Loading...

Loading...
کتب
۱۳۹ احادیث
قتادہ کہتے ہیں ہم نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا لباس زیادہ محبوب یا زیادہ پسند تھا؟ تو انہوں نے کہا: دھاری دار یمنی چادر ۱؎۔
حدثنا هدبة بن خالد الازدي، حدثنا همام، عن قتادة، قال قلنا لانس - يعني ابن مالك - اى اللباس كان احب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم او اعجب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الحبرة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ وہ تمہارے بہتر کپڑوں میں سے ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفناؤ اور تمہارے سرموں میں بہترین سرمہ اثمد ہے کیونکہ وہ نگاہ کو تیز کرتا اور ( پلکوں کے ) بال اگاتا ہے ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عبد الله بن عثمان بن خثيم، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البسوا من ثيابكم البياض فانها خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم وان خير اكحالكم الاثمد يجلو البصر وينبت الشعر
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ایک پراگندہ سر شخص کو جس کے بال بکھرے ہوئے تھے دیکھا تو فرمایا: کیا اسے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جس سے یہ اپنا بال ٹھیک کر لے؟ اور ایک دوسرے شخص کو دیکھا جو میلے کپڑے پہنے ہوئے تھا تو فرمایا: کیا اسے پانی نہیں ملتا جس سے اپنے کپڑے دھو لے؟ ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا مسكين، عن الاوزاعي، ح وحدثنا عثمان بن ابي شيبة، عن وكيع، عن الاوزاعي، نحوه عن حسان بن عطية، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال اتانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فراى رجلا شعثا قد تفرق شعره فقال " اما كان يجد هذا ما يسكن به شعره " . وراى رجلا اخر وعليه ثياب وسخة فقال " اما كان هذا يجد ماء يغسل به ثوبه
مالک بن نضلۃ الجشمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک معمولی کپڑے میں آیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم مالدار ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں مالدار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس قسم کا مال ہے؟ تو انہوں نے کہا: اونٹ، بکریاں، گھوڑے، غلام ( ہر طرح کے مال سے ) اللہ نے مجھے نوازا ہے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اللہ کی نعمت اور اس کے اعزاز کا اثر تمہارے اوپر نظر آنا چاہیئے ۔
حدثنا النفيلي، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، عن ابي الاحوص، عن ابيه، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم في ثوب دون فقال " الك مال " . قال نعم . قال " من اى المال " . قال قد اتاني الله من الابل والغنم والخيل والرقيق . قال " فاذا اتاك الله مالا فلير اثر نعمة الله عليك وكرامته
زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی داڑھی زرد ( زعفرانی ) رنگ سے رنگتے تھے یہاں تک کہ ان کے کپڑے زردی سے بھر جاتے تھے، ان سے پوچھا گیا: آپ زرد رنگ سے کیوں رنگتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے رنگتے دیکھا ہے آپ کو اس سے زیادہ کوئی اور چیز پسند نہ تھی آپ اپنے تمام کپڑے یہاں تک کہ عمامہ کو بھی اسی سے رنگتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن زيد، - يعني ابن اسلم - ان ابن عمر، كان يصبغ لحيته بالصفرة حتى تمتلي ثيابه من الصفرة فقيل له لم تصبغ بالصفرة فقال اني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبغ بها ولم يكن شىء احب اليه منها وقد كان يصبغ بها ثيابه كلها حتى عمامته
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ پر دو سبز رنگ کی چادریں دیکھا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا عبيد الله، - يعني ابن اياد - حدثنا اياد، عن ابي رمثة، قال انطلقت مع ابي نحو النبي صلى الله عليه وسلم فرايت عليه بردين اخضرين
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گھاٹی سے اترے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، اس وقت میں کسم میں رنگی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تم نے کیسی اوڑھ رکھی ہے؟ میں سمجھ گیا کہ یہ آپ کو ناپسند لگی ہے، تو میں اپنے اہل خانہ کے پاس آیا وہ اپنا ایک تنور سلگا رہے تھے تو میں نے اسے اس میں ڈال دیا پھر میں دوسرے دن آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عبداللہ! وہ چادر کیا ہوئی؟ تو میں نے آپ کو بتایا ( کہ میں نے اسے تنور میں ڈال دیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اسے اپنے گھر کی کسی عورت کو کیوں نہیں پہنا دیا کیونکہ عورتوں کو اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ۔
