Loading...

Loading...
کتب
۱۲۱ احادیث
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز آٹھ رکعت پڑھی، آپ ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے۔ احمد بن صالح کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز چاشت کی نماز پڑھی، پھر انہوں نے اسی کے مثل ذکر کیا۔ ابن سرح کی روایت میں ہے کہ ام ہانی کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اس میں انہوں نے چاشت کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے، باقی روایت ابن صالح کی روایت کے ہم معنی ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، واحمد بن عمرو بن السرح، قالا حدثنا ابن وهب، حدثني عياض بن عبد الله، عن مخرمة بن سليمان، عن كريب، مولى ابن عباس عن ام هاني بنت ابي طالب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح صلى سبحة الضحى ثماني ركعات يسلم من كل ركعتين . قال ابو داود قال احمد بن صالح ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح صلى سبحة الضحى فذكر مثله . قال ابن السرح ان ام هاني قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يذكر سبحة الضحى بمعناه
ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے سوائے ام ہانی رضی اللہ عنہا کے، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے روز ان کے گھر میں غسل فرمایا اور آٹھ رکعتیں ادا کیں، پھر اس کے بعد کسی نے آپ کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابن ابي ليلى، قال ما اخبرنا احد، انه راى النبي صلى الله عليه وسلم صلى الضحى غير ام هاني فانها ذكرت ان النبي صلى الله عليه وسلم يوم فتح مكة اغتسل في بيتها وصلى ثماني ركعات فلم يره احد صلاهن بعد
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ جب آپ سفر سے آتے۔ میں نے عرض کیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے؟ آپ نے کہا: مفصل کی سورتیں ( ملا کر پڑھتے تھے ) ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا الجريري، عن عبد الله بن شقيق، قال سالت عايشة هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى فقالت لا الا ان يجيء من مغيبه . قلت هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرن بين السورتين قالت من المفصل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، لیکن میں اسے پڑھتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بسا اوقات ایک عمل کو چاہتے ہوئے بھی اسے محض اس ڈر سے ترک فرما دیتے تھے کہ لوگوں کے عمل کرنے سے کہیں وہ ان پر فرض نہ ہو جائے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت ما سبح رسول الله صلى الله عليه وسلم سبحة الضحى قط واني لاسبحها وان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليدع العمل وهو يحب ان يعمل به خشية ان يعمل به الناس فيفرض عليهم
سماک کہتے ہیں میں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالست ( ہم نشینی ) کرتے تھے؟ آپ نے کہا: ہاں اکثر ( آپ کی مجلسوں میں رہتا تھا ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس جگہ نماز فجر ادا کرتے، وہاں سے اس وقت تک نہیں اٹھتے جب تک سورج نکل نہ آتا، جب سورج نکل آتا تو آپ ( نماز اشراق کے لیے ) کھڑے ہوتے۔
حدثنا ابن نفيل، واحمد بن يونس، قالا حدثنا زهير، حدثنا سماك، قال قلت لجابر بن سمرة اكنت تجالس رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم كثيرا فكان لا يقوم من مصلاه الذي صلى فيه الغداة حتى تطلع الشمس فاذا طلعت قام صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے ۔
حدثنا عمرو بن مرزوق، اخبرنا شعبة، عن يعلى بن عطاء، عن علي بن عبد الله البارقي، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " صلاة الليل والنهار مثنى مثنى
مطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعت ہے، اس طرح کہ تم ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھو اور پھر اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ ظاہر کرو اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگو اور کہو: اے اللہ! اے اللہ!، جس نے ایسا نہیں کیا یعنی دل نہ لگایا، اور اپنی محتاجی اور فقر و فاقہ کا اظہار نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے ۔ ابوداؤد سے رات کی نماز دو دو رکعت ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا: چاہو تو دو دو پڑھو اور چاہو تو چار چار۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا معاذ بن معاذ، حدثنا شعبة، حدثني عبد ربه بن سعيد، عن انس بن ابي انس، عن عبد الله بن نافع، عن عبد الله بن الحارث، عن المطلب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الصلاة مثنى مثنى ان تشهد في كل ركعتين وان تباءس وتمسكن وتقنع بيديك وتقول اللهم اللهم فمن لم يفعل ذلك فهي خداج " . سيل ابو داود عن صلاة الليل مثنى قال ان شيت مثنى وان شيت اربعا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں آپ کو عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو بھلائی نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ کو نہ دوں؟ کیا میں آپ کو دس ایسی باتیں نہ بتاؤں جب آپ ان پر عمل کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ آپ کے اگلے پچھلے، نئے پرانے، جانے انجانے، چھوٹے بڑے، چھپے اور کھلے، سارے گناہ معاف کر دے گا، وہ دس باتیں یہ ہیں: آپ چار رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی ایک سورۃ پڑھیں، جب پہلی رکعت کی قرآت کر لیں تو حالت قیام ہی میں پندرہ مرتبہ «سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر» کہیں، پھر رکوع کریں تو یہی کلمات حالت رکوع میں دس بار کہیں، پھر جب رکوع سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر جب سجدہ میں جائیں تو حالت سجدہ میں دس بار یہی کلمات کہیں، پھر سجدے سے سر اٹھائیں تو یہی کلمات دس بار کہیں، پھر ( دوسرا ) سجدہ کریں تو دس بار کہیں اور پھر جب ( دوسرے ) سجدے سے سر اٹھائیں تو دس بار کہیں، تو اس طرح یہ ہر رکعت میں پچہتر بار ہوا، یہ عمل آپ چاروں رکعتوں میں کریں، اگر پڑھ سکیں تو ہر روز ایک مرتبہ اسے پڑھیں، اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کو ایک بار پڑھ لیں، ایسا بھی نہ کر سکیں تو ہر مہینے میں ایک بار، یہ بھی ممکن نہ ہو تو سال میں ایک بار اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر عمر بھر میں ایک بار پڑھ لیں ۔
حدثنا عبد الرحمن بن بشر بن الحكم النيسابوري، حدثنا موسى بن عبد العزيز، حدثنا الحكم بن ابان، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال للعباس بن عبد المطلب " يا عباس يا عماه الا اعطيك الا امنحك الا احبوك الا افعل بك عشر خصال اذا انت فعلت ذلك غفر الله لك ذنبك اوله واخره قديمه وحديثه خطاه وعمده صغيره وكبيره سره وعلانيته عشر خصال ان تصلي اربع ركعات تقرا في كل ركعة فاتحة الكتاب وسورة فاذا فرغت من القراءة في اول ركعة وانت قايم قلت سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر خمس عشرة مرة ثم تركع فتقولها وانت راكع عشرا ثم ترفع راسك من الركوع فتقولها عشرا ثم تهوي ساجدا فتقولها وانت ساجد عشرا ثم ترفع راسك من السجود فتقولها عشرا ثم تسجد فتقولها عشرا ثم ترفع راسك فتقولها عشرا فذلك خمس وسبعون في كل ركعة تفعل ذلك في اربع ركعات ان استطعت ان تصليها في كل يوم مرة فافعل فان لم تفعل ففي كل جمعة مرة فان لم تفعل ففي كل شهر مرة فان لم تفعل ففي كل سنة مرة فان لم تفعل ففي عمرك مرة
