Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے ایک یہ کہ آدمی اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ آسمان کی طرف کھلی ہو اس پر کوئی کپڑا نہ ہو، دوسرے یہ کہ اپنا کپڑا سارے بدن پر اس طرح لپیٹ لے کہ ایک طرف کا حصہ کھلا ہو، اور کپڑا اٹھا کر کندھے پر ڈال لیا ہو۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبستين ان يحتبي الرجل مفضيا بفرجه الى السماء ويلبس ثوبه واحد جانبيه خارج ويلقي ثوبه على عاتقه
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں صماء ۱؎ اور احتباء ۲؎ سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصماء وعن الاحتباء في ثوب واحد
قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ مزینہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا پھر ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ کچھ قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے، میں نے آپ سے بیعت کی پھر اپنا ہاتھ آپ کی قمیص کے گریبان میں داخل کیا اور مہر نبوت کو چھوا۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ اور ان کے بیٹے کی قمیص کے بٹن جاڑا ہو یا گرمی ہمیشہ کھلے دیکھے، یہ دونوں کبھی بٹن لگاتے ہی نہیں تھے اپنے گریبان ہمیشہ کھلے رکھتے تھے۔
حدثنا النفيلي، واحمد بن يونس، قالا حدثنا زهير، حدثنا عروة بن عبد الله، - قال ابن نفيل ابن قشير ابو مهل الجعفي - حدثنا معاوية بن قرة، حدثني ابي قال، اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم في رهط من مزينة فبايعناه وان قميصه لمطلق الازرار - قال - فبايعته ثم ادخلت يدي في جيب قميصه فمسست الخاتم . قال عروة فما رايت معاوية ولا ابنه قط الا مطلقي ازرارهما في شتاء ولا حر ولا يزرران ازرارهما ابدا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم اپنے گھر میں گرمی میں عین دوپہر کے وقت بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک کہنے والے نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھانپے ایک ایسے وقت میں تشریف لا رہے ہیں جس میں آپ نہیں آیا کرتے ہیں چنانچہ آپ آئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اجازت دی تو آپ اندر تشریف لائے۔
حدثنا محمد بن داود بن سفيان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، قال قال الزهري قال عروة قالت عايشة رضى الله عنها بينا نحن جلوس في بيتنا في نحر الظهيرة قال قايل لابي بكر رضى الله عنه هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقبلا متقنعا في ساعة لم يكن ياتينا فيها فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستاذن فاذن له فدخل
ابوجری جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کو قبول کرتے ہیں جب بھی وہ کوئی بات کہتا ہے لوگ اسی کو تسلیم کرتے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، میں نے دو مرتبہ کہا: «عليك السلام يا رسول الله» آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عليك السلام»نہ کہو، یہ مردوں کا سلام ہے اس کے بجائے «السلام عليك» کہو۔ میں اس اللہ کا بھیجا رسول ہوں، جس کو تمہیں کوئی ضرر لاحق ہو تو پکارو وہ تم سے اس ضرر کو دور فرما دے گا، جب تم پر کوئی قحط سالی آئے اور تم اسے پکارو تو وہ تمہارے لیے غلہ اگا دے گا، اور جب تم کسی چٹیل زمین میں ہو یا میدان پھر تمہاری اونٹنی گم ہو جائے تو اگر تم اس اللہ سے دعا کرو تو وہ اسے لے آئے گا میں نے کہا: مجھے نصیحت کیجئے آپ نے فرمایا: کسی کو بھی گالی نہ دو ۔ اس کے بعد سے میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی بھی بھلائی کے کام کو معمولی نہ سمجھو، اور اگر تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے بات کرو گے تو یہ بھی بھلے کام میں داخل ہے، اور اپنا تہ بند نصف «ساق» ( پنڈلی ) تک اونچی رکھو، اور اگر اتنا نہ ہو سکے تو ٹخنوں تک رکھو، اور تہ بند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچو کیونکہ یہ غرور و تکبر کی بات ہے، اور اللہ غرور پسند نہیں کرتا، اور اگر تمہیں کوئی گالی دے اور تمہارے اس عیب سے تمہیں عار دلائے جسے وہ جانتا ہے تو تم اسے اس کے اس عیب سے عار نہ دلاؤ جسے تم جانتے ہو کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہو گا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابي غفار، حدثنا ابو تميمة الهجيمي، - وابو تميمة اسمه طريف بن مجالد - عن ابي جرى، جابر بن سليم قال رايت رجلا يصدر الناس عن رايه، لا يقول شييا الا صدروا عنه قلت من هذا قالوا هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم . قلت عليك السلام يا رسول الله مرتين . قال " لا تقل عليك السلام . فان عليك السلام تحية الميت قل السلام عليك " . قال قلت انت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انا رسول الله الذي اذا اصابك ضر فدعوته كشفه عنك وان اصابك عام سنة فدعوته انبتها لك واذا كنت بارض قفراء او فلاة فضلت راحلتك فدعوته ردها عليك " . قلت اعهد الى . قال " لا تسبن احدا " . قال فما سببت بعده حرا