Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری ایک لونڈی جسے میں نے آزاد کر دیا تھا کو صدقہ کی ایک بکری ہدیہ میں ملی تو وہ مر گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے تو فرمایا: تم اس کی کھال کو دباغت دے کر اسے اپنے کام میں کیوں نہیں لاتے؟ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو مردار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صرف اس کا کھانا حرام ہے ( نہ کہ اس کی کھال سے نفع اٹھانا ) ۔
حدثنا مسدد، ووهب بن بيان، وعثمان بن ابي شيبة، وابن ابي خلف، قالوا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، - قال مسدد ووهب - عن ميمونة، قالت اهدي لمولاة لنا شاة من الصدقة فماتت فمر بها النبي صلى الله عليه وسلم فقال " الا دبغتم اهابها فاستمتعتم به " . قالوا يا رسول الله انها ميتة . قال " انما حرم اكلها
اس سند سے بھی زہری سے یہی حدیث مروی ہے اس میں انہوں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کا ذکر نہیں کیا ہے، زہری کہتے ہیں: اس پر آپ نے فرمایا: تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا؟ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی، اور دباغت کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد، حدثنا معمر، عن الزهري، بهذا الحديث لم يذكر ميمونة قال فقال " الا انتفعتم باهابها " . ثم ذكر معناه لم يذكر الدباغ
معمر کہتے ہیں زہری دباغت کا انکار کرتے تھے اور کہتے تھے: اس سے ہر حال میں فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اوزاعی، یونس اور عقیل نے زہری کی روایت میں دباغت کا ذکر نہیں کیا ہے اور زبیدی، سعید بن عبدالعزیز اور حفص بن ولید نے اس کا ذکر کیا ہے۔
حدثنا محمد بن يحيى بن فارس، حدثنا عبد الرزاق، قال قال معمر وكان الزهري ينكر الدباغ ويقول يستمتع به على كل حال . قال ابو داود لم يذكر الاوزاعي ويونس وعقيل في حديث الزهري الدباغ وذكره الزبيدي وسعيد بن عبد العزيز وحفص بن الوليد ذكروا الدباغ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب چمڑہ دباغت دے دیا جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن زيد بن اسلم، عن عبد الرحمن بن وعلة، عن ابن عباس، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا دبغ الاهاب فقد طهر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردار کی کھال سے جب وہ دباغت دے دی جائے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن يزيد بن عبد الله بن قسيط، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، عن امه، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم امر ان يستمتع بجلود الميتة اذا دبغت
سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں ایک گھر میں تشریف لائے تو وہاں ایک مشک لٹک رہی تھی آپ نے پانی مانگا تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ مردار کے کھال کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دباغت سے پاک ہو گئی ہے ۔
حدثنا حفص بن عمر، وموسى بن اسماعيل، قالا حدثنا همام، عن قتادة، عن الحسن، عن جون بن قتادة، عن سلمة بن المحبق، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك اتى على بيت فاذا قربة معلقة فسال الماء فقالوا يا رسول الله انها ميتة . فقال " دباغها طهورها
عالیہ بنت سبیع کہتی ہیں کہ میری کچھ بکریاں احد پہاڑ پر تھیں وہ مرنے لگیں تو میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے مجھ سے کہا: اگر تم ان کی کھالوں سے فائدہ اٹھاتیں! تو میں بولی: کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ ایک مری ہوئی بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹتے ہوئے گزرے، تو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی لوگوں نے عرض کیا: وہ تو مری ہوئی ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانی اور بیر کی پتی اس کو پاک کر دے گی ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو، - يعني ابن الحارث - عن كثير بن فرقد، عن عبد الله بن مالك بن حذافة، حدثه عن امه العالية بنت سبيع، انها قالت كان لي غنم باحد فوقع فيها الموت فدخلت على ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك لها فقالت لي ميمونة لو اخذت جلودها فانتفعت بها . فقالت اويحل ذلك قالت نعم . مر على رسول الله صلى الله عليه وسلم رجال من قريش يجرون شاة لهم مثل الحمار فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو اخذتم اهابها " . قالوا انها ميتة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يطهرها الماء والقرظ
عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب جہینہ کی سر زمین میں ہمیں پڑھ کر سنایا گیا اس وقت میں نوجوان تھا، اس میں تھا: مرے ہوئے جانور سے نفع نہ اٹھاؤ، نہ اس کی کھال سے، اور نہ پٹھوں سے ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، عن عبد الله بن عكيم، قال قري علينا كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بارض جهينة وانا غلام شاب " ان لا تستمتعوا من الميتة باهاب ولا عصب
حکم بن عتیبہ سے روایت ہے کہ وہ اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ عبداللہ بن عکیم کے پاس جو قبیلہ جہینہ کے ایک شخص تھے گئے، اندر چلے گئے، میں دروازے ہی پر بیٹھا رہا، پھر وہ لوگ باہر آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ عبداللہ بن عکیم نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے ایک ماہ پیشتر جہینہ کے لوگوں کو لکھا: مردار کی کھال اور پٹھوں سے فائدہ نہ اٹھاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نضر بن شمیل کہتے ہیں: «اہاب» ایسی کھال کو کہا جاتا ہے جس کی دباغت نہ ہوئی ہو، اور جب دباغت دے دی جائے تو اسے «اہاب»نہیں کہتے بلکہ اسے «شنّ» یا «قربۃ» کہا جاتا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، مولى بني هاشم حدثنا الثقفي، عن خالد، عن الحكم بن عتيبة، انه انطلق هو وناس معه الى عبد الله بن عكيم - رجل من جهينة - قال الحكم فدخلوا وقعدت على الباب فخرجوا الى فاخبروني ان عبد الله بن عكيم اخبرهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب الى جهينة قبل موته بشهر ان لا ينتفعوا من الميتة باهاب ولا عصب . قال ابو داود فاذا دبغ لا يقال له اهاب انما يسمى شنا وقربة قال النضر بن شميل يسمى اهابا ما لم يدبغ
امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ریشمی زینوں پر اور چیتوں کی کھال پر سواری نہ کرو ۔ ابن سیرین کہتے ہیں: معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث کی روایت میں متہم نہ تھے۔
حدثنا هناد بن السري، عن وكيع، عن ابي المعتمر، عن ابن سيرين، عن معاوية، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تركبوا الخز ولا النمار " . قال وكان معاوية لا يتهم في الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال لنا ابو سعيد قال لنا ابو داود ابو المعتمر اسمه يزيد بن طهمان كان ينزل الحيرة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے ایسے لوگوں کے ساتھ نہیں رہتے جن کے ساتھ چیتے کی کھال ہوتی ہے ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابو داود، حدثنا عمران، عن قتادة، عن زرارة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تصحب الملايكة رفقة فيها جلد نمر
خالد کہتے ہیں مقدام بن معدی کرب، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام سے کہا: کیا آپ کو خبر ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا؟ مقدام نے یہ سن کر «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا تو ان سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اسے کوئی مصیبت سمجھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا، اور فرمایا: یہ میرے مشابہ ہے، اور حسین علی کے ۔ یہ سن کر اسدی نے کہا: ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا تو مقدام نے کہا: آج میں آپ کو ناپسندیدہ بات سنائے، اور ناراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کریں، اور اگر میں جھوٹ کہوں تو جھٹلا دیں، معاویہ بولے: میں ایسا ہی کروں گا۔ مقدام نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ معاویہ نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے، پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے۔ تو انہوں نے کہا: معاویہ! قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپ کے گھر میں دیکھ رہا ہوں؟ تو معاویہ نے کہا: مقدام! مجھے معلوم تھا کہ میں تمہاری نکتہ چینیوں سے بچ نہ سکوں گا۔ خالد کہتے ہیں: پھر معاویہ نے مقدام کو اتنا مال دینے کا حکم دیا جتنا ان کے اور دونوں ساتھیوں کو نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا، مقدام نے وہ سارا مال اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا، اسدی نے اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نہ دیا، یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام سخی آدمی ہیں جو اپنا ہاتھ کھلا رکھتے ہیں، اور اسدی اپنی چیزیں اچھی طرح روکنے والے آدمی ہیں۔
