Loading...

Loading...
کتب
۱۴۰ احادیث
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قرآن والو! ۱؎ وتر پڑھا کرو اس لیے کہ اللہ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے“۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عيسى، عن زكريا، عن ابي اسحاق، عن عاصم، عن علي، - رضى الله عنه - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا اهل القران اوتروا فان الله وتر يحب الوتر
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اس میں اتنا مزید ہے: ایک اعرابی نے کہا: آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: یہ حکم تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لیے نہیں ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو حفص الابار، عن الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن ابي عبيدة، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه زاد فقال اعرابي ما تقول فقال " ليس لك ولا لاصحابك
خارجہ بن حذافہ عدوی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اللہ نے ایک ایسی نماز کے ذریعے تمہاری مدد کی ہے جو سرخ اونٹوں سے بھی تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور وہ وتر ہے، اس کا وقت اس نے تمہارے لیے عشاء سے طلوع فجر تک مقرر کیا ہے ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، وقتيبة بن سعيد، - المعنى - قالا حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عبد الله بن راشد الزوفي، عن عبد الله بن ابي مرة الزوفي، عن خارجة بن حذافة، - قال ابو الوليد العدوي - قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ان الله عز وجل قد امدكم بصلاة وهي خير لكم من حمر النعم وهي الوتر فجعلها لكم فيما بين العشاء الى طلوع الفجر
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: وتر حق ہے ۱؎ جو اسے نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم میں سے نہیں، وتر حق ہے، جو اسے نہ پڑھے ہم سے نہیں ۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا ابو اسحاق الطالقاني، حدثنا الفضل بن موسى، عن عبيد الله بن عبد الله العتكي، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا الوتر حق فمن لم يوتر فليس منا
ابن محیریز کہتے ہیں کہ بنو کنانہ کے ایک شخص نے جسے مخدجی کہا جاتا تھا، شام کے ایک شخص سے سنا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا وہ کہہ رہا تھا: وتر واجب ہے، مخدجی نے کہا: میں یہ سن کر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے بیان کیا تو عبادہ نے کہا: ابو محمد نے غلط کہا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے بندوں پر فرض کی ہیں، پس جس شخص نے ان کو اس طرح ادا کیا ہو گا کہ ان کو ہلکا سمجھ کر ان میں کچھ بھی کمی نہ کی ہو گی تو اس کے لیے اللہ کے پاس جنت میں داخل کرنے کا عہد ہو گا، اور جو شخص ان کو ادا نہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ کے پاس کوئی عہد نہیں، اللہ چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو اسے جنت میں داخل کرے ۱؎۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن ابن محيريز، ان رجلا، من بني كنانة يدعى المخدجي سمع رجلا، بالشام يدعى ابا محمد يقول ان الوتر واجب . قال المخدجي فرحت الى عبادة بن الصامت فاخبرته فقال عبادة كذب ابو محمد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " خمس صلوات كتبهن الله على العباد فمن جاء بهن لم يضيع منهن شييا استخفافا بحقهن كان له عند الله عهد ان يدخله الجنة ومن لم يات بهن فليس له عند الله عهد ان شاء عذبه وان شاء ادخله الجنة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ دیہات کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تہجد کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اس طرح دو دو رکعتیں ہیں اور آخر رات میں وتر ایک رکعت ہے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا همام، عن قتادة، عن عبد الله بن شقيق، عن ابن عمر، ان رجلا، من اهل البادية سال النبي صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل فقال باصبعيه هكذا مثنى مثنى والوتر ركعة من اخر الليل
ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وتر ہر مسلمان پر حق ہے جو پانچ پڑھنا چاہے پانچ پڑھے، جو تین پڑھنا چاہے تین پڑھے اور جو ایک پڑھنا چاہے ایک پڑھے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن المبارك، حدثني قريش بن حيان العجلي، حدثنا بكر بن وايل، عن الزهري، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي ايوب الانصاري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الوتر حق على كل مسلم فمن احب ان يوتر بخمس فليفعل ومن احب ان يوتر بثلاث فليفعل ومن احب ان يوتر بواحدة فليفعل
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «قل للذين كفروا» ( یعنی«قل ياأيها الكافرون» ) اور «الله الواحد الصمد» ( یعنی «قل هو الله أحد» ) پڑھا کرتے تھے ۱؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو حفص الابار، ح وحدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا محمد بن انس، - وهذا لفظه - عن الاعمش، عن طلحة، وزبيد، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن ابى بن كعب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر ب { سبح اسم ربك الاعلى } و { قل للذين كفروا } والله الواحد الصمد
عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، اور کہا تیسری رکعت میں آپ «قل هو الله أحد» اور معوذتین ( یعنی «قل اعوذ برب الفلق» اور «قل اعوذ برب الناس» ) پڑھتے تھے۔
