Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طاقت بھر اپنے تمام کاموں میں، وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں داہنے سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔ مسلم بن ابراہیم کی روایت میں «وسواكه» بھی ہے یعنی مسواک کرنے میں اور انہوں نے «في شأنه كله» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معاذ نے شعبہ سے روایت کیا ہے، انہوں نے مسواک کرنے کا ذکر نہیں کیا ہے۔
حدثنا حفص بن عمر، ومسلم بن ابراهيم، قالا حدثنا شعبة، عن الاشعث بن سليم، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب التيمن ما استطاع في شانه كله في طهوره وترجله ونعله . قال مسلم وسواكه ولم يذكر في شانه كله . قال ابو داود رواه عن شعبة معاذ ولم يذكر سواكه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کپڑے پہنو اور جب وضو کرو تو اپنے داہنے سے شروع کرو ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا لبستم واذا توضاتم فابدءوا بايامنكم
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بستروں اور بچھونوں کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ایک بستر تو آدمی کو چاہیئے، ایک اس کی بیوی کو چاہیئے اور ایک مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہوتا ہے ۔
حدثنا يزيد بن خالد الهمداني الرملي، حدثنا ابن وهب، عن ابي هاني، عن ابي عبد الرحمن الحبلي، عن جابر بن عبد الله، قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الفرش فقال " فراش للرجل وفراش للمراة وفراش للضيف والرابع للشيطان
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوا تو آپ کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا۔ ابن الجراح نے «على يساره» کا اضافہ کیا ہے یعنی آپ اپنے بائیں پہلو پر ٹیک لگائے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسحاق بن منصور نے اسے اسرائیل سے روایت کیا ہے اس میں بھی «على يساره» کا لفظ ہے۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا وكيع، ح وحدثنا عبد الله بن الجراح، عن وكيع، عن اسراييل، عن سماك، عن جابر بن سمرة، قال دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم في بيته فرايته متكيا على وسادة - زاد ابن الجراح - على يساره . قال ابو داود رواه اسحاق بن منصور عن اسراييل ايضا على يساره
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اہل یمن کے سفر کے چند ساتھیوں کو دیکھا ان کے بچھونے چمڑوں کے تھے، تو انہوں نے کہا: جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے رفقاء کو دیکھنا پسند ہو تو وہ انہیں دیکھ لے۔
حدثنا هناد بن السري، عن وكيع، عن اسحاق بن سعيد بن عمرو القرشي، عن ابيه، عن ابن عمر، انه راى رفقة من اهل اليمن رحالهم الادم فقال من احب ان ينظر الى اشبه رفقة كانوا باصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فلينظر الى هولاء
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے توشک اور گدے بنا لیے؟ میں نے عرض کیا: ہمیں گدے کہاں میسر ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس گدے ہوں گے ۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا سفيان، عن ابن المنكدر، عن جابر، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتخذتم انماطا " . قلت وانى لنا الانماط قال " اما انها ستكون لكم انماط
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ، جس پر آپ رات کو سوتے تھے، ایسے چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، واحمد بن منيع، قالا حدثنا ابو معاوية، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، رضى الله عنها قالت كان وسادة رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال ابن منيع - التي ينام عليها بالليل - ثم اتفقا - من ادم حشوها ليف
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گدا چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری تھی۔
حدثنا ابو توبة، حدثنا سليمان، - يعني ابن حيان - عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت كانت ضجعة رسول الله صلى الله عليه وسلم من ادم حشوها ليف
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا بسترا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ کے سامنے رہتا تھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة، قالت كان فراشها حيال مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکتے دیکھا تو آپ اندر داخل نہیں ہوئے بہت کم ایسا ہو تاکہ آپ اندر جائیں اور پہلے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نہ ملیں، اتنے میں علی رضی اللہ عنہ آ گئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کو غمگین دیکھا تو پوچھا: کیا بات ہے؟ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تھے لیکن اندر نہیں آئے، علی رضی اللہ عنہ یہ سن کر آپ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر یہ بات بڑی گراں گزری ہے کہ آپ ان کے پاس تشریف لائے اور اندر نہیں آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا سروکار، مجھے نقش و نگار سے کیا واسطہ؟ یہ سن کر وہ واپس فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور آپ نے جو فرمایا تھا انہیں بتایا، اس پر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھیے کہ اس پردے کے متعلق آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس سے کہو: اسے وہ بنی فلاں کو بھیج دے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابن نمير، حدثنا فضيل بن غزوان، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى فاطمة رضى الله عنها فوجد على بابها سترا فلم يدخل قال وقلما كان يدخل الا بدا بها فجاء علي رضي الله عنه فراها مهتمة فقال ما لك قالت جاء النبي صلى الله عليه وسلم الى فلم يدخل فاتاه علي رضى الله عنه فقال يا رسول الله ان فاطمة اشتد عليها انك جيتها فلم تدخل عليها . قال " وما انا والدنيا وما انا والرقم " . فذهب الى فاطمة فاخبرها بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت قل لرسول الله صلى الله عليه وسلم ما يامرني به . قال " قل لها فلترسل به الى بني فلان
فضیل سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ وہ ایک منقش پردہ تھا۔
حدثنا واصل بن عبد الاعلى الاسدي، حدثنا ابن فضيل، عن ابيه، بهذا الحديث قال وكان سترا موشيا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کسی ایسی چیز کو جس میں صلیب کی تصویر بنی ہوتی بغیر کاٹے یا توڑے نہیں چھوڑتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا يحيى، حدثنا عمران بن حطان، عن عايشة، رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان لا يترك في بيته شييا فيه تصليب الا قضبه
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر، کتا، یا جنبی ( ناپاک شخص ) ہو ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن علي بن مدرك، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن عبد الله بن نجى، عن ابيه، عن علي، رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تدخل الملايكة بيتا فيه صورة ولا كلب ولا جنب
ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مجسمہ ہو ۔ زید بن خالد نے جو اس حدیث کے راوی ہیں سعید بن یسار سے کہا: میرے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلو ہم ان سے اس بارے میں پوچھیں گے چنانچہ ہم گئے اور جا کر پوچھا: ام المؤمنین! ابوطلحہ نے ہم سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایسا ایسا فرمایا ہے تو کیا آپ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں، لیکن میں نے جو کچھ آپ کو کرتے دیکھا ہے وہ میں تم سے بیان کرتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں نکلے، میں آپ کی واپسی کی منتظر تھی، میں نے ایک پردہ لیا جو میرے پاس تھا اور اسے دروازے کی پڑی لکڑی پر لٹکا دیا، پھر جب آئے تو میں نے آپ کا استقبال کیا اور کہا: سلامتی ہو آپ پر اے اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو عزت بخشی اور اپنے فضل و کرم سے نوازا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر پر نظر ڈالی، تو آپ کی نگاہ پردے پر گئی تو آپ نے میرے سلام کا کوئی جواب نہیں دیا، میں نے آپ کے چہرہ پر ناگواری دیکھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پردے کے پاس آئے اور اسے اتار دیا اور فرمایا: اللہ نے ہمیں یہ حکم نہیں دیا ہے کہ ہم اس کی عطا کی ہوئی چیزوں میں سے پتھر اور اینٹ کو کپڑے پہنائیں پھر میں نے کاٹ کر اس کے دو تکیے بنا لیے، اور ان میں کھجور کی چھال کا بھراؤ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس کام پر کوئی نکیر نہیں فرمائی۔
حدثنا وهب بن بقية، اخبرنا خالد، عن سهيل، - يعني ابن ابي صالح - عن سعيد بن يسار الانصاري، عن زيد بن خالد الجهني، عن ابي طلحة الانصاري، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا تدخل الملايكة بيتا فيه كلب ولا تمثال " . وقال انطلق بنا الى ام المومنين عايشة نسالها عن ذلك . فانطلقنا فقلنا يا ام المومنين ان ابا طلحة حدثنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بكذا وكذا فهل سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يذكر ذلك قالت لا ولكن ساحدثكم بما رايته فعل خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض مغازيه وكنت اتحين قفوله فاخذت نمطا كان لنا فسترته على العرض فلما جاء استقبلته فقلت السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله وبركاته الحمد لله الذي اعزك واكرمك فنظر الى البيت فراى النمط فلم يرد على شييا ورايت الكراهية في وجهه فاتى النمط حتى هتكه ثم قال " ان الله لم يامرنا فيما رزقنا ان نكسو الحجارة واللبن " . قالت فقطعته وجعلته وسادتين وحشوتهما ليفا فلم ينكر ذلك على
