Loading...

Loading...
کتب
۱۴۰ احادیث
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا اسم اعظم ( عظیم نام ) ان دونوں آیتوں«وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ۱؎ اور سورۃ آل عمران کی ابتدائی آیت «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ۲؎ میں ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا عبيد الله بن ابي زياد، عن شهر بن حوشب، عن اسماء بنت يزيد، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اسم الله الاعظم في هاتين الايتين { والهكم اله واحد لا اله الا هو الرحمن الرحيم } وفاتحة سورة ال عمران { الم * الله لا اله الا هو الحى القيوم}
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا ایک لحاف چرا لیا گیا تو وہ اس کے چور پر بد دعا کرنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: تم اس کے گناہ میں کمی نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لا تسبخي» کا مطلب ہے «لا تخففي عنه» یعنی اس کے گناہ میں تخفیف نہ کرو۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا حفص بن غياث، عن الاعمش، عن حبيب بن ابي ثابت، عن عطاء، عن عايشة، قالت سرقت ملحفة لها فجعلت تدعو على من سرقها فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا تسبخي عنه " . قال ابو داود لا تسبخي اى لا تخففي عنه
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، جس کی آپ نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا: میرے بھائی! مجھے اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا ، آپ نے یہ ایسی بات کہی جس سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ اگر ساری دنیا اس کے بدلے مجھے مل جاتی تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔ ( راوی حدیث ) شعبہ کہتے ہیں: پھر میں اس کے بعد عاصم سے مدینہ میں ملا۔ انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی اور اس وقت «لا تنسنا يا أخى من دعائك» کے بجائے «أشركنا يا أخى في دعائك» کے الفاظ کہے اے میرے بھائی ہمیں بھی اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عاصم بن عبيد الله، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، عن عمر، - رضى الله عنه - قال استاذنت النبي صلى الله عليه وسلم في العمرة فاذن لي وقال " لا تنسنا يا اخى من دعايك " . فقال كلمة ما يسرني ان لي بها الدنيا قال شعبة ثم لقيت عاصما بعد بالمدينة فحدثنيه وقال " اشركنا يا اخى في دعايك
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک انگلی سے کرو، ایک انگلی سے کرو اور آپ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن سعد بن ابي وقاص، قال مر على النبي صلى الله عليه وسلم وانا ادعو باصبعى فقال " احد احد " . واشار بالسبابة
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک عورت ۱؎ کے پاس گئے، اس کے سامنے گٹھلیاں یا کنکریاں رکھی تھیں، جن سے وہ تسبیح گنتی تھی ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں ایک ایسی چیز بتاتا ہوں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ آسان ہے یا اس سے افضل ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس طرح کہا کرو: «سبحان الله عدد ما خلق في السماء وسبحان الله عدد ما خلق في الأرض وسبحان الله عدد ما خلق بين ذلك وسبحان الله عدد ما هو خالق والله أكبر مثل ذلك والحمد لله مثل ذلك . ولا إله إلا الله مثل ذلك . ولا حول ولا قوة إلا بالله مثل ذلك» ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو، ان سعيد بن ابي هلال، حدثه عن خزيمة، عن عايشة بنت سعد بن ابي وقاص، عن ابيها، انه دخل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على امراة وبين يديها نوى او حصى تسبح به فقال " اخبرك بما هو ايسر عليك من هذا او افضل " . فقال " سبحان الله عدد ما خلق في السماء وسبحان الله عدد ما خلق في الارض وسبحان الله عدد ما خلق بين ذلك وسبحان الله عدد ما هو خالق والله اكبر مثل ذلك والحمد لله مثل ذلك . ولا اله الا الله مثل ذلك . ولا حول ولا قوة الا بالله مثل ذلك
یسیرہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ تکبیر، تقدیس اور تہلیل کا اہتمام کیا کریں اور اس بات کا کہ وہ انگلیوں کے پوروں سے گنا کریں اس لیے کہ انگلیوں سے ( قیامت کے روز ) سوال کیا جائے گا اور وہ بولیں گی ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن هاني بن عثمان، عن حميضة بنت ياسر، عن يسيرة، اخبرتها ان النبي صلى الله عليه وسلم امرهن ان يراعين بالتكبير والتقديس والتهليل وان يعقدن بالانامل فانهن مسيولات مستنطقات