حدثنا عمرو بن عثمان بن سعيد الحمصي، حدثنا بقية، عن بحير، عن خالد، قال وفد المقدام بن معديكرب وعمرو بن الاسود ورجل من بني اسد من اهل قنسرين الى معاوية بن ابي سفيان فقال معاوية للمقدام اعلمت ان الحسن بن علي توفي فرجع المقدام فقال له رجل اتراها مصيبة قال له ولم لا اراها مصيبة وقد وضعه رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجره فقال " هذا مني وحسين من علي " . فقال الاسدي جمرة اطفاها الله عز وجل . قال فقال المقدام اما انا فلا ابرح اليوم حتى اغيظك واسمعك ما تكره . ثم قال يا معاوية ان انا صدقت فصدقني وان انا كذبت فكذبني قال افعل . قال فانشدك بالله هل تعلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن لبس الذهب قال نعم . قال فانشدك بالله هل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن لبس الحرير قال نعم . قال فانشدك بالله هل تعلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن لبس جلود السباع والركوب عليها قال نعم . قال فوالله لقد رايت هذا كله في بيتك يا معاوية . فقال معاوية قد علمت اني لن انجو منك يا مقدام قال خالد فامر له معاوية بما لم يامر لصاحبيه وفرض لابنه في المايتين ففرقها المقدام في اصحابه قال ولم يعط الاسدي احدا شييا مما اخذ فبلغ ذلك معاوية فقال اما المقدام فرجل كريم بسط يده واما الاسدي فرجل حسن الامساك لشييه
اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھالوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا مسدد بن مسرهد، ان يحيى بن سعيد، واسماعيل بن ابراهيم، حدثاهم - المعنى، - عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن ابي المليح بن اسامة، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن جلود السباع
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ نے فرمایا: جوتے خوب پہنا کرو کیونکہ جب تک آدمی جوتے پہنے رہتا ہے برابر سوار رہتا ہے ( یعنی پاؤں اذیت سے محفوظ رہتا ہے ) ۔
حدثنا محمد بن الصباح البزاز، حدثنا ابن ابي الزناد، عن موسى بن عقبة، عن ابي الزبير، عن جابر، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فقال " اكثروا من النعال فان الرجل لا يزال راكبا ما انتعل
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر جوتے میں دو تسمے ( فیتے ) لگے تھے ۱؎۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس، ان نعل النبي، صلى الله عليه وسلم كان لها قبالان
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر جوتا پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم ابو يحيى، اخبرنا ابو احمد الزبيري، حدثنا ابراهيم بن طهمان، عن ابي الزبير، عن جابر، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينتعل الرجل قايما
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایک جوتا پہن کر نہ چلا کرے، دونوں پہنے رکھے یا دونوں اتاr دے ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يمشي احدكم في النعل الواحدة لينتعلهما جميعا او ليخلعهما جميعا
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے ایک جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو جب تک اس کا تسمہ درست نہ کر لے ایک ہی پہن کر نہ چلے، اور نہ ایک موزہ پہن کر چلے، اور نہ بائیں ہاتھ سے کھائے ۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، حدثنا زهير، حدثنا ابو الزبير، عن جابر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا انقطع شسع احدكم فلا يمش في نعل واحدة حتى يصلح شسعه ولا يمش في خف واحد ولا ياكل بشماله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سنت ہے کہ جب آدمی بیٹھے تو اپنے جوتے اتار کر اپنے پہلو میں رکھ لے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا عبد الله بن هارون، عن زياد بن سعد، عن ابي نهيك، عن ابن عباس، قال من السنة اذا جلس الرجل ان يخلع نعليه فيضعهما بجنبه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کوئی جوتا پہنے تو پہلے داہنے پاؤں سے شروع کرے، اور جب نکالے تو پہلے بائیں پاؤں سے نکالے، داہنا پاؤں پہنتے وقت شروع میں رہے اور اتارتے وقت اخیر میں ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا انتعل احدكم فليبدا باليمين واذا نزع فليبدا بالشمال لتكن اليمين اولهما ينتعل واخرهما ينزع