اس سند سے بھی سہیل سے اسی طرح مروی ہے اس میں «فقلنا يا أم المؤمنين إن أبا طلحة حدثنا عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم» کے بجائے «فقلت يا أمه إن هذا حدثني أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال» ہے نیز اس میں «سعيد بن يسار الأنصاري» کے بجائے «سعيد بن يسار مولى بني النجار» ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن سهيل، باسناده مثله قال فقلت يا امه ان هذا حدثني ان النبي صلى الله عليه وسلم قال وقال فيه سعيد بن يسار مولى بني النجار
زید بن خالد رضی اللہ عنہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے ہیں جس میں تصویر ہو ۔ بسر جو حدیث کے راوی ہیں کہتے ہیں: پھر زید بن خالد بیمار ہوئے تو ہم ان کی عیادت کرنے کے لیے گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹک رہا ہے جس میں تصویر ہے تو میں نے ام المؤمنین میمونہ کے ربیب ( پروردہ ) عبیداللہ خولانی سے کہا: کیا زید نے ہمیں تصویر کی ممانعت کے سلسلہ میں اس سے پہلے حدیث نہیں سنائی تھی ( پھر یہ کیا ہوا؟ ) تو عبیداللہ نے کہا: کیا آپ نے ان سے نہیں سنا تھا انہوں نے یہ بھی تو کہا تھا سوائے اس نقش و نگار کے جو کپڑے پر ہو ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن بكير، عن بسر بن سعيد، عن زيد بن خالد، عن ابي طلحة، انه قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الملايكة لا تدخل بيتا فيه صورة " . قال بسر ثم اشتكى زيد فعدناه فاذا على بابه ستر فيه صورة فقلت لعبيد الله الخولاني ربيب ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم الم يخبرنا زيد عن الصور يوم الاول فقال عبيد الله الم تسمعه حين قال الا رقما في ثوب
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے وقت جب آپ بطحاء میں تھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ کعبہ میں جائیں اور جتنی تصویریں ہوں سب کو مٹا ڈالیں، آپ اس وقت تک کعبہ کے اندر تشریف نہیں لے گئے جب تک سبھی تصویریں مٹا نہ دی گئیں۔
حدثنا الحسن بن الصباح، ان اسماعيل بن عبد الكريم، حدثهم قال حدثني ابراهيم، - يعني ابن عقيل - عن ابيه، عن وهب بن منبه، عن جابر، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر عمر بن الخطاب - رضى الله عنه - زمن الفتح وهو بالبطحاء ان ياتي الكعبة فيمحو كل صورة فيها فلم يدخلها النبي صلى الله عليه وسلم حتى محيت كل صورة فيها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام نے آج رات مجھ سے ملنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے پھر آپ کو خیال آیا کہ ہماری چارپائی کے نیچے کتے کا پلا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ نکالا گیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لے کر آپ نے وہاں چھڑکاؤ کیا تو جبرائیل آپ سے ملے اور کہنے لگے: ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو پھر صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا یہاں تک کہ آپ چھوٹے باغوں کے کتوں کو بھی مار ڈالنے کا حکم دے رہے تھے صرف آپ بڑے باغوں کے کتوں کو چھوڑ رہے تھے ( کیونکہ بغیر کتوں کے ان کی دیکھ ریکھ دشوار ہوتی ہے ) ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن ابن السباق، عن ابن عباس، قال حدثتني ميمونة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان جبريل عليه السلام كان وعدني ان يلقاني الليلة فلم يلقني " . ثم وقع في نفسه جرو كلب تحت بساط لنا فامر به فاخرج ثم اخذ بيده ماء فنضح به مكانه فلما لقيه جبريل عليه السلام قال انا لا ندخل بيتا فيه كلب ولا صورة فاصبح النبي صلى الله عليه وسلم فامر بقتل الكلاب حتى انه ليامر بقتل كلب الحايط الصغير ويترك كلب الحايط الكبير
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا: میں کل رات آپ کے پاس آیا تھا لیکن اندر نہ آنے کی وجہ صرف وہ تصویریں رہیں جو آپ کے دروازے پر تھیں اور آپ کے گھر میں ( دروازے پر ) ایک منقش پردہ تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، اور گھر میں کتا بھی تھا تو آپ کہہ دیں کہ گھر میں جو تصویریں ہوں ان کا سر کاٹ دیں تاکہ وہ درخت کی شکل کی ہو جائیں، اور پردے کو پھاڑ کر اس کے دو غالیچے بنا لیں تاکہ وہ بچھا کر پیروں سے روندے جائیں اور حکم دیں کہ کتے کو باہر نکال دیا جائے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، اسی دوران حسن یا حسین رضی اللہ عنہما کا کتا ان کے تخت کے نیچے بیٹھا نظر آیا، آپ نے حکم دیا تو وہ بھی باہر نکال دیا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «نضد» چارپائی کی شکل کی ایک چیز ہے جس پر کپڑے رکھے جاتے ہیں۔
حدثنا ابو صالح، محبوب بن موسى حدثنا ابو اسحاق الفزاري، عن يونس بن ابي اسحاق، عن مجاهد، قال حدثنا ابو هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتاني جبريل عليه السلام فقال لي اتيتك البارحة فلم يمنعني ان اكون دخلت الا انه كان على الباب تماثيل وكان في البيت قرام ستر فيه تماثيل وكان في البيت كلب فمر براس التمثال الذي في البيت يقطع فيصير كهيية الشجرة ومر بالستر فليقطع فليجعل منه وسادتين منبوذتين توطان ومر بالكلب فليخرج " . ففعل رسول الله صلى الله عليه وسلم واذا الكلب لحسن او حسين كان تحت نضد لهم فامر به فاخرج . قال ابو داود والنضد شىء توضع عليه الثياب شبه السرير