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح گنتے دیکھا ( ابن قدامہ کی روایت میں ہے ) : اپنے دائیں ہاتھ پر ۔
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، ومحمد بن قدامة، - في اخرين - قالوا حدثنا عثام، عن الاعمش، عن عطاء بن السايب، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم - يعقد التسبيح قال ابن قدامة - بيمينه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جویریہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے ( پہلے ان کا نام برہ تھا ۱؎آپ نے اسے بدل دیا ) ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر آئے تب بھی وہ اپنے مصلیٰ پر تھیں اور جب واپس اندر گئے تب بھی وہ مصلیٰ پر تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم جب سے اپنے اسی مصلیٰ پر بیٹھی ہو؟ ، انہوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے نکل کر تین مرتبہ چار کلمات کہے ہیں، اگر ان کا وزن ان کلمات سے کیا جائے جو تم نے ( اتنی دیر میں ) کہے ہیں تو وہ ان پر بھاری ہوں گے: «سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته» میں پاکی بیان کرتا ہوں اللہ کی اور اس کی تعریف کرتا ہوں اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی مرضی کے مطابق، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر ۔
حدثنا داود بن امية، حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن عبد الرحمن، مولى ابي طلحة عن كريب، عن ابن عباس، قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من عند جويرية - وكان اسمها برة فحول اسمها - فخرج وهي في مصلاها ورجع وهي في مصلاها فقال " لم تزالي في مصلاك هذا " . قالت نعم . قال " قد قلت بعدك اربع كلمات ثلاث مرات لو وزنت بما قلت لوزنتهن سبحان الله وبحمده عدد خلقه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماته
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مال والے تو ثواب لے گئے، وہ نماز پڑھتے ہیں، جس طرح ہم پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں، البتہ ان کے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہے، جو وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے کہ ہم صدقہ کریں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں ادا کر کے تم ان لوگوں کے برابر پہنچ سکتے ہو، جو تم پر ( ثواب میں ) بازی لے گئے ہیں، اور جو ( ثواب میں ) تمہارے پیچھے ہیں تمہارے برابر نہیں ہو سکتے، سوائے اس شخص کے جو تمہارے جیسا عمل کرے ، انہوں نے کہا: ضرور، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نماز کے بعد ( ۳۳ ) بار «الله اكبر» ( ۳۳ ) بار «الحمد الله» ( ۳۳ ) بار «سبحان الله» کہا کرو، اور آخر میں «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» پڑھا کرو جو ایسا کرے گا ) اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، حدثني حسان بن عطية، قال حدثني محمد بن ابي عايشة، قال حدثني ابو هريرة، قال قال ابو ذر يا رسول الله ذهب اصحاب الدثور بالاجور يصلون كما نصلي ويصومون كما نصوم ولهم فضول اموال يتصدقون بها وليس لنا مال نتصدق به . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا ذر الا اعلمك كلمات تدرك بهن من سبقك ولا يلحقك من خلفك الا من اخذ بمثل عملك " . قال بلى يا رسول الله . قال " تكبر الله عز وجل دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين وتحمده ثلاثا وثلاثين وتسبحه ثلاثا وثلاثين وتختمها بلا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير غفرت له ذنوبه ولو كانت مثل زبد البحر
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کیا پڑھتے تھے؟ اس پر مغیرہ نے معاویہ کو لکھوا کے بھیجا، اس میں تھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو تو دے، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو تو روک دے، اسے کوئی دے نہیں سکتا اور مالدار کو اس کی مال داری نفع نہیں دے سکتی پڑھتے تھے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن المسيب بن رافع، عن وراد، مولى المغيرة بن شعبة عن المغيرة بن شعبة، كتب معاوية الى المغيرة بن شعبة اى شىء كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول اذا سلم من الصلاة فاملاها المغيرة عليه وكتب الى معاوية كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللهم لا مانع لما اعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر کہتے سنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو کہتے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون أهل النعمة والفضل والثناء الحسن، لا إله إلا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اسی کے لیے حمد ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں اگرچہ کافر برا سمجھیں، وہ احسان، فضل اور اچھی تعریف کا مستحق ہے۔ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے، ہم خالص اسی کی عبادت کرتے ہیں، اگرچہ کافر برا سمجھیں ۔
