Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا پہنتے تو قمیص یا عمامہ ( کہہ کر ) اس کپڑے کا نام لیتے پھر فرماتے: «اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه أسألك من خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» اے اللہ! سب تعریفیں تیرے لیے ہیں تو نے ہی مجھے پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس کے لیے یہ کپڑا بنایا گیا ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کی برائی اور جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ ابونضرہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے جب کوئی نیا کپڑا پہنتا تو اس سے کہا جاتا: تو اسے پرانا کرے اور اللہ تجھے اس کی جگہ دوسرا کپڑا عطا کرے۔
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا ابن المبارك، عن الجريري، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد الخدري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا استجد ثوبا سماه باسمه اما قميصا او عمامة ثم يقول " اللهم لك الحمد انت كسوتنيه اسالك من خيره وخير ما صنع له واعوذ بك من شره وشر ما صنع له " . قال ابو نضرة فكان اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم اذا لبس احدهم ثوبا جديدا قيل له تبلي ويخلف الله تعالى
اس سند سے بھی جریری سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، عن الجريري، باسناده نحوه
اس سند سے بھی جریری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالوہاب ثقفی نے اس میں ابوسعید کا ذکر نہیں کیا ہے اور حماد بنطسلمہ نے جریری سے جریری نے ابوالعلاء سے ابوالعلاء نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن سلمہ اور ثقفی دونوں کا سماع ایک ہی ہے
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا محمد بن دينار، عن الجريري، باسناده ومعناه . قال ابو داود عبد الوهاب الثقفي لم يذكر فيه ابا سعيد وحماد بن سلمة قال عن الجريري عن ابي العلاء عن النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود حماد بن سلمة والثقفي سماعهما واحد
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي أطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عنایت فرمایا تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔ نیز فرمایا: اور جس نے ( نیا کپڑا ) پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني هذا الثوب ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور میری طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ عنایت فرمایا تو اس کے اگلے اور پچھلے سارے گناہ بخش دئیے جائیں گے ۔
حدثنا نصير بن الفرج، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا سعيد، - يعني ابن ابي ايوب - عن ابي مرحوم، عن سهل بن معاذ بن انس، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اكل طعاما ثم قال الحمد لله الذي اطعمني هذا الطعام ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه وما تاخر ومن لبس ثوبا فقال الحمد لله الذي كساني هذا الثوب ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة غفر له ما تقدم من ذنبه وما تاخر
ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے آئے جن میں ایک چھوٹی سی دھاری دار چادر تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کس کو اس کا زیادہ حقدار سمجھتے ہو؟ تو لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس لاؤ چنانچہ وہ لائی گئیں، آپ نے انہیں اسے پہنا دیا پھر دوبار فرمایا: پہن پہن کر اسے پرانا اور بوسیدہ کرو آپ چادر کی دھاریوں کو جو سرخ یا زرد رنگ کی تھیں دیکھتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے: اے ام خالد! «سناه سناه» اچھا ہے اچھا ہے ۱؎ ۔
حدثنا اسحاق بن الجراح الاذني، حدثنا ابو النضر، حدثنا اسحاق بن سعيد، عن ابيه، عن ام خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بكسوة فيها خميصة صغيرة فقال " من ترون احق بهذه " . فسكت القوم فقال " ايتوني بام خالد " . فاتي بها فالبسها اياها ثم قال " ابلي واخلقي " . مرتين وجعل ينظر الى علم في الخميصة احمر او اصفر ويقول " سناه سناه يا ام خالد " . وسناه في كلام الحبشة الحسن
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ قمیص پسند تھی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، حدثنا الفضل بن موسى، عن عبد المومن بن خالد الحنفي، عن عبد الله بن بريدة، عن ام سلمة، قالت كان احب الثياب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم القميص
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص سے زیادہ کوئی اور کپڑا پسند نہ تھا۔