ولا عبدا ولا بعيرا ولا شاة . قال " ولا تحقرن شييا من المعروف وان تكلم اخاك وانت منبسط اليه وجهك ان ذلك من المعروف وارفع ازارك الى نصف الساق فان ابيت فالى الكعبين واياك واسبال الازار فانها من المخيلة وان الله لا يحب المخيلة وان امرو شتمك وعيرك بما يعلم فيك فلا تعيره بما تعلم فيه فانما وبال ذلك عليه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی غرور اور تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا تو اللہ اسے قیامت کے دن نہیں دیکھے گا یہ سنا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے تہبند کا ایک کنارہ لٹکتا رہتا ہے جب کہ میں اس کا بہت خیال رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو جو غرور سے یہ کام کیا کرتے ہیں۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا موسى بن عقبة، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة " . فقال ابو بكر ان احد جانبى ازاري يسترخي اني لاتعاهد ذلك منه . قال " لست ممن يفعله خيلاء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنا تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جا وضو کر کے آؤ وہ گیا اور وضو کر کے دوبارہ آیا، پھر آپ نے فرمایا: جاؤ اور وضو کر کے آؤ تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کو وضو کا حکم دیتے ہیں پھر چپ ہو رہتے ہیں آخر کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ ایسے شخص کی نماز قبول نہیں فرماتا جو اپنا تہ بند ٹخنے کے نیچے لٹکائے ہو ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا يحيى، عن ابي جعفر، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، قال بينما رجل يصلي مسبلا ازاره فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذهب فتوضا " . فذهب فتوضا ثم جاء ثم قال " اذهب فتوضا " . فقال له رجل يا رسول الله ما لك امرته ان يتوضا ثم سكت عنه قال " انه كان يصلي وهو مسبل ازاره وان الله لا يقبل صلاة رجل مسبل
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ انہیں رحمت کی نظر سے دیکھے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا میں نے پوچھا: وہ کون لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول! جو نامراد ہوئے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، پھر آپ نے یہی بات تین بار دہرائی، میں نے عرض کیا: وہ کون لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول! جو نامراد ہوئے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹخنہ سے نیچے تہ بند لٹکانے والا، اور احسان جتانے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن علي بن مدرك، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن خرشة بن الحر، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ثلاثة لا يكلمهم الله ولا ينظر اليهم يوم القيامة ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم " . قلت من هم يا رسول الله قد خابوا وخسروا اعادها ثلاثا . قلت من هم يا رسول الله خابوا وخسروا فقال " المسبل والمنان والمنفق سلعته بالحلف الكاذب " . او " الفاجر
اس سند سے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے راوی کہتے ہیں: «منان» وہ ہے جو بغیر احسان جتائے کچھ نہ دے ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن الاعمش، عن سليمان بن مسهر، عن خرشة بن الحر، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا والاول اتم قال " المنان الذي لا يعطي شييا الا منه
قیس بن بشر تغلبی کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور وہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھی تھے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص دمشق میں تھے جنہیں ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، وہ خلوت پسند آدمی تھے، لوگوں میں کم بیٹھتے تھے، اکثر اوقات نماز ہی میں رہتے تھے جب نماز سے فارغ ہوتے تو جب تک گھر نہ چلے جاتے تسبیح و تکبیر ہی میں لگے رہتے۔ ایک روز وہ ہمارے پاس سے گزرے اور ہم ابو الدرداء کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ان سے ابوالدرداء نے کہا: کوئی ایسی بات کہئیے جس سے ہمیں فائدہ ہو، اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو تو وہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ جہاد کے لیے بھیجا، جب وہ سریہ لوٹ کر واپس آیا تو اس میں کا ایک شخص آیا اور جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کرتے تھے وہاں آ کر بیٹھ گیا، پھر وہ اپنے بغل کے ایک شخص سے کہنے لگا: کاش تم نے ہمیں دیکھا ہوتا جب ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی تھی، فلاں نے نیزہ اٹھا کر دشمن پر وار کیا اور وار کرتے ہوئے یوں گویا ہوا لے میرا یہ وار اور میں قبیلہ غفار کا فرزند ہوں بتاؤ تم اس کے اس کہنے کو کیسا سمجھتے ہو؟ وہ بولا: میں تو سمجھتا ہوں کہ اس کا ثواب جاتا رہا، ایک اور شخص نے اسے سنا تو بولا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، چنانچہ وہ دونوں جھگڑنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: سبحان اللہ! کیا قباحت ہے اگر اس کو ثواب بھی ملے اور لوگ اس کی تعریف بھی کریں ۔ بشر تغلبی کہتے ہیں: میں نے ابوالدرداء کو دیکھا وہ اسے سن کر خوش ہوئے اور اپنا سر ان کی طرف اٹھا کر پوچھنے لگے کہ آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، پھر وہ باربار یہی سوال دہرانے لگے یہاں تک کہ میں سمجھا کہ وہ ان کے گھٹنوں پر بیٹھ جائیں گے۔ پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے تو ان سے ابو الدرداء نے کہا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس سے ہمیں فائدہ ہو اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو، تو انہوں نے کہا: ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( جہاد کی نیت سے ) گھوڑوں کی پرورش پر صرف کرنے والا اس شخص کے مانند ہے جو اپنا ہاتھ پھیلا کے صدقہ کر رہا ہو کبھی انہیں سمیٹتا نہ ہو ۔ پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے پھر ابوالدرداء نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ پہنچائے، تو انہوں نے کہا ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خریم اسدی کیا ہی اچھے آدمی ہیں اگر ان کے سر کے بال بڑھے ہوئے نہ ہوتے، اور تہ بند ٹخنے سے نیچے نہ لٹکتا یہ بات خریم کو معلوم ہوئی تو انہوں نے چھری لے کر اپنے بالوں کو کاٹ کر کانوں کے برابر کر لیا، اور تہ بند کو نصف «ساق» ( پنڈلی ) تک اونچا کر لیا۔ پھر دوبارہ ایک اور دن ہمارے پاس سے ان کا گزر ہوا تو ابوالدرداء نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ پہنچائے اور جس سے آپ کو کوئی نقصان نہ ہو، تو وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اب تم اپنے بھائیوں سے ملنے والے ہو ( یعنی سفر سے واپس گھر پہنچنے والے ہو ) تو اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کر لو تاکہ تم اس طرح ہو جاؤ گویا تم تل ہو لوگوں میں یعنی ہر شخص تمہیں دیکھ کر پہچان لے، کیونکہ اللہ فحش گوئی کو، اور قدرت کے باوجود خستہ حالت ( پھٹے پرانے کپڑے ) میں رہنے کو پسند نہیں کرتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح ابونعیم نے ہشام سے روایت کیا ہے اس میں «حتى تكونوا كأنكم شامة في الناس» کے بجائے «حتى تكونوا كالشامة في الناس» ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل کا فرمان ہے: بڑائی ( کبریائی ) میری چادر ہے اور عظمت میرا تہ بند، تو جو کوئی ان دونوں چیزوں میں کسی کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا هناد، - يعني ابن السري - عن ابي الاحوص، - المعنى - عن عطاء بن السايب، قال موسى عن سلمان الاغر، - وقال هناد عن الاغر ابي مسلم، - عن ابي هريرة، - قال هناد - قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قال الله عز وجل الكبرياء ردايي والعظمة ازاري فمن نازعني واحدا منهما قذفته في النار
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں رائی کے برابر کبر و غرور ہو اور وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہو ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو بكر، - يعني ابن عياش - عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من كبر ولا يدخل النار من كان في قلبه مثقال خردلة من ايمان " . قال ابو داود رواه القسملي عن الاعمش مثله
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ ایک خوبصورت آدمی تھا اس نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے خوبصورتی پسند ہے، اور مجھے خوبصورتی دی بھی گئی ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ میں نہیں چاہتا کہ خوبصورتی اور زیب و زینت میں مجھ سے کوئی میری جوتی کے تسمہ کے برابر بھی بڑھنے پائے، کیا یہ کبر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ کبر یہ ہے کہ حق بات کی تغلیط کرے، اور لوگوں کو کمتر سمجھے ۔
حدثنا ابو موسى، محمد بن المثنى حدثنا عبد الوهاب، حدثنا هشام، عن محمد، عن ابي هريرة، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم - وكان رجلا جميلا - فقال يا رسول الله اني رجل حبب الى الجمال واعطيت منه ما ترى حتى ما احب ان يفوقني احد - اما قال بشراك نعلي . واما قال بشسع نعلي - افمن الكبر ذلك قال " لا ولكن الكبر من بطر الحق وغمط الناس
عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہ بند کے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے: اچھے جانکار سے تم نے پوچھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلی تک رہتا ہے، تہ بند پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو تو بھی کوئی حرج یا کوئی مضائقہ نہیں، اور جو حصہ ٹخنے سے نیچے ہو گا وہ جہنم میں رہے گا اور جو اپنا تہ بند غرور و تکبر سے گھسیٹے گا تو اللہ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن ابيه، قال سالت ابا سعيد الخدري عن الازار، فقال على الخبير سقطت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ازرة المسلم الى نصف الساق ولا حرج - او لا جناح - فيما بينه وبين الكعبين ما كان اسفل من الكعبين فهو في النار من جر ازاره بطرا لم ينظر الله اليه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسبال: تہ بند ( لنگی ) ، قمیص ( کرتے ) اور عمامہ ( پگڑی ) میں ہے، جو ان میں سے کسی چیز کو تکبر اور گھمنڈ سے گھسیٹے گا اللہ اسے قیامت کے روز رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا ۔
