Loading...

Loading...
کتب
۱۲۱ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے، نو رکعتیں وتر کی ہوتیں، یا کچھ اسی طرح کہا اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے اور اذان و اقامت کے درمیان فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔
حدثنا موسى، - يعني ابن اسماعيل - حدثنا حماد، - يعني ابن سلمة - عن محمد بن عمرو، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة، رضى الله عنها : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة يوتر بسبع او كما قالت، ويصلي ركعتين وهو جالس، وركعتى الفجر بين الاذان والاقامة
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعتیں وتر کی پڑھتے، پھر سات رکعتیں پڑھنے لگے، اور وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے۔ ان میں قرآت کرتے، جب رکوع کرنا ہوتا تو کھڑے ہو جاتے، پھر رکوع کرتے پھر سجدہ کرتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ دونوں حدیثیں خالد بن عبداللہ واسطی نے محمد بن عمرو سے اسی کے مثل روایت کی ہیں، اس میں ہے: کہ علقمہ بن وقاص نے کہا: اماں جان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں کیسے پڑھتے تھے؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن محمد بن ابراهيم، عن علقمة بن وقاص، عن عايشة، رضى الله عنها : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر بتسع ركعات، ثم اوتر بسبع ركعات، وركع ركعتين وهو جالس بعد الوتر يقرا فيهما، فاذا اراد ان يركع قام فركع ثم سجد، قال ابو داود : روى هذين الحديثين خالد بن عبد الله الواسطي عن محمد بن عمرو مثله، قال فيه قال علقمة بن وقاص : يا امتاه كيف كان يصلي الركعتين فذكر معناه . حدثنا وهب بن بقية عن خالد
سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں بتائیے، وہ بولیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء پڑھاتے، پھر بستر پر آ کر سو جاتے، جب آدھی رات ہو جاتی تو قضائے حاجت اور وضو کے لیے اٹھتے اور وضو کر کے مصلیٰ پر تشریف لے جاتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت میں قرآت، رکوع اور سجدہ برابر برابر کرتے، پھر ایک رکعت پڑھ کر اسے وتر بنا دیتے، پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے پھر اپنا پہلو ( زمین پر ) رکھتے، کبھی ایسا ہوتا کہ بلال رضی اللہ عنہ آ کر نماز کی خبر دیتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی نیند سوتے، بسا اوقات میں شبہ میں پڑ جاتی کہ آپ سو رہے ہیں یا جاگ رہے ہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، یہی آپ کی نماز ( تہجد ) ہے یہاں تک کہ آپ بوڑھے اور موٹے ہو گئے، پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گوشت بڑھ جانے کا حال جو اللہ نے چاہا ذکر کیا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا هشام، عن الحسن، عن سعد بن هشام، قال : قدمت المدينة فدخلت على عايشة فقلت : اخبريني عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالت : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي بالناس صلاة العشاء، ثم ياوي الى فراشه فينام، فاذا كان جوف الليل قام الى حاجته والى طهوره فتوضا، ثم دخل المسجد فصلى ثمان ركعات يخيل الى انه يسوي بينهن في القراءة والركوع والسجود، ثم يوتر بركعة، ثم يصلي ركعتين وهو جالس، ثم يضع جنبه، فربما جاء بلال فاذنه بالصلاة، ثم يغفي، وربما شككت اغفى او لا، حتى يوذنه بالصلاة، فكانت تلك صلاته حتى اسن ولحم، فذكرت من لحمه ما شاء الله، وساق الحديث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوئے تو دیکھا کہ آپ بیدار ہوئے، تو مسواک اور وضو کیا اور آیت کریمہ «إن في خلق السموات والأرض» ۱؎ اخیر سورۃ تک پڑھی، پھر کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں، ان میں قیام، رکوع اور سجدہ لمبا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے اور سو گئے یہاں تک کہ خراٹے لینے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکعتوں میں تین بار ایسا ہی کیا، ہر بار مسواک کرتے اور وضو کرتے اور انہیں آیتوں کو پڑھتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھی۔ عثمان کی روایت میں ہے کہ وتر کی تین رکعتیں پڑھیں۔ پھر مؤذن آیا تو آپ نماز کے لیے نکلے۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے: پھر آپ نے وتر پڑھی، پھر آپ کے پاس بلال رضی اللہ عنہ آئے اور جس وقت فجر طلوع ہوئی آپ کو نماز کی خبر دی تو آپ نے فجر کی دو رکعتیں ( سنتیں ) پڑھیں۔ اس کے بعد نماز کے لیے نکلے۔ آگے دونوں کی روایتیں ایک جیسی ہیں۔ آپ ( اس وقت ) فرما رہے تھے: «اللهم اجعل في قلبي نورا، واجعل في لساني نورا، واجعل في سمعي نورا، واجعل في بصري نورا، واجعل خلفي نورا، وأمامي نورا، واجعل من فوقي نورا، ومن تحتي نورا، اللهم وأعظم لي نورا» اے اللہ! تو نور پیدا فرما میرے دل میں، میری زبان میں، میرے کان میں، میری نگاہ میں، میرے پیچھے، میرے آگے، میرے اوپر اور میرے نیچے۔ اور اے اللہ! میرے لیے نور کو بڑا بنا دے ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا هشيم، اخبرنا حصين، عن حبيب بن ابي ثابت، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن فضيل، عن حصين، عن حبيب بن ابي ثابت، عن محمد بن علي بن عبد الله بن عباس، عن ابيه، عن ابن عباس، : انه رقد عند النبي صلى الله عليه وسلم فراه استيقظ فتسوك وتوضا وهو يقول : { ان في خلق السموات والارض } حتى ختم السورة، ثم قام فصلى ركعتين اطال فيهما القيام والركوع والسجود، ثم انه انصرف فنام حتى نفخ، ثم فعل ذلك ثلاث مرات بست ركعات، كل ذلك يستاك ثم يتوضا ويقرا هولاء الايات، ثم اوتر - قال عثمان : بثلاث ركعات، فاتاه الموذن فخرج الى الصلاة - وقال ابن عيسى : ثم اوتر فاتاه بلال فاذنه بالصلاة حين طلع الفجر، فصلى ركعتى الفجر ثم خرج الى الصلاة - ثم اتفقا - وهو يقول : " اللهم اجعل في قلبي نورا، واجعل في لساني نورا، واجعل في سمعي نورا، واجعل في بصري نورا، واجعل خلفي نورا، وامامي نورا، واجعل من فوقي نورا، ومن تحتي نورا، اللهم واعظم لي نورا
اس طریق سے بھی حصین سے اسی جیسی روایت مروی ہے اس میں «وأعظم لي نورا» کا جملہ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح ابوخالد دالانی نے اس حدیث میں «عن حبيبٍ» کہا ہے اور سلمہ بن کہیل نے «عن أبي رشدين عن ابن عباس» کہا ہے۔
حدثنا وهب بن بقية، عن خالد، عن حصين، نحوه قال : " واعظم لي نورا " . قال ابو داود : وكذلك قال ابو خالد الدالاني عن حبيب في هذا، وكذلك قال في هذا الحديث وقال سلمة بن كهيل عن ابي رشدين عن ابن عباس
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک رات گزاری تاکہ دیکھوں کہ آپ نماز کیسے پڑھتے ہیں، تو آپ اٹھے اور وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام آپ کے رکوع کے برابر اور رکوع سجدے کے برابر تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے، پھر جاگے تو وضو اور مسواک کیا، پھر سورۃ آل عمران کی یہ پانچ آیتیں «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار» ( آل عمران: ۱۹۰ ) اخیر تک پڑھیں اور پھر اسی طرح آپ کرتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس رکعتیں ادا کیں، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت پڑھی اور اس سے وتر ( طاق ) کر لیا، اس وقت مؤذن نے اذان دی، مؤذن خاموش ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں ادا کیں پھر بیٹھے رہے یہاں تک کہ فجر پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن بشار کی روایت کا بعض حصہ مجھ پر مخفی رہا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو عاصم، حدثنا زهير بن محمد، عن شريك بن عبد الله بن ابي نمر، عن كريب، عن الفضل بن عباس، قال : بت ليلة عند النبي صلى الله عليه وسلم لانظر كيف يصلي فقام فتوضا ثم صلى ركعتين قيامه مثل ركوعه، وركوعه مثل سجوده، ثم نام، ثم استيقظ فتوضا واستن ثم قرا بخمس ايات من ال عمران { ان في خلق السموات والارض واختلاف الليل والنهار } فلم يزل يفعل هذا حتى صلى عشر ركعات، ثم قام فصلى سجدة واحدة فاوتر بها، ونادى المنادي عند ذلك، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ما سكت الموذن فصلى سجدتين خفيفتين، ثم جلس حتى صلى الصبح . قال ابو داود : خفي على من ابن بشار بعضه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ کے پاس رہا، شام ہو جانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: کیا بچے نے نماز پڑھ لی؟ لوگوں نے کہا: ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے یہاں تک کہ جب رات اس قدر گزر گئی جتنی اللہ کو منظور تھی تو آپ اٹھے اور وضو کر کے سات یا پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور صرف آخر میں سلام پھیرا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، حدثنا محمد بن قيس الاسدي، عن الحكم بن عتيبة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال : بت عند خالتي ميمونة فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد ما امسى فقال : " اصلى الغلام " . قالوا : نعم . فاضطجع حتى اذا مضى من الليل ما شاء الله قام فتوضا، ثم صلى سبعا او خمسا اوتر بهن لم يسلم الا في اخرهن
