Loading...

Loading...
کتب
۱۲۱ احادیث
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایک دن میں بارہ رکعتیں نفل پڑھے گا تو اس کے بدلے اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا ابن علية، حدثنا داود بن ابي هند، حدثني النعمان بن سالم، عن عمرو بن اوس، عن عنبسة بن ابي سفيان، عن ام حبيبة، قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " من صلى في يوم ثنتى عشرة ركعة تطوعا بني له بهن بيت في الجنة
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، اور مغرب لوگوں کے ساتھ ادا کرتے اور واپس آ کر میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ انہیں عشاء پڑھاتے پھر میرے گھر میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور رات میں آپ نو رکعتیں پڑھتے، ان میں وتر بھی ہوتی، اور رات میں آپ کبھی تو دیر تک کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور کبھی دیر تک بیٹھ کر اور جب کھڑے ہو کر قرآت فرماتے تو رکوع و سجود بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب بیٹھ کر قرآت کرتے تو رکوع و سجود بھی بیٹھ کر کرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر نکل کر لوگوں کو فجر پڑھاتے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا هشيم، اخبرنا خالد، ح وحدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد، - المعنى - عن عبد الله بن شقيق، قال سالت عايشة عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم من التطوع فقالت كان يصلي قبل الظهر اربعا في بيتي ثم يخرج فيصلي بالناس ثم يرجع الى بيتي فيصلي ركعتين وكان يصلي بالناس المغرب ثم يرجع الى بيتي فيصلي ركعتين وكان يصلي بهم العشاء ثم يدخل بيتي فيصلي ركعتين وكان يصلي من الليل تسع ركعات فيهن الوتر وكان يصلي ليلا طويلا قايما وليلا طويلا جالسا فاذا قرا وهو قايم ركع وسجد وهو قايم واذا قرا وهو قاعد ركع وسجد وهو قاعد وكان اذا طلع الفجر صلى ركعتين ثم يخرج فيصلي بالناس صلاة الفجر صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور اس کے بعد دو رکعتیں، مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، اور جمعہ کے بعد کچھ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ فارغ ہو کر گھر واپس آ جاتے پھر دو رکعتیں پڑھتے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي قبل الظهر ركعتين وبعدها ركعتين - وبعد المغرب ركعتين - في بيته وبعد صلاة العشاء ركعتين وكان لا يصلي بعد الجمعة حتى ينصرف فيصلي ركعتين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر ( کی فرض نماز ) سے پہلے چار رکعتیں اور صبح کی ( فرض نماز ) سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن ابراهيم بن محمد بن المنتشر، عن ابيه، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يدع اربعا قبل الظهر وركعتين قبل صلاة الغداة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور نفل کا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے جتنا صبح سے پہلے کی دونوں کی رکعتوں کا رکھتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، حدثني عطاء، عن عبيد بن عمير، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يكن على شىء من النوافل اشد معاهدة منه على الركعتين قبل الصبح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ میں کہتی: کیا آپ نے ان میں سورۃ فاتحہ پڑھی ہے؟
حدثنا احمد بن ابي شعيب الحراني، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا يحيى بن سعيد، عن محمد بن عبد الرحمن، عن عمرة، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يخفف الركعتين قبل صلاة الفجر حتى اني لاقول هل قرا فيهما بام القران
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھی۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا مروان بن معاوية، حدثنا يزيد بن كيسان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قرا في ركعتى الفجر { قل يا ايها الكافرون } و { قل هو الله احد}
