Loading...

Loading...
کتب
۱۲۱ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی واقعہ مرفوعاً مروی ہے اس میں «فقال لأبي بكر: ارفع من صوتك شيئًا ولعمر اخفض شيئًا»کے جملہ کا ذکر نہیں اور یہ اضافہ ہے : اے بلال! میں نے تم کو سنا ہے کہ تم تھوڑا اس سورۃ سے پڑھتے ہو اور تھوڑا اس سورۃ سے ، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک پاکیزہ کلام ہے، اللہ بعض کو بعض کے ساتھ ملاتا ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب نے ٹھیک کیا ۔
حدثنا ابو حصين بن يحيى الرازي، حدثنا اسباط بن محمد، عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذه القصة لم يذكر فقال لابي بكر : " ارفع من صوتك شييا " . ولعمر : " اخفض شييا " . زاد : " وقد سمعتك يا بلال وانت تقرا من هذه السورة ومن هذه السورة " . قال : كلام طيب يجمع الله تعالى بعضه الى بعض . فقال النبي صلى الله عليه وسلم : " كلكم قد اصاب
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص رات کی نماز ( تہجد ) کے لیے اٹھا، اس نے قرآت کی، قرآت میں اپنی آواز بلند کی تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ فلاں شخص پر رحم فرمائے، کتنی ایسی آیتیں تھیں جنہیں میں بھول چلا تھا، اس نے انہیں آج رات مجھے یاد دلا دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث ہارون نحوی نے حماد بن سلمہ سے سورۃ آل عمران کے سلسلہ میں روایت کی ہے کہ اللہ فلاں پر رحم کرے کہ اس نے مجھے اس سورۃ کے بعض ایسے الفاظ یاد دلا دیے جنہیں میں بھول چکا تھا اور وہ «وكأين من نبي» ( آل عمران: ۱۴۶ ) والی آیت ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها : ان رجلا، قام من الليل فقرا فرفع صوته بالقران، فلما اصبح قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " يرحم الله فلانا، كاين من اية اذكرنيها الليلة كنت قد اسقطتها " . قال ابو داود : رواه هارون النحوي عن حماد بن سلمة في سورة ال عمران في الحروف { وكاين من نبي}
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اعتکاف فرمایا، آپ نے لوگوں کو بلند آواز سے قرآت کرتے سنا تو پردہ ہٹایا اور فرمایا: لوگو! سنو، تم میں سے ہر ایک اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، تو کوئی کسی کو ایذا نہ پہنچائے اور نہ قرآت میں ( یا کہا نماز ) میں اپنی آواز کو دوسرے کی آواز سے بلند کرے ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن اسماعيل بن امية، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد، قال : اعتكف رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد فسمعهم يجهرون بالقراءة، فكشف الستر وقال : " الا ان كلكم مناج ربه فلا يوذين بعضكم بعضا، ولا يرفع بعضكم على بعض في القراءة " . او قال : " في الصلاة
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے اعلانیہ طور سے خیرات کرنے والا اور آہستہ قرآن پڑھنے والا ایسے ہے جیسے چپکے سے خیرات کرنے والا ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن بحير بن سعد، عن خالد بن معدان، عن كثير بن مرة الحضرمي، عن عقبة بن عامر الجهني، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " الجاهر بالقران كالجاهر بالصدقة، والمسر بالقران كالمسر بالصدقة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو دس رکعتیں پڑھتے اور ایک رکعت وتر ادا کرتے اور دو رکعت فجر کی سنت پڑھتے، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوتیں۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن حنظلة، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل عشر ركعات، ويوتر بسجدة، ويسجد سجدتى الفجر، فذلك ثلاث عشرة ركعة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ان میں سے ایک رکعت وتر کی ہوتی تھی، جب آپ اس سے فارغ ہو جاتے تو داہنی کروٹ لیٹتے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي من الليل احدى عشرة ركعة، يوتر منها بواحدة، فاذا فرغ منها اضطجع على شقه الايمن