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہ کے گھر رات گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی پھر ( گھر ) تشریف لائے تو چار رکعتیں پڑھیں، پھر سو گئے پھر اٹھ کر نماز پڑھنے لگے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا آپ نے مجھے گھما کر اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا، پھر پانچ رکعتیں پڑھیں اور سو گئے یہاں تک کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنائی دینے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور جا کر فجر پڑھی۔
حدثنا ابن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن الحكم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال : بت في بيت خالتي ميمونة بنت الحارث فصلى النبي صلى الله عليه وسلم العشاء، ثم جاء فصلى اربعا، ثم نام، ثم قام يصلي، فقمت عن يساره فادارني فاقامني عن يمينه فصلى خمسا ثم نام حتى سمعت غطيطه - او خطيطه - ثم قام فصلى ركعتين، ثم خرج فصلى الغداة
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ قصہ ان سے بیان کیا ہے، اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو دو کر کے آٹھ رکعتیں پڑھیں، پھر پانچ رکعتیں وتر کی پڑھیں اور ان کے بیچ میں بیٹھے نہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عبد المجيد، عن يحيى بن عباد، عن سعيد بن جبير، ان ابن عباس، حدثه في، هذه القصة قال : فقام فصلى ركعتين ركعتين، حتى صلى ثماني ركعات، ثم اوتر بخمس لم يجلس بينهن
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی سنتوں کو لے کر تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے: دو دو کر کے چھ رکعتیں پڑھتے اور وتر کی پانچ رکعتیں پڑھتے اور صرف ان کے آخر میں قعدہ کرتے۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحراني، حدثني محمد بن سلمة، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن جعفر بن الزبير، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي ثلاث عشرة ركعة بركعتيه قبل الصبح : يصلي ستا مثنى مثنى، ويوتر بخمس لا يقعد بينهن الا في اخرهن
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو فجر کی سنتوں کو لے کر کل تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عراك بن مالك، عن عروة، عن عايشة، انها اخبرته : ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي بالليل ثلاث عشرة ركعة بركعتى الفجر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتیں فجر کی دونوں اذانوں کے درمیان پڑھیں، انہیں آپ کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔ جعفر بن مسافر کی روایت میں ہے: اور دو رکعتیں دونوں اذانوں کے درمیان بیٹھ کر پڑھیں۔ انہوں نے «جالسا» ( بیٹھ کر ) کا اضافہ کیا ہے۔
حدثنا نصر بن علي، وجعفر بن مسافر، ان عبد الله بن يزيد المقري، اخبرهما عن سعيد بن ابي ايوب، عن جعفر بن ربيعة، عن عراك بن مالك، عن ابي سلمة، عن عايشة، : ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى العشاء، ثم صلى ثماني ركعات قايما، وركعتين بين الاذانين ولم يكن يدعهما . قال جعفر بن مسافر في حديثه : وركعتين جالسا بين الاذانين، زاد : جالسا
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: کبھی چار اور تین، کبھی چھ اور تین، کبھی آٹھ اور تین اور کبھی دس اور تین، کبھی بھی آپ وتر میں سات سے کم اور تیرہ سے زائد رکعتیں نہیں پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد بن صالح نے اضافہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے کی رکعتوں کو وتر نہیں کرتے تھے، میں نے پوچھا: انہیں وتر کرنے کا کیا مطلب؟ تو وہ بولیں: انہیں نہیں چھوڑتے تھے اور احمد نے چھ اور تین کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، ومحمد بن سلمة المرادي، قالا حدثنا ابن وهب، عن معاوية بن صالح، عن عبد الله بن ابي قيس، قال قلت لعايشة رضى الله عنها : بكم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوتر قالت : كان يوتر باربع وثلاث، وست وثلاث، وثمان وثلاث، وعشر وثلاث، ولم يكن يوتر بانقص من سبع، ولا باكثر من ثلاث عشرة . قال ابو داود زاد احمد بن صالح : ولم يكن يوتر بركعتين قبل الفجر . قلت : ما يوتر قالت : لم يكن يدع ذلك . ولم يذكر احمد : وست وثلاث
