Loading...

Loading...
کتب
۱۴۰ احادیث
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ہم صفہ ( چبوترے ) پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ صبح کو بطحان یا عقیق جائے، پھر بڑی کوہان والے موٹے تازے دو اونٹ بغیر کوئی گناہ یا قطع رحمی کئے لے کر آئے؟ ، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم میں سے سبھوں کی یہ خواہش ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تم میں سے کوئی اگر روزانہ صبح کو مسجد جائے اور قرآن مجید کی دو آیتیں سیکھے تو یہ اس کے لیے ان دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح سے تین آیات سیکھے تو تین اونٹنیوں سے بہتر ہے ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، حدثنا ابن وهب، حدثنا موسى بن على بن رباح، عن ابيه، عن عقبة بن عامر الجهني، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن في الصفة فقال " ايكم يحب ان يغدو الى بطحان او العقيق فياخذ ناقتين كوماوين زهراوين بغير اثم بالله عز وجل ولا قطع رحم " . قالوا كلنا يا رسول الله . قال " فلان يغدو احدكم كل يوم الى المسجد فيتعلم ايتين من كتاب الله عز وجل خير له من ناقتين وان ثلاث فثلاث مثل اعدادهن من الابل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الحمد لله رب العالمين» ام القرآن اور ام الکتاب ہے اور سبع مثانی ۱؎ ہے۔
حدثنا احمد بن ابي شعيب الحراني، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا ابن ابي ذيب، عن المقبري، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " { الحمد لله رب العالمين } ام القران وام الكتاب والسبع المثاني
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ان کے پاس سے ہوا وہ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ نے انہیں بلایا، میں ( نماز پڑھ کر ) آپ کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے مجھے جواب کیوں نہیں دیا؟ ، عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: اے مومنو! جواب دو اللہ اور اس کے رسول کو، جب رسول اللہ تمہیں ایسے کام کے لیے بلائیں، جس میں تمہاری زندگی ہے میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورۃ سکھاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مسجد سے نکلوں ، ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلنے لگے ) تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ابھی آپ نے کیا فرمایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ سورۃ «الحمد لله رب العالمين» ہے اور یہی سبع مثانی ہے جو مجھے دی گئی ہے اور قرآن عظیم ہے ۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا خالد، حدثنا شعبة، عن خبيب بن عبد الرحمن، قال سمعت حفص بن عاصم، يحدث عن ابي سعيد بن المعلى، ان النبي صلى الله عليه وسلم مر به وهو يصلي فدعاه قال فصليت ثم اتيته قال فقال " ما منعك ان تجيبني " . قال كنت اصلي . قال " الم يقل الله عز وجل { يا ايها الذين امنوا استجيبوا لله وللرسول اذا دعاكم لما يحييكم } لاعلمنك اعظم سورة من القران او في القران " . شك خالد " قبل ان اخرج من المسجد " . قال قلت يا رسول الله قولك . قال " { الحمد لله رب العالمين } وهي السبع المثاني التي اوتيت والقران العظيم
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سات لمبی سورتیں دی گئیں ہیں ۱؎ اور موسیٰ ( علیہ السلام ) کو چھ دی گئی تھیں، جب انہوں نے تختیاں ( جن پر تورات لکھی ہوئی تھی ) زمین پر ڈال دیں تو دو آیتیں اٹھا لی گئیں اور چار باقی رہ گئیں۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال اوتي رسول الله صلى الله عليه وسلم سبعا من المثاني الطول واوتي موسى عليه السلام ستا فلما القى الالواح رفعت ثنتان وبقي اربع
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابومنذر! ۱؎ کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے باعظمت ۲؎ ہے؟ ، میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ابومنذر! کتاب اللہ کی کون سی آیت تمہارے نزدیک سب سے بڑی ہے؟ ، میں نے عرض کیا: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے کو تھپتھپایا اور فرمایا: اے ابومنذر! تمہیں علم مبارک ہو ۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد بن اياس، عن ابي السليل، عن عبد الله بن رباح الانصاري، عن ابى بن كعب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابا المنذر اى اية معك من كتاب الله اعظم " . قال قلت الله ورسوله اعلم . قال " ابا المنذر اى اية معك من كتاب الله اعظم " . قال قلت { الله لا اله الا هو الحى القيوم } قال فضرب في صدري وقال " ليهن لك يا ابا المنذر العلم
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو «قل هو الله أحد» باربار پڑھتے سنا، جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا، گویا وہ اس سورت کو کمتر سمجھ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ ( سورۃ ) ایک تہائی قرآن کے برابر ہے
