Loading...

Loading...
کتب
۱۴۰ احادیث
زہری کہتے ہیں کہ یہ حروف ( اگرچہ بظاہر مختلف ہوں ) ایک ہی معاملہ سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں حلال و حرام میں اختلاف نہیں
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، قال قال الزهري انما هذه الاحرف في الامر الواحد ليس تختلف في حلال ولا حرام
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابی! مجھے قرآن پڑھایا گیا، پھر مجھ سے پوچھا گیا: ایک حرف پر یا دو حرف پر؟ میرے ساتھ جو فرشتہ تھا، اس نے کہا: کہو: دو حرف پر، میں نے کہا: دو حرف پر، پھر مجھ سے پوچھا گیا: دو حرف پر یا تین حرف پر؟ اس فرشتے نے جو میرے ساتھ تھا، کہا: کہو: تین حرف پر، چنانچہ میں نے کہا: تین حرف پر، اسی طرح معاملہ سات حروف تک پہنچا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے ہر ایک حرف شافی اور کافی ہے، چا ہے تم «سميعا عليما» کہو یا«عزيزا حكيما» جب تک تم عذاب کی آیت کو رحمت پر اور رحمت کی آیت کو عذاب پر ختم نہ کرو ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا همام بن يحيى، عن قتادة، عن يحيى بن يعمر، عن سليمان بن صرد الخزاعي، عن ابى بن كعب، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ابى اني اقريت القران فقيل لي على حرف او حرفين فقال الملك الذي معي قل على حرفين . قلت على حرفين . فقيل لي على حرفين او ثلاثة . فقال الملك الذي معي قل على ثلاثة . قلت على ثلاثة . حتى بلغ سبعة احرف ثم قال ليس منها الا شاف كاف ان قلت سميعا عليما عزيزا حكيما ما لم تختم اية عذاب برحمة او اية رحمة بعذاب
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنی غفار کے تالاب کے پاس تھے کہ آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور فرمایا: اللہ عزوجل آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ سے اس کی بخشش اور مغفرت مانگتا ہوں، میری امت اتنی طاقت نہیں رکھتی ہے ، پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اسی طرح سے کہا، یہاں تک کہ معاملہ سات حرفوں تک پہنچ گیا، تو انہوں نے کہا: اللہ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو سات حرفوں پر پڑھائیں، لہٰذا اب وہ جس حرف پر بھی پڑھیں گے وہ صحیح ہو گا ۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن مجاهد، عن ابن ابي ليلى، عن ابى بن كعب، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان عند اضاة بني غفار فاتاه جبريل صلى الله عليه وسلم فقال ان الله عز وجل يامرك ان تقري امتك على حرف . قال " اسال الله معافاته ومغفرته ان امتي لا تطيق ذلك " . ثم اتاه ثانية فذكر نحو هذا حتى بلغ سبعة احرف قال ان الله يامرك ان تقري امتك على سبعة احرف فايما حرف قرءوا عليه فقد اصابوا
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا عبادت ہے ۱؎، تمہارا رب فرماتا ہے: مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا ( سورۃ غافر: ۶۰ ) ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ذر، عن يسيع الحضرمي، عن النعمان بن بشير، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الدعاء هو العبادة { قال ربكم ادعوني استجب لكم}
سعد رضی اللہ عنہ کے ایک بیٹے سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے کہتے سنا: اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا اور اس کی نعمتوں، لذتوں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں جہنم سے، اس کی زنجیروں سے، اس کے طوقوں سے اور فلاں فلاں بلاؤں سے، تو انہوں نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دعاؤں میں مبالغہ اور حد سے تجاوز کریں گے، لہٰذا تم بچو کہ کہیں تم بھی ان میں سے نہ ہو جاؤ جب تمہیں جنت ملے گی تو اس کی ساری نعمتیں خود ہی مل جائیں گی اور اگر تم جہنم سے بچا لیے گئے تو اس کی تمام بلاؤں سے خودبخود بچا لئے جاؤ گے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن زياد بن مخراق، عن ابي نعامة، عن ابن لسعد، انه قال سمعني ابي، وانا اقول اللهم، اني اسالك الجنة ونعيمها وبهجتها وكذا وكذا واعوذ بك من النار وسلاسلها واغلالها وكذا وكذا فقال يا بنى اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " سيكون قوم يعتدون في الدعاء " . فاياك ان تكون منهم ان اعطيت الجنة اعطيتها وما فيها من الخير وان اعذت من النار اعذت منها وما فيها من الشر
