Loading...

Loading...
کتب
۱۲۱ احادیث
ابوایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کے پہلے کی چار رکعتیں، جن کے درمیان سلام نہیں ہے، ایسی ہیں کہ ان کے واسطے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن سعید قطان کی یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہا: اگر میں عبیدہ سے کچھ روایت کرتا تو ان سے یہی حدیث روایت کرتا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لیکن عبیدہ ضعیف ہیں، اور ابن منجاب کا نام سہم ہے۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، قال سمعت عبيدة، يحدث عن ابراهيم، عن ابن منجاب، عن قرثع، عن ابي ايوب، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اربع قبل الظهر ليس فيهن تسليم تفتح لهن ابواب السماء " . قال ابو داود بلغني عن يحيى بن سعيد القطان قال لو حدثت عن عبيدة بشىء لحدثت عنه بهذا الحديث . قال ابو داود عبيدة ضعيف . قال ابو داود ابن منجاب هو سهم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، حدثنا ابو داود، حدثنا محمد بن مهران القرشي، حدثني جدي ابو المثنى، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رحم الله امرا صلى قبل العصر اربعا
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے ۱؎۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، عليه السلام ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي قبل العصر ركعتين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس، عبدالرحمٰن بن ازہر رضی اللہ عنہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تینوں نے انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعت نفل کے بارے میں پوچھنا اور کہنا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں، حالانکہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے، چنانچہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں ان لوگوں کا پیغام پہنچا دیا، آپ نے کہا: ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو! میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کی بات انہیں بتا دی، تو ان سب نے مجھے ام المؤمنین ام سلمہ کے پاس اسی پیغام کے ساتھ بھیجا، جس کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تھا، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا، پھر دیکھا کہ آپ انہیں پڑھ رہے ہیں، ایک روز آپ نے عصر پڑھی پھر میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے یہ دونوں رکعتیں پڑھنا شروع کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ تو جا کر آپ کے بغل میں کھڑی ہو جا اور آپ سے کہہ: اللہ کے رسول! ام سلمہ کہہ رہی ہیں: میں نے تو آپ کو ان دونوں رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب آپ ہی انہیں پڑھ رہے ہیں، اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا، اس لڑکی نے ایسا ہی کیا، آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا، تو وہ پیچھے ہٹ گئی، جب آپ نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: اے ابوامیہ کی بیٹی! تم نے مجھ سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں پوچھا ہے، دراصل میرے پاس عبدالقیس کے چند لوگ اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر آئے تو ان لوگوں نے مجھے باتوں میں مشغول کر لیا اور میں ظہر کے بعد یہ دونوں رکعتیں نہیں پڑھ سکا، یہ وہی دونوں رکعتیں ہیں ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني عمرو بن الحارث، عن بكير بن الاشج، عن كريب، مولى ابن عباس ان عبد الله بن عباس، وعبد الرحمن بن ازهر، والمسور بن مخرمة، ارسلوه الى عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا اقرا عليها السلام منا جميعا وسلها عن الركعتين بعد العصر وقل انا اخبرنا انك تصلينهما وقد بلغنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنهما . فدخلت عليها فبلغتها ما ارسلوني به فقالت سل ام سلمة . فخرجت اليهم فاخبرتهم بقولها فردوني الى ام سلمة بمثل ما ارسلوني به الى عايشة فقالت ام سلمة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عنهما ثم رايته يصليهما اما حين صلاهما فانه صلى العصر ثم دخل وعندي نسوة من بني حرام من الانصار فصلاهما فارسلت اليه الجارية فقلت قومي بجنبه فقولي له تقول ام سلمة يا رسول الله اسمعك تنهى عن هاتين الركعتين واراك تصليهما فان اشار بيده فاستاخري عنه . قالت ففعلت الجارية فاشار بيده فاستاخرت عنه فلما انصرف قال " يا بنت ابي امية سالت عن الركعتين بعد العصر انه اتاني ناس من عبد القيس بالاسلام من قومهم فشغلوني عن الركعتين اللتين بعد الظهر فهما هاتان
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ سورج بلند ہو۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن وهب بن الاجدع، عن علي، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الصلاة بعد العصر الا والشمس مرتفعة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے سوائے فجر اور عصر کے ۱؎۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في اثر كل صلاة مكتوبة ركعتين الا الفجر والعصر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی ہے، جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور میرے نزدیک عمران میں سب سے پسندیدہ شخص تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی نماز نہیں، اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے سے پہلے کوئی نماز ہے ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا ابان، حدثنا قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس، قال شهد عندي رجال مرضيون فيهم عمر بن الخطاب وارضاهم عندي عمر ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " لا صلاة بعد صلاة الصبح حتى تطلع الشمس ولا صلاة بعد صلاة العصر حتى تغرب الشمس
عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کے کس حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں، اس وقت جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ ان میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور فجر پڑھنے تک ( ثواب ) لکھے جاتے ہیں، اس کے بعد سورج نکلنے تک رک جاؤ یہاں تک کہ وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہو جائے، اس لیے کہ سورج شیطان کی دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور کافر ( سورج کے پجاری ) اس وقت اس کی پوجا کرتے ہیں، پھر تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور ( ثواب ) لکھے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے برابر ہو جائے تو ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ اس وقت جہنم دہکائی جاتی ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھل جائے تو تم جتنی نماز چاہو پڑھو، اس لیے کہ اس وقت بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر پڑھ لو تو سورج ڈوبنے تک ٹھہر جاؤ، اس لیے کہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے، اور کافر اس کی پوجا کرتے ہیں ، انہوں نے ایک لمبی حدیث بیان کی۔ عباس کہتے ہیں: ابوسلام نے اسی طرح مجھ سے ابوامامہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے، البتہ نادانستہ مجھ سے جو بھول ہو گئی ہو تو اس کے لیے میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔
حدثنا الربيع بن نافع، حدثنا محمد بن المهاجر، عن العباس بن سالم، عن ابي سلام، عن ابي امامة، عن عمرو بن عبسة السلمي، انه قال قلت يا رسول الله اى الليل اسمع قال " جوف الليل الاخر فصل ما شيت فان الصلاة مشهودة مكتوبة حتى تصلي الصبح ثم اقصر حتى تطلع الشمس فترتفع قيس رمح او رمحين فانها تطلع بين قرنى شيطان وتصلي لها الكفار ثم صل ما شيت فان الصلاة مشهودة مكتوبة حتى يعدل الرمح ظله ثم اقصر فان جهنم تسجر وتفتح ابوابها فاذا زاغت الشمس فصل ما شيت فان الصلاة مشهودة حتى تصلي العصر ثم اقصر حتى تغرب الشمس فانها تغرب بين قرنى شيطان ويصلي لها الكفار " . وقص حديثا طويلا قال العباس هكذا حدثني ابو سلام عن ابي امامة الا ان اخطي شييا لا اريده فاستغفر الله واتوب اليه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام یسار کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فجر طلوع ہونے کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: یسار! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل کر آئے، اور ہم یہ نماز پڑھ رہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے موجود لوگ غیر حاضر لوگوں کو بتا دیں کہ فجر ( طلوع ) ہونے کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی نماز نہ پڑھو ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا وهيب، حدثنا قدامة بن موسى، عن ايوب بن حصين، عن ابي علقمة، عن يسار، مولى ابن عمر قال راني ابن عمر وانا اصلي، بعد طلوع الفجر فقال يا يسار ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج علينا ونحن نصلي هذه الصلاة فقال " ليبلغ شاهدكم غايبكم لا تصلوا بعد الفجر الا سجدتين
اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کے بعد دو رکعت نہ پڑھتے رہے ہوں ۱؎۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود، ومسروق، قالا نشهد على عايشة - رضى الله عنها - انها قالت ما من يوم ياتي على النبي صلى الله عليه وسلم الا صلى بعد العصر ركعتين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( خود تو ) عصر کے بعد نماز پڑھتے تھے اور ( دوسروں کو ) اس سے منع فرماتے، اور پے در پے روزے بھی رکھتے تھے اور ( دوسروں کو ) مسلسل روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔
حدثنا عبيد الله بن سعد، حدثنا عمي، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن ذكوان، مولى عايشة انها حدثته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي بعد العصر وينهى عنها ويواصل وينهى عن الوصال
عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو ، پھر فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو جس کا جی چاہے ، یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو ( راتب ) سنت نہ بنا لیں ۱؎۔
حدثنا عبيد الله بن عمر، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن الحسين المعلم، عن عبد الله بن بريدة، عن عبد الله المزني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلوا قبل المغرب ركعتين " . ثم قال " صلوا قبل المغرب ركعتين لمن شاء " . خشية ان يتخذها الناس سنة
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو یہ نماز پڑھتے دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے ہم کو دیکھا تو نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم البزاز، اخبرنا سعيد بن سليمان، حدثنا منصور بن ابي الاسود، عن المختار بن فلفل، عن انس بن مالك، قال صليت الركعتين قبل المغرب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال قلت لانس اراكم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم رانا فلم يامرنا ولم ينهنا
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، ہر دو اذانوں ۱؎کے درمیان نماز ہے، اس شخص کے لیے جو چاہے ۔