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، ان رجلا، سمع رجلا، يقرا { قل هو الله احد } يرددها فلما اصبح جاء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له وكان الرجل يتقالها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده انها لتعدل ثلث القران
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل رہا تھا، آپ نے فرمایا: عقبہ! کیا میں تمہیں دو بہترین سورتیں نہ سکھاؤں؟ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» سکھائیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان دونوں ( کے سیکھنے ) سے بہت زیادہ خوش ہوتے نہ پایا، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کے لیے ( سواری سے ) اترے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: عقبہ! تم نے انہیں کیا سمجھا ہے ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني معاوية، عن العلاء بن الحارث، عن القاسم، مولى معاوية عن عقبة بن عامر، قال كنت اقود برسول الله صلى الله عليه وسلم ناقته في السفر فقال لي " يا عقبة الا اعلمك خير سورتين قريتا " . فعلمني { قل اعوذ برب الفلق } و { قل اعوذ برب الناس } قال فلم يرني سررت بهما جدا فلما نزل لصلاة الصبح صلى بهما صلاة الصبح للناس فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من الصلاة التفت الى فقال " يا عقبة كيف رايت
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حجفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ہمیں تیز آندھی اور شدید تاریکی نے ڈھانپ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اے عقبہ! تم بھی ان دونوں کو پڑھ کر پناہ مانگو، اس لیے کہ ان جیسی سورتوں کے ذریعہ پناہ مانگنے والے کی طرح کسی پناہ مانگنے والے نے پناہ نہیں مانگی ۔ عقبہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ انہیں دونوں کے ذریعہ ہماری امامت فرما رہے تھے
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابيه، عن عقبة بن عامر، قال بينا انا اسير، مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الجحفة والابواء اذ غشيتنا ريح وظلمة شديدة فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ ب { اعوذ برب الفلق } و { اعوذ برب الناس } ويقول " يا عقبة تعوذ بهما فما تعوذ متعوذ بمثلهما " . قال وسمعته يومنا بهما في الصلاة
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صاحب قرآن ( حافظ قرآن یا ناظرہ خواں ) سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاری منزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے ۲؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني عاصم بن بهدلة، عن زر، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقال لصاحب القران اقرا وارتق ورتل كما كنت ترتل في الدنيا فان منزلك عند اخر اية تقروها
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم مد کو کھینچتے تھے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا جرير، عن قتادة، قال سالت انسا عن قراءة النبي، صلى الله عليه وسلم فقال كان يمد مدا
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کہاں؟ آپ نماز پڑھتے اور جتنی دیر پڑھتے اتنا ہی سوتے، پھر جتنا سو لیتے اتنی دیر نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر نماز پڑھتے اتنی دیر سوتے یہاں تک کہ صبح ہو جاتی، پھر ام سلمہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت بیان کی تو دیکھا کہ وہ ایک ایک حرف الگ الگ پڑھ رہی تھیں۔
حدثنا يزيد بن خالد بن موهب الرملي، حدثنا الليث، عن ابن ابي مليكة، عن يعلى بن مملك، انه سال ام سلمة عن قراءة، رسول الله صلى الله عليه وسلم وصلاته فقالت وما لكم وصلاته كان يصلي وينام قدر ما صلى ثم يصلي قدر ما نام ثم ينام قدر ما صلى حتى يصبح ونعتت قراءته فاذا هي تنعت قراءته حرفا حرفا
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے روز ایک اونٹنی پر سوار دیکھا، آپ سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے اور ( ایک ایک آیت ) کئی بار دہرا رہے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن معاوية بن قرة، عن عبد الله بن مغفل، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة وهو على ناقة يقرا بسورة الفتح وهو يرجع
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کو اپنی آواز سے زینت دو ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن طلحة، عن عبد الرحمن بن عوسجة، عن البراء بن عازب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " زينوا القران باصواتكم