صحابی رسول فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز میں دعا کرتے سنا، اس نے نہ تو اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کی اور نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ( نماز ) بھیجا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص نے جلد بازی سے کام لیا ، پھر اسے بلایا اور اس سے یا کسی اور سے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو پہلے اپنے رب کی حمد و ثنا بیان کرے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ( نماز ) بھیجے، اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا حيوة، اخبرني ابو هاني، حميد بن هاني ان ابا علي، عمرو بن مالك حدثه انه، سمع فضالة بن عبيد، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يدعو في صلاته لم يمجد الله تعالى ولم يصل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عجل هذا " . ثم دعاه فقال له او لغيره " اذا صلى احدكم فليبدا بتحميد ربه جل وعز والثناء عليه ثم يصلي على النبي صلى الله عليه وسلم ثم يدعو بعد بما شاء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جامع دعائیں ۱؎ پسند فرماتے اور جو دعا جامع نہ ہوتی اسے چھوڑ دیتے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا يزيد بن هارون، عن الاسود بن شيبان، عن ابي نوفل، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يستحب الجوامع من الدعاء ويدع ما سوى ذلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اس طرح دعا نہ مانگے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم کر، بلکہ جزم کے ساتھ سوال کرے کیونکہ اللہ پر کوئی جبر کرنے والا نہیں ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يقولن احدكم اللهم اغفر لي ان شيت اللهم ارحمني ان شيت ليعزم المسالة فانه لا مكره له
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی دعا قبول کی جاتی ہے جب تک وہ جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور یہ کہنے نہیں لگتا کہ میں نے تو دعا مانگی لیکن میری دعا قبول ہی نہیں ہوئی ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي عبيد، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يستجاب لاحدكم ما لم يعجل فيقول قد دعوت فلم يستجب لي
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیواروں پر پردہ نہ ڈالو، جو شخص اپنے بھائی کا خط اس کی اجازت کے بغیر دیکھتا ہے تو وہ جہنم میں دیکھ رہا ہے، اللہ سے سیدھی ہتھیلیوں سے دعا مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو اور جب دعا سے فارغ ہو جاؤ تو اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر پھیر لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن کعب سے کئی سندوں سے مروی ہے۔ ساری سندیں ضعیف ہیں اور یہ طریق ( سند ) سب سے بہتر ہے اور یہ بھی ضعیف ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد الملك بن محمد بن ايمن، عن عبد الله بن يعقوب بن اسحاق، عمن حدثه عن محمد بن كعب القرظي، حدثني عبد الله بن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تستروا الجدر من نظر في كتاب اخيه بغير اذنه فانما ينظر في النار سلوا الله ببطون اكفكم ولا تسالوه بظهورها فاذا فرغتم فامسحوا بها وجوهكم " . قال ابو داود روي هذا الحديث من غير وجه عن محمد بن كعب كلها واهية وهذا الطريق امثلها وهو ضعيف ايضا
مالک بن یسار سکونی عوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی سیدھی ہتھیلیوں سے مانگو اور ان کی پشت سے نہ مانگو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سلیمان بن عبدالحمید نے کہا: ہمارے نزدیک انہیں یعنی مالک بن یسار کو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے۔
حدثنا سليمان بن عبد الحميد البهراني، قال قراته في اصل اسماعيل - يعني ابن عياش - حدثني ضمضم عن شريح حدثنا ابو ظبية ان ابا بحرية السكوني حدثه عن مالك بن يسار السكوني ثم العوفي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا سالتم الله فاسالوه ببطون اكفكم ولا تسالوه بظهورها " . قال ابو داود قال سليمان بن عبد الحميد له عندنا صحبة يعني مالك بن يسار
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں طرح سے دعا مانگتے دیکھا اپنی دونوں ہتھیلیاں سیدھی کر کے بھی اور ان کی پشت اوپر کر کے بھی ۱؎۔
حدثنا عقبة بن مكرم، حدثنا سلم بن قتيبة، عن عمر بن نبهان، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو هكذا بباطن كفيه وظاهرهما
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب بہت باحیاء اور کریم ( کرم والا ) ہے، جب اس کا بندہ اس کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو انہیں خالی لوٹاتے ہوئے اسے اپنے بندے سے شرم آتی ہے ۔