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہو کر فجر کی پو پھوٹنے تک گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے، ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر کی پڑھتے، اپنے سجدوں میں اتنا ٹھہرتے کہ تم میں سے کوئی اتنی دیر میں سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن فجر کی پہلی اذان کہہ کر خاموش ہوتا تو آپ کھڑے ہوتے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھتے، پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے یہاں تک کہ مؤذن ( بلانے کے لے ) آتا۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم، ونصر بن عاصم، - وهذا لفظه - قالا حدثنا الوليد، حدثنا الاوزاعي، - وقال نصر : عن ابن ابي ذيب، والاوزاعي، - عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فيما بين ان يفرغ من صلاة العشاء الى ان ينصدع الفجر احدى عشرة ركعة، يسلم من كل ثنتين ويوتر بواحدة، ويمكث في سجوده قدر ما يقرا احدكم خمسين اية قبل ان يرفع راسه، فاذا سكت الموذن بالاولى من صلاة الفجر قام فركع ركعتين خفيفتين، ثم اضطجع على شقه الايمن حتى ياتيه الموذن
اس طریق سے بھی ابن شہاب زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ ایک رکعت وتر پڑھتے اور اتنی دیر تک سجدہ کرتے جتنی دیر میں تم میں سے کوئی پچاس آیتیں ( رکوع سے ) سر اٹھانے سے پہلے پڑھ لے، پھر جب مؤذن فجر کی اذان کہہ کر خاموش ہوتا اور فجر ظاہر ہو جاتی، آگے راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی البتہ بعض کی روایتوں میں بعض پر کچھ اضافہ ہے۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، حدثنا ابن وهب، اخبرني ابن ابي ذيب، وعمرو بن الحارث، ويونس بن يزيد، ان ابن شهاب، اخبرهم باسناده، ومعناه،، قال : ويوتر بواحدة، ويسجد سجدة قدر ما يقرا احدكم خمسين اية قبل ان يرفع راسه، فاذا سكت الموذن من صلاة الفجر وتبين له الفجر . وساق معناه . قال : وبعضهم يزيد على بعض
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو میں تیرہ رکعتیں پڑھتے اور انہیں پانچ رکعتوں سے طاق بنا دیتے، ان پانچ رکعتوں میں سوائے قعدہ اخیرہ کے کوئی قعدہ نہیں ہوتا پھر سلام پھیر دیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن نمیر نے ہشام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة يوتر منها بخمس، لا يجلس في شىء من الخمس حتى يجلس في الاخرة فيسلم . قال ابو داود : رواه ابن نمير عن هشام، نحوه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے پھر جب فجر کی اذان سنتے تو ہلکی سی دو رکعتیں اور پڑھتے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالليل ثلاث عشرة ركعة، ثم يصلي اذا سمع النداء بالصبح ركعتين خفيفتين
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے ( پہلے ) آٹھ رکعتیں پڑھتے ( پھر ) ایک رکعت سے وتر کرتے، مسلم بن ابراہیم کی روایت میں «بعد الوتر» وتر کے بعد کے الفاظ بھی ہیں ( پھر موسیٰ اور مسلم ابن ابراہیم دونوں متفق ہیں کہ ) دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، جب رکوع کرنا چاہتے تو کھڑے ہو جاتے پھر رکوع کرتے اور دو رکعتیں فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان پڑھتے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، ومسلم بن ابراهيم، قالا حدثنا ابان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن عايشة، : ان نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة، وكان يصلي ثماني ركعات، ويوتر بركعة، ثم يصلي - قال مسلم : بعد الوتر، ثم اتفقا - ركعتين وهو قاعد، فاذا اراد ان يركع قام فركع، ويصلي بين اذان الفجر والاقامة ركعتين
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ( تہجد ) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں کبھی گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ۱؎، آپ چار رکعتیں پڑھتے، ان رکعتوں کی خوبی اور لمبائی کو نہ پوچھو، پھر چار رکعتیں پڑھتے، ان کے بھی حسن اور لمبائی کو نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں پڑھتے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا ۲؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، انه اخبره : انه، سال عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فقالت : ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على احدى عشرة ركعة : يصلي اربعا فلا تسال عن حسنهن وطولهن، ثم يصلي اربعا فلا تسال عن حسنهن وطولهن، ثم يصلي ثلاثا، قالت عايشة - رضى الله عنها - فقلت : يا رسول الله اتنام قبل ان توتر قال : " يا عايشة ان عينى تنامان ولا ينام قلبي