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن خوش الحانی سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ۱؎ ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، وقتيبة بن سعيد، ويزيد بن خالد بن موهب الرملي، بمعناه ان الليث، حدثهم عن عبد الله بن ابي مليكة، عن عبيد الله بن ابي نهيك، عن سعد بن ابي وقاص، - وقال يزيد عن ابن ابي مليكة، - عن سعيد بن ابي سعيد، وقال، قتيبة هو في كتابي عن سعيد بن ابي سعيد، - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس منا من لم يتغن بالقران
اس سند سے بھی سعد رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا سفيان بن عيينة، عن عمرو، عن ابن ابي مليكة، عن عبيد الله بن ابي نهيك، عن سعد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم مثله
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں ہمارے پاس سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا تو ہم ان کے پیچھے ہو لیے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر کے اندر داخل ہو گئے تو ہم بھی داخل ہو گئے تو دیکھا کہ ایک شخص بیٹھا ہوا ہے۔ بوسیدہ سا گھر ہے اور وہ بھی خستہ حال ہے، میں نے سنا: وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا ہے: جو قرآن کو خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ عبدالجبار کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے کہا: اے ابو محمد! اگر کسی کی آواز اچھی نہ ہو تو کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا: جہاں تک ہو سکے اسے اچھی بنائے۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، حدثنا عبد الجبار بن الورد، قال سمعت ابن ابي مليكة، يقول قال عبيد الله بن ابي يزيد مر بنا ابو لبابة فاتبعناه حتى دخل بيته فدخلنا عليه فاذا رجل رث البيت رث الهيية فسمعته يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ليس منا من لم يتغن بالقران " . قال فقلت لابن ابي مليكة يا ابا محمد ارايت اذا لم يكن حسن الصوت قال يحسنه ما استطاع
محمد بن سلیمان انباری کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں وکیع اور ابن عیینہ نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے ذریعہ ( دیگر کتب یا ادیان سے ) بے نیاز ہو جائے۔
حدثنا محمد بن سليمان الانباري، قال قال وكيع وابن عيينة يعني يستغني به
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی کی اتنی نہیں سنتا جتنی ایک خوش الحان رسول کی سنتا ہے جب کہ وہ قرآن کو خوش الحانی سے بلند آواز سے پڑھ رہا ہو ۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، حدثني عمر بن مالك، وحيوة، عن ابن الهاد، عن محمد بن ابراهيم بن الحارث، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما اذن الله لشىء ما اذن لنبي حسن الصوت يتغنى بالقران يجهر به
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی آدمی قرآن پڑھتا ہو پھر اسے بھول جائے تو قیامت کے دن وہ اللہ سے مجذوم ۱؎ ہو کر ملے گا ۔
حدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا ابن ادريس، عن يزيد بن ابي زياد، عن عيسى بن فايد، عن سعد بن عبادة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من امري يقرا القران ينساه الا لقي الله عز وجل يوم القيامة اجذم
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان پڑھتے سنا، وہ اس طریقے سے ہٹ کر پڑھ رہے تھے جس طرح میں پڑھتا تھا حالانکہ مجھے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھایا تھا تو قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کر بیٹھوں ۱؎ لیکن میں نے انہیں مہلت دی اور پڑھنے دیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہو گئے تو میں نے ان کی چادر پکڑ کر انہیں گھسیٹا اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے انہیں سورۃ الفرقان اس کے برعکس پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ نے مجھے سکھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہشام سے فرمایا: تم پڑھو ، انہوں نے ویسے ہی پڑھا جیسے میں نے پڑھتے سنا تھا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ، پھر مجھ سے فرمایا: تم پڑھو ، میں نے بھی پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے ، پھر فرمایا: قرآن مجید سات حرفوں ۲؎پر نازل ہوا ہے، لہٰذا جس طرح آسان لگے پڑھ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عبد الرحمن بن عبد القاري، قال سمعت عمر بن الخطاب، يقول سمعت هشام بن حكيم بن حزام، يقرا سورة الفرقان على غير ما اقروها وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقرانيها فكدت ان اعجل عليه ثم امهلته حتى انصرف ثم لببته بردايه فجيت به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله اني سمعت هذا يقرا سورة الفرقان على غير ما اقراتنيها . فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرا " . فقرا القراءة التي سمعته يقرا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هكذا انزلت " . ثم قال لي " اقرا " . فقرات فقال " هكذا انزلت " . ثم قال " ان هذا القران انزل على سبعة احرف فاقرءوا ما تيسر منه