ابوالجوزاء کہتے ہیں کہ مجھ سے ایک ایسے شخص نے جسے شرف صحبت حاصل تھا حدیث بیان کی ہے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما تھے، انہوں نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل تم میرے پاس آنا، میں تمہیں دوں گا، عنایت کروں گا اور نوازوں گا ، میں سمجھا کہ آپ مجھے کوئی عطیہ عنایت فرمائیں گے ( جب میں کل پہنچا تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج ڈھل جائے تو کھڑے ہو جاؤ اور چار رکعت نماز ادا کرو ، پھر ویسے ہی بیان کیا جیسے اوپر والی حدیث میں گزرا ہے، البتہ اس میں یہ بھی ہے کہ: پھر تم سر اٹھاؤ یعنی دوسرے سجدے سے تو اچھی طرح بیٹھ جاؤ اور کھڑے مت ہو یہاں تک کہ دس دس بار تسبیح و تحمید اور تکبیر و تہلیل کر لو پھر یہ عمل چاروں رکعتوں میں کرو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اہل زمین میں سب سے بڑے گنہگار ہو گے تو بھی اس عمل سے تمہارے گناہوں کی بخشش ہو جائے گی ، میں نے عرض کیا: اگر میں اس وقت یہ نماز ادا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو رات یا دن میں کسی وقت ادا کر لو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حبان بن ہلال: ہلال الرای کے ماموں ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے مستمر بن ریان نے ابوالجوزاء سے انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے روح بن مسیب اور جعفر بن سلیمان نے عمرو بن مالک نکری سے، عمرو نے ابوالجوزاء سے ابوالجوزاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی موقوفاً روایت کیا ہے، البتہ راوی نے روح کی روایت میں «فقال حديث عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» ( تو ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی ) کے جملے کا اضافہ کیا ہے۔
حدثنا محمد بن سفيان الابلي، حدثنا حبان بن هلال ابو حبيب، حدثنا مهدي بن ميمون، حدثنا عمرو بن مالك، عن ابي الجوزاء، قال حدثني رجل، كانت له صحبة يرون انه عبد الله بن عمرو قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ايتني غدا احبوك واثيبك واعطيك " . حتى ظننت انه يعطيني عطية قال " اذا زال النهار فقم فصل اربع ركعات " . فذكر نحوه قال " ترفع راسك - يعني من السجدة الثانية - فاستو جالسا ولا تقم حتى تسبح عشرا وتحمد عشرا وتكبر عشرا وتهلل عشرا ثم تصنع ذلك في الاربع ركعات " . قال " فانك لو كنت اعظم اهل الارض ذنبا غفر لك بذلك " . قلت فان لم استطع ان اصليها تلك الساعة قال " صلها من الليل والنهار " . قال ابو داود حبان بن هلال خال هلال الرايي . قال ابو داود رواه المستمر بن الريان عن ابي الجوزاء عن عبد الله بن عمرو موقوفا ورواه روح بن المسيب وجعفر بن سليمان عن عمرو بن مالك النكري عن ابي الجوزاء عن ابن عباس قوله وقال في حديث روح فقال حديث النبي صلى الله عليه وسلم
عروہ بن رویم کہتے ہیں کہ مجھ سے انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر سے یہی حدیث بیان فرمائی، پھر انہوں نے انہی لوگوں کی طرح ذکر کیا، البتہ اس میں ہے: پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں بھی یہی کہا جیسے مہدی بن میمون کی حدیث میں ہے۔
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، حدثنا محمد بن مهاجر، عن عروة بن، رويم حدثني الانصاري، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لجعفر بهذا الحديث فذكر نحوهم قال في السجدة الثانية من الركعة الاولى كما قال في حديث مهدي بن ميمون
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عبدالاشہل کی مسجد میں آئے اور اس میں مغرب ادا کی، جب لوگ نماز پڑھ چکے تو آپ نے ان کو دیکھا کہ نفل پڑھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو گھروں کی نماز ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي الاسود، حدثني ابو مطرف، محمد بن ابي الوزير حدثنا محمد بن موسى الفطري، عن سعد بن اسحاق بن كعب بن عجرة، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتى مسجد بني عبد الاشهل فصلى فيه المغرب فلما قضوا صلاتهم راهم يسبحون بعدها فقال " هذه صلاة البيوت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کے بعد کی دونوں رکعتوں میں لمبی قرآت فرماتے یہاں تک کہ مسجد کے لوگ متفرق ہو جاتے ( یعنی سنتیں پڑھ پڑھ کر چلے جاتے ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نصر مجدر نے یعقوب قمی سے اسی کے مثل روایت کی ہے اور اسے مسند قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہم سے اسے محمد بن عیسی بن طباع نے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے نصر مجدر نے بیان کیا ہے وہ یعقوب سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔