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، پھر میں مدینہ آیا تاکہ اپنی ایک زمین بیچ دوں اور اس سے ہتھیار خرید لوں اور جہاد کروں، تو میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ سے ہوئی، ان لوگوں نے کہا: ہم میں سے چھ افراد نے ایسا ہی کرنے کا ارادہ کیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع کیا اور فرمایا: تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ، تو میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں پوچھا، آپ نے کہا: میں ایک ایسی ذات کی جانب تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وتر کے بارے میں لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والی ہے، تم ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ۔ چنانچہ میں ان کے پاس چلا اور حکیم بن افلح سے بھی ساتھ چلنے کو کہا، انہوں نے انکار کیا تو میں نے ان کو قسم دلائی، چنانچہ وہ میرے ساتھ ہو لیے ( پھر ہم دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے ) ، ان سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، انہوں نے پوچھا: کون ہو؟ کہا: حکیم بن افلح، انہوں نے پوچھا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ کہا: سعد بن ہشام، پوچھا: عامر کے بیٹے ہشام جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے؟ میں نے عرض کیا: ہاں، وہ کہنے لگیں: عامر کیا ہی اچھے آدمی تھے، میں نے عرض کیا: ام المؤمنین مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا حال بیان کیجئے، انہوں نے کہا: کیا تم قرآن نہیں پڑھتے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا، میں نے عرض کیا: آپ کی رات کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں کچھ بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: کیا تم سورۃ «يا أيها المزمل» نہیں پڑھتے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا: جب اس سورۃ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نماز کے لیے کھڑے ہوئے یہاں تک کہ ان کے پیروں میں ورم آ گیا اور سورۃ کی آخری آیات آسمان میں بارہ ماہ تک رکی رہیں پھر نازل ہوئیں تو رات کی نماز نفل ہو گئی جب کہ وہ پہلے فرض تھی، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وتر کے بارے میں بیان کیجئیے، انہوں نے کہا: آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور آٹھویں رکعت کے بعد پھر کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھتے، اس طرح آپ آٹھویں اور نویں رکعت ہی میں بیٹھتے اور آپ نویں رکعت کے بعد ہی سلام پھیرتے اس کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، اس طرح یہ کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، میرے بیٹے! پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رسیدہ ہو گئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعتوں سے وتر کرنے لگے، اب صرف چھٹی اور ساتویں رکعت کے بعد بیٹھتے اور ساتویں میں سلام پھیرتے پھر بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، اس طرح یہ کل نو رکعتیں ہوتیں، میرے بیٹے! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی رات کو ( لگاتار ) صبح تک قیام ۱؎ نہیں کیا، اور نہ ہی کبھی ایک رات میں قرآن ختم کیا، اور نہ ہی رمضان کے علاوہ کبھی مہینہ بھر مکمل روزے رکھے، اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نماز پڑھتے تو اس پر مداومت فرماتے، اور جب رات کو آنکھوں میں نیند غالب آ جاتی تو دن میں بارہ رکعتیں ادا فرماتے۔ سعد بن ہشام کہتے ہیں: میں ابن عباس کے پاس آیا اور ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! حدیث یہی ہے، اگر میں ان سے بات کرتا تو میں ان کے پاس جا کر خود ان کے ہی منہ سے بالمشافہہ یہ حدیث سنتا، میں نے ان سے کہا: اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ آپ ان سے بات نہیں کرتے ہیں تو میں آپ سے یہ حدیث بیان ہی نہیں کرتا۔