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز ( تہجد ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رات کو آپ تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے۔ پھر گیارہ رکعتیں پڑھنے لگے اور دو رکعتیں چھوڑ دیں، پھر وفات کے وقت آپ نو رکعتیں پڑھنے لگے تھے اور آپ کی رات کی آخری نماز وتر ہوتی تھی۔
حدثنا مومل بن هشام، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، عن منصور بن عبد الرحمن، عن ابي اسحاق الهمداني، عن الاسود بن يزيد، : انه دخل على عايشة فسالها عن صلاة، رسول الله صلى الله عليه وسلم بالليل . فقالت : كان يصلي ثلاث عشرة ركعة من الليل، ثم انه صلى احدى عشرة ركعة، وترك ركعتين ثم قبض صلى الله عليه وسلم حين قبض وهو يصلي من الليل تسع ركعات، وكان اخر صلاته من الليل الوتر
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز ( تہجد ) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ایک رات میں آپ کے پاس رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین میمونہ کے پاس تھے، آپ سو گئے، جب ایک تہائی یا آدھی رات گزر گئی تو بیدار ہوئے اور اٹھ کر مشکیزے کے پاس گئے، جس میں پانی رکھا تھا، وضو فرمایا، میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ کھڑے ہوئے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں پہلو میں کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کر لیا، پھر اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا جیسے آپ میرے کان مل رہے ہوں گویا مجھے بیدار کرنا چاہتے ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں ان میں سے ہر رکعت میں آپ نے سورۃ فاتحہ پڑھی، پھر سلام پھیر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی یہاں تک کہ مع وتر گیارہ رکعتیں ادا کیں، پھر سو گئے، اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! نماز، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
حدثنا عبد الملك بن شعيب بن الليث، حدثني ابي، عن جدي، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، عن مخرمة بن سليمان، ان كريبا، مولى ابن عباس اخبره انه، قال : سالت ابن عباس كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالليل قال : بت عنده ليلة وهو عند ميمونة، فنام حتى اذا ذهب ثلث الليل او نصفه استيقظ فقام الى شن فيه ماء فتوضا وتوضات معه، ثم قام فقمت الى جنبه على يساره فجعلني على يمينه، ثم وضع يده على راسي كانه يمس اذني كانه يوقظني فصلى ركعتين خفيفتين، قلت : فقرا فيهما بام القران في كل ركعة ثم سلم ثم صلى حتى صلى احدى عشرة ركعة بالوتر، ثم نام فاتاه بلال فقال : الصلاة يا رسول الله . فقام فركع ركعتين، ثم صلى للناس
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک رات گزاری تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے لگے، آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں، ان میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں، میرا اندازہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام ہر رکعت میں سورۃ مزمل کے بقدر ہوتا تھا ، نوح کی روایت میں یہ نہیں ہے: اس میں فجر کی دونوں رکعتیں بھی شامل تھیں ۔
حدثنا نوح بن حبيب، ويحيى بن موسى، قالا حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ابن طاوس، عن عكرمة بن خالد، عن ابن عباس، قال : بت عند خالتي ميمونة فقام النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل فصلى ثلاث عشرة ركعة منها ركعتا الفجر، حزرت قيامه في كل ركعة بقدر { يا ايها المزمل } لم يقل نوح : منها ركعتا الفجر
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آج رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ( تہجد ) ضرور دیکھ کر رہوں گا، چنانچہ میں آپ کی چوکھٹ یا دروازے پر ٹیک لگا کر سوئے رہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں لمبی، بہت لمبی بلکہ بہت زیادہ لمبی پڑھیں، پھر دو رکعتیں ان سے کچھ ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی کچھ ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی، پھر دو رکعتیں ان سے بھی ہلکی پڑھیں، پھر وتر پڑھی، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہوئیں۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، عن ابيه، ان عبد الله بن قيس بن مخرمة، اخبره عن زيد بن خالد الجهني، انه - قال - لارمقن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم الليلة، قال : فتوسدت عتبته او فسطاطه، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ركعتين خفيفتين، ثم