حدثنا حسين بن عبد الرحمن الجرجرايي، حدثنا طلق بن غنام، حدثنا يعقوب بن عبد الله، عن جعفر بن ابي المغيرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يطيل القراءة في الركعتين بعد المغرب حتى يتفرق اهل المسجد . قال ابو داود رواه نصر المجدر عن يعقوب القمي واسنده مثله . قال ابو داود حدثناه محمد بن عيسى بن الطباع حدثنا نصر المجدر عن يعقوب مثله
اس طریق سے بھی سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث مرسلاً روایت کی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن حمید کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے یعقوب کو کہتے ہوئے سنا کہ وہ تمام روایتیں جن کو میں نے تم لوگوں سے «جعفر عن سعيد بن جبير عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم» کے طریق سے بیان کیا ہے، وہ مسند ہیں، سعید نے یہ روایتیں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں۔
حدثنا احمد بن يونس، وسليمان بن داود العتكي، قالا حدثنا يعقوب، عن جعفر، عن سعيد بن جبير، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمعناه مرسل . قال ابو داود سمعت محمد بن حميد يقول سمعت يعقوب يقول كل شىء حدثتكم عن جعفر عن سعيد بن جبير عن النبي صلى الله عليه وسلم فهو مسند عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء پڑھنے کے بعد جب بھی میرے پاس آئے تو آپ نے چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں، ایک بار رات کو بارش ہوئی تو ہم نے آپ کے لیے ایک چمڑا بچھا دیا، گویا میں اس میں ( اب بھی ) وہ سوراخ دیکھ رہی ہوں جس سے پانی نکل کر اوپر آ رہا تھا لیکن میں نے آپ کو مٹی سے اپنے کپڑے بچاتے بالکل نہیں دیکھا۔
حدثنا محمد بن رافع، حدثنا زيد بن الحباب العكلي، حدثني مالك بن مغول، حدثني مقاتل بن بشير العجلي، عن شريح بن هاني، عن عايشة، - رضى الله عنها - قال سالتها عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت ما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العشاء قط فدخل على الا صلى اربع ركعات او ست ركعات ولقد مطرنا مرة بالليل فطرحنا له نطعا فكاني انظر الى ثقب فيه ينبع الماء منه وما رايته متقيا الارض بشىء من ثيابه قط
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں سورۃ مزمل کی آیت «قم الليل إلا قليلا، نصفه» ۱؎ رات کو کھڑے رہو مگر تھوڑی رات یعنی آدھی رات کو دوسری آیت «علم أن لن تحصوه فتاب عليكم فاقرءوا ما تيسر من القرآن» ۲؎ اسے معلوم ہے کہ تم اس کو پورا نہ کر سکو گے لہٰذا اس نے تم پر مہربانی کی، لہٰذا اب تم جتنی آسانی سے ممکن ہو ( نماز میں ) قرآن پڑھا کرو نے منسوخ کر دیا ہے،«ناشئة الليل» کے معنی شروع رات کے ہیں، چنانچہ صحابہ کی نماز شروع رات میں ہوتی تھی، اس لیے کہ رات میں جو قیام اللہ نے تم پر فرض کیا تھا اس کی ادائیگی اس وقت آسان اور مناسب ہے کیونکہ انسان سو جائے تو اسے نہیں معلوم کہ وہ کب جاگے گا اور «أقوم قيلا» سے مراد یہ ہے رات کا وقت قرآن سمجھنے کے لیے بہت اچھا وقت ہے اور اس کے قول «إن لك في النهار سبحا طويلا» ۳؎ کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے کام کاج کے واسطے دن کو بہت فرصت ہوتی ہے ( لہٰذا رات کا وقت عبادت میں صرف کیا کرو ) ۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي ابن شبوية، حدثني علي بن حسين، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال في المزمل { قم الليل الا قليلا * نصفه } نسختها الاية التي فيها { علم ان لن تحصوه فتاب عليكم فاقرءوا ما تيسر من القران } وناشية الليل اوله وكانت صلاتهم لاول الليل يقول هو اجدر ان تحصوا ما فرض الله عليكم من قيام الليل وذلك ان الانسان