Loading...

Loading...
کتب
۱۴۰ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو ۔
حدثنا هارون بن معروف، حدثنا ابن ابي زايدة، قال حدثني عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " بادروا الصبح بالوتر
عبداللہ بن ابو قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں پوچھا: انہوں نے کہا: کبھی شروع رات میں وتر پڑھتے اور کبھی آخری رات میں، میں نے پوچھا: آپ کی قرآت کیسی ہوتی تھی؟ کیا سری قرآت کرتے تھے یا جہری؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں طرح سے پڑھتے تھے، کبھی قرآت سری کرتے اور کبھی جہری، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قتیبہ کے علاوہ دوسروں نے کہا ہے کہ غسل سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد غسل جنابت ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث بن سعد، عن معاوية بن صالح، عن عبد الله بن ابي قيس، قال سالت عايشة عن وتر، رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت ربما اوتر اول الليل وربما اوتر من اخره . قلت كيف كانت قراءته اكان يسر بالقراءة ام يجهر قالت كل ذلك كان يفعل ربما اسر وربما جهر وربما اغتسل فنام وربما توضا فنام . قال ابو داود وقال غير قتيبة تعني في الجنابة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی رات کی آخری نماز وتر کو بنایا کرو ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، حدثني نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اجعلوا اخر صلاتكم بالليل وترا
قیس بن طلق کہتے ہیں کہ طلق بن علی رضی اللہ عنہ رمضان میں ایک دن ہمارے پاس آئے، شام تک رہے روزہ افطار کیا، پھر اس رات انہوں نے ہمارے ساتھ قیام اللیل کیا، ہمیں وتر پڑھائی پھر اپنی مسجد میں گئے اور اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی یہاں تک کہ جب صرف وتر باقی رہ گئی تو ایک شخص کو آگے بڑھایا اور کہا: اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے کہ ایک رات میں دو وتر نہیں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ملازم بن عمرو، حدثنا عبد الله بن بدر، عن قيس بن طلق، قال زارنا طلق بن علي في يوم من رمضان وامسى عندنا وافطر ثم قام بنا تلك الليلة واوتر بنا ثم انحدر الى مسجده فصلى باصحابه حتى اذا بقي الوتر قدم رجلا فقال اوتر باصحابك فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا وتران في ليلة
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کرتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! میں تم لوگوں کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے قریب ترین نماز پڑھوں گا، چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ظہر کی آخری رکعت میں اور عشاء اور فجر میں دعائے قنوت پڑھتے تھے اور مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کافروں پر لعنت بھیجتے تھے۔
حدثنا داود بن امية، حدثنا معاذ، - يعني ابن هشام - حدثني ابي، عن يحيى بن ابي كثير، قال حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، حدثنا ابو هريرة، قال والله لاقربن بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فكان ابو هريرة يقنت في الركعة الاخرة من صلاة الظهر وصلاة العشاء الاخرة وصلاة الصبح فيدعو للمومنين ويلعن الكافرين
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں قنوت پڑھتے تھے۔ ابن معاذ نے «صلاة المغرب» ( نماز مغرب میں بھی ) کا بھی اضافہ کیا ہے۔
حدثنا ابو الوليد، ومسلم بن ابراهيم، وحفص بن عمر، ح وحدثنا ابن معاذ، حدثني ابي قالوا، كلهم حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابن ابي ليلى، عن البراء، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقنت في صلاة الصبح زاد ابن معاذ وصلاة المغرب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک عشاء میں دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں دعا فرماتے:«اللهم نج الوليد بن الوليد اللهم نج سلمة بن هشام اللهم نج المستضعفين من المؤمنين اللهم اشدد وطأتك على مضر اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف» اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے، اے اللہ! کمزور مومنوں کو نجات دے، اے اللہ! مضر پر اپنا عذاب سخت کر اور ان پر ایسا قحط ڈال دے جیسا یوسف ( علیہ السلام ) کے زمانے میں پڑا تھا ) ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کی، تو میں نے اس کا ذکر آپ سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے نہیں دیکھا کہ یہ لوگ ( اب کافروں کی قید سے نکل کر مدینہ ) آ چکے ہیں؟ ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، حدثنا الوليد، حدثنا الاوزاعي، حدثني يحيى بن ابي كثير، حدثني ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، قال قنت رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة العتمة شهرا يقول في قنوته " اللهم نج الوليد بن الوليد اللهم نج سلمة بن هشام اللهم نج المستضعفين من المومنين اللهم اشدد وطاتك على مضر اللهم اجعلها عليهم سنين كسني يوسف " . قال ابو هريرة واصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم فلم يدع لهم فذكرت ذلك له فقال " وما تراهم قد قدموا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر میں ہر نماز کے بعد ایک ماہ تک مسلسل قنوت پڑھی، جب آخری رکعت میں «سمع الله لمن حمده» کہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنی سلیم کے قبائل: رعل، ذکوان اور عصیہ کے حق میں بد دعا کرتے اور جو لوگ آپ کے پیچھے ہوتے آمین کہتے۔
حدثنا عبد الله بن معاوية الجمحي، حدثنا ثابت بن يزيد، عن هلال بن خباب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال قنت رسول الله صلى الله عليه وسلم شهرا متتابعا في الظهر والعصر والمغرب والعشاء وصلاة الصبح في دبر كل صلاة اذا قال " سمع الله لمن حمده " . من الركعة الاخرة يدعو على احياء من بني سليم على رعل وذكوان وعصية ويومن من خلفه
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر میں دعائے قنوت پڑھی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، پھر ان سے پوچھا گیا: رکوع سے پہلے یا بعد میں؟ تو انہوں نے کہا: رکوع کے بعد میں ۱؎۔ مسدد کی روایت میں ہے کہ تھوڑی مدت تک ۲؎ ۔
حدثنا سليمان بن حرب، ومسدد، قالا حدثنا حماد، عن ايوب، عن محمد، عن انس بن مالك، انه سيل هل قنت رسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الصبح فقال نعم . فقيل له قبل الركوع او بعد الركوع قال بعد الركوع . قال مسدد بيسير
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی پھر اسے ترک کر دیا۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا حماد بن سلمة، عن انس بن سيرين، عن انس بن مالك، ان النبي صلى الله عليه وسلم قنت شهرا ثم تركه
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر پڑھی کہ جب آپ دوسری رکعت سے سر اٹھاتے تو تھوڑی دیر کھڑے رہتے۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن مفضل، حدثنا يونس بن عبيد، عن محمد بن سيرين، قال حدثني من، صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الغداة فلما رفع راسه من الركعة الثانية قام هنية
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے ایک حصہ کو چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا، آپ رات کو نکلتے اور اس میں نماز پڑھتے تھے، کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کر دی وہ ہر رات آپ کے پاس آنے لگے یہاں تک کہ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نہیں نکلے، لوگ کھنکھارنے اور آوازیں بلند کرنے لگے، اور آپ کے دروازے پر کنکر مارنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ان کی طرف نکلے اور فرمایا: لوگو! تم مسلسل ایسا کئے جا رہے تھے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ کہیں تم پر یہ فرض نہ کر دی جائے، لہٰذا اب تم کو چاہیئے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو اس لیے کہ آدمی کی سب سے بہتر نماز وہ ہے جسے وہ اپنے گھر میں پڑھے ۱؎ سوائے فرض نماز کے ۔
حدثنا هارون بن عبد الله البزاز، حدثنا مكي بن ابراهيم، حدثنا عبد الله، - يعني ابن سعيد بن ابي هند - عن ابي النضر، عن بسر بن سعيد، عن زيد بن ثابت، انه قال احتجر رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد حجرة فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج من الليل فيصلي فيها قال فصلوا معه بصلاته - يعني رجالا - وكانوا ياتونه كل ليلة حتى اذا كان ليلة من الليالي لم يخرج اليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فتنحنحوا ورفعوا اصواتهم وحصبوا بابه - قال - فخرج اليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم مغضبا فقال " يا ايها الناس ما زال بكم صنيعكم حتى ظننت ان ستكتب عليكم فعليكم بالصلاة في بيوتكم فان خير صلاة المرء في بيته الا الصلاة المكتوبة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی نماز میں سے کچھ گھروں میں پڑھا کرو، اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، اخبرنا نافع، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اجعلوا في بيوتكم من صلاتكم ولا تتخذوها قبورا