صلى ركعتين طويلتين طويلتين طويلتين، ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما، ثم صلى ركعتين دون اللتين قبلهما، ثم صلى ركعتين دون اللتين قبلهما، ثم صلى ركعتين دون اللتين قبلهما، ثم اوتر، فذلك ثلاث عشرة ركعة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ایک رات ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری، وہ آپ کی خالہ تھیں، وہ کہتے ہیں: میں تکیے کے عرض میں لیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کے طول میں لیٹیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آدھی رات یا کچھ کم و بیش گزری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور بیٹھ کر اپنے منہ پر ہاتھ مل کر نیند دور کی، پھر سورۃ آل عمران کے آخر کی دس آیتیں پڑھیں، اس کے بعد اٹھے اور لٹکے ہوئے مشکیزے کے پاس گئے اور وضو کیا اور اچھی طرح سے کیا، پھر نماز پڑھنے لگے، میں بھی اٹھا اور میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرح سارا کام کیا، پھر آپ کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا کان پکڑ کر ملنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں اور پھر دو رکعتیں، قعنبی کی روایت میں یوں ہے: دو دو رکعتیں چھ مرتبہ پڑھیں، پھر وتر پڑھی، پھر لیٹ گئے یہاں تک کہ مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور ہلکی سی دو رکعتیں پڑھیں پھر نکلے اور فجر پڑھائی۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن مخرمة بن سليمان، عن كريب، مولى ابن عباس ان عبد الله بن عباس، اخبره : انه، بات عند ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم وهي خالته - قال - فاضطجعت في عرض الوسادة، واضطجع رسول الله صلى الله عليه وسلم واهله في طولها، فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا انتصف الليل - او قبله بقليل، او بعده بقليل - استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس يمسح النوم عن وجهه بيده، ثم قرا العشر الايات الخواتم من سورة ال عمران، ثم قام الى شن معلقة فتوضا منها فاحسن وضوءه، ثم قام يصلي، قال عبد الله : فقمت فصنعت مثل ما صنع، ثم ذهبت فقمت الى جنبه، فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده اليمنى على راسي فاخذ باذني يفتلها، فصلى ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، قال القعنبي : ست مرات، ثم اوتر، ثم اضطجع، حتى جاءه الموذن فقام فصلى ركعتين خفيفتين، ثم خرج فصلى الصبح
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرتے رہو جتنا تم سے ہو سکے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ( ثواب دینے سے ) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم ( عمل کرنے سے ) تھک جاؤ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو پابندی کے ساتھ کیا جائے اگرچہ وہ کم ہو ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام شروع کرتے تو اس پر جمے رہتے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن عجلان، عن سعيد المقبري، عن ابي سلمة، عن عايشة، - رضى الله عنها - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : " اكلفوا من العمل ما تطيقون، فان الله لا يمل حتى تملوا، وان احب العمل الى الله ادومه وان قل " . وكان اذا عمل عملا اثبته
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، تو وہ آپ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عثمان! کیا تم نے میرے طریقے سے بے رغبتی کی ہے؟ ، انہوں نے جواب دیا: نہیں اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، ایسی بات نہیں، میں تو آپ ہی کی سنت کا طالب رہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو سوتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، عثمان! تم اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم پر تمہاری بیوی کا حق ہے، تمہارے مہمان کا بھی حق ہے، تمہاری جان کا حق ہے، لہٰذا کبھی روزہ رکھو اور کبھی نہ رکھو، اسی طرح نماز پڑھو اور سویا بھی کرو ۱؎ ۔
حدثنا عبيد الله بن سعد، حدثنا عمي، حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، : ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث الى عثمان بن مظعون فجاءه فقال : " يا عثمان ارغبت عن سنتي " . قال : لا والله يا رسول الله، ولكن سنتك اطلب . قال : " فاني انام واصلي، واصوم وافطر، وانكح النساء، فاتق الله يا عثمان، فان لاهلك عليك حقا، وان لضيفك عليك حقا، وان لنفسك عليك حقا، فصم وافطر، وصل ونم