حدثنا مومل بن الفضل الحراني، حدثنا عيسى، - يعني ابن يونس - حدثنا جعفر، - يعني ابن ميمون صاحب الانماط - حدثني ابو عثمان، عن سلمان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان ربكم تبارك وتعالى حيي كريم يستحيي من عبده اذا رفع يديه اليه ان يردهما صفرا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مانگنا یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے بالمقابل یا ان کے قریب اٹھاؤ، اور استغفار یہ ہے کہ تم صرف ایک انگلی سے اشارہ کرو اور ابتہال ( عاجزی و گریہ وزاری سے دعا مانگنا ) یہ ہے کہ تم اپنے دونوں ہاتھ پوری طرح پھیلا دو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، - يعني ابن خالد - حدثني العباس بن عبد الله بن معبد بن العباس بن عبد المطلب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال المسالة ان ترفع، يديك حذو منكبيك او نحوهما والاستغفار ان تشير باصبع واحدة والابتهال ان تمد يديك جميعا
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ابتہال اس طرح ہے اور انہوں نے دونوں ہاتھ اتنے بلند کئے کہ ہتھیلیوں کی پشت اپنے چہرے کے قریب کر دی۔
حدثنا عمرو بن عثمان، حدثنا سفيان، حدثني عباس بن عبد الله بن معبد بن عباس، بهذا الحديث قال فيه والابتهال هكذا ورفع يديه وجعل ظهورهما مما يلي وجهه
اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا ابراهيم بن حمزة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن العباس بن عبد الله بن معبد بن عباس، عن اخيه، ابراهيم بن عبد الله عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فذكر نحوه
یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا مانگتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرتے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابن لهيعة، عن حفص بن هاشم بن عتبة بن ابي وقاص، عن السايب بن يزيد، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا دعا فرفع يديه مسح وجهه بيديه
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کہتے سنا: «اللهم إني أسألك أني أشهد أنك أنت الله لا إله إلا أنت، الأحد، الصمد، الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحد» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو تنہا اور ایسا بے نیاز ہے جس نے نہ تو جنا ہے اور نہ ہی وہ جنا گیا ہے اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ سے اس کا وہ نام لے کر مانگا ہے کہ جب اس سے کوئی یہ نام لے کر مانگتا ہے تو عطا کرتا ہے اور جب کوئی دعا کرتا ہے تو قبول فرماتا ہے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن مالك بن مغول، حدثنا عبد الله بن بريدة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يقول اللهم اني اسالك اني اشهد انك انت الله لا اله الا انت الاحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد . فقال " لقد سالت الله بالاسم الذي اذا سيل به اعطى واذا دعي به اجاب
اس سند سے بھی بریدہ رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: «لقد سألت الله عزوجل باسمه الأعظم» تو نے اللہ سے اس کے اسم اعظم ( عظیم نام ) کا حوالہ دے کر سوال کیا ۔
حدثنا عبد الرحمن بن خالد الرقي، حدثنا زيد بن حباب، حدثنا مالك بن مغول، بهذا الحديث قال فيه " لقد سالت الله عز وجل باسمه الاعظم
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا، ( نماز سے فارغ ہو کر ) اس نے دعا مانگی: «اللهم إني أسألك بأن لك الحمد لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض يا ذا الجلال والإكرام يا حى يا قيوم» اے اللہ! میں تجھ سے مانگتا ہوں اس وسیلے سے کہ: ساری و حمد تیرے لیے ہے، تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں، تو ہی احسان کرنے والا اور آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، اے جلال اور عطاء و بخشش والے، اے زندہ جاوید، اے آسمانوں اور زمینوں کو تھامنے والے! یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم ( عظیم نام ) کے حوالے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے حوالے سے دعا مانگی جاتی ہے تو وہ دعا قبول فرماتا ہے اور سوال کیا جاتا ہے تو وہ دیتا ہے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن عبيد الله الحلبي، حدثنا خلف بن خليفة، عن حفص، - يعني ابن اخي انس - عن انس، انه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا ورجل يصلي ثم دعا اللهم اني اسالك بان لك الحمد لا اله الا انت المنان بديع السموات والارض يا ذا الجلال والاكرام يا حى يا قيوم . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لقد دعا الله باسمه العظيم الذي اذا دعي به اجاب واذا سيل به اعطى