حدثنا احمد بن ابي شعيب، حدثنا محمد بن سلمة، حدثنا خصيف، عن عبد العزيز بن جريج، قال سالت عايشة ام المومنين باى شىء كان يوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر معناه قال وفي الثالثة ب { قل هو الله احد } والمعوذتين
حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں کہا کرتا ہوں ( ابن جواس کی روایت میں ہے جنہیں میں وتر کے قنوت میں کہا کروں ) وہ کلمات یہ ہیں: «اللهم اهدني فيمن هديت، وعافني فيمن عافيت، وتولني فيمن توليت، وبارك لي فيما أعطيت، وقني شر ما قضيت إنك تقضي ولا يقضى عليك، وإنه لا يذل من واليت، ولا يعز من عاديت، تباركت ربنا وتعاليت» ۱؎۔ اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں ( داخل کر کے ) جن کو تو نے ہدایت دی ہے اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں ( داخل کر کے ) جن کو تو نے عافیت دی ہے اور میری کارسازی فرما ان لوگوں میں ( داخل کر کے ) جن کی تو نے کارسازی کی ہے اور مجھے میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے، تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پا سکتا، اے ہمارے رب تو بابرکت اور بلند و بالا ہے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، واحمد بن جواس الحنفي، قالا حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن بريد بن ابي مريم، عن ابي الحوراء، قال قال الحسن بن علي رضى الله عنهما علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم كلمات اقولهن في الوتر قال ابن جواس في قنوت الوتر " اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما اعطيت وقني شر ما قضيت انك تقضي ولا يقضى عليك وانه لا يذل من واليت ولا يعز من عاديت تباركت ربنا وتعاليت
اس طریق سے بھی ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے لیکن اس کے آخر میں ہے کہ اسے وہ وتر کی قنوت میں کہتے تھے اور «أقولهن في الوتر» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالحوراء کا نام ربیعہ بن شیبان ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، باسناده ومعناه قال في اخره قال هذا يقول في الوتر في القنوت ولم يذكر اقولهن في الوتر . قال ابو داود ابو الحوراء ربيعة بن شيبان
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك، وبمعافاتك من عقوبتك، وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی، تیری سزا سے تیری معافی کی اور تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام حماد کے سب سے پہلے استاذ ہیں اور مجھے یحییٰ بن معین کے واسطہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں کہا ہے کہ ہشام سے سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن یونس نے اس حدیث کو فطر بن خلیفہ سے بھی روایت کیا ہے اور فطر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے، ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور ابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ نیز حفص بن غیاث سے مروی ہے، انہوں نے مسعر سے، مسعر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں رکوع سے قبل قنوت پڑھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کی حدیث قتادہ سے مروی ہے، اسے یزید بن زریع نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے عزرہ سے، عزرہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس میں قنوت کا ذکر نہیں ہے اور نہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا۔ اور اسی طرح اسے عبدالاعلی اور محمد بن بشر العبدی نے روایت کیا ہے، اور ان کا سماع کوفہ میں عیسیٰ بن یونس کے ساتھ ہے، انہوں نے بھی قنوت کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ نیز اسے ہشام دستوائی اور شعبہ نے قتادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ زبید کی روایت کو سلیمان اعمش، شعبہ، عبدالملک بن ابی سلیمان اور جریر بن حازم سبھی نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی ایک نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے، سوائے حفص بن غیاث کی روایت کے جسے انہوں نے مسعر کے واسطے سے زبید سے نقل کیا ہے، اس میں رکوع سے پہلے قنوت کا ذکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حفص کی یہ حدیث مشہور نہیں ہے، ہم کو اندیشہ ہے کہ حفص نے مسعر کے علاوہ کسی اور سے روایت کی ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ بھی مروی ہے کہ ابی بن کعب قنوت رمضان کے نصف میں پڑھا کرتے تھے۔
محمد بن سیرین اپنے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ان کی امامت کی اور وہ رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا محمد بن بكر، اخبرنا هشام، عن محمد، عن بعض، اصحابه ان ابى بن كعب، امهم - يعني في رمضان - وكان يقنت في النصف الاخر من رمضان
حسن بصری سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کر دیا، وہ لوگوں کو بیس راتوں تک نماز ( تراویح ) پڑھایا کرتے تھے اور انہیں قنوت نصف اخیر ہی میں پڑھاتے تھے اور جب آخری عشرہ ہوتا تو مسجد نہیں آتے اپنے گھر ہی میں نماز پڑھا کرتے، لوگ کہتے کہ ابی بھاگ گئے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ دلیل ہے اس بات کی کہ قنوت کے بارے میں جو کچھ ذکر کیا گیا وہ غیر معتبر ہے اور یہ دونوں حدیثیں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے ضعف پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں قنوت پڑھی ۱؎۔
حدثنا شجاع بن مخلد، حدثنا هشيم، اخبرنا يونس بن عبيد، عن الحسن، ان عمر بن الخطاب، جمع الناس على ابى بن كعب فكان يصلي لهم عشرين ليلة ولا يقنت بهم الا في النصف الباقي فاذا كانت العشر الاواخر تخلف فصلى في بيته فكانوا يقولون ابق ابى . قال ابو داود وهذا يدل على ان الذي ذكر في القنوت ليس بشىء وهذان الحديثان يدلان على ضعف حديث ابى ان النبي صلى الله عليه وسلم قنت في الوتر