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا ابو تميلة، قال حدثني عبد المومن بن خالد، عن عبد الله بن بريدة، عن ابيه، عن ام سلمة، قالت لم يكن ثوب احب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من قميص
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قمیص ( کرتے ) کی آستین پہنچوں تک تھی۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم الحنظلي، حدثنا معاذ بن هشام، عن ابيه، عن بديل بن ميسرة، عن شهر بن حوشب، عن اسماء بنت يزيد، قالت كانت يد كم قميص رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الرصغ
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو چنانچہ میں ان کے ساتھ چلا ( جب وہاں پہنچے ) تو انہوں نے مجھ سے کہا: اندر جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے لیے بلا لاؤ، تو میں نے آپ کو بلایا، آپ باہر نکلے، آپ انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مخرمہ رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا: میں نے اسے تمہارے لیے چھپا کر رکھ لیا تھا تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا آپ نے فرمایا: مخرمہ خوش ہو گیا ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ويزيد بن خالد بن موهب، - المعنى - ان الليث، - يعني ابن سعد - حدثهم عن عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة، عن المسور بن مخرمة، انه قال قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم اقبية ولم يعط مخرمة شييا فقال مخرمة يا بنى انطلق بنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فانطلقت معه قال ادخل فادعه لي قال فدعوته فخرج اليه وعليه قباء منها فقال " خبات هذا لك " . قال فنظر اليه - زاد ابن موهب - مخرمة - ثم اتفقا - قال رضي مخرمة . قال قتيبة عن ابن ابي مليكة لم يسمه
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جس نے شہرت اور ناموری کا لباس پہنا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے اسی طرح کا لباس پہنائے گا۔ شریک کی روایت میں ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما اسے مرفوع کرتے ہیں یعنی اپنے قول کے بجائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دیتے ہیں نیز ابوعوانہ سے یہ اضافہ مروی ہے کہ پھر اس کپڑے میں آگ لگا دی جائے گی ۔
حدثنا محمد بن عيسى، حدثنا ابو عوانة، ح وحدثنا محمد، - يعني ابن عيسى - عن شريك، عن عثمان بن ابي زرعة، عن المهاجر الشامي، عن ابن عمر، - قال في حديث شريك يرفعه - قال " من لبس ثوب شهرة البسه الله يوم القيامة ثوبا مثله " . زاد عن ابي عوانة " ثم تلهب فيه النار
مسدد کا بیان ہے کہ ابوعوانہ نے ہم سے بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا کپڑا پہنائے گا ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، قال ثوب مذلة
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی تو وہ انہیں میں سے ہے ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا ابو النضر، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت، حدثنا حسان بن عطية، عن ابي منيب الجرشي، عن ابن عمر، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تشبه بقوم فهو منهم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ پر ایک سیاہ بالوں کی چادر تھی جس میں ( کجاوہ ) کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہننے کے لیے کپڑا مانگا، آپ نے مجھے کتان کے دو کپڑے پہنائے تو میں اپنے کو دیکھتا تو اپنے آپ کو اپنے اور ساتھیوں کے بالمقابل اچھے لباس والا محسوس کرتا۔
حدثنا يزيد بن خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب الرملي، وحسين بن علي، قالا حدثنا ابن ابي زايدة، عن ابيه، عن مصعب بن شيبة، عن صفية بنت شيبة، عن عايشة، رضى الله عنها قالت خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه مرط مرحل من شعر اسود . وقال حسين حدثنا يحيى بن زكريا . - حدثنا ابراهيم بن العلاء الزبيدي حدثنا اسماعيل بن عياش عن عقيل بن مدرك عن لقمان بن عامر عن عتبة بن عبد السلمي قال استكسيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فكساني خيشتين فلقد رايتني وانا اكسى اصحابي
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن ابي بردة، قال قال لي ابي يا بنى لو رايتنا ونحن مع نبينا صلى الله عليه وسلم وقد اصابتنا السماء حسبت ان ريحنا ريح الضان
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن ابي بردة، قال قال لي ابي يا بنى لو رايتنا ونحن مع نبينا صلى الله عليه وسلم وقد اصابتنا السماء حسبت ان ريحنا ريح الضان
