Loading...

Loading...
کتب
۱۲۱ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند چلی جائے، کیونکہ اگر وہ اونگھتے ہوئے نماز پڑھے گا تو شاید وہ استغفار کرنے چلے لیکن خود کو وہ بد دعا کر بیٹھے ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا نعس احدكم في الصلاة فليرقد حتى يذهب عنه النوم فان احدكم اذا صلى وهو ناعس لعله يذهب يستغفر فيسب نفسه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی رات میں ( نماز پڑھنے کے لیے ) کھڑا ہو اور قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے اور وہ نہ سمجھ پائے کہ کیا کہہ رہا ہے تو اسے چاہیئے کہ سو جائے ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا قام احدكم من الليل فاستعجم القران على لسانه فلم يدر ما يقول فليضطجع
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی ہے، پوچھا: یہ رسی کیسی بندھی ہے؟ ، عرض کیا گیا: یہ حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کی ہے، وہ نماز پڑھتی ہیں اور جب تھک جاتی ہیں تو اسی رسی سے لٹک جاتی ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی طاقت ہو اتنی ہی نماز پڑھا کریں، اور جب تھک جائیں تو بیٹھ جائیں ۔ زیاد کی روایت میں یوں ہے: آپ نے پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: زینب رضی اللہ عنہا کی ہے، وہ نماز پڑھا کرتی ہیں، جب سست ہو جاتی ہیں یا تھک جاتی ہیں تو اس کو تھام لیتی ہیں، آپ نے فرمایا: اسے کھول دو، تم میں سے ہر ایک کو اسی وقت تک نماز پڑھنا چاہیئے جب تک «نشاط» رہے، جب سستی آنے لگے یا تھک جائے تو بیٹھ جائے ۔
حدثنا زياد بن ايوب، وهارون بن عباد الازدي، ان اسماعيل بن ابراهيم، حدثهم حدثنا عبد العزيز، عن انس، قال دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم المسجد وحبل ممدود بين ساريتين فقال " ما هذا الحبل " . فقيل يا رسول الله هذه حمنة بنت جحش تصلي فاذا اعيت تعلقت به . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لتصل ما اطاقت فاذا اعيت فلتجلس " . قال زياد فقال " ما هذا " . فقالوا لزينب تصلي فاذا كسلت او فترت امسكت به . فقال " حلوه " . فقال " ليصل احدكم نشاطه فاذا كسل او فتر فليقعد
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان میں پڑھ لے تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو صفوان عبد الله بن سعيد بن عبد الملك بن مروان، ح وحدثنا سليمان بن داود، ومحمد بن سلمة المرادي، قالا حدثنا ابن وهب، - المعنى - عن يونس، عن ابن شهاب، ان السايب بن يزيد، وعبيد الله، اخبراه ان عبد الرحمن بن عبد قالا عن ابن وهب بن عبد القاري، قال سمعت عمر بن الخطاب، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من نام عن حزبه او عن شىء منه فقراه ما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كانما قراه من الليل
سعید بن جبیر نے ایک ایسے شخص سے جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص جو رات کو تہجد پڑھتا ہو اور کسی رات اس پر نیند غالب آ جائے ( اور وہ نہ اٹھ سکے ) تو اس کے لیے نماز کا ثواب لکھا جائے گا، اس کی نیند اس پر صدقہ ہو گی ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن محمد بن المنكدر، عن سعيد بن جبير، عن رجل، عنده رضي ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما من امري تكون له صلاة بليل يغلبه عليها نوم الا كتب له اجر صلاته وكان نومه عليه صدقة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارا رب ہر رات جس وقت رات کا آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، آسمان دنیا پر اترتا ہے ۱؎، پھر فرماتا ہے: کون مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں؟ کون مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے کہ میں اس کی مغفرت کر دوں؟ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، وعن ابي عبد الله الاغر، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ينزل ربنا تبارك وتعالى كل ليلة الى سماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الاخر فيقول من يدعوني فاستجيب له من يسالني فاعطيه من يستغفرني فاغفر له
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ رات کو جگا دیتا پھر صبح نہ ہوتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے معمول سے فارغ ہو جاتے۔
حدثنا حسين بن يزيد الكوفي، حدثنا حفص، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت ان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليوقظه الله عز وجل بالليل فما يجيء السحر حتى يفرغ من حزبه
مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں پوچھا: میں نے ان سے کہا: آپ کس وقت نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: جب آپ مرغ کی بانگ سنتے تو اٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور نماز شروع کر دیتے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، حدثنا ابو الاحوص، ح وحدثنا هناد، عن ابي الاحوص، - وهذا حديث ابراهيم - عن اشعث، عن ابيه، عن مسروق، قال سالت عايشة - رضى الله عنها - عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت لها اى حين كان يصلي قالت كان اذا سمع الصراخ قام فصلى
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں صبح ہوتی تو آپ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سوئے ہوئے ہی ملتے۔
حدثنا ابو توبة، عن ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن ابي سلمة، عن عايشة، قالت : ما الفاه السحر عندي الا نايما، تعني النبي صلى الله عليه وسلم
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی معاملہ پیش آتا تو آپ نماز پڑھتے ۱؎۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا يحيى بن زكريا، عن عكرمة بن عمار، عن محمد بن عبد الله الدولي، عن عبد العزيز بن اخي، حذيفة عن حذيفة، قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا حزبه امر صلى
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، آپ کو وضو اور حاجت کا پانی لا کر دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مانگو مجھ سے ، میں نے عرض کیا: میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ اور کچھ؟ ، میں نے کہا: بس یہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا تو اپنے واسطے کثرت سے سجدے کر کے ( یعنی نماز پڑھ کر ) میری مدد کرو ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الهقل بن زياد السكسكي، حدثنا الاوزاعي، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، قال سمعت ربيعة بن كعب الاسلمي، يقول : كنت ابيت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم اتيه بوضويه وبحاجته، فقال : " سلني " . فقلت : مرافقتك في الجنة . قال : " اوغير ذلك " . قلت : هو ذاك . قال : " فاعني على نفسك بكثرة السجود
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں یہ جو اللہ تعالیٰ کا قول ہے «تتجا فى جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون» ان کے پہلو بچھونوں سے جدا رہتے ہیں، اپنے رب کو ڈر اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں ( سورۃ السجدۃ: ۱۶ ) اس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان جاگتے اور نماز پڑھتے ہیں۔ حسن کہتے ہیں: اس سے مراد تہجد پڑھنا ہے۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك، في هذه الاية { تتجافى جنوبهم عن المضاجع، يدعون ربهم خوفا وطمعا ومما رزقناهم ينفقون } قال : كانوا يتيقظون ما بين المغرب والعشاء يصلون، وكان الحسن يقول : قيام الليل
انس رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول «كانوا قليلا من الليل ما يهجعون» وہ رات کو بہت تھوڑا سویا کرتے تھے ( سورۃ الذاریات: ۱۷ ) کے بارے میں روایت ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے تھے۔ یحییٰ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ «تتجافى جنوبهم» سے بھی یہی مراد ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى بن سعيد، وابن ابي عدي، عن سعيد، عن قتادة، عن انس، في قوله جل وعز { كانوا قليلا من الليل ما يهجعون } قال : كانوا يصلون فيما بين المغرب والعشاء، زاد في حديث يحيى : وكذلك { تتجافى جنوبهم}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی رات کو اٹھے تو دو ہلکی رکعتیں پڑھے۱؎ ۔
حدثنا الربيع بن نافع ابو توبة، حدثنا سليمان بن حيان، عن هشام بن حسان، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " اذا قام احدكم من الليل فليصل ركعتين خفيفتين