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر میں سلام پھیرتے تو «سبحان الملك القدوس» کہتے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن ابي عبيدة، حدثنا ابي، عن الاعمش، عن طلحة الايامي، عن ذر، عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى، عن ابيه، عن ابى بن كعب، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا سلم في الوتر قال " سبحان الملك القدوس
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وتر پڑھے بغیر سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آ جائے اسے پڑھ لے ۱؎ ۔
حدثنا محمد بن عوف، حدثنا عثمان بن سعيد، عن ابي غسان، محمد بن مطرف المدني عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نام عن وتره او نسيه فليصله اذا ذكره
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل ( یار، صادق، محمد ) صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا: چاشت کی دو رکعتیں، ہر ماہ تین دن کے روزے اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی ۱؎۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا ابو داود، حدثنا ابان بن يزيد، عن قتادة، عن ابي سعيد، - من ازد شنوءة - عن ابي هريرة، قال اوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم بثلاث لا ادعهن في سفر ولا حضر ركعتى الضحى وصوم ثلاثة ايام من الشهر وان لا انام الا على وتر
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل ( محمد ) صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، میں انہیں کسی صورت میں نہیں چھوڑتا، ایک تو مجھے ہر ماہ تین دن روزے رکھنے کی وصیت کی دوسرے وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی اور تیسرے حضر ہو کہ سفر، چاشت کی نماز پڑھنے کی۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا ابو اليمان، عن صفوان بن عمرو، عن ابي ادريس السكوني، عن جبير بن نفير، عن ابي الدرداء، قال " اوصاني خليلي صلى الله عليه وسلم بثلاث لا ادعهن لشىء اوصاني بصيام ثلاثة ايام من كل شهر ولا انام الا على وتر وبسبحة الضحى في الحضر والسفر
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ ، انہوں نے عرض کیا: میں اول شب میں وتر پڑھتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم کب پڑھتے ہو؟ ، انہوں نے عرض کیا: آخر شب میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر سے فرمایا کہ انہوں نے احتیاط پر عمل کیا، اور عمر سے فرمایا کہ انہوں نے مشکل کام اختیار کیا جو طاقت و قوت کا متقاضی ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن احمد بن ابي خلف، حدثنا ابو زكريا، يحيى بن اسحاق السيلحيني حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت، عن عبد الله بن رباح، عن ابي قتادة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لابي بكر " متى توتر " قال اوتر من اول الليل . وقال لعمر " متى توتر " . قال اخر الليل . فقال لابي بكر " اخذ هذا بالحزم " . وقال لعمر " اخذ هذا بالقوة
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کب پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: سبھی وقتوں میں آپ نے پڑھا ہے، شروع رات میں بھی پڑھا ہے، درمیان رات میں بھی اور آخری رات میں بھی لیکن جس وقت آپ کی وفات ہوئی آپ کی وتر صبح ہو چکنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، قال قلت لعايشة متى كان يوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت كل ذلك قد فعل اوتر اول الليل ووسطه واخره ولكن انتهى وتره حين مات الى السحر
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن هشام بن عمرو الفزاري، عن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، عن علي بن ابي طالب، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول في اخر وتره " اللهم اني اعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك واعوذ بك منك لا احصي ثناء عليك انت كما اثنيت على نفسك " . قال ابو داود هشام اقدم شيخ لحماد وبلغني عن يحيى بن معين انه قال لم يرو عنه غير حماد بن سلمة . قال ابو داود روى عيسى بن يونس عن سعيد بن ابي عروبة عن قتادة عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى عن ابيه عن ابى بن كعب ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قنت - يعني في الوتر - قبل الركوع . قال ابو داود روى عيسى بن يونس هذا الحديث ايضا عن فطر بن خليفة عن زبيد عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى عن ابيه عن ابى عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله وروي عن حفص بن غياث عن مسعر عن زبيد عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى عن ابيه عن ابى بن كعب ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قنت في الوتر قبل الركوع . قال ابو داود حديث سعيد عن قتادة رواه يزيد بن زريع عن سعيد عن قتادة عن عزرة عن سعيد بن عبد الرحمن بن ابزى عن ابيه عن النبي صلى الله عليه وسلم لم يذكر القنوت ولا ذكر ابيا وكذلك رواه عبد الاعلى ومحمد بن بشر العبدي وسماعه بالكوفة مع عيسى بن يونس ولم يذكروا القنوت وقد رواه ايضا هشام الدستوايي وشعبة عن قتادة ولم يذكرا القنوت وحديث زبيد رواه سليمان الاعمش وشعبة وعبد الملك بن ابي سليمان وجرير بن حازم كلهم عن زبيد لم يذكر احد منهم القنوت الا ما روي عن حفص بن غياث عن مسعر عن زبيد فانه قال في حديثه انه قنت قبل الركوع . قال ابو داود وليس هو بالمشهور من حديث حفص نخاف ان يكون عن حفص عن غير مسعر . قال ابو داود ويروى ان ابيا كان يقنت في النصف من شهر رمضان