Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کا ذکر اچھے انداز میں کیا اور کہا کہ جب سورۃ النور نازل ہوئی تو وہ پردوں یا تہ بندوں کی طرف بڑھیں اور انہیں پھاڑ کر اوڑھنی اور دوپٹہ بنا لیا۔
حدثنا ابو كامل، حدثنا ابو عوانة، عن ابراهيم بن مهاجر، عن صفية بنت شيبة، عن عايشة، رضى الله عنها انها ذكرت نساء الانصار فاثنت عليهن وقالت لهن معروفا وقالت لما نزلت سورة النور عمدن الى حجور - او حجوز شك ابو كامل - فشققنهن فاتخذنه خمرا
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب آیت کریمہ «يدنين عليهن من جلابيبهن» وہ اپنے اوپر چادر لٹکا لیا کریں ( سورۃ الاحزاب: ۵۹ ) نازل ہوئی تو انصار کی عورتیں نکلتیں تو سیاہ چادروں کی وجہ سے ایسا لگتا گویا ان کے سروں پر کوئے بیٹھے ہوئے ہیں۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا محمد بن ثور، عن معمر، عن ابن خثيم، عن صفية بنت شيبة، عن ام سلمة، قالت لما نزلت { يدنين عليهن من جلابيبهن } خرج نساء الانصار كان على رءوسهن الغربان من الاكسية
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابتدائے اسلام میں ہجرت کرنے والی عورتوں پر رحم فرمائے جب اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ «وليضربن بخمرهن على جيوبهن» اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں ( سورۃ النور: ۳۱ ) نازل فرمائی تو انہوں نے اپنے پردوں کو پھاڑ کر اپنی اوڑھنیاں اور دوپٹے بنا ڈالے۔ ابن صالح نے «أكنف» کے بجائے «أكثف» کہا ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، ح وحدثنا سليمان بن داود المهري، وابن السرح، واحمد بن سعيد الهمداني، قالوا اخبرنا ابن وهب، قال اخبرني قرة بن عبد الرحمن المعافري، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، - رضى الله عنها - انها قالت يرحم الله نساء المهاجرات الاول لما انزل الله { وليضربن بخمرهن على جيوبهن } شققن اكنف - قال ابن صالح اكثف - مروطهن فاختمرن بها
ابن سرح کہتے ہیں میں نے اپنے ماموں کی کتاب میں «عقيل عن ابن شهاب» کے طریق سے اسی مفہوم کی روایت دیکھی ہے۔
حدثنا ابن السرح، قال رايت في كتاب خالي عن عقيل، عن ابن شهاب، باسناده ومعناه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، وہ باریک کپڑا پہنے ہوئے تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا: اسماء! جب عورت بالغ ہو جائے تو درست نہیں کہ اس کی کوئی چیز نظر آئے سوائے اس کے اور اس کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ اور ہتھیلیوں کی جانب اشارہ کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت مرسل ہے خالد بن دریک نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو نہیں پایا۔
حدثنا يعقوب بن كعب الانطاكي، ومومل بن الفضل الحراني، قالا حدثنا الوليد، عن سعيد بن بشير، عن قتادة، عن خالد، - قال يعقوب ابن دريك - عن عايشة، رضى الله عنها ان اسماء بنت ابي بكر، دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليها ثياب رقاق فاعرض عنها رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " يا اسماء ان المراة اذا بلغت المحيض لم تصلح ان يرى منها الا هذا وهذا " . واشار الى وجهه وكفيه . قال ابو داود هذا مرسل خالد بن دريك لم يدرك عايشة رضى الله عنها
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگوانے کی اجازت مانگی تو آپ نے ابوطیبہ کو انہیں سینگی لگانے کا حکم دیا۔ ابوالزبیر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوطیبہ ان کے رضاعی بھائی تھے یا نابالغ بچے تھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، وابن، موهب قالا حدثنا الليث، عن ابي الزبير، عن جابر، ان ام سلمة، استاذنت رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحجامة فامر ابا طيبة ان يحجمها . قال حسبت انه قال كان اخاها من الرضاعة او غلاما لم يحتلم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک غلام لے کر آئے جس کو آپ نے انہیں ہبہ کیا تھا، اس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا ایک ایسا کپڑا پہنے تھیں کہ جب اس سے سر ڈھانکتیں تو پاؤں کھل جاتا اور جب پاؤں ڈھانکتیں تو سر کھل جاتا، فاطمہ رضی اللہ عنہا جن صورت حال سے دو چار تھیں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا: تم پر کوئی مضائقہ نہیں، یہاں صرف تمہارے والد ہیں یا تمہارا غلام ہے ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا ابو جميع، سالم بن دينار عن ثابت، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتى فاطمة بعبد قد وهبه لها قال وعلى فاطمة رضي الله عنها ثوب اذا قنعت به راسها لم يبلغ رجليها واذا