Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے پاس ایک دھاری دار ریشمی جوڑا بکتا ہوا دیکھا تو عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس کو خرید لیتے اور جمعہ کے روز اور وفود سے ملاقات کے وقت اسے زیب تن فرماتے ( تو اچھا ہوتا ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہی پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں پھر انہیں میں سے کچھ جوڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے آپ نے اس میں سے ایک جوڑا عمر بن خطاب کو دیا، تو عمر کہنے لگے: اللہ کے رسول! یہ آپ مجھے پہنا رہے ہیں حالانکہ آپ عطارد کے جوڑوں کے سلسلہ میں ایسا ایسا فرما چکے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم ( خود ) پہنو تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی ( عثمان بن حکیم ) کو دے دیا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان عمر بن الخطاب، راى حلة سيراء عند باب المسجد تباع فقال يا رسول الله لو اشتريت هذه فلبستها يوم الجمعة وللوفد اذا قدموا عليك . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما يلبس هذه من لا خلاق له في الاخرة " . ثم جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم منها حلل فاعطى عمر بن الخطاب منها حلة فقال عمر يا رسول الله كسوتنيها وقد قلت في حلة عطارد ما قلت . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني لم اكسكها لتلبسها " . فكساها عمر بن الخطاب اخا له مشركا بمكة
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی واقعہ مروی ہے لیکن اس میں دھاری دار ریشمی جوڑے کے بجائے موٹے ریشم کا جوڑا ہے نیز اس میں ہے: پھر آپ نے انہیں دیباج ایک جوڑا بھیجا، اور فرمایا: اسے بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرو ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، وعمرو بن الحارث، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، بهذه القصة قال حلة استبرق . وقال فيه ثم ارسل اليه بجبة ديباج وقال " تبيعها وتصيب بها حاجتك
ابوعثمان نہدی کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن فرقد کو لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے منع فرمایا مگر جو اتنا اور اتنا ہو یعنی دو، تین اور چار انگلی کے بقدر ہو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، حدثنا عاصم الاحول، عن ابي عثمان النهدي، قال كتب عمر الى عتبة بن فرقد ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن الحرير الا ما كان هكذا وهكذا اصبعين وثلاثة واربعة
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی دھاری دار جوڑا ہدیہ دیا گیا تو آپ نے اسے میرے پاس بھیج دیا، میں اسے پہن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، تو میں نے آپ کے چہرہ مبارک پر ناراضگی دیکھی آپ نے فرمایا: میں نے اسے اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اسے ( خود ) پہنو آپ نے مجھے حکم دیا، تو میں نے اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن ابي عون، قال سمعت ابا صالح، يحدث عن علي، رضى الله عنه قال اهديت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم حلة سيراء فارسل بها الى فلبستها فاتيته فرايت الغضب في وجهه وقال " اني لم ارسل بها اليك لتلبسها " . وامرني فاطرتها بين نسايي
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسی ( ایک ریشمی کپڑا ) اور معصفر ( کسم میں رنگا ہوا کپڑا ) اور سونے کی انگوٹھی کے پہننے سے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابيه، عن علي بن ابي طالب، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن لبس القسي وعن لبس المعصفر وعن تختم الذهب وعن القراءة في الركوع
اس سند سے بھی بواسطہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث مروی ہے اس میں رکوع اور سجدے دونوں میں قرآت کی ممانعت کی بات ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، - يعني المروزي - حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابراهيم بن عبد الله بن حنين، عن ابيه، عن علي بن ابي طالب، - رضى الله عنه - عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا قال عن القراءة في الركوع والسجود
اس سند سے بھی ابراہیم بن عبداللہ سے یہی روایت مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ تمہیں منع فرمایا ہے ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن محمد بن عمرو، عن ابراهيم بن عبد الله، بهذا زاد ولا اقول نهاكم