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں دیر تک کھڑے رہنا ، پھر پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کم مال والا محنت کی کمائی میں سے جو صدقہ دے ، پھر پوچھا گیا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کی ہجرت جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جنہیں اللہ نے اس پر حرام کیا ہے ، پھر پوچھا گیا: کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کا جہاد جس نے اپنی جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا ہو ، پھر پوچھا گیا: کون سا قتل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جس کا خون بہایا گیا ہو اور جس کے گھوڑے کے ہاتھ پاؤں کاٹ لیے گئے ہوں ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا حجاج، قال قال ابن جريج حدثني عثمان بن ابي سليمان، عن علي الازدي، عن عبيد بن عمير، عن عبد الله بن حبشي الخثعمي، ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل اى الاعمال افضل قال " طول القيام " . قيل فاى الصدقة افضل قال " جهد المقل " . قيل فاى الهجرة افضل قال " من هجر ما حرم الله عليه " . قيل فاى الجهاد افضل قال " من جاهد المشركين بماله ونفسه " . قيل فاى القتل اشرف قال " من اهريق دمه وعقر جواده
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے، پھر نماز پڑھے اپنی بیوی کو بھی جگائے تو وہ بھی نماز پڑھے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ رحم فرمائے اس عورت پر جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے، اپنے شوہر کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن ابن عجلان، حدثنا القعقاع بن حكيم، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله " رحم الله رجلا قام من الليل فصلى وايقظ امراته فصلت فان ابت نضح في وجهها الماء رحم الله امراة قامت من الليل فصلت وايقظت زوجها فان ابى نضحت في وجهه الماء
ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو رات کو بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے پھر دونوں دو دو رکعتیں پڑھیں تو وہ کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں میں لکھے جائیں گے ۔
حدثنا محمد بن حاتم بن بزيع، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن شيبان، عن الاعمش، عن علي بن الاقمر، عن الاغر ابي مسلم، عن ابي سعيد الخدري، وابي، هريرة قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من استيقظ من الليل وايقظ امراته فصليا ركعتين جميعا كتبا من الذاكرين الله كثيرا والذاكرات
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن علقمة بن مرثد، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن، عن عثمان، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خيركم من تعلم القران وعلمه
معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا اور اس کی تعلیمات پر عمل کیا تو اس کے والدین کو قیامت کے روز ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی اس روشنی سے بھی زیادہ ہو گی جو تمہارے گھروں میں ہوتی ہے اگر وہ تمہارے درمیان ہوتا، ( پھر جب اس کے ماں باپ کا یہ درجہ ہے ) تو خیال کرو خود اس شخص کا جس نے قرآن پر عمل کیا، کیا درجہ ہو گا ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، اخبرنا ابن وهب، اخبرني يحيى بن ايوب، عن زبان بن فايد، عن سهل بن معاذ الجهني، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قرا القران وعمل بما فيه البس والداه تاجا يوم القيامة ضووه احسن من ضوء الشمس في بيوت الدنيا لو كانت فيكم فما ظنكم بالذي عمل بهذا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص قرآن پڑھتا ہو اور اس میں ماہر ہو تو وہ بڑی عزت والے فرشتوں اور پیغمبروں کے ساتھ ہو گا اور جو شخص اٹک اٹک کر پریشانی کے ساتھ پڑھے تو اسے دہرا ثواب ملے
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، وهمام، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الذي يقرا القران وهو ماهر به مع السفرة الكرام البررة والذي يقروه وهو يشتد عليه فله اجران
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی قوم ( جماعت ) اللہ کے گھروں یعنی مساجد میں سے کسی گھر یعنی مسجد میں جمع ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت کرتی اور باہم اسے پڑھتی پڑھاتی ہے اس پر سکینت نازل ہوتی ہے، اسے اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے اسے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کا ذکر ان لوگوں میں کرتا ہے، جو اس کے پاس رہتے ہیں یعنی مقربین ملائکہ میں ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما اجتمع قوم في بيت من بيوت الله تعالى يتلون كتاب الله ويتدارسونه بينهم الا نزلت عليهم السكينة وغشيتهم الرحمة وحفتهم الملايكة وذكرهم الله فيمن عنده