حدثنا محمد بن عيسى، قال حدثنا ابن علية، عن الحجاج بن ابي عثمان، عن ابي الزبير، قال سمعت عبد الله بن الزبير، على المنبر يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا انصرف من الصلاة يقول " لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير لا اله الا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون اهل النعمة والفضل والثناء الحسن لا اله الا الله مخلصين له الدين ولو كره الكافرون
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے بعد «لا إله إلا الله ***» کہا کرتے تھے پھر انہوں نے اس جیسی دعا کا ذکر کیا، البتہ اس میں اتنا اضافہ کیا: «ولا حول ولا قوة إلا بالله لا إله إلا الله لا نعبد إلا إياه له النعمة ***» اور پھر آگے بقیہ حدیث بیان کی۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، حدثنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابي الزبير، قال كان عبد الله بن الزبير يهلل في دبر كل صلاة فذكر نحو هذا الدعاء زاد فيه " ولا حول ولا قوة الا بالله لا اله الا الله لا نعبد الا اياه له النعمة " . وساق بقية الحديث
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا- ( سلیمان کی روایت میں اس طرح ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز کے بعد فرماتے تھے ) : «اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أنك أنت الرب وحدك لا شريك لك، اللهم ربنا ورب كل شىء أنا شهيد أن محمدا عبدك ورسولك، اللهم ربنا ورب كل شىء، أن العباد كلهم إخوة، اللهم ربنا ورب كل شىء، اجعلني مخلصا لك وأهلي في كل ساعة في الدنيا والآخرة يا ذا الجلال والإكرام اسمع واستجب [ الله أكبر الأكبر ] اللهم نور السموات والأرض، الله أكبر الأكبر، حسبي الله ونعم الوكيل الله أكبر الأكبر» اے اللہ! ہمارا رب اور ہر چیز کا رب، میں گواہ ہوں کہ تو اکیلا رب ہے، تیرا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور اے ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! میں گواہ ہوں کہ تمام بندے بھائی بھائی ہیں، اے اللہ! ہمارے رب! اور ہر چیز کے رب! مجھے اور میرے گھر والوں کو اپنا مخلص بنا لے دنیا و آخرت کی ہر ساعت میں، اے جلال، بزرگی اور عزت والے! سن لے اور قبول فرما لے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اے اللہ! تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے ( سلیمان بن داود کی روایت میں نور کے بجائے رب کا لفظ ہے ) اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے، اللہ میرے لیے کافی ہے اور بہت بہتر وکیل ہے، اللہ ہر بڑے سے بڑا ہے ۔
حدثنا مسدد، وسليمان بن داود العتكي، - وهذا حديث مسدد - قالا حدثنا المعتمر، قال سمعت داود الطفاوي، قال حدثني ابو مسلم البجلي، عن زيد بن ارقم، قال سمعت نبي الله صلى الله عليه وسلم يقول وقال سليمان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في دبر صلاته " اللهم ربنا ورب كل شىء انا شهيد انك انت الرب وحدك لا شريك لك اللهم ربنا ورب كل شىء انا شهيد ان محمدا عبدك ورسولك اللهم ربنا ورب كل شىء انا شهيد ان العباد كلهم اخوة اللهم ربنا ورب كل شىء اجعلني مخلصا لك واهلي في كل ساعة في الدنيا والاخرة يا ذا الجلال والاكرام اسمع واستجب الله اكبر الاكبر اللهم نور السموات والارض " . قال سليمان بن داود " رب السموات والارض " . " الله اكبر الاكبر حسبي الله ونعم الوكيل الله اكبر الاكبر
