوذ بك من الخيانة فإنها بئست البطانة» اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری ساتھی ہے، میں خیانت سے تیری پناہ مانگتا ہوں وہ بہت بری خفیہ خصلت ہے ۔
حدثنا محمد بن العلاء، عن ابن ادريس، عن ابن عجلان، عن المقبري، عن ابي هريرة، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اني اعوذ بك من الجوع فانه بيس الضجيع واعوذ بك من الخيانة فانها بيست البطانة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الأربع: من علم لا ينفع، ومن قلب لا يخشع، ومن نفس لا تشبع، ومن دعا لا يسمع» اے اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع بخش نہ ہو، ایسے دل سے جو تجھ سے خوف زدہ نہ ہو، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے یعنی قبول نہ ہو ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن اخيه، عباد بن ابي سعيد انه سمع ابا هريرة، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اني اعوذ بك من الاربع من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعاء لا يسمع
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من صلاة لا تنفع» اے اللہ! میں ایسی نماز سے جو فائدہ نہ دے تیری پناہ چاہتا ہوں اور پھر راوی نے دوسری دعا کا ذکر کیا۔
حدثنا محمد بن المتوكل، حدثنا المعتمر، قال قال ابو المعتمر ارى ان انس بن مالك، حدثنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول " اللهم اني اعوذ بك من صلاة لا تنفع " . وذكر دعاء اخر
فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں جو آپ مانگتے تھے پوچھا، انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت، ومن شر ما لم أعمل» اے اللہ! میں ہر اس کام کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے میں نے کیا ہے اور ہر اس کام کے شر سے بھی جسے میں نے نہیں کیا ہے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن فروة بن نوفل الاشجعي، قال سالت عايشة ام المومنين عما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو به قالت كان يقول " اللهم اني اعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم اعمل
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو: «االلهم إني أعوذ بك من شر سمعي، ومن شر بصري، ومن شر لساني، ومن شر قلبي، ومن شر منيي» ۱؎ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی، نظر کی برائی، زبان کی برائی، دل کی برائی اور اپنی منی کی برائی سے ۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا محمد بن عبد الله بن الزبير، ح وحدثنا احمد، حدثنا وكيع، - المعنى - عن سعد بن اوس، عن بلال العبسي، عن شتير بن شكل، عن ابيه، في حديث ابي احمد شكل بن حميد - قال - قلت يا رسول الله علمني دعاء قال " قل اللهم اني اعوذ بك من شر سمعي ومن شر بصري ومن شر لساني ومن شر قلبي ومن شر منيي
ابوالیسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الهدم، وأعوذ بك من التردي، وأعوذ بك من الغرق، والحرق والهرم، وأعوذ بك أن يتخبطني الشيطان عند الموت، وأعوذ بك أن أموت في سبيلك مدبرا، وأعوذ بك أن أموت لديغا» اے اللہ! کسی مکان یا دیوار کے اپنے اوپر گرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں اونچے مقام سے گر پڑنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں ڈوبنے، جل جانے اور بہت بوڑھا ہو جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ موت کے وقت مجھے شیطان اچک لے۔ اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیری راہ میں پیٹھ دکھا کر بھاگتے ہوئے مارا جاؤں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ کسی زہریلے جانور کے کاٹنے سے میری موت آئے ۔
حدثنا عبيد الله بن عمر، حدثنا مكي بن ابراهيم، حدثني عبد الله بن سعيد، عن صيفي، مولى افلح مولى ابي ايوب عن ابي اليسر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو " اللهم اني اعوذ بك من الهدم واعوذ بك من التردي واعوذ بك من الغرق والحرق والهرم واعوذ بك ان يتخبطني الشيطان عند الموت واعوذ بك ان اموت في سبيلك مدبرا واعوذ بك ان اموت لديغا
اس سند سے بھی ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے اس میں «والغم» کا اضافہ ہے یعنی تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى، عن عبد الله بن سعيد، حدثني مولى، لابي ايوب عن ابي اليسر، زاد فيه " والغم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من البرص، والجنون، والجذام، ومن سيئ الأسقام» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص، دیوانگی، کوڑھ اور تمام بری بیماریوں سے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، اخبرنا قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول " اللهم اني اعوذ بك من البرص والجنون والجذام ومن سيي الاسقام
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجد میں داخل ہوئے تو اچانک آپ کی نظر ایک انصاری پر پڑی جنہیں ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ابوامامہ! کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز کے وقت کے علاوہ بھی مسجد میں بیٹھا دیکھ رہا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! غموں اور قرضوں نے مجھے گھیر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں کہ جب تم انہیں کہو تو اللہ تم سے تمہارے غم غلط اور قرض ادا کر دے ، میں نے کہا: ضرور، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح و شام یہ کہا کرو: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن، وأعوذ بك من العجز والكسل، وأعوذ بك من الجبن والبخل، وأعوذ بك من غلبة الدين وقهر الرجال» اے اللہ! میں غم اور حزن سے تیری پناہ مانگتا ہوں، عاجزی و سستی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، بزدلی اور کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور قرض کے غلبہ اور لوگوں کے تسلط سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ پڑھنا شروع کیا تو اللہ نے میرا غم دور کر دیا اور میرا قرض ادا کروا دیا۔
حدثنا احمد بن عبيد الله الغداني، اخبرنا غسان بن عوف، اخبرنا الجريري، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم المسجد فاذا هو برجل من الانصار يقال له ابو امامة فقال " يا ابا امامة ما لي اراك جالسا في المسجد في غير وقت الصلاة " . قال هموم لزمتني وديون يا رسول الله . قال " افلا اعلمك كلاما اذا انت قلته اذهب الله عز وجل همك وقضى عنك دينك " . قال قلت بلى يا رسول الله . قال " قل اذا اصبحت واذا امسيت اللهم اني اعوذ بك من الهم والحزن واعوذ بك من العجز والكسل واعوذ بك من الجبن والبخل واعوذ بك من غلبة الدين وقهر الرجال " . قال ففعلت ذلك فاذهب الله عز وجل همي وقضى عني ديني