حدثنا هناد بن السري، حدثنا حسين الجعفي، عن عبد العزيز بن ابي رواد، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الاسبال في الازار والقميص والعمامة من جر منها شييا خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة
یزید بن ابی سمیہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ازار ( تہ بندں، لنگی ) کے سلسلہ میں فرمائی ہے وہی قمیص ( کرتہ ) کے متعلق بھی ہے۔
حدثنا هناد، حدثنا ابن المبارك، عن ابي الصباح، عن يزيد بن ابي سمية، قال سمعت ابن عمر، يقول ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في الازار فهو في القميص
عکرمہ کا بیان ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ تہ بند باندھتے ہیں تو اپنے تہ بند کے آگے کے کنارے کو اپنے دونوں قدموں کی پشت پر رکھتے ہیں اور اس کے پیچھے کے حصہ کو اونچا رکھتے ہیں، میں نے ان سے پوچھا: آپ تہ بند ایسا کیوں باندھتے ہیں؟ تو وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی باندھتے دیکھا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن محمد بن ابي يحيى، قال حدثني عكرمة، انه راى ابن عباس ياتزر فيضع حاشية ازاره من مقدمه على ظهر قدميه ويرفع من موخره . قلت لم تاتزر هذه الازرة قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ياتزرها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر اور عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه لعن المتشبهات من النساء بالرجال والمتشبهين من الرجال بالنساء
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد پر جو عورتوں کا لباس پہنتا ہے اور اس عورت پر جو مردوں کا لباس پہنتی ہے لعنت فرمائی ہے۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا ابو عامر، عن سليمان بن بلال، عن سهيل، عن ابيه، عن ابي هريرة، قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجل يلبس لبسة المراة والمراة تلبس لبسة الرجل
ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ عورت جوتا پہنتی ہے ( جو مردوں کے لیے مخصوص تھا ) تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد بننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔
حدثنا محمد بن سليمان، لوين - وبعضه قراءة عليه - عن سفيان، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، قال قيل لعايشة رضى الله عنها ان امراة تلبس النعل . فقالت لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الرجلة من النساء
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابو عامر، - يعني عبد الملك بن عمرو - حدثنا هشام بن سعد، عن قيس بن بشر التغلبي، قال اخبرني ابي، - وكان جليسا لابي الدرداء - قال كان بدمشق رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يقال له ابن الحنظلية وكان رجلا متوحدا قلما يجالس الناس انما هو صلاة فاذا فرغ فانما هو تسبيح وتكبير حتى ياتي اهله فمر بنا ونحن عند ابي الدرداء فقال له ابو الدرداء كلمة تنفعنا ولا تضرك قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية فقدمت فجاء رجل منهم فجلس في المجلس الذي يجلس فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لرجل الى جنبه لو رايتنا حين التقينا نحن والعدو فحمل فلان فطعن فقال خذها مني وانا الغلام الغفاري كيف ترى في قوله قال ما اراه الا قد بطل اجره فسمع بذلك اخر فقال ما ارى بذلك باسا فتنازعا حتى سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " سبحان الله لا باس ان يوجر ويحمد " . فرايت ابا الدرداء سر بذلك وجعل يرفع راسه اليه ويقول انت سمعت ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقول نعم . فما زال يعيد عليه حتى اني لاقول ليبركن على ركبتيه . قال فمر بنا يوما اخر فقال له ابو الدرداء كلمة تنفعنا ولا تضرك قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " المنفق على الخيل كالباسط يده بالصدقة لا يقبضها " . ثم مر بنا يوما اخر فقال له ابو الدرداء كلمة تنفعنا ولا تضرك . قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم الرجل خريم الاسدي لولا طول جمته واسبال ازاره " . فبلغ ذلك خريما فعجل فاخذ شفرة فقطع بها جمته الى اذنيه ورفع ازاره الى انصاف ساقيه . ثم مر بنا يوما اخر فقال له ابو الدرداء كلمة تنفعنا ولا تضرك فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انكم قادمون على اخوانكم فاصلحوا رحالكم واصلحوا لباسكم حتى تكونوا كانكم شامة في الناس فان الله لا يحب الفحش ولا التفحش " . قال ابو داود وكذلك قال ابو نعيم عن هشام قال حتى تكونوا كالشامة في الناس