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا عمارة بن زاذان، عن ثابت، عن انس بن مالك، ان ملك، ذي يزن اهدى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم حلة اخذها بثلاثة وثلاثين بعيرا او ثلاث وثلاثين ناقة فقبلها
حدثنا عمرو بن عون، اخبرنا عمارة بن زاذان، عن ثابت، عن انس بن مالك، ان ملك، ذي يزن اهدى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم حلة اخذها بثلاثة وثلاثين بعيرا او ثلاث وثلاثين ناقة فقبلها
اسحاق بن عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوڑا بیس سے کچھ زائد اونٹنیاں دے کر خریدا پھر آپ نے اسے بادشاہ ذی یزن کو ہدیے میں بھیجا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن علي بن زيد، عن اسحاق بن عبد الله بن الحارث، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اشترى حلة ببضعة وعشرين قلوصا فاهداها الى ذي يزن
ابوبردہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو انہوں نے یمن کا بنا ہوا ایک موٹا تہبند اور ایک کمبل جسے «ملبدة» کہا جاتا تھا نکال کر دکھایا پھر وہ قسم کھا کر کہنے لگیں کہ انہیں دونوں کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا موسى، حدثنا سليمان، - يعني ابن المغيرة - المعنى - عن حميد بن هلال، عن ابي بردة، قال دخلت على عايشة - رضى الله عنها - فاخرجت الينا ازارا غليظا مما يصنع باليمن وكساء من التي يسمونها الملبدة فاقسمت بالله ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض في هذين الثوبين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خوارج نکلے تو میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے کہا: تم ان لوگوں کے پاس جاؤ تو میں یمن کا سب سے عمدہ جوڑا پہن کر ان کے پاس گیا۔ ابوزمیل کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک خوبصورت اور وجیہ آدمی تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: تو میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: خوش آمدید اے ابن عباس! اور پوچھا: یہ کیا پہنے ہو؟ ابن عباس نے کہا: تم مجھ میں کیا عیب نکالتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھے سے اچھا جوڑا پہنے دیکھا ہے۔
حدثنا ابراهيم بن خالد ابو ثور الكلبي، حدثنا عمر بن يونس بن القاسم اليمامي، حدثنا عكرمة بن عمار، حدثنا ابو زميل، حدثني عبد الله بن عباس، قال لما خرجت الحرورية اتيت عليا - رضى الله عنه - فقال ايت هولاء القوم . فلبست احسن ما يكون من حلل اليمن - قال ابو زميل وكان ابن عباس رجلا جميلا جهيرا - قال ابن عباس فاتيتهم فقالوا مرحبا بك يا ابن عباس ما هذه الحلة قال ما تعيبون على لقد رايت على رسول الله صلى الله عليه وسلم احسن ما يكون من الحلل . قال ابو داود اسم ابي زميل سماك بن الوليد الحنفي
سعد بن عثمان کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو بخارا میں ایک سفید خچر پر سوار دیکھا وہ سیاہ خز ۱؎ کا عمامہ باندھے ہوئے تھے اس نے کہا: یہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنایا ہے۔
حدثنا عثمان بن محمد الانماطي البصري، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الرازي، ح وحدثنا احمد بن عبد الرحمن الرازي، حدثنا ابي، اخبرني ابي عبد الله بن سعد، عن ابيه، سعد قال رايت رجلا ببخارى على بغلة بيضاء عليه عمامة خز سوداء فقال كسانيها رسول الله صلى الله عليه وسلم . هذا لفظ عثمان والاخبار في حديثه
عبدالرحمٰن بن غنم اشعری کہتے ہیں مجھ سے ابوعامر یا ابو مالک نے بیان کیا اور اللہ کی قسم انہوں نے جھوٹ نہیں کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ میری امت میں کچھ لوگ ہوں گے جو خز اور حریر ( ریشم ) کو حلال کر لیں گے پھر کچھ اور ذکر کیا، فرمایا: ان میں سے کچھ قیامت تک کے لیے بندر بنا دیئے جائیں گے اور کچھ سور ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے بیس یا اس سے زیادہ لوگوں نے خز پہنا ہے ان میں سے انس اور براء بن عازب رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔
حدثنا عبد الوهاب بن نجدة، حدثنا بشر بن بكر، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثنا عطية بن قيس، قال سمعت عبد الرحمن بن غنم الاشعري، قال حدثني ابو عامر، او ابو مالك - والله يمين اخرى ما كذبني - انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ليكونن من امتي اقوام يستحلون الخز والحرير " . وذكر كلاما قال " يمسخ منهم اخرون قردة وخنازير الى يوم القيامة " . قال ابو داود وعشرون نفسا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم او اكثر لبسوا الخز منهم انس والبراء بن عازب