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا ابن علية، عن الجريري، عن عبد الله بن بريدة، عن عبد الله بن مغفل، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بين كل اذانين صلاة بين كل اذانين صلاة لمن شاء
طاؤس کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب کے پہلے دو رکعت سنت پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا، البتہ آپ نے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کی رخصت دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا ہے کہ ( ابوشعیب کے بجائے ) وہ شعیب ہے یعنی شعبہ کو ان کے نام میں وہم ہو گیا ہے۔
حدثنا ابن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ابي شعيب، عن طاوس، قال سيل ابن عمر عن الركعتين، قبل المغرب فقال ما رايت احدا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يصليهما . ورخص في الركعتين بعد العصر . قال ابو داود سمعت يحيى بن معين يقول هو شعيب يعني وهم شعبة في اسمه
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن آدم کے ہر جوڑ پر صبح ہوتے ہی ( بطور شکرانے کے ) ایک صدقہ ہوتا ہے، اب اگر وہ کسی ملنے والے کو سلام کرے تو یہ ایک صدقہ ہے، کسی کو بھلائی کا حکم دے تو یہ بھی صدقہ ہے، برائی سے روکے یہ بھی صدقہ ہے، راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے تو یہ بھی صدقہ ہے، اپنی بیوی سے صحبت کرے تو یہ بھی صدقہ ہے البتہ ان سب کے بجائے اگر دو رکعت نماز چاشت کے وقت پڑھ لے تو یہ ان سب کی طرف سے کافی ہے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عباد کی روایت زیادہ کامل ہے اور مسدد نے امر و نہی کا ذکر نہیں کیا ہے، ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ فلاں اور فلاں چیز بھی صدقہ ہے اور ابن منیع کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم میں سے ایک شخص اپنی ( بیوی سے ) شہوت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے صدقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ( کیوں نہیں ) اگر وہ کسی حرام جگہ میں شہوت پوری کرتا تو کیا وہ گنہگار نہ ہوتا۲؎؟ ۔
حدثنا احمد بن منيع، عن عباد بن عباد، ح وحدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، - المعنى - عن واصل، عن يحيى بن عقيل، عن يحيى بن يعمر، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يصبح على كل سلامى من ابن ادم صدقة تسليمه على من لقي صدقة وامره بالمعروف صدقة ونهيه عن المنكر صدقة واماطته الاذى عن الطريق صدقة وبضعة اهله صدقة ويجزي من ذلك كله ركعتان من الضحى " . قال ابو داود وحديث عباد اتم ولم يذكر مسدد الامر والنهى زاد في حديثه وقال كذا وكذا وزاد ابن منيع في حديثه قالوا يا رسول الله احدنا يقضي شهوته وتكون له صدقة قال " ارايت لو وضعها في غير حلها الم يكن ياثم
ابوالاسود الدولی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ اسی دوران آپ نے کہا: ہر روز صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر شخص کے جوڑ پر ایک صدقہ ہے، تو اس کے لیے ہر نماز کے بدلہ ایک صدقہ ( کا ثواب ) ہے، ہر روزہ کے بدلہ ایک صدقہ ( کا ثواب ) ہے، ہر حج ایک صدقہ ہے، اور ہر تسبیح ایک صدقہ ہے، ہر تکبیر ایک صدقہ ہے، اور ہر تحمید ایک صدقہ ہے، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک اعمال کا شمار کیا پھر فرمایا: ان سب سے تمہیں بس چاشت کی دو رکعتیں کافی ہیں ۔
حدثنا وهب بن بقية، اخبرنا خالد، عن واصل، عن يحيى بن عقيل، عن يحيى بن يعمر، عن ابي الاسود الدولي، قال بينما نحن عند ابي ذر قال " يصبح على كل سلامى من احدكم في كل يوم صدقة فله بكل صلاة صدقة وصيام صدقة وحج صدقة وتسبيح صدقة وتكبير صدقة وتحميد صدقة " . فعد رسول الله صلى الله عليه وسلم من هذه الاعمال الصالحة ثم قال " يجزي احدكم من ذلك ركعتا الضحى
معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص فجر کے بعد چاشت کے وقت تک اسی جگہ بیٹھا رہے جہاں اس نے نماز پڑھی ہے پھر چاشت کی دو رکعتیں پڑھے اس دوران سوائے خیر کے کوئی اور بات زبان سے نہ نکالے تو اس کی تمام خطائیں معاف کر دی جائیں گی وہ سمندر کے جھاگ سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں ۔
حدثنا محمد بن سلمة المرادي، حدثنا ابن وهب، عن يحيى بن ايوب، عن زبان بن فايد، عن سهل بن معاذ بن انس الجهني، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من قعد في مصلاه حين ينصرف من صلاة الصبح حتى يسبح ركعتى الضحى لا يقول الا خيرا غفر له خطاياه وان كانت اكثر من زبد البحر
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نماز کے بعد دوسری نماز کی ادائیگی اور ان دونوں کے درمیان میں کوئی بیہودہ اور فضول کام نہ کرنا ایسا عمل ہے جو علیین میں لکھا جاتا ہے ۔
حدثنا ابو توبة الربيع بن نافع، حدثنا الهيثم بن حميد، عن يحيى بن الحارث، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن ابي امامة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " صلاة في اثر صلاة لا لغو بينهما كتاب في عليين
نعیم بن ہمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! اپنے دن کے شروع کی چار رکعتیں ۱؎ ترک نہ کر کہ میں دن کے آخر تک تجھ کو کافی ہوں گا یعنی تیرا محافظ رہوں گا ۔
حدثنا داود بن رشيد، حدثنا الوليد، عن سعيد بن عبد العزيز، عن مكحول، عن كثير بن مرة ابي شجرة، عن نعيم بن همار، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يقول الله عز وجل يا ابن ادم لا تعجزني من اربع ركعات في اول نهارك اكفك اخره