غطت به رجليها لم يبلغ راسها فلما راى النبي صلى الله عليه وسلم ما تلقى قال " انه ليس عليك باس انما هو ابوك وغلامك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس ایک مخنث ( ہجڑا ) آتا جاتا تھا اسے لوگ اس صنف میں شمار کرتے تھے جنہیں عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی تو ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے وہ مخنث آپ کی ایک بیوی کے پاس تھا، اور ایک عورت کی تعریف کر رہا تھا کہ جب وہ آتی ہے تو اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوتی ہیں اور جب پیٹھ پھیر کر جاتی ہے تو آٹھ سلوٹیں پڑ جاتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں سمجھتا ہوں کہ یہ عورتوں کی باتیں جانتا ہے، اب یہ تمہارے پاس ہرگز نہ آیا کرے، تو وہ سب اس سے پردہ کرنے لگیں ۔
حدثنا محمد بن عبيد، حدثنا محمد بن ثور، عن معمر، عن الزهري، وهشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كان يدخل على ازواج النبي صلى الله عليه وسلم مخنث فكانوا يعدونه من غير اولي الاربة فدخل علينا النبي صلى الله عليه وسلم يوما وهو عند بعض نسايه وهو ينعت امراة فقال انها اذا اقبلت اقبلت باربع واذا ادبرت ادبرت بثمان . فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الا ارى هذا يعلم ما ها هنا لا يدخلن عليكن هذا " . فحجبوه
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی مفہوم کی ( حدیث ) مروی ہے۔
حدثنا محمد بن داود بن سفيان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، بمعناه
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مروی ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نکال دیا، اور وہ بیداء میں رہنے لگا، ہر جمعہ کو وہ کھانا مانگنے آیا کرتا تھا ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، بهذا الحديث زاد واخرجه فكان بالبيداء يدخل كل جمعة يستطعم
اوزاعی سے اس واقعہ کے سلسلہ میں مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! تب تو وہ بھوک سے مر جائے گا تو آپ نے اسے ہفتہ میں دو بار آنے کی اجازت دے دی، وہ آتا اور کھانا مانگ کر لے جاتا۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا عمر، عن الاوزاعي، في هذه القصة فقيل يا رسول الله انه اذا يموت من الجوع فاذن له ان يدخل في كل جمعة مرتين فيسال ثم يرجع
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آیت کریمہ «وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن» مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ( سورۃ النور: ۳۱ ) کے حکم سے «والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا» بڑی بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی امید نہ رہی ہو ( سورۃ النور: ۶۰ ) کو منسوخ و مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثنا علي بن الحسين بن واقد، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، { وقل للمومنات يغضضن من ابصارهن } الاية فنسخ واستثني من ذلك { والقواعد من النساء اللاتي لا يرجون نكاحا } الاية
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، آپ کے پاس ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں کہ اتنے میں ابن ام مکتوم آئے، یہ واقعہ پردہ کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد کا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ نہ تو وہ ہم کو دیکھ سکتے ہیں، نہ پہچان سکتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اندھی ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتی ہو؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے لیے خاص تھا، کیا تمہارے سامنے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے عدت گزارنے کا واقعہ نہیں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: تم ابن ام مکتوم کے پاس عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں اپنے کپڑے تم ان کے پاس اتار سکتی ہو ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابن المبارك، عن يونس، عن الزهري، قال حدثني نبهان، مولى ام سلمة عن ام سلمة، قالت كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده ميمونة فاقبل ابن ام مكتوم وذلك بعد ان امرنا بالحجاب فقال النبي صلى الله عليه وسلم " احتجبا منه " . فقلنا يا رسول الله اليس اعمى لا يبصرنا ولا يعرفنا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " افعمياوان انتما الستما تبصرانه " . قال ابو داود هذا لازواج النبي صلى الله عليه وسلم خاصة الا ترى الى اعتداد فاطمة بنت قيس عند ابن ام مكتوم قد قال النبي صلى الله عليه وسلم لفاطمة بنت قيس " اعتدي عند ابن ام مكتوم فانه رجل اعمى تضعين ثيابك عنده