حدثنا مسدد، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا هشام بن الغاز، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال هبطنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من ثنية فالتفت الى وعلى ريطة مضرجة بالعصفر فقال " ما هذه الريطة عليك " . فعرفت ما كره فاتيت اهلي وهم يسجرون تنورا لهم فقذفتها فيه ثم اتيته من الغد فقال " يا عبد الله ما فعلت الريطة " . فاخبرته فقال " الا كسوتها بعض اهلك فانه لا باس به للنساء
ہشام بن غاز کہتے ہیں کہ وہ مضرجہ ( چادر ) ہوتی ہے جو درمیانی رنگ کی ہو نہ بہت زیادہ لال ہو اور نہ بالکل گلابی۔
حدثنا عمرو بن عثمان الحمصي، حدثنا الوليد، قال قال هشام - يعني ابن الغاز - المضرجة التي ليست بمشبعة ولا الموردة
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا، اس وقت میں گلابی کسم سے رنگا ہوا کپڑا پہنے تھا آپ نے ( ناگواری کے انداز میں ) فرمایا: یہ کیا ہے؟ تو میں نے جا کر اسے جلا دیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم نے اپنے کپڑے کے ساتھ کیا کیا؟ تو میں نے عرض کیا: میں نے اسے جلا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہیں پہنا دیا؟ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ثور نے خالد سے مورد ( گلابی رنگ میں رنگا ہوا کپڑا ) اور طاؤس نے«معصفر» ( کسم میں رنگا ہوا کپڑا ) روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن عثمان الدمشقي، حدثنا اسماعيل بن عياش، عن شرحبيل بن مسلم، عن شفعة، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال راني رسول الله صلى الله عليه وسلم - قال ابو علي اللولوي اراه - وعلى ثوب مصبوغ بعصفر مورد فقال " ما هذا " . فانطلقت فاحرقته فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما صنعت بثوبك " . فقلت احرقته . قال " افلا كسوته بعض اهلك " . قال ابو داود رواه ثور عن خالد فقال مورد وطاوس قال معصفر
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے جسم پر دو سرخ کپڑے تھے، اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اسے جواب نہیں دیا۔
حدثنا محمد بن حزابة، حدثنا اسحاق، - يعني ابن منصور - حدثنا اسراييل، عن ابي يحيى، عن مجاهد، عن عبد الله بن عمرو، قال مر على النبي صلى الله عليه وسلم رجل عليه ثوبان احمران فسلم عليه فلم يرد النبي صلى الله عليه وسلم عليه
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے آپ نے ہمارے کجاؤں ( پالانوں ) پر اور اونٹوں پر ایسے زین پوش دیکھے جس میں سرخ اون کی دھاریاں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں نہیں دیکھ رہا ہوں کہ یہ سرخی تم پر غالب ہونے لگی ہے ( ابھی تو زین پوش سرخ کئے ہو آہستہ آہستہ اور لباس بھی سرخ پہننے لگو گے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر ہم اتنی تیزی سے اٹھے کہ ہمارے کچھ اونٹ بدک کر بھاگے اور ہم نے ان زین پوشوں کو کھینچ کر ان سے اتار دیا۔
حدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا ابو اسامة، عن الوليد، - يعني ابن كثير - عن محمد بن عمرو بن عطاء، عن رجل، من بني حارثة عن رافع بن خديج، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فراى رسول الله صلى الله عليه وسلم على رواحلنا وعلى ابلنا اكسية فيها خيوط عهن حمر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا ارى هذه الحمرة قد علتكم " . فقمنا سراعا لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى نفر بعض ابلنا فاخذنا الاكسية فنزعناها عنها
حریث بن ابح سلیحی کہتے ہیں کہ بنی اسد کی ایک عورت کہتی ہے: میں ایک دن ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تھی اور ہم آپ کے کپڑے گیروے میں رنگ رہے تھے کہ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، جب آپ کی نظر گیروے رنگ پر پڑی تو واپس لوٹ گئے، جب زینب رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا تو وہ سمجھ گئیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ناگوار لگا ہے، چنانچہ انہوں نے ان کپڑوں کو دھو دیا اور ساری سرخی چھپا دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور دیکھا جب کوئی چیز نظر نہیں آئی تو اندر تشریف لے گئے۔