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ روم کے بادشاہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس ( ایک باریک ریشمی کپڑا ) کا ایک چوغہ ہدیہ میں بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن فرمایا۔ گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو اس وقت دیکھ رہا ہوں آپ اسے مل رہے ہیں، پھر آپ نے اسے جعفر رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا تو اسے پہن کر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو انہوں نے کہا: پھر میں اسے کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے بھائی نجاشی کو بھیج دو ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن علي بن زيد، عن انس بن مالك، ان ملك الروم، اهدى الى النبي صلى الله عليه وسلم مستقة من سندس فلبسها فكاني انظر الى يديه تذبذبان ثم بعث بها الى جعفر فلبسها ثم جاءه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اني لم اعطكها لتلبسها " . قال فما اصنع بها قال ارسل بها الى اخيك النجاشي
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں سرخ گدوں ( زین پوشوں ) پر سوار نہیں ہوتا اور نہ کسم کے رنگے کپڑے پہنتا ہوں، اور نہ ایسی قمیص پہنتا ہوں جس پر ریشمی بیل بوٹے بنے ہوں ۔ راوی کہتے ہیں: حسن نے اپنی قمیص کے گریبان کی طرف اشارہ کیا وہ کہتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں بو ہو رنگ نہ ہو، سنو! اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو بو نہ ہو ۔ سعید کہتے ہیں: میرا خیال ہے قتادہ نے کہا: علماء نے عورتوں کے سلسلہ میں آپ کے اس قول کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب وہ باہر نکلیں لیکن جب وہ اپنے خاوند کے پاس ہوں تو وہ جیسی بھی خوشبو چاہیں لگائیں۔
حدثنا مخلد بن خالد، حدثنا روح، حدثنا سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن الحسن، عن عمران بن حصين، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " لا اركب الارجوان ولا البس المعصفر ولا البس القميص المكفف بالحرير " . قال واوما الحسن الى جيب قميصه . قال وقال " الا وطيب الرجال ريح لا لون له الا وطيب النساء لون لا ريح له " . قال سعيد اراه قال انما حملوا قوله في طيب النساء على انها اذا خرجت فاما اذا كانت عند زوجها فلتطيب بما شاءت
ابوالحصین ہیثم بن شفی کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی جس کی کنیت ابوعامر تھی اور وہ قبیلہ معافر کے تھے دونوں بیت المقدس میں نماز پڑھنے کے لیے نکلے، بیت المقدس میں لوگوں کے واعظ و خطیب قبیلہ ازد کے ابوریحانہ نامی ایک صحابی تھے۔ میرے ساتھی مسجد میں مجھ سے پہلے پہنچے پھر ان کے پیچھے میں آیا اور آ کر ان کے بغل میں بیٹھ گیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے ابوریحانہ کا کچھ وعظ سنا؟ میں نے کہا: نہیں، وہ بولے: میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس باتوں سے منع فرمایا ہے: دانت باریک کرنے سے، گودنا گودنے سے، بال اکھیڑنے سے، اور دو مردوں کے ایک ساتھ ایک کپڑے میں سونے سے، اور دو عورتوں کے ایک ساتھ ایک ہی کپڑے میں سونے سے، اور مرد کے اپنے کپڑوں کے نیچے عجمیوں کی طرح ریشمی کپڑا لگانے سے، یا عجمیوں کی طرح اپنے مونڈھوں پر ریشم لگانے سے، اور دوسروں کے مال لوٹنے سے اور درندوں کی کھالوں پر سوار ہونے سے، اور انگوٹھی پہننے سے سوائے بادشاہ کے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں انگوٹھی کا ذکر منفرد ہے۔
حدثنا يزيد بن خالد بن عبد الله بن موهب الهمداني، اخبرنا المفضل، - يعني ابن فضالة - عن عياش بن عباس القتباني، عن ابي الحصين، - يعني الهيثم بن شفي - قال خرجت انا وصاحب، لي يكنى ابا عامر - رجل من المعافر - لنصلي بايلياء وكان قاصهم رجل من الازد يقال له ابو ريحانة من الصحابة قال ابو الحصين فسبقني صاحبي الى المسجد ثم ردفته فجلست الى جنبه فسالني هل ادركت قصص ابي ريحانة قلت لا . قال سمعته يقول نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عشر عن الوشر والوشم والنتف وعن مكامعة الرجل الرجل بغير شعار وعن مكامعة المراة المراة بغير شعار وان يجعل الرجل في اسفل ثيابه حريرا مثل الاعاجم او يجعل على منكبيه حريرا مثل الاعاجم وعن النهبى وركوب النمور ولبوس الخاتم الا لذي سلطان . قال ابو داود الذي تفرد به من هذا الحديث ذكر الخاتم
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سرخ گدوں ( زین پوشوں ) سے منع کیا گیا ہے۔
حدثنا يحيى بن حبيب، حدثنا روح، حدثنا هشام، عن محمد، عن عبيدة، عن علي، - رضى الله عنه - انه قال نهى عن مياثر الارجوان
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی سے اور قسی ۱؎ پہننے سے اور سرخ زین پوش سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا حفص بن عمر، ومسلم بن ابراهيم، قالا حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن هبيرة، عن علي، - رضى الله عنه - قال نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خاتم الذهب وعن لبس القسي والميثرة الحمراء