اس طریق سے بھی قتادہ سے سابقہ سند سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور صرف آٹھویں رکعت ہی میں بیٹھتے تھے اور جب بیٹھتے تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے پھر دعا مانگتے پھر سلام ایسے پھیرتے کہ ہمیں بھی سنا دیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر ایک رکعت پڑھتے، اے میرے بیٹے! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوئیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے اور بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے اور سلام پھیرنے کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر ادا کرتے ، پھر اسی مفہوم کی روایت لفظ «مشافهة» تک ذکر کی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سعيد، عن قتادة، باسناده نحوه قال : يصلي ثمان ركعات لا يجلس فيهن الا عند الثامنة، فيجلس فيذكر الله عز وجل، ثم يدعو، ثم يسلم تسليما يسمعنا، ثم يصلي ركعتين وهو جالس بعد ما يسلم، ثم يصلي ركعة، فتلك احدى عشرة ركعة يا بنى، فلما اسن رسول الله صلى الله عليه وسلم واخذ اللحم اوتر بسبع، وصلى ركعتين وهو جالس بعد ما يسلم، بمعناه الى مشافهة
اس سند سے بھی سعید نے یہی حدیث بیان کی ہے اس میں ہے: آپ اپنا سلام ہمیں سناتے جیسا کہ یحییٰ بن سعید نے کہا ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا سعيد، بهذا الحديث قال : يسلم تسليما يسمعنا كما قال يحيى بن سعيد
اس سند سے بھی سعید نے یہی حدیث روایت کی ہے ابن بشار نے یحییٰ بن سعید کی طرح حدیث نقل کی مگر اس میں «ويسلم تسليمة يسمعنا» کے الفاظ ہیں۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن سعيد، بهذا الحديث قال ابن بشار بنحو حديث يحيى بن سعيد الا انه قال : ويسلم تسليمة يسمعنا
زرارہ بن اوفی سے روایت ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز ( تہجد ) کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء جماعت کے ساتھ پڑھتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس واپس آتے اور چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر جاتے اور سو جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرہانے آپ کے وضو کا پانی ڈھکا رکھا ہوتا اور مسواک رکھی ہوتی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ رات کو جب چاہتا آپ کو اٹھا دیتا تو آپ ( اٹھ کر ) مسواک کرتے اور پوری طرح سے وضو کرتے، پھر اپنی جائے نماز پر کھڑے ہوتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، ان میں سے ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ قرآن کی کوئی سورۃ اور جو اللہ کو منظور ہوتا پڑھتے اور کسی رکعت کے بعد نہیں بیٹھتے یہاں تک کہ جب آٹھویں رکعت ہو جاتی تو قعدہ کرتے اور سلام نہیں پھیرتے بلکہ نویں رکعت پڑھتے پھر قعدہ کرتے، اور اللہ جو دعا آپ سے کروانا چاہتا، کرتے اور اس سے سوال کرتے اور اس کی طرف متوجہ ہوتے اور ایک سلام پھیرتے اس قدر بلند آواز سے کہ قریب ہوتا کہ گھر کے لوگ جاگ جائیں، پھر بیٹھ کر سورۃ فاتحہ کی قرآت کرتے اور رکوع بھی بیٹھ کر کرتے، پھر دوسری رکعت پڑھتے اور بیٹھے بیٹھے رکوع اور سجدہ کرتے، پھر اللہ جتنی دعا آپ سے کروانا چاہتا کرتے پھر سلام پھیرتے اور نماز سے فارغ ہو جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کا معمول یہی رہا، یہاں تک کہ آپ موٹے ہو گئے تو آپ نے نو میں سے دو رکعتیں کم کر دیں اور اسے چھ اور سات رکعتیں کر لیں اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے، وفات تک آپ کا یہی معمول رہا۔
حدثنا علي بن حسين الدرهمي، حدثنا ابن ابي عدي، عن بهز بن حكيم، حدثنا زرارة بن اوفى، : ان عايشة، - رضى الله عنها - سيلت عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في جوف الليل، فقالت : كان يصلي صلاة العشاء في جماعة، ثم يرجع الى اهله فيركع اربع ركعات، ثم ياوي الى فراشه وينام وطهوره مغطى عند راسه، وسواكه موضوع حتى يبعثه الله ساعته التي يبعثه من الليل، فيتسوك ويسبغ الوضوء، ثم يقوم الى مصلاه فيصلي ثمان ركعات يقرا فيهن بام الكتاب وسورة من القران وما شاء الله، ولا يقعد في شىء منها حتى يقعد في الثامنة، ولا يسلم، ويقرا في التاسعة، ثم يقعد فيدعو بما شاء الله ان يدعوه، ويساله ويرغب اليه ويسلم تسليمة واحدة شديدة، يكاد يوقظ اهل البيت من شدة تسليمه، ثم يقرا وهو قاعد بام الكتاب، ويركع وهو قاعد، ثم يقرا الثانية فيركع ويسجد وهو قاعد، ثم يدعو ما شاء الله ان يدعو، ثم يسلم وينصرف، فلم تزل تلك صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدن فنقص من التسع ثنتين، فجعلها الى الست والسبع وركعتيه وهو قاعد حتى قبض على ذلك صلى الله عليه وسلم