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو کہتے: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت، وما أسررت وما أعلنت، وما أسرفت، وما أنت أعلم به مني، أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت» اے اللہ! میرے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے اور وہ تمام گناہ جنہیں میں نے چھپ کر اور کھلم کھلا کیا ہو، اور جو زیادتی کی ہو اسے اور اس گناہ کو جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، بخش دے۔ تو جسے چاہے آگے کرے، جسے چاہے پیچھے کرے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، قال حدثنا ابي، حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، عن عمه الماجشون بن ابي سلمة، عن عبد الرحمن الاعرج، عن عبيد الله بن ابي رافع، عن علي بن ابي طالب، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا سلم من الصلاة قال " اللهم اغفر لي ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما اسرفت وما انت اعلم به مني انت المقدم وانت الموخر لا اله الا انت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگتے تھے: «رب أعني ولا تعن علي، وانصرني ولا تنصر علي، وامكر لي ولا تمكر علي، واهدني ويسر هداي إلي، وانصرني على من بغى علي، اللهم اجعلني لك شاكرا لك، ذاكرا لك، راهبا لك، مطواعا إليك مخبتا أو منيبا، رب تقبل توبتي، واغسل حوبتي، وأجب دعوتي، وثبت حجتي، واهد قلبي، وسدد لساني، واسلل سخيمة قلبي» اے میرے رب! میری مدد کر، میرے خلاف کسی کی مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف کسی کی تائید نہ کر، ایسی چال چل جو میرے حق میں ہو، نہ کہ ایسی جو میرے خلاف ہو، مجھے ہدایت دے اور جو ہدایت مجھے ملنے والی ہے، اسے مجھ تک آسانی سے پہنچا دے، اس شخص کے مقابلے میں میری مدد کر، جو مجھ پر زیادتی کرے، اے اللہ! مجھے تو اپنا شکر گزار، اپنا یاد کرنے والا اور اپنے سے ڈرنے والا بنا، اپنا اطاعت گزار، اپنی طرف گڑگڑانے والا، یا دل لگانے والا بنا، اے میرے پروردگار! میری توبہ قبول کر، میرے گناہ دھو دے، میری دعا قبول فرما، میری دلیل مضبوط کر، میرے دل کو سیدھی راہ دکھا، میری زبان کو درست کر اور میرے دل سے حسد اور کینہ نکال دے ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن عمرو بن مرة، عن عبد الله بن الحارث، عن طليق بن قيس، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعو " رب اعني ولا تعن على وانصرني ولا تنصر على وامكر لي ولا تمكر على واهدني ويسر هداى الى وانصرني على من بغى على اللهم اجعلني لك شاكرا لك ذاكرا لك راهبا لك مطواعا اليك مخبتا او منيبا رب تقبل توبتي واغسل حوبتي واجب دعوتي وثبت حجتي واهد قلبي وسدد لساني واسلل سخيمة قلبي
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن مرہ سے اسی سند سے اسی مفہوم کی روایت سنی ہے، اس میں «يسر هداي إلي» کے بجائے«يسر الهدى إلي» ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال سمعت عمرو بن مرة، باسناده ومعناه قال " ويسر الهدى الى " . ولم يقل " هداى " . قال ابو داود سمع سفيان من عمرو بن مرة قالوا ثمانية عشر حديثا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو فرماتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ۱؎ اے اللہ تو ہی سلام ہے، تیری ہی طرف سے سلام ہے، تو بڑی برکت والا ہے، اے جلال اور بزرگی والے ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان کا سماع عمرو بن مرہ سے ہے، لوگوں نے کہا ہے: انہوں نے عمرو بن مرہ سے اٹھارہ حدیثیں سنی ہیں ۲؎۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن عاصم الاحول، وخالد الحذاء، عن عبد الله بن الحارث، عن عايشة، رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا سلم قال " اللهم انت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والاكرام
ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے، اس کے بعد «اللهم» کہتے، پھر راوی نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوپر والی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عيسى، عن الاوزاعي، عن ابي عمار، عن ابي اسماء، عن ثوبان، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد ان ينصرف من صلاته استغفر ثلاث مرات ثم قال " اللهم " . فذكر معنى حديث عايشة رضى الله عنها
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو استغفار کرتا رہا اس نے گناہ پر اصرار نہیں کیا گرچہ وہ دن بھر میں ستر بار اس گناہ کو دہرائے ۱؎۔
حدثنا النفيلي، حدثنا مخلد بن يزيد، حدثنا عثمان بن واقد العمري، عن ابي نصيرة، عن مولى، لابي بكر الصديق عن ابي بكر الصديق، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما اصر من استغفر وان عاد في اليوم سبعين مرة
اغر مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے دل پر غفلت کا پردہ آ جاتا ہے، حالانکہ میں اپنے پروردگار سے ہر روز سو بار استغفار کرتا ہوں ۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومسدد، قالا حدثنا حماد، عن ثابت، عن ابي بردة، عن الاغر المزني، - قال مسدد في حديثه وكانت له صحبة - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انه ليغان على قلبي واني لاستغفر الله في كل يوم ماية مرة