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دھاری دار چادر میں نماز پڑھی تو آپ کی نظر اس کی دھاریوں پر پڑی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: میری یہ چادر ابوجہم کو لے جا کر دے آؤ کیونکہ اس نے ابھی مجھے نماز سے غافل کر دیا ( یعنی میرا خیال اس کے بیل بوٹوں میں بٹ گیا ) اور اس کی جگہ مجھے ایک سادہ چادر لا کر دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوجہم بن حذیفہ بنو عدی بن کعب بن غانم میں سے ہیں۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن سعد، حدثنا ابن شهاب الزهري، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، - رضى الله عنها - ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى في خميصة لها اعلام فنظر الى اعلامها فلما سلم قال " اذهبوا بخميصتي هذه الى ابي جهم فانها الهتني انفا في صلاتي واتوني بانبجانيته " . قال ابو داود ابو جهم بن حذيفة من بني عدي بن كعب بن غانم
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی حدیث مروی ہے اور پہلی روایت زیادہ کامل ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، - في اخرين - قالوا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، نحوه والاول اشبع
عبداللہ ابوعمر مولی اسماء بنت ابی بکر کا بیان ہے میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بازار میں ایک شامی کپڑا خریدتے دیکھا انہوں نے اس میں ایک سرخ دھاگہ دیکھا تو اسے واپس کر دیا تو میں اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے اس کا ذکر کیا تو وہ ( اپنی خادمہ سے ) بولیں بیٹی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جبہ مجھے لا دے، تو وہ نکال کر لائیں وہ ایک طیالسی ۱؎ جبہ تھا جس کے گریبان اور دونوں آستینوں اور آگے اور پیچھے ریشم ٹکا ہوا تھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا المغيرة بن زياد، حدثنا عبد الله ابو عمر، مولى اسماء بنت ابي بكر قال رايت ابن عمر في السوق اشترى ثوبا شاميا فراى فيه خيطا احمر فرده فاتيت اسماء فذكرت ذلك لها فقالت يا جارية ناوليني جبة رسول الله صلى الله عليه وسلم . فاخرجت جبة طيالسة مكفوفة الجيب والكمين والفرجين بالديباج
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کپڑے سے جو خالص ریشمی ہو منع فرمایا ہے، رہا ریشمی بوٹا اور ریشمی کپڑے کا تانا تو کوئی مضائقہ نہیں۔
حدثنا ابن نفيل، حدثنا زهير، حدثنا خصيف، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال انما نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الثوب المصمت من الحرير فاما العلم من الحرير وسدى الثوب فلا باس به
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو کجھلی کی وجہ سے جو انہیں ہوئی تھی سفر میں ریشمی قمیص پہننے کی رخصت دی۔
حدثنا النفيلي، حدثنا عيسى، - يعني ابن يونس - عن سعيد بن ابي عروبة، عن قتادة، عن انس، قال رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم لعبد الرحمن بن عوف وللزبير بن العوام في قمص الحرير في السفر من حكة كانت بهما
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لے کر اسے اپنے داہنے ہاتھ میں رکھا اور سونا لے کر اسے بائیں ہاتھ میں رکھا، پھر فرمایا: یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي افلح الهمداني، عن عبد الله بن زرير، - يعني الغافقي - انه سمع علي بن ابي طالب، - رضى الله عنه - يقول ان نبي الله صلى الله عليه وسلم اخذ حريرا فجعله في يمينه واخذ ذهبا فجعله في شماله ثم قال " ان هذين حرام على ذكور امتي
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو ریشمی دھاری دار چادر پہنے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں: «سیراء» کے معنی ریشمی دھاری دار کپڑے کے ہیں۔
حدثنا عمرو بن عثمان، وكثير بن عبيد الحمصيان، قالا حدثنا بقية، عن الزبيدي، عن الزهري، عن انس بن مالك، انه حدثه انه، راى على ام كلثوم بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم بردا سيراء . قال والسيراء المضلع بالقز
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ریشمی کپڑوں کو لڑکوں سے چھین لیتے تھے اور لڑکیوں کو ( اسے پہنے دیکھتے تو انہیں ) چھوڑ دیتے تھے۔ مسعر کہتے ہیں: میں نے عمرو بن دینار سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا ابو احمد، - يعني الزبيري - حدثنا مسعر، عن عبد الملك بن ميسرة، عن عمرو بن دينار، عن جابر، قال كنا ننزعه عن الغلمان، ونتركه، على الجواري . قال مسعر فسالت عمرو بن دينار عنه فلم يعرفه