اس طریق سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: پھر اس کے بعد جتنا چاہے طویل کرے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حماد بن سلمہ، زہیر بن معاویہ اور ایک جماعت نے ہشام سے انہوں نے محمد سے روایت کیا ہے اور اسے لوگوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف قرار دیا ہے، اور اسی طرح اسے ایوب اور ابن عون نے روایت کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر موقوف قرار دیا ہے، نیز اسے ابن عون نے محمد سے روایت کیا ہے اس میں ہے: ان دونوں رکعتوں میں تخفیف کرے ۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا ابراهيم، - يعني ابن خالد - عن رباح بن زيد، عن معمر، عن ايوب، عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، قال : " اذا " . بمعناه زاد : " ثم ليطول بعد ما شاء " . قال ابو داود : روى هذا الحديث حماد بن سلمة وزهير بن معاوية وجماعة عن هشام عن محمد اوقفوه على ابي هريرة، وكذلك رواه ايوب وابن عون اوقفوه على ابي هريرة، ورواه ابن عون عن محمد قال : فيهما تجوز
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( نماز میں ) دیر تک کھڑے رہنا ۱؎ ۔
حدثنا ابن حنبل، - يعني احمد - حدثنا حجاج، قال قال ابن جريج اخبرني عثمان بن ابي سليمان، عن علي الازدي، عن عبيد بن عمير، عن عبد الله بن حبشي الخثعمي، : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم سيل اى الاعمال افضل قال : " طول القيام
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، جب تم میں سے کسی کو یہ ڈر ہو کہ صبح ہو جائے گی تو ایک رکعت اور پڑھ لے، یہ اس کی ساری رکعتوں کو جو اس نے پڑھی ہیں طاق ( وتر ) کر دے گی ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، وعبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، : ان رجلا، سال رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صلاة الليل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " صلاة الليل مثنى مثنى، فاذا خشي احدكم الصبح صلى ركعة واحدة توتر له ما قد صلى
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت اتنی اونچی آواز سے ہوتی کہ آنگن میں رہنے والے کو سنائی دیتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ اپنے گھر میں ( نماز پڑھ رہے ) ہوتے۔
حدثنا محمد بن جعفر الوركاني، حدثنا ابن ابي الزناد، عن عمرو بن ابي عمرو، مولى المطلب عن عكرمة، عن ابن عباس، قال : كانت قراءة النبي صلى الله عليه وسلم على قدر ما يسمعه من في الحجرة وهو في البيت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کبھی بلند آواز سے ہوتی تھی اور کبھی دھیمی آواز سے۔
حدثنا محمد بن بكار بن الريان، حدثنا عبد الله بن المبارك، عن عمران بن زايدة، عن ابيه، عن ابي خالد الوالبي، عن ابي هريرة، انه قال : كانت قراءة النبي صلى الله عليه وسلم بالليل يرفع طورا ويخفض طورا . قال ابو داود : ابو خالد الوالبي اسمه هرمز
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات باہر نکلے تو دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے ہیں اور پست آواز سے قرآت کر رہے ہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمر کے پاس سے گزرے اور وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے، جب دونوں ( ابوبکر و عمر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! میں تمہارے پاس سے گزرا اور دیکھا کہ تم دھیمی آواز سے نماز پڑھ رہے ہو ، آپ نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے اس کو ( یعنی اللہ تعالیٰ کو ) سنا دیا ہے، جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تمہارے پاس سے گزرا تو تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے ، تو انہوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں سوتے کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ حسن بن الصباح کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! تم اپنی آواز تھوڑی بلند کر لو ، اور عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لو ۱؎ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ثابت البناني، عن النبي صلى الله عليه وسلم ح وحدثنا الحسن بن الصباح، حدثنا يحيى بن اسحاق، اخبرنا حماد بن سلمة، عن ثابت البناني، عن عبد الله بن ابي رباح، عن ابي قتادة، : ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج ليلة فاذا هو بابي بكر - رضى الله عنه - يصلي يخفض من صوته - قال - ومر بعمر بن الخطاب وهو يصلي رافعا صوته - قال - فلما اجتمعا عند النبي صلى الله عليه وسلم قال النبي صلى الله عليه وسلم : " يا ابا بكر مررت بك وانت تصلي تخفض صوتك " . قال : قد اسمعت من ناجيت يا رسول الله . قال وقال لعمر : " مررت بك وانت تصلي رافعا صوتك " . قال فقال : يا رسول الله اوقظ الوسنان واطرد الشيطان . زاد الحسن في حديثه : فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " يا ابا بكر ارفع من صوتك شييا " . وقال لعمر : " اخفض من صوتك شييا