اذا نام لم يدر متى يستيقظ وقوله { اقوم قيلا } هو اجدر ان يفقه في القران وقوله { ان لك في النهار سبحا طويلا } يقول فراغا طويلا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب سورۃ مزمل کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو لوگ رات کو ( نماز میں ) کھڑے رہتے جتنا کہ رمضان میں کھڑے رہتے ہیں، یہاں تک کہ سورۃ کا آخری حصہ نازل ہوا، ان دونوں کے درمیان ایک سال کا وقفہ ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، - يعني المروزي - حدثنا وكيع، عن مسعر، عن سماك الحنفي، عن ابن عباس، قال لما نزلت اول المزمل كانوا يقومون نحوا من قيامهم في شهر رمضان حتى نزل اخرها وكان بين اولها واخرها سنة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے ہر ایک کی گدی پر رات کو سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر تھپکی دے کر کہتا ہے: ابھی لمبی رات پڑی ہے، سو جاؤ، اب اگر وہ جاگ جائے اور اللہ کا ذکر کرے تو اس کی ایک گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر وہ وضو کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے، اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے، اب وہ صبح اٹھتا ہے تو چستی اور خوش دلی کے ساتھ اٹھتا ہے ورنہ سستی اور بد دلی کے ساتھ صبح کرتا ہے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يعقد الشيطان على قافية راس احدكم اذا هو نام ثلاث عقد يضرب مكان كل عقدة عليك ليل طويل فارقد فان استيقظ فذكر الله انحلت عقدة فان توضا انحلت عقدة فان صلى انحلت عقدة فاصبح نشيطا طيب النفس والا اصبح خبيث النفس كسلان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں تہجد ( قیام اللیل ) نہ چھوڑو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے نہیں چھوڑتے تھے، جب آپ بیمار یا سست ہوتے تو بیٹھ کر پڑھتے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا ابو داود، قال حدثنا شعبة، عن يزيد بن خمير، قال سمعت عبد الله بن ابي قيس، يقول قالت عايشة رضى الله عنها لا تدع قيام الليل فان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان لا يدعه وكان اذا مرض او كسل صلى قاعدا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر نماز پڑھے اور اپنے شوہر کو بھی جگائے، اگر وہ نہ اٹھے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے ۱؎ ۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا يحيى، حدثنا ابن عجلان، عن القعقاع، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رحم الله رجلا قام من الليل فصلى وايقظ امراته فان ابت نضح في وجهها الماء رحم الله امراة قامت من الليل فصلت وايقظت زوجها فان ابى نضحت في وجهه الماء
ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنی بیوی کو رات میں جگائے اور وہ دونوں نماز پڑھیں تو وہ دونوں ذاکرین اور ذاکرات میں لکھے جاتے ہیں ۔ ابن کثیر نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے اور نہ اس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے اسے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا کلام قرار دیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن مہدی نے سفیان سے روایت کیا ہے اور میرا گمان ہے کہ اس میں انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان کی حدیث موقوف ہے۔
حدثنا ابن كثير، حدثنا سفيان، عن مسعر، عن علي بن الاقمر، ح وحدثنا محمد بن حاتم بن بزيع، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن شيبان، عن الاعمش، عن علي بن الاقمر، - المعنى - عن الاغر، عن ابي سعيد، وابي، هريرة قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا ايقظ الرجل اهله من الليل فصليا او صلى ركعتين جميعا كتبا في الذاكرين والذاكرات " . ولم يرفعه ابن كثير ولا ذكر ابا هريرة جعله كلام ابي سعيد . قال ابو داود رواه ابن مهدي عن سفيان قال واراه ذكر ابا هريرة . قال ابو داود وحديث سفيان موقوف