یزید بن ہارون کہتے ہیں: ہمیں بہز بن حکیم نے خبر دی ہے پھر انہوں نے یہی حدیث اسی سند سے ذکر کی، اس میں ہے: آپ عشاء پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے، انہوں نے چار رکعت کا ذکر نہیں کیا ، آگے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے: پھر آپ آٹھ رکعتیں پڑھتے اور ان میں قرآت، رکوع اور سجدہ میں برابری کرتے اور ان میں سے کسی میں نہیں بیٹھتے سوائے آٹھویں کے، اس میں بیٹھتے تھے پھر کھڑے ہو جاتے اور ان میں سلام نہیں پھیرتے پھر ایک رکعت پڑھ کر ان کو طاق کر دیتے پھر سلام پھیرتے اس میں اپنی آواز بلند کرتے یہاں تک کہ ہمیں بیدار کر دیتے ، پھر راوی نے اسی مفہوم کو بیان کیا۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا بهز بن حكيم، فذكر هذا الحديث باسناده قال : يصلي العشاء ثم ياوي الى فراشه، لم يذكر الاربع ركعات، وساق الحديث قال فيه : فيصلي ثماني ركعات يسوي بينهن في القراءة والركوع والسجود، ولا يجلس في شىء منهن الا في الثامنة، فانه كان يجلس ثم يقوم ولا يسلم، فيصلي ركعة يوتر بها، ثم يسلم تسليمة يرفع بها صوته حتى يوقظنا، ثم ساق معناه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: آپ لوگوں کو عشاء پڑھاتے پھر اپنے گھر والوں کے پاس آ کر چار رکعتیں پڑھتے پھر اپنے بستر پر آتے، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، اس میں انہوں نے قرآت اور رکوع و سجدہ میں برابری کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ یہ ذکر کیا ہے کہ آپ اتنی بلند آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم بیدار ہو جاتے۔
حدثنا عمر بن عثمان، حدثنا مروان، - يعني ابن معاوية - عن بهز، حدثنا زرارة بن اوفى، عن عايشة ام المومنين، : انها سيلت عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت : كان يصلي بالناس العشاء، ثم يرجع الى اهله فيصلي اربعا، ثم ياوي الى فراشه، ثم ساق الحديث بطوله ولم يذكر : يسوي بينهن في القراءة والركوع والسجود . ولم يذكر في التسليم : حتى يوقظنا
اس طریق سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے لیکن سند کے اعتبار سے یہ ان کی جید احادیث میں سے نہیں ہے ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، - يعني ابن سلمة - عن بهز بن حكيم، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن عايشة، - رضى الله عنها - بهذا الحديث وليس في تمام حديثهم
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، قال : طلقت امراتي فاتيت المدينة لابيع عقارا كان لي بها، فاشتري به السلاح واغزو، فلقيت نفرا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا : قد اراد نفر منا ستة ان يفعلوا ذلك فنهاهم النبي صلى الله عليه وسلم وقال : " لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة " . فاتيت ابن عباس فسالته عن وتر النبي صلى الله عليه وسلم فقال : ادلك على اعلم الناس بوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم فات عايشة رضى الله عنها . فاتيتها فاستتبعت حكيم بن افلح فابى فناشدته فانطلق معي، فاستاذنا على عايشة، فقالت : من هذا قال : حكيم بن افلح . قالت : ومن معك قال : سعد بن هشام . قالت : هشام بن عامر الذي قتل يوم احد قال قلت : نعم . قالت : نعم المرء كان عامرا . قال قلت : يا ام المومنين حدثيني عن خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت : الست تقرا القران فان خلق رسول الله صلى الله عليه وسلم كان القران . قال قلت : حدثيني عن قيام الليل قالت : الست تقرا { يا ايها المزمل } قال قلت : بلى . قالت : فان اول هذه السورة نزلت، فقام اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى انتفخت اقدامهم، وحبس خاتمتها في السماء اثنى عشر شهرا، ثم نزل اخرها فصار قيام الليل تطوعا بعد فريضة . قال قلت : حدثيني عن وتر النبي صلى الله عليه وسلم . قالت : كان يوتر بثمان ركعات لا يجلس الا في الثامنة، ثم يقوم فيصلي ركعة اخرى، لا يجلس الا في الثامنة والتاسعة، ولا يسلم الا في التاسعة، ثم يصلي ركعتين وهو جالس فتلك احدى عشرة ركعة يا بنى، فلما اسن واخذ اللحم اوتر بسبع ركعات لم يجلس الا في السادسة والسابعة، ولم يسلم الا في السابعة، ثم يصلي ركعتين وهو جالس، فتلك هي تسع ركعات يا بنى، ولم يقم رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة يتمها الى الصباح، ولم يقرا القران في ليلة قط، ولم يصم شهرا يتمه غير رمضان، وكان اذا صلى صلاة داوم عليها، وكان اذا غلبته عيناه من الليل بنوم صلى من النهار ثنتى عشرة ركعة . قال : فاتيت ابن عباس فحدثته . فقال : هذا والله هو الحديث، ولو كنت اكلمها لاتيتها حتى اشافهها به مشافهة . قال قلت : لو علمت انك لا تكلمها ما حدثتك