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کی اپنی لونڈی سے شادی کر دے تو پھر اس کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن الميمون، حدثنا الوليد، عن الاوزاعي، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا زوج احدكم عبده امته فلا ينظر الى عورتها
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کی اپنے غلام یا مزدور سے شادی کر دے تو پھر وہ اس کے اس حصہ کو نہ دیکھے جو ناف کے نیچے اور گھٹنے کے اوپر ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: صحیح سوار بن داود مزنی صیرفی ہے وکیع کو ان کے نام میں وہم ہوا ہے۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا وكيع، حدثني داود بن سوار المزني، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا زوج احدكم خادمه عبده او اجيره فلا ينظر الى ما دون السرة وفوق الركبة " . قال ابو داود صوابه سوار بن داود المزني الصيرفي وهم فيه وكيع
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور وہ اوڑھنی اوڑھے ہوئے تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس ایک ہی پیچ رکھو دو پیچ نہ کرو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «لية لا ليتين» کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی طرح پگڑی نہ باندھو کہ اس کے ایک یا دو پیچ کو دہرا کرو۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا عبد الرحمن، ح وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن حبيب بن ابي ثابت، عن وهب، مولى ابي احمد عن ام سلمة، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها وهي تختمر فقال " لية لا ليتين " . قال ابو داود معنى قوله " لية لا ليتين " . يقول لا تعتم مثل الرجل لا تكرره طاقا او طاقين
دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سفید اور باریک مصری کپڑے لائے گئے تو ان میں سے آپ نے مجھے بھی ایک باریک کپڑا دیا، اور فرمایا: اس کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو ان میں ایک کا کرتہ بنا لو اور دوسرا ٹکڑا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کی اوڑھنی بنا لے پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیوی سے کہو اس کے نیچے ایک اور کپڑا کر لے تاکہ اس کا بدن ظاہر نہ ہو ۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، واحمد بن سعيد الهمداني، قالا اخبرنا ابن وهب، اخبرنا ابن لهيعة، عن موسى بن جبير، ان عبيد الله بن عباس، حدثه عن خالد بن يزيد بن معاوية، عن دحية بن خليفة الكلبي، انه قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بقباطي فاعطاني منها قبطية فقال " اصدعها صدعين فاقطع احدهما قميصا واعط الاخر امراتك تختمر به " . فلما ادبر قال " وامر امراتك ان تجعل تحته ثوبا لا يصفها " . قال ابو داود رواه يحيى بن ايوب فقال عباس بن عبيد الله بن عباس
صفیہ بنت ابی عبید خبر دیتی ہیں کہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ نے تہبند کا ذکر کیا عرض کیا: اللہ کے رسول! اور عورت ( کتنا دامن لٹکائے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک بالشت لٹکائے ام سلمہ نے کہا: تب تو ستر کھل جا یا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ ایک ہاتھ لٹکائے اس سے زیادہ نہ بڑھائے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي بكر بن نافع، عن ابيه، عن صفية بنت ابي عبيد، انها اخبرته ان ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم حين ذكر الازار فالمراة يا رسول الله . قال " ترخي شبرا " . قالت ام سلمة اذا ينكشف عنها . قال " فذراعا لا تزيد عليه
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عيسى، عن عبيد الله، عن نافع، عن سليمان بن يسار، عن ام سلمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث . قال ابو داود رواه ابن اسحاق وايوب بن موسى عن نافع عن صفية
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المؤمنین ( رضی اللہ عنہن ) کو ایک بالشت دامن لٹکانے کی رخصت دی، تو انہوں نے اس سے زیادہ کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے انہیں مزید ایک بالشت کی رخصت دے دی چنانچہ امہات المؤمنین ہمارے پاس کپڑے بھیجتیں تو ہم انہیں ایک ہاتھ ناپ دیا کرتے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، اخبرني زيد العمي، عن ابي الصديق الناجي، عن ابن عمر، قال رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم لامهات المومنين في الذيل شبرا ثم استزدنه فزادهن شبرا فكن يرسلن الينا فنذرع لهن ذراعا