احادیث
#4089
سنن ابی داؤد - Clothing
قیس بن بشر تغلبی کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور وہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے ساتھی تھے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص دمشق میں تھے جنہیں ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، وہ خلوت پسند آدمی تھے، لوگوں میں کم بیٹھتے تھے، اکثر اوقات نماز ہی میں رہتے تھے جب نماز سے فارغ ہوتے تو جب تک گھر نہ چلے جاتے تسبیح و تکبیر ہی میں لگے رہتے۔ ایک روز وہ ہمارے پاس سے گزرے اور ہم ابو الدرداء کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ان سے ابوالدرداء نے کہا: کوئی ایسی بات کہئیے جس سے ہمیں فائدہ ہو، اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو تو وہ کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ جہاد کے لیے بھیجا، جب وہ سریہ لوٹ کر واپس آیا تو اس میں کا ایک شخص آیا اور جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھا کرتے تھے وہاں آ کر بیٹھ گیا، پھر وہ اپنے بغل کے ایک شخص سے کہنے لگا: کاش تم نے ہمیں دیکھا ہوتا جب ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی تھی، فلاں نے نیزہ اٹھا کر دشمن پر وار کیا اور وار کرتے ہوئے یوں گویا ہوا لے میرا یہ وار اور میں قبیلہ غفار کا فرزند ہوں بتاؤ تم اس کے اس کہنے کو کیسا سمجھتے ہو؟ وہ بولا: میں تو سمجھتا ہوں کہ اس کا ثواب جاتا رہا، ایک اور شخص نے اسے سنا تو بولا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، چنانچہ وہ دونوں جھگڑنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: سبحان اللہ! کیا قباحت ہے اگر اس کو ثواب بھی ملے اور لوگ اس کی تعریف بھی کریں ۔ بشر تغلبی کہتے ہیں: میں نے ابوالدرداء کو دیکھا وہ اسے سن کر خوش ہوئے اور اپنا سر ان کی طرف اٹھا کر پوچھنے لگے کہ آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، پھر وہ باربار یہی سوال دہرانے لگے یہاں تک کہ میں سمجھا کہ وہ ان کے گھٹنوں پر بیٹھ جائیں گے۔ پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے تو ان سے ابو الدرداء نے کہا: مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جس سے ہمیں فائدہ ہو اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو، تو انہوں نے کہا: ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( جہاد کی نیت سے ) گھوڑوں کی پرورش پر صرف کرنے والا اس شخص کے مانند ہے جو اپنا ہاتھ پھیلا کے صدقہ کر رہا ہو کبھی انہیں سمیٹتا نہ ہو ۔ پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے پھر ابوالدرداء نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ پہنچائے، تو انہوں نے کہا ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خریم اسدی کیا ہی اچھے آدمی ہیں اگر ان کے سر کے بال بڑھے ہوئے نہ ہوتے، اور تہ بند ٹخنے سے نیچے نہ لٹکتا یہ بات خریم کو معلوم ہوئی تو انہوں نے چھری لے کر اپنے بالوں کو کاٹ کر کانوں کے برابر کر لیا، اور تہ بند کو نصف «ساق» ( پنڈلی ) تک اونچا کر لیا۔ پھر دوبارہ ایک اور دن ہمارے پاس سے ان کا گزر ہوا تو ابوالدرداء نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی بات بتائیے جو ہمیں فائدہ پہنچائے اور جس سے آپ کو کوئی نقصان نہ ہو، تو وہ بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اب تم اپنے بھائیوں سے ملنے والے ہو ( یعنی سفر سے واپس گھر پہنچنے والے ہو ) تو اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کر لو تاکہ تم اس طرح ہو جاؤ گویا تم تل ہو لوگوں میں یعنی ہر شخص تمہیں دیکھ کر پہچان لے، کیونکہ اللہ فحش گوئی کو، اور قدرت کے باوجود خستہ حالت ( پھٹے پرانے کپڑے ) میں رہنے کو پسند نہیں کرتا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح ابونعیم نے ہشام سے روایت کیا ہے اس میں «حتى تكونوا كأنكم شامة في الناس» کے بجائے «حتى تكونوا كالشامة في الناس» ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا ابو عامر، - يعني عبد الملك بن عمرو - حدثنا هشام بن سعد، عن قيس بن بشر التغلبي، قال اخبرني ابي، - وكان جليسا لابي الدرداء - قال كان بدمشق رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يقال له ابن الحنظلية وكان رجلا متوحدا قلما يجالس الناس انما هو صلاة فاذا فرغ فانما هو تسبيح وتكبير حتى ياتي اهله فمر بنا ونحن عند ابي الدرداء فقال له ابو الدرداء كلمة تنفعنا ولا تضرك قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية فقدمت فجاء رجل منهم فجلس في المجلس الذي يجلس فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لرجل الى جنبه لو رايتنا حين التقينا نحن والعدو فحمل فلان فطعن فقال خذها مني وانا الغلام الغفاري كيف ترى في قوله قال ما اراه الا قد بطل اجره فسمع بذلك اخر فقال ما ارى بذلك باسا فتنازعا حتى سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " سبحان الله لا باس ان يوجر ويحمد " . فرايت ابا الدرداء سر بذلك وجعل يرفع راسه اليه ويقول انت سمعت ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقول نعم . فما زال يعيد عليه حتى اني لاقول ليبركن على ركبتيه . قال فمر بنا يوما اخر فقال له ابو الدرداء كلمة تنفعنا ولا تضرك قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " المنفق على الخيل كالباسط يده بالصدقة لا يقبضها " . ثم مر بنا يوما اخر فقال له ابو الدرداء كلمة تنفعنا ولا تضرك . قال قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم الرجل خريم الاسدي لولا طول جمته واسبال ازاره " . فبلغ ذلك خريما فعجل فاخذ شفرة فقطع بها جمته الى اذنيه ورفع ازاره الى انصاف ساقيه . ثم مر بنا يوما اخر فقال له ابو الدرداء كلمة تنفعنا ولا تضرك فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " انكم قادمون على اخوانكم فاصلحوا رحالكم واصلحوا لباسكم حتى تكونوا كانكم شامة في الناس فان الله لا يحب الفحش ولا التفحش " . قال ابو داود وكذلك قال ابو نعيم عن هشام قال حتى تكونوا كالشامة في الناس
Metadata
- Edition
- سنن ابی داؤد
- Book
- Clothing
- Hadith Index
- #4089
- Book Index
- 70
Grades
- Al-AlbaniDaif
- Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidDaif
- Zubair Ali ZaiIsnaad Hasan