عبیداللہ بن زیاد الکندی کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز فجر کی خبر دیں، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کسی بات میں مشغول کر لیا، وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہو گئی، پھر بلال اٹھے اور آپ کو نماز کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں نکلے، پھر جب نکلے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہو گئی، اور آپ نے نکلنے میں دیر کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا ، بلال نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو کافی صبح کر دی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جتنی دیر میں نے کی، اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہو جاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا ابو المغيرة، حدثنا عبد الله بن العلاء، حدثني ابو زيادة، عبيد الله بن زياد الكندي عن بلال، انه حدثه انه، اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم ليوذنه بصلاة الغداة فشغلت عايشة - رضى الله عنها - بلالا بامر سالته عنه حتى فضحه الصبح فاصبح جدا قال فقام بلال فاذنه بالصلاة وتابع اذانه فلم يخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما خرج صلى بالناس واخبره ان عايشة شغلته بامر سالته عنه حتى اصبح جدا وانه ابطا عليه بالخروج فقال " اني كنت ركعت ركعتى الفجر " . فقال يا رسول الله انك اصبحت جدا . قال " لو اصبحت اكثر مما اصبحت لركعتهما واحسنتهما واجملتهما
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد، حدثنا عبد الرحمن، - يعني ابن اسحاق المدني - عن ابن زيد، عن ابن سيلان، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تدعوهما وان طردتكم الخيل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فجر کی دونوں رکعتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر جس آیت کی تلاوت کرتے تھے وہ «آمنا بالله وما أنزل إلينا» ۱؎ والی آیت ہوتی، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اسے پہلی رکعت میں پڑھتے اور دوسری رکعت میں«آمنا بالله واشهد بأنا مسلمون» ۲؎ پڑھتے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عثمان بن حكيم، اخبرني سعيد بن يسار، عن عبد الله بن عباس، ان كثيرا، مما كان يقرا رسول الله صلى الله عليه وسلم في ركعتى الفجر ب { امنا بالله وما انزل الينا } هذه الاية قال هذه في الركعة الاولى وفي الركعة الاخرة ب { امنا بالله واشهد بانا مسلمون}
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر کی دونوں رکعتوں میں قرآت کرتے سنا، پہلی رکعت میں آپ «قل آمنا بالله وما أنزل علينا» ۱؎ اور دوسری رکعت میں «ربنا آمنا بما أنزلت واتبعنا الرسول فاكتبنا مع الشاهدين» ۲؎ یا«إنا أرسلناك بالحق بشيرا ونذيرا ولا تسأل عن أصحاب الجحيم» ۳؎ پڑھ رہے تھے اس میں دراوردی کو شک ہوا ہے۔
حدثنا محمد بن الصباح بن سفيان، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عثمان بن عمر، - يعني ابن موسى - عن ابي الغيث، عن ابي هريرة، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في ركعتى الفجر { قل امنا بالله وما انزل علينا } في الركعة الاولى وفي الركعة الاخرى بهذه الاية { ربنا امنا بما انزلت واتبعنا الرسول فاكتبنا مع الشاهدين } او { انا ارسلناك بالحق بشيرا ونذيرا ولا تسال عن اصحاب الجحيم } شك الدراوردي
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹ جائے ، اس پر ان سے مروان بن حکم نے کہا: کیا کسی کے لیے مسجد تک چل کر جانا کافی نہیں کہ وہ دائیں کروٹ لیٹے؟ عبیداللہ کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: نہیں، تو پھر یہ خبر ابن عمر رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ نے ( کثرت سے روایت کر کے ) خود پر زیادتی کی ہے ( اگر ان سے اس میں سہو یا غلطی ہو تو اس کا بار ان پر ہو گا ) ، وہ کہتے ہیں: ابن عمر سے پوچھا گیا: جو ابوہریرہ کہتے ہیں، اس میں سے کسی بات سے آپ کو انکار ہے؟ تو ابن عمر نے جواب دیا: نہیں، البتہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ( روایت کثرت سے بیان کرنے میں ) دلیر ہیں اور ہم کم ہمت ہیں، جب یہ بات ابوہریرہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: اگر مجھے یاد ہے اور وہ لوگ بھول گئے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟ ۱؎۔
حدثنا مسدد، وابو كامل وعبيد الله بن عمر بن ميسرة قالوا حدثنا عبد الواحد، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صلى احدكم الركعتين قبل الصبح فليضطجع على يمينه " . فقال له مروان بن الحكم اما يجزي احدنا ممشاه الى المسجد حتى يضطجع على يمينه قال عبيد الله في حديثه قال لا . قال فبلغ ذلك ابن عمر فقال اكثر ابو هريرة على نفسه . قال فقيل لابن عمر هل تنكر شييا مما يقول قال لا ولكنه اجترا وجبنا . قال فبلغ ذلك ابا هريرة قال فما ذنبي ان كنت حفظت ونسوا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری رات میں اپنی نماز پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے، اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کو نماز فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے، پھر نماز کے لیے نکل جاتے۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا بشر بن عمر، حدثنا مالك بن انس، عن سالم ابي النضر، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا قضى صلاته من اخر الليل نظر فان كنت مستيقظة حدثني وان كنت نايمة ايقظني وصلى الركعتين ثم اضطجع حتى ياتيه الموذن فيوذنه بصلاة الصبح فيصلي ركعتين خفيفتين ثم يخرج الى الصلاة