حدثنا ابن عوف الطايي، حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثني ابي، - قال ابن عوف الطايي وقرات في اصل اسماعيل - قال حدثني ضمضم - يعني ابن زرعة - عن شريح بن عبيد عن حبيب بن عبيد عن حريث بن الابح السليحي ان امراة من بني اسد قالت كنت يوما عند زينب امراة رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نصبغ ثيابا لها بمغرة فبينا نحن كذلك اذ طلع علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما راى المغرة رجع فلما رات ذلك زينب علمت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد كره ما فعلت فاخذت فغسلت ثيابها ووارت كل حمرة ثم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رجع فاطلع فلما لم ير شييا دخل
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے، میں نے آپ کو ایک سرخ جوڑے میں دیکھا اس سے زیادہ خوبصورت میں نے کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی۔
حدثنا حفص بن عمر النمري، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم له شعر يبلغ شحمة اذنيه ورايته في حلة حمراء لم ار شييا قط احسن منه
عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں ایک خچر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ پر لال چادر تھی اور علی رضی اللہ عنہ آپ کے آگے آپ کی آواز دوسروں تک پہنچا رہے تھے ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن هلال بن عامر، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى يخطب على بغلة وعليه برد احمر وعلي - رضى الله عنه - امامه يعبر عنه
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سیاہ چادر رنگی تو آپ نے اس کو پہنا پھر جب اس میں پسینہ لگا اور اون کی بو محسوس کی تو اس کو اتار دیا، آپ کو خوشبو پسند تھی۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا همام، عن قتادة، عن مطرف، عن عايشة، - رضى الله عنها - قالت صنعت لرسول الله صلى الله عليه وسلم بردة سوداء فلبسها فلما عرق فيها وجد ريح الصوف فقذفها . قال واحسبه قال وكان تعجبه الريح الطيبة
جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ بحالت احتباء ایک چادر میں لپٹے بیٹھے تھے اور اس کی جھالر آپ کے دونوں پیروں پر تھی۔
حدثنا عبيد الله بن محمد القرشي، حدثنا حماد بن سلمة، اخبرنا يونس بن عبيد، عن عبيدة ابي خداش، عن ابي تميمة الهجيمي، عن جابر، - يعني ابن سليم - قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو محتب بشملة وقد وقع هدبها على قدميه
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ ایک کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے۔
حدثنا ابو الوليد الطيالسي، ومسلم بن ابراهيم، وموسى بن اسماعيل، قالوا حدثنا حماد، عن ابي الزبير، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عام الفتح مكة وعليه عمامة سوداء
حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، آپ کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے جس کا کنارہ آپ نے اپنے کندھوں پر لٹکا رکھا تھا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا ابو اسامة، عن مساور الوراق، عن جعفر بن عمرو بن حريث، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر وعليه عمامة سوداء قد ارخى طرفيها بين كتفيه
محمد بن علی بن رکانہ روایت کرتے ہیں کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی لڑی تو آپ نے رکانہ کو پچھاڑ دیا۔ رکانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر پگڑی باندھنے کا ہے ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد الثقفي، حدثنا محمد بن ربيعة، حدثنا ابو الحسن العسقلاني، عن ابي جعفر بن محمد بن علي بن ركانة، عن ابيه، ان ركانة، صارع النبي صلى الله عليه وسلم فصرعه النبي صلى الله عليه وسلم قال ركانة وسمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " فرق ما بيننا وبين المشركين العمايم على القلانس
اہل مدینہ کے ایک شیخ کہتے ہیں میں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عمامہ باندھا تو اس کا شملہ میرے آگے اور پیچھے دونوں جانب لٹکایا۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، مولى بني هاشم حدثنا عثمان بن عثمان الغطفاني، حدثنا سليمان بن خربوذ، حدثني شيخ، من اهل المدينة قال سمعت عبد الرحمن بن عوف، يقول عممني رسول الله صلى الله عليه وسلم فسدلها بين يدى ومن خلفي