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور میں سو رہی ہوتی تو لیٹ جاتے اور اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو کرتے
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن زياد بن سعد، عمن حدثه - ابن ابي عتاب، او غيره - عن ابي سلمة، قال قالت عايشة كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلى ركعتى الفجر فان كنت نايمة اضطجع وان كنت مستيقظة حدثني
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فجر کے لیے نکلا، تو آپ جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اسے نماز کے لیے آواز دیتے یا پیر سے جگاتے جاتے تھے۔ زیاد کی روایت میں «حدثنا أبو الفضل» کے بجائے «حدثنا أبو الفضيل»ہے۔
حدثنا عباس العنبري، وزياد بن يحيى، قالا حدثنا سهل بن حماد، عن ابي مكين، حدثنا ابو الفضل، - رجل من الانصار - عن مسلم بن ابي بكرة، عن ابيه، قال خرجت مع النبي صلى الله عليه وسلم لصلاة الصبح فكان لا يمر برجل الا ناداه بالصلاة او حركه برجله . قال زياد قال حدثنا ابو الفضيل
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھا رہے تھے تو اس نے دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک ہو گیا، جب آپ نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو فرمایا: اے فلاں! تمہاری کون سی نماز تھی؟ آیا وہ جو تو نے تنہا پڑھی یا وہ جو ہمارے ساتھ پڑھی ۱؎؟ ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم، عن عبد الله بن سرجس، قال جاء رجل والنبي صلى الله عليه وسلم يصلي الصبح فصلى الركعتين ثم دخل مع النبي صلى الله عليه وسلم في الصلاة فلما انصرف قال " يا فلان ايتهما صلاتك التي صليت وحدك او التي صليت معنا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کھڑی ہو جائے تو سوائے فرض کے کوئی نماز نہیں ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا حماد بن سلمة، ح وحدثنا احمد بن حنبل، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن ورقاء، ح وحدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، ح وحدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد بن هارون، عن حماد بن زيد، عن ايوب، ح وحدثنا محمد بن المتوكل، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا زكريا بن اسحاق، كلهم عن عمرو بن دينار، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقيمت الصلاة فلا صلاة الا المكتوبة
قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز فجر ختم ہو جانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فجر دو ہی رکعت ہے ، اس شخص نے جواب دیا: میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں، وہ اب پڑھی ہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن نمير، عن سعد بن سعيد، حدثني محمد بن ابراهيم، عن قيس بن عمرو، قال راى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يصلي بعد صلاة الصبح ركعتين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " صلاة الصبح ركعتان " . فقال الرجل اني لم اكن صليت الركعتين اللتين قبلهما فصليتهما الان . فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم
اس طریق سے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے اسی سند سے مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کے دونوں بیٹے عبدربہ اور یحییٰ نے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے کہ ان کے دادا زید نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انہیں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا تھا۔
حدثنا حامد بن يحيى البلخي، قال قال سفيان كان عطاء بن ابي رباح يحدث بهذا الحديث عن سعد بن سعيد . قال ابو داود وروى عبد ربه ويحيى ابنا سعيد هذا الحديث مرسلا ان جدهم زيدا صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم بهذه القصة
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور بعد کی چار رکعتوں کی پابندی کرے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے علاء بن حارث اور سلیمان بن موسیٰ نے مکحول سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
حدثنا مومل بن الفضل، حدثنا محمد بن شعيب، عن النعمان، عن مكحول، عن عنبسة بن ابي سفيان، قال قالت ام حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حافظ على اربع ركعات قبل الظهر واربع بعدها حرم على النار " . قال ابو داود رواه العلاء بن الحارث وسليمان بن موسى عن مكحول باسناده مثله